علم کی بے قدری اور اہل سنت

Rate this post

   علم کی بے قدری اور اہل سنت!  ہمارے پڑوسی ملک انڈیا میں ہمارے مسلک اہل سنت کے بہت بڑے عالم دین گزرے ہیں۔

علامہ مفتی شریف الحق رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات

استاذ العلماء ‘ شیخ الحدیث والتفسیر ‘ یادگار اسلاف شارح بخاری حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی صاحب رحمة اللہ علیہ۔

انہوں نے مناسب سی نو جلدوں میں بخاری شریف کی شرح لکھی بنام ” نزہة القاری شرح صحیح بخاری ” مناسب اس لیے کہا کہ پاکستان سے وہ پانچ جلدوں میں شائع ہوئی ‘

تو انڈیا کے علماء و عوام اہل سنت نے ان کی قدر کی اوران کا چاندی سے وزن کیا جو کہ قبلہ مفتی صاحب رحمة اللہ علیہ مدرسہ کو ہدیہ کردی۔ بہر حال ان کی خدمت کو سراہا گیا ‘ ان کو سلام عقیدت پیش کیا گیا _ لیکن ہمارے ہاں علماء کرام اتنی بڑی بڑی خدمات سر انجام دی’ مسلک کی خدمت کی لہکن صد ہزار افسو س کہ ہمارے ہاں جب بھی تاج پوشی کی گئ کسی نعت خواں کی ہوئی جنہوں نے مسلک کی کیا خدمت کی ؟

علامہ سعیدی صاحب کی خدمات

علامہ سعیدی صاحب رحمة اللہ علیہ کو ہی لے لیں ‘ بارہ جلدوں تفسیر قرآن ‘ چھ جلدوں میں دوسری تفسیر قرآن ‘ سات جلدوں میں بےمثال شرح صحیح مسلم ‘ سولہ جلدوں میں شرح صحیح بخاری ‘ باقی تصنیفات بھی الگ ‘ لیکن ہمارے ہاں اطلاع باوثوق ذرائع سے ملی۔ہے کہ دورہ حدیث کی کلاس کے پہلے دن ہی سعیدی صاحب کے خلاف بولا جاتا ہے ‘ ان کی کتابیں بے مثال و لازوال کتابیں پڑھنے سے روکا جاتا ہے۔

عبد الرزاق بھترالوی رحمة اللہ علیہ کی خدمات

علامہ۔عبد الرزاق بھترالوی رحمة اللہ علیہ کے کام کی مثال نہیں بیان کی جاسکتی ‘ درسی کام۔’ تفسیر قرآن ‘ شرح سنن ابن ماجہ اور بے شمار تصنیفات الگ _ لیکم ہم لوگوں نے کیا ان کی قدر کی ؟/یہ صرف دو مثالیں۔پیش کی ہیں کہ ہم سنی صرف مخنث ٹائپ نعت خواں حضرات اور بس انہی کو کبھی کہیں تو کبھی تاج پوشی انعامات وغیرہ ‘اس میں حسد نہیں بلکہ علم سے دوری اور آنے والے وقت میں علماء کے وجوداہل سنت خالی نظر آ رہی ہے۔

سنی عوام سے اپیل

آخر ہم سنی لوگ کب اہل علم کی قدر و منزلت کو جانیں ؟ کب ہمیں ہوش آئے گا ؟ کب ہم سنبھلیں گے ؟ ابھی کتنے علماء ہیں جو مسلک کام کر رہے ہیں لیکن۔کھانے سے تنگ ہیں اور ان عیاشوں کو عیاشیاں کروا رہے ہیں اور دوارے مسالک کے کوگ اپنے علماء کی قدر و عزت اور ان کو سہولیات فراہم کرتے ہیں تاکہ فکر معاش سے آزاد ہو کر مسلک کا کام کرتے رہیں اور ساری عمر کھسروں پر ہی لٹاتے رہیں گے’ پیسوں کو دیکھ کر تو اب پیروں کے ڈانس بھی مارکیٹ میں آ گئے ہیں ‘ اگر یہی اہل سنت کا پیسہ مدارس اور علماء پر خرچ ہوتا تو دین کا کام ہوتا کہ دنیا یاد رکھتی ‘ ابھی بھی سنبھل جاو کچھ نہیں بگڑا _ ہمیشہ ہم۔نے اپنے جید علماء کے ساتھ نارواء سلوک کیا ‘ قبلہ شیخ الحدیث علامہ محمد اشرف سیالوی رحمة اللہ علیہ تمام۔عمر ہمارے ظلم۔و ستم کا شکار رہے ‘ ایک دیوبندی مولوی نے کہا تھا کہ یہ بندہ اگر ہمارے پاس ہوتا سونے سے تولتے ‘ ایک دیوبندی مدرسہ میں مکٹنگ کے دوران یہ سوال اٹھایا گیا کہ کوئی ایسا عالم ہے ہمارے پاس جو ہر مذہب کو جواب دے سکے ؟ اک مولوی صاحب نے کہا : ہاں ہے پر بدقسمتی سے وہ بریلوی ہے ‘ علامہ اشرف سیالوی _ اور ہم نے کیا سلوک کیا ان کے ساتھ ؟ علامہ سعید احمد اسعد صاحب کی خدمات کا کس کو علم نہیں ؟ لیکن وہ بھی ظلم اہل سنت کی نظر ہو گئے ‘ اب کنز العلماء کے ساتھ ہماری قوم کیا کر رہی ہے ‘ رافضیوں کی خصیہ برداری کرنے والے خطیب و نقیب اور نعت خوان ان کے دشمن جاں اور ہماری قوم ان کے پیچھے۔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment