علامہ ضیاء المصطفی مد ظلہ النورانی

Rate this post

نشر مکرر ۔۔۔۔۔۔

سورج کا کام چمکنا ہے سورج آخر چمکے گا

      تحریر : ذاکر حسین گیا بہار (انڈیا)

     کچھ اضافتیں، نسبتیں ایسی ہوتی ہیں جو خود بہ خود شخصیت کے میدان عمل کی وضاحت کردیتی ہیں ،

جن کے لگنے سے شخصیت کے مزاج و طبیعت کا علم از خود ہوجاتا ہے ـــ یہ نسبتیں ذہن کو بالخصوص علم و فن کی سمت لے جاتی ہیں

مثلا خیرآبادی ، بریلوی اعظمی وغیرہ ــ اسی طرح ایک نسبت گھوسوی ہے ــ

یہ نسبت جس نام کے ساتھ لگتی ہے اس کا علم و کمال سے دل چسپی کا واضح نشان ہے ــ وہ شخصیتیں دنیائے علم و عمل میں آفتاب و ماہتاب بن کر روشن ہوئیں ــ

علم و ادبی بساط پر حضرت شارح بخاری ، حضرت صدرالشریعہ علیھما الرحمہ سے دنیا واقف ہے ــــ

اسی زمین کا ایک سپوت گھوسی سے اٹھ کر افق آسمان پر اپنی فقاہت کا کمند ڈال رہا ہے جسے لوگ محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفی مد ظلہ النورانی کے نام سے جانتے ہیں ـــ

   ولادت اور کسب علوم : ایسی گوناگوں اور نابغۂ روز گار شخصیت نے ۲ شوال المکرم ۱۳۵۲ ھ گھوسی کے مشہور علمی گھرانے میں آنکھیں کھولیں ـــ

   تعلیمی مراحل : ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان سے حاصل کی پھر ناگ پور میں فیض العارفین علامہ غلام آسی پیا علیہ الرحمۃ والرضوان سے فیض یاب ہوئے بعد ازاں ۱۳۶۹ ھ میں درس نظامی کی تکمیل کے لیے جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے لیے رخت سفر باندھا اور جلالۃ العلم حافظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کے ہاتھوں ۱۳۷۷ ھ میں سند فراغت حاصل کی ــ

   اجازت و خلافت : آپ کو حضور مفتی اعظم ہند اور حضور سید نظمی میاں علیھما الرحمہ سے اجازت و خلافت حاصل ہے ـــ

   بحث و مناظرہ : آپ نے فرق باطلہ سے کئی کامیاب مناظرے کیے اور اہل سنت و جماعت کی حقانیت کو ثابت کیا ۱۹۷۸ ع میں آپ (زید شرفہ) نے سرزمین ہجرڈیہہ ، بنارس میں ایک کامیاب مناظرہ کیا جس کی پوری روداد ” صارم الحق القاتل علی قلب جازم الباطل ” میں موجود ہے ــــ

    خدمات : تقریبا چھ دہائیوں سے علم دین کے فروغ میں لگے ہوئے ہیں اس کے علاوہ ۱۹۸۵ ع میں طیبۃ العلما جامعہ امجدیہ رضویہ کا قیام اور ۱۹۸۲ ع میں کلیۃ البنات الامجدیہ کا قیام عمل میں لایا علاوہ ازیں جامعہ اشرفیہ میں بحیثیت مدرس و بحیثیت صدر المدرسین پھر ایک ہی وقت میں صدر المدرسین ، شیخ الحدیث اور صدر شعبہ افتا بھی رہ چکے ہیں فی الحال آپ جامعہ امجدیہ رضویہ میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہیں اور کثیر طلبا آپ سے مستفیض ہورہے ہیں ان پاکیزہ ذمہ داریوں کو سنبھالنا گراں قدر خدمات ہیں یقینا آپ فرد واحد نہیں بلکہ اپنے آپ میں ایک انجمن ہیں ، ایسی انجمن جس سے پورا جہاں مستفید ہورہا ہے ــــ

   ع سورج کا کام چمکنا ہے سورج آخر چمکے گا

#سنی_قبیلہ

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment