علامہ صاحب نبراس عبد العزیز پرہاروی صاحب

Rate this post

گمنام علامہ صاحب نبراس عبد العزیز پرہاروی

نوجوان علامہ عبد العزیز پرہاروی صاحب کی ولادت

ولادت 1206 ہجری 1792 ء مقام پرہاراں, مضافات کوٹ ادّو(مظفر گڑھ) آبائی وطن افغانستان

علامہ عبد العزیز پرہاروی صاحب کی وفات

1239 ہجری 1824 ء

یعنی کل عمر 33 سال یا بعض کے مطابق 32 سال بلکہ بعض کے مطابق صرف 30 سال

عبد العزیز پرہاروی کی شرح النبراس

اگر آپ نے شرح عقائد کی شرح *النبراس* کا نام سنا ہو تو انہی عالم دین کا کارنامہ ہے

عبد العزیز پرہاروی کی ذہانت

عبد العزیز پرہاروی صاحب کاحافظہ بلا کا پایا تھا۔ ذہانت و فطانت اعلی درجے کی تھی۔

مرام الکلام میں لکھتے ہیں *یہ فقیر اپنی فہم و فراست پر فخر نہیں کرتا

لیکن اللہ کی حکمت اور بے مثل فیض پر متعجب ہے کہ اس نے اس عاجز کے ذہن پر علوم دقیقه کی مختلف اقسام بغیر پڑھے منکشف کردیں

جبکہ یہ عاجز بچپن میں کند ذہن مشہور تھا* اسی کتاب میں ایک جگہ اور فرماتے ہیں

*بندے پر اللہ کے فضل سے 80 علوم قرآن و اصول قرآن کے, 90 علوم حدیث و فقہ کے 20 علوم علم و ادب کے, 40 حکمت و طبیعیات کے۔۔

۔30 ریاضی 10 ہیئت 3 حکمت عملی علوم الہام فرمائے*۔

اسی مرام الکلام میں ایک جگہ اور فرماتے ہیں *تحصیلِ علم تو کل علم لے دسویں حصے کا بھی نصف ہے بلکہ دسویں حصے کا بھی دسواں حصہ ہے*

مشہور ہے بلکہ ہسٹری آف انڈی جینیس ان دی پنجاب میں منقول ہے

آپ نے ایک محیر العقول روشن سطح والا کاغذ ایجاد کیا تھا جس پر لکھا ہوا رات کے اندھیرے میں پڑھا جاسکتا تھا۔

(ایل ای ڈی بک پینل آج کی ایجاد ہے جس سے رات کی کتاب خوانی آسان ہوئی ہے)

مختلف علوم و فنون میں 200 سے زیادہ بعض کے مطابق 300 کتابیں لکھی ہیں۔

ایک جگہ خود فرماتے ہیں کہ انگریزوں کو علم اسطرنومیا سیکھنے کا بڑا شوق ہے

لیکن پورے برصغیر میں ان کو کوئی سکھانے والا نہیں مل سکا جبکہ بندے نے اس فن میں مستقل کتابیں لکھی ہیں۔

آپ کی تصانیف میں تمام کا شمار تو ناممکن ہے اسکی وجہ آگے آتی ہے البتہ بعض مشہور کا ذکر کرتا ہوں۔

علامہ عبد العزیز پرہاروی کی تصانیف

الصمصام فی اصول تفسیر القرآن

(نام سے ظاہر ہے کس فن میں ہے)

السلسبیل فی تفسیر التنزیل

(جلالین کے طرز پر لکھی گئی تفسیر ہے)

الاکسیر

(تین جلدوں میں فن طب میں ضخیم کتاب ہے)

زمرد اخضر یاقوت احمر

(طب میں)

کوثر النبی فی اصول الحدیث

(دو جلدوں میں)

کتب عبد العزیز پرہاروی

النبراس شرح شرح عقائد

(علمی حلقوں میں مشہور کتاب ہے)

مرام الکلام فی عقائد الاسلام

(عقائد میں)

البحر المحیط

(تفسیر و متعلقاتِ آں)

کنز العلوم

(مختلف علوم و فنون کی تعریفات پر مشتمل)

التریاق

(دو جلد طب میں)

حاشیہ مسلم الثبوت

کبریت احمر

(اس کتاب کے بارے میں خود فرماتے ہیں کہ اللہ کے فضل سے عہد آدم سے تایں دم ریاضی میں ایسی جامع کتاب آج تک کسی نے نہیں لکھی)

سر السماء

(زائچہ و ہیئت میں اس کو علامہ اقبال نے بہت تلاش کروایا لوگوں کو ڈھونڈنے کے لئے روانہ کیا خطوط لکھے)

ان چند کتابوں کے نام بطور مشتے نمونہ از خروارے پیش کئے گئے

ورنہ ہر فن میں عربی فارسی میں آپ کی کم و بیش 200

سے اوپر تصانیف ہیں ۔۔

عبد العزیز پرہاروی کی کتابیں کہاں گئی ؟

۔*وہ کتابیں کہاں گئیں؟* جیسا کہ ہوتا آیا ہے ایسی عبقری شخصیات کے علوم ضائع ہونے کے مختلف اسباب میں سے کچھ اسباب یہ ہیں۔

ان شخصیات کو قابل شاگرد نہیں مل پاتے یا ملتے ہیں تو علوم کی نشرواشاعت میں کوتاہی کرتے ہیں۔

یا پھر ایسی شخصیات اپنی زندگی گمنامی میں بسر کردیتی ہیں۔ یا پھر ناخلف اولادیں ان کی کتابیں ضائع کر دیتی ہیں۔

آپ کا بہت بڑا کتب خانہ تھا۔ آپ کی نو جوانی ہی میں وفات کی وجہ سے اس کی حفاظت نہ ہوسکی ۔

کتب خانے کو دیمک لگ گئی۔ آپ کی تصانیف کا بیشتر قلمی حصہ مولوی شمس الدین بہاولپوری کے کتب خانے میں موجود تھا۔

پھر یہ ورثہ ان کے پوتے یا پڑ پوتے نے نواب بہاولپور کو فروخت کردیا۔

پھر ورثہ مقفل پڑا رہا۔ سوچ سکتے ہیں کیا حالت ہوئی ہوگی۔

حکیم موسی امرتسری فرماتے ہیں کہ آپ کی تصانیف کا جو معیار ہے وہ معیار ویسا ہی جیسا شاہ ولی اللہ و شاہ عبد العزیز رحمہما اللہ کا معیار ہے۔

۔آپ سوچ سکتے ہیں کہ اگر ان کے علوم کی نشرواشاعت ہوتی تو علمی حلقوں میں ان کا کیا مقام ہوتا۔

آپ کی اولاد میں صرف ایک ہی بیٹا ہوا جس کانام عبد الرحمن تھا مگر بچپن ہی میں فوت ہوگیا۔

آپ کی عمر نے بھی وفا نہیں کی بلکہ (سنا ہے کہ آپ پر بہت خطرناک جادو کیا گیا تھا ۔

واللہ اعلم) 32 یا 33 سال کی عمر میں آپ کا وصال ہوا۔جس مسجد و مدرسے میں پڑھاتے تھے اسی کے باہر آپ کی تدفین عمل میں آئی ۔

صاحب نزہۃ الخواطر علامہ عبد الحی رحمہ اللہ نے جو یہ لکھا ہے کہ “كان شديد الميل إلى إتباع السنة السنية ورفض التقليد”

یعنی ترک تقلید کی طرف قوی میلان تھا ۔ ان سے تسامح ہوا ہے جبکہ خود نبراس میں امام صاحب کو اپنا امام مانا ہے نیز ایمانِ کامل رسالہ فارسی کا ایک مصرع ہے

*ہست ایمانِ مقلد معتبر*

مزید پڑھیں

اعلیٰ حضرت کے معنی اور کیا صرف امام احمد رضا ہی…

عبد العزیز پرہاروی کی قبر شریف

موجودہ پاکستان ملتان و مظفر گڑھ کے آس پاس غیر مشہور کوٹ اَدّو کے مضافات میں بستی پرہاراں غیر معروف مقام ہے جہاں یہ گمنام علامہ آرام فرما ہیں۔ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ

عبد العزیز پرہاروی

آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے۔

علامہ عبد العزیز پرہاروی صاحب کے اقوال

علامہ عبد العزیز پرہاروی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:فیجب علی العلماء الإهتمام بمسئلة الافضلیة۔ علماء پر لازم ہے کہ وہ مسئلہ افضلیت کا اہتمام کریں۔

(نبراس ٤٨٥)

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment