علم اور خوف خدا؟ پیر نصیر الدین نصیر

Rate this post

علم خوف خدا کا نام ہے اور عالم وہی ھے جو خدا سے ڈرے ۔

13 فروری 2009

یومِ وصال

چراغِ گولڑہ پِیر سیّد نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ

اُن کی محفل میں نصیرؔ! اُن کے تَبَسُّم کی قسّم

دیکھتے رہ گئے ہم، ہاتھ سے جانا دِل کا

پِیر سیّد نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ چشتی ایک شاعر ،ادیب، محقق، خطیب ،عالم اور صوفی باصفا تھے۔ آپ اردو، فارسی اور پنجابی زبان کے شاعر تھے۔ اس کے علاوه عربی، ہندی، پوربی اور سرائیکی زبانوں میں بھی شعر کہے۔ اسی وجہ سے انہیں “شاعرِ ہفت زبان” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

پِیر سیّد نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ پیر سیّد غلام معین الدینؒ (المعروف بڑے لالہ جی) کے فرزند ارجمند اور پير مہر علی شاہؒ کے پڑپوتے تھے ۔آپ کا سلسلہ نسب اٹھائیس واسطوں سے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور انتالیس واسطوں سے سیدنا امام حسنؓ سے جا ملتا ہے۔آپ کی ولادت 22 محرم الحرام 1369 بمطابق 14 نومبر 1949ء میں گولڑه شریف میں ہوئی۔ آپ گولڑہ شریف کی درگاہ کے سجادہ نشین تھے۔

پِیر سیّد غلام معین الدینؒ کی وفات کے بعد اُن کے بڑے صاحبزادے پِیر سیّد نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ کو سجادہ نشینی کی زمہ داری ملی۔ پِیر سیّد نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ علم و عرفان کے جیّد عالم، شہرہ آفاق نعت گو شاعر، سچے عاشقِ رسولﷺ اور ممتاز روحانی پیشوا تھے جو آسمانِ رشد و ہدایت پر آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے۔ اُن کی مذہبی، روحانی، مِلی، علمی اور ادبی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ پِیر سیّد نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ بظاہر ایک فرد ایک شخصیت تھے مگر حقیقت میں ایک ادارہ، ایک انجمن اور دینی علوم کا منبع و مخزن تھے۔ وہ ایک عظیم صوفی، پیرِ کامل، مردِ قلندر، شاعر، ادیب، نقاد اور خطیب تھے۔

1975 میں پِیر سیّد سید نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ کی شادی اپنے چچا سیّد شاہ عبدالحق گیلانیؒ کی بیٹی سے ہوئی۔ سیّد نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ کے تین صاحبزادے اور ایک صاحبزادی ہے۔

پِیر سیّد نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ بہترین ادیب تھے۔ ان کا شعر و ادب سے شغف اور زبان دانی کا کمال ادبا اور شعرا سے لے کر عوام الناس تک مسلمہ ہے۔ سیِد نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ کی تصانیف خالصتاً دینی، مذہبی، اصلاحی اور تحقیقی نوعیت کی حامل ہیں۔آپ نے شعر و سخن اور تحریر و تقریر سے ہزاروں لوگوں کو اپنا دیوانہ بنایا ۔آپ نے جس موضوع پر قلم اٹھایا تو قلم برداشتہ لکھتے ہی گئے۔ آپ کا انداز بیاں نثر اور نظم دونوں میں منفرد ہے لیکن اس سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ آپ کا منفرد انداز بیاں آپ کے خیالات و احساسات اور آپ کے سچے جذبوں کے جمال کا ترجمان ہے۔ پِیر سیّد نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ کے جذبات و خیالات کا حسن ،صداقت و سچائی کی حقیقت، حق گوئی و بے باکی میں مضمر ہے جس کا اظہار سید نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ نے بلا خوف و خطر اپنی نثری تحریروں اور تقریروں میں بھی کیا۔ آپ کی تصانیف ’’نام و نسب ‘‘ اور ’’رنگ نظام‘‘ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

پِیر سیّد نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ مصلحت انگیزی کے بجائے اظہارِ حق کے علمبردار تھے اور اظہارِ حق کرنے سے کبھی کوئی مصلحت آپ کو باز نہیں رکھ سکی۔ بلاشبہ پیر مہر علی شاہؒ کے بعد گولڑہ شریف کا دوسرا بڑا نام پِیر سیّد نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ کا ہے جو کہ اپنے بے شمار خصائل و فضائل کی وجہ سے مریدین اور عقیدت مندوں میں ’’چراغِ گولڑہ‘‘ ”حضُور نصیرِ مِلّتؒ“ اور ”نصیر الدین اولیاء“ کے القاب سے مشہور ہوئے۔

برصغیر کے صوفیاء عظّام میں حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ اور حضرت سلطان العارفین سلطان باہوؒ کے بعد یہ منفرد اعزاز بھی پِیر سیّد نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ کے حصہ میں آیا کہ گولڑہ شریف کی سر زمین حق نصیرؒ یا نصیرؒ کے نعروں سے گونج رہی ہے۔

پِیر سیّد نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ ایک خوش بیان واعظ بھی تھے۔ لاکھوں کے مجمع کو گھنٹوں خطاب کیا اور حیرت ہے کہ گھنٹوں خطاب کے بعد بھی لوگ اکتاہٹ محسوس نہ کرتے بلکہ انتہائی لگن سے آپ کا خطاب سنتے۔فی البدیہہ بات کرنا آپ کی خاص خوبی تھی۔شاعری آپ پر الہام کی طرح اترتی تھی:

 پِیر نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ اپنے دور کے بڑے نعت گو شاعر ہیں۔ان کی نعتیہ شاعری روایتی طریقہ سے ہٹ کر سیرتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔ مولانا احمد رضا خان ؒ کے مطابق نعت کہنا دو دھاری تلوار پر چلنا ہے اس وجہ سے محدود شاعر اس صنف میں طبع آزمائی کرتے ہیں لیکن نعتیہ شاعری کے موضوعات لا محدود ہیں۔سیّد نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ خود فرماتے ہیں:’’نعت کا موضوع بظاہر محدود دکھائی دیتا ہے مگر اس کا موضوع چوں کہ عظیم ہستی ہے جس میں تمام انفس و آفاق کی وسعتیں سمٹ آئی ہیں اس لیے یہ صنف شعر بھی حد درجہ لامحدود اور وسیع ہے۔‘‘

پِیر سیّد نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ نے ایک نعتیہ شعر کو بڑی وارفتگی پیار و محبت اور چاہت و الفت رسولﷺ کے جذبات کے پیشِ نظر رکھ کر نعت کی لڑی میں پرویا ہے۔

انھیں میرے اچھے بُرے کی خبر ہے

وہ سب کچھ خدا کی قسم جانتے ہیں

پِیر سیّد نصیر الدین نصیرؔ گیلانیؒ فرماتے ہیں

نظر بہ عالمِ پاکیزگی پڑے ان پر

مسافرانِ لحد اس لئے نہا کے چلے

دنیا داروں کے لیے پیغام اور نصیرِ مِلّتؒ کا دنیا سے رخصت ہونے کا منظر مقامِ نصیرؒ سمجھتے کے لیے کافی ہے۔

14 نومبر 1949 1 کو طلوع ہونے والا وارثِ علومِ مہر علی کا درخشاں آفتاب 59 سال کی عمر میں 13 فروری 2009 جمعة المبارک کو لاکھوں سوگواروں کے ہجوم میں داغِ مفارقت دیتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔

‏إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

آپ کے سانحۂ ارتحال پر پوری اُمت، مِلتِ اسلامیہ، اہلِ پاکستان اور اہلیان ممالکِ اسلامیہ کو دِلی دکھ ہوا ہے۔

آپؒ کا عُرس مُبارک ہر سال 17،18 صفر کو درگاہ غوثیہ مہریہ گولڑہ شریف میں انقاد پزیر ہوتا ہے،

آپؒ کا مزار گولڑہ شریف اسلام آباد میں مرجع خلائق ہے۔

تصانیف و تالیفات

آغوشِ حیرت(رباعیات فارسی)

پیمانِ شب (غزلیات اردو)

دیں ہمہ اوست (عربی، فارسی، اردو، پنجابی نعوت)

امام ابوحنیفہ اور ان کا طرزِ استدلال (اردو مقالہ)

نام و نسب (در باره سیادت پیران پیر)

فیضِ نسبت (عربی، فارسی، اردو، پنجابی مناقب)

رنگِ نظام (رباعیات اردو)

عرشِ ناز (کلام در زبانهائ فارسی و اردو و پوربی و پنجابی و سرائیکی)

دستِ نظر (غزلیات اردو)

راہ و رسمِ منزل ہا (تصوف و مسائل عصری)

تضمینات بر کلام حضرت رضا بریلوی

قرآنِ مجید کے آدابِ تلاوت

لفظ اللہ کی تحقیق

اسلام میں شاعری کی حیثیت

مسلمانوں کے عروج و زوال کے اسباب

پاکستان میں زلزلے کی تباہ کاریاں، اسباب اور تجاویز

فتوی نویسی کے آداب

موازنہ علم و کرامت

کیا ابلیس عالم تھا؟

منتخب کلام۔

بیتاب ہیں، ششدر ہیں، پریشان بہت ہیں

کیونکر نہ ہوں، دل ایک ہے، ارمان بہت ہیں

کیوں یاد نہ رکّھوں تجھے اے دُشمنِ پنہاں!

آخر مِرے سَر پر تِرے احسان بہت ہیں

ڈھونڈو تو کوئی کام کا بندہ نہیں مِلتا

کہنے کو تو اِس دور میں انسان بہت ہیں

اللہ ہ! اِسے پار لگائے تو لگائے

کشتی مِری کمزور ہے طوفان بہت ہیں

ارمانوں کی اِک بھیڑ لگی رہتی ہے دن رات

دل تنگ نہیں، خیر سے مہمان بہت ہیں

دیکھیں تجھے، یہ ہوش کہاں اہلِ نظر کو

تصویر تِری دیکھ کر حیران بہت ہیں

یُوں ملتے ہیں، جیسے نہ کوئی جان نہ پہچان

دانستہ نصیرؔ آج وہ انجان بہت ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جو آستاں سے تیرے لو لگائے بیٹھے ہیں

خدا گواہ ہے زمانے پہ چھائے بیٹھے ہیں

چمک رہی ہے جبینیں تیرے فقیروں کی

تجلیات کے سہرے سجائے بیٹھے ہیں

ایک ہم ہیں کہ اپنوں کے دل نہ جیت سکے

وہ دشمنوں کو بھی اپنا بنائے بیٹھے ہیں

نصیرؔ ہم میں اپنوں سی کوئی بات نہیں

کرم ہے ان کا کہ اپنا بنائے بیٹھے ہیں

اس لئے کہ خدا کا خوف یہ علم کا ثمرہ ھے ۔

اب عالم وہی کہلاتا ھے جو وعظ میں خوب چکنے الفاظ اور مقفی الفاظ عبارتوں سے بیان کرے۔

اسکی وجہ یہ ھے کہ اسکے سننے والے عوام ھوتے ھیں عوام کو یہ جاننا مشکل ھوتا ھے کہ علم واقع میں کونسا ھے اور غیر واقع میں کونسا ھے ۔

اس لئے عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں کہ آدمی جب تک علم کی تلاش میں رہتا ھے وہ عالم کہلاتا ھے اور جونہی وہ خود کو عالم سمجھنے لگتا ھے جہالت کی تاریکی میں ڈوب جاتا ھے۔

ماخوذ از ڈائری رشیدی

دعاگو ودعاجو عارف اللہ رشیدی

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment