علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی کون؟

Rate this post

*اگر آپ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ کو نہیں جانتے تو یہ آپ کی سب سے بڑی محرومی ہے*🌸🌸

*اعلی حضرت علیہ الرحم کے بعد اہلسنت والجماعت کی جس شخص نے حقیقی طور پر رہنمائی فرمائی بلاشبہ وہ ذات آپ کی ہے*

🌹🌹🌹🌹

مجاہد ختمِ نبوت عبد الستار خان نیازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ایک طرف تمام اہلسنت ہوں دوسری طرف امام نورانی ہوں اور مجھ سے پوچھا جائے کہ اہلسنت کہاں ہیں تو میں امام نورانی کی طرف اشارہ کروں گا کہ

آپ حقیقتاً قائدِ اہلسنت ہیں

*شہزادہ اعلی حضرت مولانا اختر رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ* فرماتے ہیں : اگر کسی نے اعلی حضرت کو دیکھنا ہو تو وہ امام شاہ نورانی کو دیکھ لے

سبحان اللہ العظیم 🌸♥️

آئیے کچھ آپ کا ذکرِ خیر پڑھتے ہیں

حضرت علامہ امام شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ خاندان صدیقی کے چشم و چراغ تھے

مولانا شاہ احمد نورانی کی تعلیم و تربیت ایک علمی اور فکری خاندان میں ہوئی ‘آٹھ سال کی عمر میں آپ نے قرآن کریم کو حفظ کر لیا ۔ حفظ قرآن کے بعد میرٹھ میں آپ نے اپنی ثانوی تعلیم نیشنل عربک کالج میں مکمل کی جہاں ذریعہ تعلیم عربی زبان تھی بعدازاں الہ آباد کالج سے گریجوایشن کیا اسی دوران میرٹھ کے مدرسہ اسلامیہ عربیہ میں حضرت علامہ غلام جیلانی رحمہ اللہ سے درس نظامی کی مروجہ کتب پڑھیں بعد میں آپ نے اپنے والد کے حکم پر دیگر بین الاقوامی زبانیں سیکھ لیں اسی لئے آپ کو تقریباً بین الاقوامی 17 زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ اور 70 کے قریب علاقائی زبانوں کو مکمل انہی کے لب ولہجہ میں ادا کرنے کا ایک خاص کمال حاصل تھا

آپ دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹیز ہارورڈ و آکسفورڈ میں لیکچرز دیا کرتے تھے

۔عراق اور لیبیا کے اعلیٰ اجلاسوں میں عربی زبان میں خطاب کرتے تو مجمع عش عش کر اٹھتا ،ہالینڈ میں اور فرانس کے علمی مراکز میں کھل کر بات کرتے ۔آج پاکستان کا شاید ہی کوئی ایسا لیڈر ہو جو ترجمان کے بغیر ان ممالک میں براہ راست لوگوں کو مخاطب کرسکتا ہو

سبحان اللہ العظیم

آپ نے سب سے پہلے حرمین شریفین کی زیارت 11سال کی عمر میں کی جب آپ کے والد قرأت کی تعلیم کے سلسلے میں مدینہ منورہ لے گئے۔ جہاں آپ نے ایک سال کی تجوید و قرأت کی تعلیم حاصل کی ایک محتاط اندازے کے مطابق آپ کو کم از کم 16مرتبہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل ہوئی اور آپ نے لاتعداد عمرے کیے

آپ کو مدینہ منورہ سے ایک خاص تعلق تھا اپنے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شہر ‘آپ کے والد گرامی کا مزار شریف بھی جنت البقیع میں ہے

حضرت امام شاہ احمد نورانی نے خلوت و جلوت اتباع رسول میں گزاری

اتباع سنت کا پر عمل آپ کی شخصیت سے جھلکتا تھا

آپ علیہ الرحمہ کی وطن عزیز کے استحکام ،ترقی اور مختلف تحاریک میں بے مثال کارہائے نمایاں کی طرح بیرون ملک اسلام کی خدمات کا دائرہ بھی بڑا وسیع ہے۔

تبلیغ اسلام کا جذبہ انہیں خاندانی ورثہ میں ملا۔ آپ کے والد گرامی مبلغ اسلام حضرت مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی علیہ الرحمہ ایک جید عالم دین ‘خلیفۂ اعلی حضرت اور عالمی مبلغ اسلام تھے

اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے آپ کے والد کے لیے فرمایا

*غیر علیم کے علم کو سن کر*

*جہل کی بہل بھگاتے یہ ہیں*

(الاستمداد علی اجیال الارتداد)

انہوں نے دنیا بھر کے ممالک میں رسول اکرم ﷺ کے عشق کے چراغ روشن کیے

  نامور غیر مسلم سکالر جارج برنارڈ شا نے کہا کہ آپ جیسے مبلغ اسلام کے ساتھ مل کر میں محسوس کررہا ہوں کہ آئندہ صدی میں اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہو گا ۔

امام شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ

جمعیت علماءِ پاکستان کے صدر، ورلڈ اسلامک مشن کے چیئرمین اور ملی یکجہتی کونسل کے صدر نشین تھے ۔اپ کی زندگی کا زیادہ حصہ سیاسی خارزاروں میں سفر کرتے گزرا۔

آپ عربی النسل عالم دین تھے ‘آپ کی رہائش مدینہ منورہ میں تھی ‘آپ پوری دنیا میں تبلیغ کے فرائض سر انجام دے رہے تھے کہ ملک پاکستان میں فتنۂ قادیانیت پروان چڑھا اور سیکولر ازم نے اپنی جڑیں مضبوط کرنا شروع کیں اور سیاسی حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے

ایسے میں وطن عزیز ملک پاکستان کو ایسے بے باک و نڈر ‘ حق گو عالم دین و سیاستدان کی ضرروت تھی

جو ان تمام فتوں کا ببانگ دہل مقابلہ کرسکے

یوں پاکستان بھر کے جید علماء

علامہ امام شاہ احمد نورانی صدیقی کو پاکستان آنے کے پیغامات ارسال کیے ‘مسسلسل ملنے والے خطوط و اصرار کے بعد آپ نے

دین مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سربلندی اور

 *لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم* کے نام پر بننے والے وطن کے استحکام کے لئیے

بلد حبیب علیہ الصلاۃ والسلام کو آقا کی اجازت سے فی امان اللہ کہا

اور مستقل پاکستان کے شہر کراچی♥️ میں قیام پذیر ہوئے

اور پاکستان کی عملی سیاست میں قدم رکھ دیا

یوں تو قیام پاکستان سے پہلے بھی آپ ہند کے شہر میرٹھ میں قیام پذیر تھے اور وہاں تحریکِ پاکستان کے لیے یوتھ ونگز کے تحت نوجوانوں میں

*پاکستان کے قیام کی جدوجہد* پر ابھارتے رہتے تھے اس کے لئیے باقاعدہ تنظیم سازی کے ذریعہ آپ نے ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں کو تحریک پاکستان میں شمولیت کے لئیے تیار کیا

لیکن قیام پاکستان کے بعد آپ نے عملی سیاست میں باقاعدہ شمولیت اختیار نہیں کی تھی اور مدینہ منورہ تشریف لے گئے تھے

لیکن جب وقت آیا تو آپ علیہ الرحمہ نے

 عملی سیاست میں پھر ایسا قدم رکھا کہ مخالفین چاہ کر بھی ان کی مخالفت نہیں کرسکتے تھے

آپ حقیقتا خاندان صدیق کے چشم و چراغ تھے ‘کبھی زبان پر ایسا ہلکا لفظ نہیں آیا جو کسی بھی طرح پکڑ ک باعث بنتا یوں پاکستان کی اندھیر سیاست میں بھی مخالفین ہمیشہ اپنا سامنا لے کر رہ گئے ‘اللہ پاک نے آپ کی زبان پر حق جاری فرمایا تھا

یہی وجہ ہے کہ آپ کے نام کا ایک نعرہ دنیا بھر میں گونج اٹھا

کہ

حق و صداقت کی نشانی

علامہ شاہ احمد نورانی

حضرت خواجہ قمر الدین سیالوی رحمہ اللہ کے بعد آپ کو جمعیت کا صدر چناگیا

آپ علیہ الرحمہ نے علمائے اہل سنت کا ایک قافلہ تیار کیا اور کراچی سے خیبرتک علماء ومشائخ میں دینی بیداری اور اعتقادی یکجہتی کے لئے کام کیا اور شہر بہ شہر قریہ بہ قریہ پہنچ کر علمائے کرام کو حجروں ،مدرسوں، خانقاہوں اور مسجدوں کو دینی اور روحانی مراکز بنانے کے لئے تیار کیا ۔

یہ حقیقت ہے کہ امام شاہ نورانی کی اس مہم میں ملک بھر کے سنی علماء ومشائخ نے لبیک کہا اور جو علماء صرف نماز ، نکاح ، جنازہ اور ختم درود تک محدود تھے، وہ علمی جرأت لے کر متحدہو گئے ، جوپیران عظام اور سجادہ نشین تعویذات ، نذرانے اورروحانی مجالس تک محدود تھے ، وہ تبلیغ دین پر آمادہ ہو گئے ۔

آپ نے حقیقتا فلسفہ کربلا کو اپنایا اور ساری زندگی امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیغام کو عام کیا

اور دنیا کو بتادیا کہ خانقاہوں میں بیٹھ کر اگر ہم نے باطل قوتوں کا سامنا نہ کیا تو ہمارا سب عمل بے کار ہے

بقول اقبال علیہ الرحمہ

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری

کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ دلگیری

آپ علیہ الرحمہ بیک وقت کئی محاذ پر ڈٹ کر کھڑے ہوئے

خصوصاً تحفظ ختم نبوت کے لیے ‘مقام مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تحفظ آپ کی زندگی کا نصب العین تھا

فتنہ قادیانیت کے پر پھیلتے دیکھ کر آپ نے ‘تحریک ختم نبوت’ چلائی

جس میں بڑی تعداد میں علماء و عوام شریک ہوئے کئی لوگ شہید ہوئے اور کئیوں مو قید و بند کی صعوبتیں بھی اٹھانی پڑیں

بالخصوص علامہ شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ کو پاکستان کی سب سے بدترین جیل *مچھ جیل* میں رکھا گیا جسے پاکستان کے کالے پانی کی سزا بھی کہتے ہیں

آپ کو گھوڑوں کے اصطبل میں باندھ کر رکھا گیا اور ہر طرح کی اذیت پہنچانے کی بھرپور کوشش کی گئی

مگر ان تمام مظالم۔کے بعد بھی آپ کے پایہ ثبات میں ذرا برابر بھی لغزش واقع نہ ہوئی

آپ حیقیقتا صحابہ کرام کی مثل زندگی پر استقامت کے ساتھ قائم تھے

اور ان تمام تر کوششوں اور قربانیوں کا ثمرہ یہ ملا کہ امت کو

آپ نے 7 ستمبر کا تاریخی دن عطا فرمادیا پر جو امت پر احسان عظیم ہے کیوں نہ ہو کہ

اس قرارداد نے فتنہ قادیانیت میں آخری کیل ٹھونک دی اور ربوہ سے اسرائیل تک کی چیخیں نکل گئیں

مگر یہ کام اللہ رب العزت نے کروانا تھا سو ہو کر رہا اور بالآخر

آپ نے قومی اسمبلی بے مثال جدوجہد کے بعد آئین پاکستان کو عین شریعہ کے مطابق کرکے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوایا

یہ کام کیسے انجام پذیر ہوا؟

اس کہ مزید کیا محرکات تھے ؟

اس کام میں کس قدر مشکلات کا سامنا آپ کو کرنا پڑا ؟

یہاں اس تحریر میں بیان کرنا ممکن نہیں اس کے لئیے ہزاروں کی تعداد میں کتابیں تحریر شدہ ہیں

اس کا مطالعہ فرمائیے اور جانئیے

آپ کی ذات ہمارے لئیے کتنی بڑی نعمت تھی اور آپ کی جماعت ہمارا کتنا بڑا سرمایہ ❤️❤️✍🏻

اور

 بلاشبہ قائد اہلسنت کی پوری زندگی میں ہزاروں ایسے گراں قدر کارنامہ تھے جس کا احاطہ کرنا ناممکن ہے

یہی وجہ ہے کہ آپ کے وصال کے بعد چالیسویں سے پہلے ہی آپ کی شخصیت پر مختلف زبانوں میں ہزاروں کتابیں لکھ دی گئیں اور آج بھی نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی آپ کی شخصیت پر پی ایچ ڈی کی جاتی ہے

ایسی گراں قدر شخصیت ‘ جو حقیقتا اسلاف کا پرتو ہو

ایسے اعلی اوصاف و کمالات کا مالک شخص مگر نجی زندگی دیکھی جائے تو انتہائی سادہ ‘ آپ نے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی ہر سنت پر مکمل عمل فرمایا

سادہ زندگی بسر کی کبھی اپنے ذاتی مکان۔میں نہ رہے

 مدینہ منورہ سے جب پاکستان آئے توکراچی صدر میں ایک کرائے کا فلیٹ لیا اور الحمدللہ زندگی نے ہزاروں رنگ بدلے، مگر آپ علیہ الرحمہ چالیس سال تک اپنے اسی سادہ فلیٹ میں کرایہ دار کی حیثیت سے اہل وعیال کے ساتھ مقیم رہے۔

صبرو قناعت کی یہ مثال شاید ہی پاکستان کے کسی پیر’ عالم اور سیاسی رہنماؤں میں ملتی ہو

 زندگی کے 30 سال تک آپ کا معمول رہا کہ صدر کی ایک مسجد میں ہر سال تراویح میں پورا قرآن سناتے، شبینہ کی طاق راتوں میں اضافی قرآن پڑھتے ، آپ نے اپنی از حد سیاسی مصروفیات کے بعد بھی اپنے روحانی معمول میں کبھی کمی نہ کی

مولانا نورانی ایک شب بیدار عالم دین تھے ۔ وہ سیاست کے طویل سفر میں رات کے آخری لمحوں تک ملک کے مختلف علاقوں میں سیاسی اور دینی جلسوں میں خطاب کرتے تھے،مگر تہجد کی نماز بھی کبھی قضاء نہ ہوئی ‘ حزب البحر ودلائل الخیرات شریف کے عامل تھے

آپ ہمیشہ زمین کے فرش پر سوتے ، مساکین کے ساتھ بیٹھتے اور غرباء کی محفل میں وقت گزارنے سے نہیں اکتاتے تھے۔

رمضان المبارک میں اپنی سیاسی مصروفیات ترک کرکے کراچی میں قرآن پاک سنانے کے لئے موجود رہتے، وہ خوش الحان قاری اور حافظ قرآن تھے، انہوں نے زندگی بھررمضان المبارک میں قرآن پاک سنانے کا ناغہ کبھی نہیں کیا اور اپنی زندگی میں نماز تراویح میں 68با ر قرآن پاک سنانے کی سعادت حاصل کی۔ علامہ اقبال احمد فاروقی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق کے زمانہ اقتدار میں میر علی احمد خان تالپور مرحوم وزیر دفاع تھے ۔ وہ میر بھی تھے، امیر بھی اور وزیر بھی ،مگر ایک دانشور ہونے وجہ سے شاہ احمد نورانی کے علم و فضل کی قدر کرتے تھے ۔ ایک وقت آیا کہ جنرل ضیاء الحق مرحوم کی مخالفت کی وجہ سے شاہ احمد نورانی سے کبیدہ خاطر تھے۔اس کے باوجودانہوں نے ایک دن اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ جنرل ضیاء الحق مرحوم نے اکثرمولویوں کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے، مگر یہ مولوی نورانی قابو نہیں آیا ۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم نے مولانا کو رام کرنے کے لئے مجھے اشارہ کیا، مگر مولانا نورانی نہ میرے قابو آئے نہ ضیاء الحق مرحوم کی انٹیلی جنس انہیں رام کر سکی۔ آخر کار جنرل ضیاء الحق نے فیصلہ کیا کہ ایئر مارشل اصغر خان کی طرح مولانا نورانی کو ان کے گھر میں نظر بند کردیا جائے ۔ مَیں نے جنرل ضیاء الحق کو بتایا اس مولوی کو چھوڑ دیں یہ عام لوگوں میں قرآن پڑھتا ہے تو لوگوں کے دل دھل جاتے ہیں، جب ’’قصیدۂ بردہ‘‘ پڑھتا ہے تو مَیں دست بستہ کھڑا ہو جاتا ہوں، مگر سنا ہے کہ وہ رات کو ’’حزب البحر‘‘ پڑھتا ہے ۔ اس وظیفے کی مارسات سمندروں کی تہوں میں بھی اپنے مخالف کو نشانہ بناتی ہے۔ اس کے بعدجنرل ضیاء الحق مرحوم نے مولانا کی نظر بندی کا خیال چھوڑ دیا ۔

آپ کا لباس اسلامی لباس کا نمونہ تھا، فقیر انہ لباس ،سرپر بنی ٹوپی پر گہرا براؤن عمامہ ، گلے میں رنگین پٹکا اور ہاتھ میں عصائے عالمانہ، وہ جب نورانی لباس میں نورانی آن بان سے نکلتے تو ایک درویش مسلمان کی شبیہ سامنے آجاتی۔ انہوں نے کبھی دولت کے حصول کی طلب نہ کی ‘اس وقت کے کروڑوں روپوں کی آفر کو ہمیشہ جوتے کی نوک پر رکھا

آپ زراندوزی کے دور میں بھی فقیر ی کی مثال تھے اسمبلیوں میں رہ کر بھی تہی دست رہے ۔ سیاسی لیڈروں کی دولت مندی کو تو چھوڑیئے ، ان کے بینک میں زکوٰتی مولویوں اور سرکاری سجادہ نشینوں سے بھی کم بینک بیلنس تھا ۔سیاسی مصروفیت کے باوجود مولاناشاہ احمد نورانی ملک اور بیرون ملک کی دینی درسگاہوں کی سرپرستی سے غافل نہیں رہتے تھے اور ان کی ترقی اور استحکام پر نگاہ رکھتے تھے۔ وہ ملت اسلامیہ کے ان فرزندان دین کی بے پناہ قدر کرتے جو مساجد اور مدارس میں دین کی تعلیم و تدریس میں مصروف ہوئے۔ وہ دینی مدارس کی تقسیم اسناد کی تقاریب پر پہنچ کر اساتذہ اور طلباء کی حوصلہ افزائی کرتے

اہلسنت والجماعت کا سب سے پہلا بورڈ تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کو آپ نے رجسٹرڈ کروایا

آپ علیہ الرحمہ ایسے غریب اساتذہ اور طلباء کی مالی مدد کرتے اور کراتے جو دین کی خدمت کے لئے دن رات کو شاں رہتے تھے

آپ مفلوک الحال علماء کی مالی خدمت انتہائی راز داری سے کرتے تھے

💚💚💚💚

سیاست میں مخالفین حملے کرتے ہیں اور کراتے ہیں ۔پھر آج تو تشدد کا اتنا زبردست زمانہ ہے کہ اندھے قتل ہماری زندگی کا لازمہ بن چکے ہیں ۔ مولانا شاہ احمدنورانی علیہ الرحمہ پر بھی کئی قاتلانہ حملے ہوئے،

دہشتگرد تنظیم ایم کیو ایم کی جانب سے کئی بار بوری بند لاش کی پرچی ملا کرتی اور کئی جلسوں پر آپ علیہ الرحمہ پر اسٹریٹ فائر تک کیے گئے

 ۔مگر مجال ہے کہ اس شخص نے کبھی مقدمہ ، کبھی استغاثہ ،کبھی فریاد اور شکایت کی ہو ‘یا سیکورٹی کے ساتھ زندگی گزاری ہو

بلکہ آپ اللہ پاک کے حقیقی ولی تھے اور اللہ کے ولی موت سے ڈرا نہیں کرتے

آپ کے چھوٹے سے فلیٹ کے باہر ایک بار گارڈز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی

آپ نے سوال کیا

ایسا کیوں گیا ہے

جواب ملا : دہشتگردوں کی ہٹ لسٹ میں آپ کا نام ہے ‘اپ کی جان کو خطرہ ہے

آپ نے جواب ارشاد فرمایا

وہ کسی اور کی ہوگی میری ہٹ لسٹ 15 شعبان کو تیار ہوتی ہے اگر وہاں موت نہیں تو دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی ‘اپ یہ تمام سیکورٹی اپنے ساتھ واپس لے جائیے

اللہ اللہ

آپ بے مثال شخصیت تھے

بے مثال ♥️

یہی وجہ ہے کہ آپ کے وصال کے بعد علماء و صالحین نے آپ کو اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے بعد پندرھویں صدی کا۔مجدد فرمایا

*ایسا کہاں سے لاؤں تجھ سا کہیں جسے*

اور پھر

 جس شخص کی ذات پر پی ایچ ڈی کی جارہی ہو میری چھوٹی سی تحریر میں اس کا بیان ممکن نہیں

میرے پاس و الفاظ نہیں جس سے آپ کی شخصیت یا آپ کی خدمات کے کسی ایک پہلو کو بھی مکمل بیان کرسکوں

آپ کی ولادت کے موقع پر بس چند کلمات آپ کے سامنے پیش کرنا چاہے

‘اللہ کریم قبول فرمائے

ہمیں اپنے اسلاف کو جاننے ‘ان کی قدر کرنے ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق نصیب فرمائے

ملک پاکستان کو فکر نورانی کی ضرورت ہے

اللہ پاک ہمیں مشنِ نورانی پر استقامت نصیب فرمائے

آپ کا مشن ‘ آپ کا مقصد

*وطن عزیز میں مقام مصطفےٰﷺ کے تحفظ اور نظام مصطفےٰﷺ کے نفاذ* ہے

 اللہ پاک اپنے حبیب پاک کے طفیل آپ کے مزار پر انوار پر ہزاروں رحمتیں نازل فرمائے۔

آپ کے مشن عظیم پر تادم آخر قائم رہنے کی توفیق نصیب فرما

آمین آمین یا رب العالمین

جمعیت علما ٕ پاکستان

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment