علامہ عبد الرزاق بھترالوی؛ حیات و خدمات

Rate this post

علامہ عبد الرزاق بھترالوی حیات و خدمات حضرت علامہ قاضی حافظ عبد الرزاق چشتی بھترالوی حطاروی علیہ الرحمۃ کی ولادت ایک دینی اور علمی گھرانے میں ہوئی

نسل در نسل اس خاندانِ عظمت نشان میں علما و صلحا کی ایک قطار چلی آتی تھی، آپ کے والد قاضی عبد العزیز، دادا قاضی فیض احمد پردادا قاضی غلام نبی، دادا کے بھائی قاضی غلام رسول اور ان کے علاوہ بھی خاندان کے متعدد افراد عالم دین اور متقی پرہیزگار لوگ تھے۔

آپ کے دادا کے بھائی قاضی غلام رسول صاحب علوم دینیہ خصوصا علم صرف کی تدریس میں شہرت رکھتے تھے، اُن کے ایک شاگرد مولوی منور الدین صاحب نے “صرف بھترال” کے نام سے آپ کی تقریروں کو کتابی صورت میں جمع کیا تھا، یہ کتاب آج بھی مدارس دینیہ میں پڑھائی جاتی ہے۔

 قاضی غلام رسول صاحب کے فرزند قاضی عبد الواحد اور آپ کے ماموں قاضی برہان الدین بھی اجلہ علما میں سے تھے، مؤخر الذکر تدریس میں بڑی مہارت رکھتے تھے، آپ سید الاولیا حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمہ اللہ کے استاذ ہیں، حضرت پیر صاحب قدس سرہ نے خود اپنی تصنیف تحقیق الحق کے آغاز میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔

 علامہ عبد الرزاق بھترالوی نسبتِ طریقت

طریقت میں آپ کو حضرت سید غلام محی الدین گیلانی گولڑوی عرف بابو جی علیہ الرحمۃ، حضرت پیر مہر علی شاہ گیلانی قدس سرہ اور سیال شریف و تونسہ شریف کے مشائخ سے نسبت حاصل تھی۔

مزید پڑھیں

مناظر اسلام جگر گوشہ فقیہ العصر مولانا سعید احمد اسعد صاحب کی حیات و خدمات

علامہ عبد الرزاق بھترالوی اساتذہ کرام

حافظ غلام مصطفی صاحب سے آپ نے سورۃ البقرۃ یاد کی، حافظ احمد رضا صاحب سے سورۃ آل عمران حفظ کی اور بقیہ قرآن عظیم بغیر کسی استاذ کے خود ہی یاد فرما لیا۔

درس نظامی کی ابتدائی کتابیں دار العلوم جہلم میں مولانا غلام یوسف گجراتی، مولانا عبد الواحد، مولانا محمد عرفان نوری اور استاذ العلماء مولانا غلام محمود ہزاروی علیہم الرحمۃ سے پڑھیں

پھر گولڑہ شریف میں رئیس المحققین والمدققین مولانا محب النبی اور استاذ الفضلا مولانا گل اکرام رحمۃ اللہ علیہما کے پاس زیر تعلیم رہے،

پھر اسرار العلوم (راولپنڈی) میں مولانا عبد القدوس اور استاذ الاساتذہ قاضی اسرار الحق صاحب کے پاس پڑھتے رہے

اور پھر جامعہ نعیمیہ لاہور میں مفتی محمد حسین نعیمی، مولانا محمد امین، استاذ المحققین و المدققین مولانا محمد اشرف سیالوی، رئیس المتقین مولانا عزیز احمد قادری اور حضرت شرف ملت مولانا عبد الحکیم شرف قادری علیہم الرحمۃ سے اکتساب علم فرمایا اور جامعہ نعیمیہ لاہور سے سند فراغت حاصل کی۔

بعد ازاں جامعہ قادریہ فیصل آباد میں تدریس کے دوران حضرت بحر العلوم مفتی سید محمد افضل حسین مونگیروی علیہ الرحمۃ سے علم توقیت حاصل کیا۔

حضرت قاضی صاحب اپنے اساتذہ کرام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ “سبھی بہت شفیق اور محسن تھے اور بڑی محنت سے تدریس فرماتے تھے مگر ابو الحسنات مولانا محمد اشرف سیالوی صاحب کا مجھ پر بڑا احسان ہے اور انہی کے احسان سے آج میں ایک مدرس ہوں۔”

مزید فرماتے ہیں کہ “علامہ سیالوی صاحب سے دو سال جامعہ نعیمیہ میں پڑھنے کے بعد ایک سال سلانوالی میں بھی درس لیا؛ منطق کی کتابیں ابتدا سے انتہا تک یعنی صغری سے لے کر سلّم، حمداللہ، ملا حسن اور قاضی مبارک تک، کتب ادب از ابتدا تا انتہا، مختصر المعانی، بیضاوی شریف، شرح عقائد اور خیالی وغیرہ متعدد کتب حضرت سے پڑھنے کا شرف ملا ہے اور بہت سی کتابیں حضرت استاذ محترم سے دوسری بار پڑھی ہیں۔”

مزید پڑھیں 

حضرت علامہ عبد الرزاق بھترالوی علیہ الرحمہ

 علامہ عبد الرزاق بھترالوی تدریسی خدمات

حضرت قاضی صاحب ایک بہترین عالم اور مدرس تھے، آپ کی تصانیف خصوصا درسی کتب پر گرانقدر حواشی منقولات و معقولات میں آپ کی غیر معمولی دسترس کا واضح ثبوت ہیں۔

استاذ العلماء حضرت علامہ سید حسین الدین شاہ صاحب آپ کے بارے لکھتے ہیں کہ “حضرت مولانا فطری اور طبعی طور پر تدریسی شعبے سے متعلق ہیں

علمی خانوادے کا چشم و چراغ ہونے کے ناطے معقولات و منقولات میں یدِ طولی رکھتے ہیں زندگی کا بیشتر حصہ اسی نہج پر راہ نوردی کرتے گزارا ہے آپ کے تلامذہ میں سے کئی محقق علما اپنے علم و تحقیق کا لوہا منوا چکے ہیں۔ (پیش لفظ نجوم الفرقان، ص 13)

آپ نے تقریبا 50 سال تک تشنگان علم کو سیراب کیا ہے فراغت کے بعد ایک سال قاضی اسرار الحق صاحب کے مدرسے اسرار العلوم میں مدرس رہے

پھر چھ سال تک حضرت استاذ العلماء سید ابو البرکات رحمۃ اللہ علیہ اور شارح بخاری حضرت علامہ محمود احمد رضوی علیہ الرحمۃ کے زیر سایہ جامعہ حزب الاحناف لاہور میں تدریس فرماتے رہے

پھر دو سال تک حضرت بحر العلوم مفتی سید محمد افضل حسین مونگیری علیہ الرحمہ کے پاس جامعہ قادریہ میں تدریس فرمائی

بعد ازاں تقریبا 25 سال سے زائد عرصہ تک حضرت سید حسین الدین شاہ صاحب کے جامعہ رضویہ ضیاء العلوم راولپنڈی میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے اور آخر میں کئی سال تک جامعہ جماعتیہ مہر العلوم کے مہتمم کی حیثیت سے علم دین کی روشنی عام کرتے رہے۔

علامہ عبد الرزاق بھترالوی؛ حیات و خدمات

 علامہ عبد الرزاق بھترالوی تصنیفی خدمات

آپ کی تحریری و تصنیفی خدمات کا دائرہ بھی کافی وسیع ہے، مختلف موضوعات پر 50 سے زائد کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہدایہ کی چار جلدوں سمیت متعدد درسی کتب پر عربی زبان میں گرانقدر حواشی تحریر فرمائے ہیں اگر صرف ان حواشی کا جائزہ لیا جائے تو 5000 سے زائد صفحات پر مشتمل ہوں گے۔

آپ کی چند معروف اردو کتب کے نام ذیل ہیں

تفسیر نجوم الفرقان (22 جلدیں)

تذکرۃ الانبیاء

شمع ہدایت

نماز حبیب کبریا

امام اعظم اور فقہ حنفی

تسکین الجنان فی محاسن کنز الایمان

جواہر تحقیق افضلیت سیدنا ابو بکر صدیق

نجوم التحقیق

تکریم والدین مصطفی

اسلام میں عورت کا مقام

سبز عمامے کی برکتوں سے کذاب جل اٹھے

موت کا منظر مع احوال حشر و نشر

اور آپ کے بھانجے قاضی سعید الرحمن صاحب کے مطابق وصال سے چند روز قبل اردو زبان میں ابن ماجہ شریف کی شرح بھی مکمل فرمائی ہے۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2626663134321107&id=100009323383332

جن درسی کتب پر اردو یا عربی حواشی تحریر فرمائے ہیں ان کے نام درج ذیل ہیں:

ہدایہ (4 جلدیں)

کنز الدقائق

قدوری

نور الایضاح

تلخیص المفتاح

سراجی

مراح الارواح

میزان الصرف

 علامہ عبد الرزاق بھترالوی صاحب فتوی نویسی

حضرت قاضی صاحب 25 سال سے زائد عرصہ تک جامعہ رضویہ ضیاء العلوم سے وابستہ رہے اس دوران دار الافتا کی ذمہ داری بھی سنبھالتے رہے ہیں

حاشیہ قدوری المظہر النوری کے ابتدائیہ میں ناشر نے اس کا ذکر ان لفظوں میں کیا ہے: کان مسئولا عن الاجابۃ للاستفتاءات الموصولۃ من انحاء الدولۃ وھو یجیب بالفتاوی المحلی بالادلۃ العقلیۃ والنقلیۃ المستدلۃ بالمصادر الاسلامیۃ القرآن والحدیث وغیرہما من مصادر الشریعۃ الاسلامیۃ

(حاشیہ قدوری، کلمۃ الناشر)

 تفسیر نجوم الفرقان کے پیش لفظ میں حضرت علامہ سید حسین الدین شاہ صاحب نے بھی آپ کی فتوی نویسی کا ذکر کیا یے۔

(ہماری معلومات کے مطابق حضرت کے فتاوی کا کوئی مجموعہ ابھی تک طبع نہیں ہوا۔)

طلبہ کرام کو حضرت قاضی صاحب کی نصیحت

حاشیہ سراجی کے آخر میں خیالات محشی کے عنوان سے ایک مضمون میں طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: طلبہ کرام علوم کو علوم سمجھ کر حاصل کریں خواہ علوم شرعیہ ہوں یا علوم جدیدہ،

صرف امتحان پاس کرنا کوئی کمال نہیں اور فارغ ہونے کے بعد بھی وسیع تر مطالعہ جاری رکھنا ہی ترقی علم کا سبب ہے

اساتذہ کرام کا ادب و احترام شعار بنائیں اسی میں کامیابی ہے۔ میں اگر بہتر مدرس شمار ہوتا ہوں تو صرف اساتذہ کرام کی دعاؤں کے واسطے سے ورنہ من دانم کہ من آنم

(حاشیہ سراجی، ص 84، ضیاء العلوم پبلی کیشنز)

 علامہ عبد الرزاق بھترالوی اصحاب و رفقا

حضرت قاضی صاحب نے حاشیہ نور الایضاح کے آغاز میں جہاں اپنے آباء و اجداد اور اساتذہ و شیوخ کا ذکر فرمایا ہے وہیں اپنے رفقائے درس میں سے چند افراد کا تذکرہ بھی کیا ہے آئیے یہ تذکرہ انھی کی زبانی ملاحظہ فرمائیے

*1۔ مولانا عبد الرشید قریشی*

ہم نے ایک سال جامعہ اسرار العلوم راولپنڈی میں اکٹھے تعلیم حاصل کی اور اب آٹھ سال سے جامعہ رضویہ ضیاء العلوم میں ایک ساتھ پڑھا رہے ہیں۔

مولانا موصوف ایک لائق مدرس اور مہربان ساتھی ہیں اور آپ کی ایک کامل صفت یہ ہے کہ آپ متکبر نہیں ہیں، آپ یہ نہیں کہتے کہ میرے جیسا کوئی نہیں ہے بلکہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں جیسے اس حاشیہ میں میرے ساتھ تعاون کیا متعدد اوراق کا مطالعہ کر کے مشورے دئیے، اپنی کتابیں فتح القدیر مع کفایہ و عنایہ اور شرح منیہ عطا فرمائیں۔

*2۔ زینت القراء حافظ علامہ مولانا محمد یوسف سیالوی*

آپ ہمارے درجے(کلاس) کے لائق اور محنتی طالب علم تھے، آپ نے نصابی کتب مکمل کیں اور تدریس کی صلاحیت بھی رکھتے تھے مگر آپ کو تجوید میں رغبت تھی اور آپ اپنے فن میں ماہر بھی ہیں۔

آپ نے جہلم کے مضافات دینہ میں مدرسہ بنایا ہے۔

*3۔ مولانا شاہ محمد قصوری*

آپ ایک سال تک جامعہ نعیمیہ میں مدرس رہے اور پھر تدریس ترک کر دی اور فن کتابت میں مشغول ہو گئے، آپ بہترین کاتب ہیں مگر بڑے بے نیاز ہیں کسی دوست کیلئے فائدے مند نہیں کیونکہ آپ کے ہاں اپنے اور بیگانے سب ایک جیسے ہیں۔

*4۔ مولانا عبد اللطیف*

آپ جامعہ خالقیہ سرگودھا میں مدرس ہیں، بہت ذہین ہیں اور انھوں نے اپنی محنت سے تدریس میں مہارت حاصل کر لی ہے۔

*5۔ ابو الفضل علامہ مولانا اللہ دتہ سیالوی (ساکن بھابھڑا سرگودھا)*

یہ میرے خاص دوست ہیں کیونکہ ہم نے نو سال اکٹھے تعلیم و تدریس میں گزارے ہیں اور طویل رفاقت خصوصیت کو ظاہر کرتی ہے۔

مزید یہ کہ آپ میرے محسن بھی ہیں کیونکہ ایک سال کے بعد جب میں نے تدریس چھوڑ دی تھی تو انہی کے مشورے اور کوشش سے دوبارہ شروع کی تھی اور انہی کی مشاورت سے ہی میں عربی فاضل اور فارسی فاضل کے سرکاری امتحانات پاس کرنے میں کامیاب ہوا۔

میں اپنے اس خاص دوست کو کبھی نہیں بھول سکتا کیونکہ یہ ایک عالم ہے، متقی پرہیزگار ہے اور خصوصا بہت مخلص ہے ایسے مخلص لوگ (آج کل) نہیں پائے جاتے الا ماشاء اللہ

انہوں نے مجھ سے پہلے حزب الاحناف میں تدریس شروع کی اور ان کے بعد انہی کی کوشش سے میں نے وہاں تدریس شروع کی حالانکہ یہ مجھ سے زیادہ لائق تھے مگر ان کی کوششوں سے وہاں میرا مشاہرہ ان سے زائد مقرر ہوا، یہ وصف کسی اور میں نہیں الا ماشاءاللہ

پھر چار سال بعد یہ جامعہ قادریہ فیصل آباد چلے گئے اور دو سال بعد انھوں نے مجھے بھی وہیں تدریس کیلئے طلب کر لیا اور پھر یہاں بھی یہی کوشش کی کہ میرا مشاہرہ ان سے زائد ہو مگر میں نے کہا کہ آپ مجھ سے زیادہ لائق اور ماہر ہیں میرا مشاہرہ آپ سے کم ہونا چاہئے تو میرے بہت اصرار اور کوشش کے بعد مانے۔

الحمدللہ ہمارے درمیان کبھی اسباق تقسیم کرنے کے معاملے میں اختلاف نہیں ہوا کیونکہ ہم ہر سال باہم مشورے سے اسباق تقسیم کر لیتے تھے اسی لئے ہم ابتدا سے انتہا تک سبھی کتابیں پڑھا چکے ہیں۔

*نوٹ:*

حاشیہ نور الایضاح کے آغاز میں حضرت قاضی عبد الرزاق بھترالوی صاحب نے عربی زبان میں اپنے آباء و اجداد اور اساتذہ و شیوخ کے تذکرے پر مشتمل ایک مضمون تحریر فرمایا تھا، ان احوال کا ماخذ وہی مضمون ہے، بلکہ یوں کہئے کہ یہ اسی کا ترجمہ یے، بس جہاں کہیں کچھ اضافہ کیا ہے اس کا حوالہ دے دیا ہے۔

اللہ کریم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ حضرت کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment