علامہ اقبال کی حالات زندگی

Rate this post

 ”ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ! وہ ہستی کہ جس نے اس جہان والوں کو خودی، امید، عروج، مشقت، وفا، محبت، جدوجہد اور بہادری جیسی تمام تر صلاحیتیوں کو نا صرف قلم بند کیا بلکہ اس کو ایک ابھرتی ہوئی قوم کے دلوں میں پیوست بھی کیا اور ایک انقلاب عظیم برپا کیا جس کی بنا پر ہم اس مملکت خداداد پاکستان کے وجود کو یقینی بنا سکے۔۔۔!!

آج ڈاکڑ علامہ اقبال کا لکھا خوبصورت شعر، کوئ شاعری کا عنواں، کوئ لکھی علامہ اقبال کی بات لکھیں۔۔۔!!🌺

تیرے عشق کی انتہا چاہتاہوں۔۔۔!!

میری سادگی دیکھمیں کیا چاہتا ہوں۔۔۔!!

علامہ اقبال کا تعارف

پیدائشی نام: محمد اقبال — تخلص: اقبال

ولادت: 9 نومبر 1877ء، سیالکوٹ — وفات: 21 اپریل 1938ء، لاہور

علامہ اقبال کی تصانیف

نثر

علم الاقتصاد-1903

علامہ اقبال کی فارسی شاعری:۔

اسرار خودی-1915، رموز بے خودی-1917، پیام مشرق-1923، زبور عجم-1927، جاوید نامہ-1932، پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق-1936، ارمغان حجاز (فارسی)-1938

علامہ اقبال کی اردو شاعری

بانگ درا-1924، بال جبریل-1935، ضرب کلیم-1936، ارمغانِ حجاز (اردو)-1938

علامہ اقبال کی انگریزی تصانیف:۔

فارس میں ماوراء الطبیعیات کا ارتقاء-1908، اسلام میں مذہبی افکار کی تعمیر نو-1930

علامہ اقبال کون؟

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔

اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔

علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔

یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔

علامہ اقبال کی ابتدائی تعلیم

علامہ نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں ہی حاصل کی اور مشن ہائی سکول سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیے۔

زمانہ طالبعلمی میں انھیں میر حسن جیسے استاد ملے جنہوں نے آپ کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا۔ اور ان کے اوصاف خیالات کے مطابق آپ کی صحیح رہنمائی کی۔

شعر و شاعری کا شوق بھی آپ کو یہیں پیدا ہوا۔ اور اس شوق کو فروغ دینے میں مولوی میر حسن کا بڑا دخل تھا۔ ایف اے کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پاس کیے۔

یہاں آپ کو پرفیسرآرنلڈ جیسے فاضل شفیق استاد مل گئے۔1905 میں علامہ اقبال اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور پروفیسر براؤن جیسے فاضل اساتذہ سے رہنمائی حاصل کی ۔

بعد میں آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے آپ نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

علامہ اقبال کی تدریسی خدمات

ابتداء میں آپ نے ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کے فرائض سرانجام دیئے لیکن آپ نے بیرسٹری کو مستقل طور پر اپنایا۔ وکالت کے ساتھ ساتھ آپ شعروشاعری بھی کرتے رہے۔

1926ء میں آپ پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر چنے گئے۔ آپ آزادی وطن کے علمبردار تھے۔ سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتے تھے۔ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔

آپ کا الہ آباد کا مشہور صدارتی خطبہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے اس خطبے میں آپ نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔ 1931ء میں آپ نے گول میز کانفرنس میں شرکت کرکے مسلمانوں کی نمائندگی کی۔

آپ کی تعلیمات اور قائداعظم کی ان تھک کوششوں سے ملک آزاد ہوگیا اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔ لیکن پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی علامہ انتقال کر گئے تھے۔

لیکن ایک عظیم شاعر اور مفکر کے طور پر قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔ جس نے پاکستان کا تصور پیش کرکے برصغیر کے مسلمانوں میں جینے کی ایک نئی آس پیدا کی۔

دور اندیش، دل سوز اور فکر ملت میں گم حضرتِ اقبال ہمارا فخر ہیں۔ آپ نے اشعار کے ذریعے مسلمانان ہند کو نہ صرف اپنی منفرد شناخت سے آشنائی بخشی بلکہ بیداری شعور کے لیے ایسا سحر انگیز لب و لہجہ اپنایا کہ غلامی کے ریگستان میں لالۂ صحرائی کِھلنے لگے۔

شبِ تاریک میں امید کی قندیلیں روشن ہونے لگیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو جب شاندار ماضی سے روشناس کرایا تو یہی قوم ایک جوش، جذبے اور حوصلے کے ساتھ نہ صرف الگ ریاست کے مطالبے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی بلکہ اسے حاصل کر کے ہی دم لیا۔

آج کے دور میں جب وطن عزیز مشکلات کا شکار ہے، نوجوان نظریاتی انتشار و خلل سے نبردآزما ہیں تو ہمیں جذبۂ نو کیساتھ علامہ محمد اقبال صاحب کی شاعری کے آفاقی پیغام کو سمجھنے، عمل کرنے اور احسن طریقے سے آگے پہنچانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کا مرکزی نکتہ امید ہے۔ ۔ ایک تابناک مستقبل کے لئے مل کر جد و جہد کرنے کی امید، کیونکہ؛

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ ۔ ۔

اشعار علامہ اقبال

“قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں

کچھ بھی پیغامِ محمد کا تمہیں پاس نہیں

امراء نشہ دولت میں ہیں غافل ہم سے

زندہ ہے یہ ملت بیضاء غرباء کے دم سے

رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی نہ رہی

فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے

یعنی وہ صاحب اوصافِ حجازی نہ رہے

وضع میں تم ہو نصاری تو تمدن میں ہو ہنود

یہ مسلمان ہیں جنھیں دیکھ کر شرمائیں یہود

یوں تو سید بھی ہو‘ مرزا بھی ہو‘ افغاں بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو بتائو تو مسلماں بھی ہو

ہرکوئی مست مئے ذوقِ تن آسانی ہے

تم مسلمان ہو! یہ انداز مسلمانی ہے

حیدری فقر ہے‘ نے دولت عثمانی ہے

تم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہے

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

(علامہ اقبال)

9 نومبر شاعر مشرق حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نہ امیدی

  مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے…!!!

9 نومبر بطور اقبال ڈے منایا جاتا ہے۔ اقبال کی انقلابی شاعری نے نہ صرف برصغیر کے مسمانوں میں ایک ولولہ پیدا کیا بلکہ ارد گرد کے مسلمانوں کے ایمان کو بھی تقویت بخشی۔ اقبال شاید اپنے لئے ہی کہہ گئے تھے کہ :-

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے۔۔۔!!!

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔۔۔!!!

یوں تو ہر سال 9 نومبر آتا ہے لیکن ہر سال اقبال نہیں آتا اب اس کے لئے ہزاروں سال منتظر رہنا پڑے گا۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی 9 نومبر آج کے دن مفکر پاکستان اور شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا یوم پیدائش کو یوم اقبال کے طور پر ملک بھر میں منایا جا رہا ہے.

میرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے

خؤدی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر🔥

“ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف،قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری علامہ اقبال کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔

مسلمانان ہند کیلئے الگ وطن کا خواب دیکھنے والے اقبال قیام پاکستان سے پہلے ہی چل بسے۔ لیکن ایک عظیم شاعر اور مفکر کے طور پر قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔ جنہوں نے پاکستان کا تصور پیش کرکے اپنی شاعری سے برصغیر کے مسلمانوں میں جینے کی ایک نئی آس پیدا کی”♥️۔

اللّٰہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں اقبال سا حقیقی شعور عطا فرمائے اور جدو جہد مسلسل کی

توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین 🤲🏻

اللہ پاک علامہ کے درجات بلند فرمائے آمین ۔

علامہ اقبال عقابی روح

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہیں ترا نشیمن قصرِ سلطانی کی گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

دیار عشق ~علامہ اقبال

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

 نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر

 خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو

 سکُوتِ لالہ و گُل سے کلام پیدا کر

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

 نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر

 خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو

 سکُوتِ لالہ و گُل سے کلام پیدا کر

 اُٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں

 سفالِ ہند سے مِینا و جام پیدا کر

 میں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر

 مرے ثمر سے میء لالہ فام پیدا کر

 مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے

 خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر!

علامہ محمد اقبالؒ ❤️

کلامِ اقبال

جب عِشق سِکھاتا ہے آدابِ خُود آگاہی

 کُھلتے ہیں غُلاموں پر اَسرارِ شہنشاہی

 نومید نہ ہو اُن سے اے رَہبرِ فرزانہ

 کم کوش تو ہیں لیکن بے ذَوق نہیں راہی

 عطارؔ ہو رومیؔ ہو رازیؔ ہو غزالیؔ ہو

 کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سَحرگاہی

 اے طائر لاہوتی اُس رزق سے موت اچھی

 جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

 دارا و سِکندر سے وہ مردِ فقیر اولیٰ

 ہو جس کی فقیری میں بُوئے اَسد اللہٰی

 آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بیباکی

 اللہ کے شیروں کو آتی نہیں رُوباہی

..علامہ اقبال

نغمۂ ساربان حجاز۔۔ علامہ اقبال

ناقہ سیار من

آہوئے تاتار من

درہم و دینار من

اندک و بسیار من

دولت بیدار من

تیز ترک گام زن منزل ما دور نیست

اے میری تیز رفتار اونٹنی

اے میری ملک تاتار کی ہرنی

اے میری دولت و سرمایہ

اے میری غربت و امیری

اے میری دولت بیدار یعنی معاش کا ذریعہ

ذرا اور تیز چل! ہماری منزل دور نہیں

علامہ محمد اقبال اور مردان حُر :۔

—————————————–

                   مردِ حُر محکم زَ وردِ لا تخف

                ما بمیدانِ سر بجیب او سر بکف

                  مردِ حُر از لااله روشن ضمیر

                  می نگردد بندهٔ سلطان و میر

(مردِ حُر “لاتخف” کے ورد سے قوی ہے۔ ہم تو میدان میں سر جھکائے آتے ہیں لیکن وہ حُر موت سے بے خوف سر ہتھیلی پر رکھے نکلتا ہے۔

مردِ حُر لا الہ الا الله سے روشن ضمیر ہے۔

مردِ حُر کسی دنياوی سلطان اور امیر کا غلام نہیں ہوتا۔)

The Hur (free man) is strong through repetition of Fear not.

In the battlefield we are hesitant while he is daring.

The Hur is clairvoyant through, “Lailalh Illallah” (there is no God except Allah)

A Hur not fall into the snare of kings and lords.

              شکوہِ عید کا منکر نہیں ہوں مَیں، لیکن

              قبولِ حق ہیں فقط مردِ حُر کی تکبیریں

            جهاں میں بنده حر کے مشاهدات هیں کیا

                 تیرى نگاه غلامانہ هو تو کیا کہیے

        الراقم ؛

    يوسف سکندری

علامہ اقبال

منزل سے اگے بڑھ کر منزل تلاش کر

مل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

شکوہ علامہ اقبال

کیا کہا ! بہر مسلماں ہے فقط وعدہ حور ؟

شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور

عدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستور

مسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصور ؟

تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں

جلوہ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیں

منفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایک

ایک ہی سب کا نبی ، دین بھی، ایمان بھی ایک

حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہے

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

قلب میں سوز نہیں ،روح میں احساس نہیں

کچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیں

باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو

پھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہو

ہر کوئی مست مے ذوق تن آسانی ہے

تم مسلمان ہو ! یہ انداز مسلمانی ہے!؟

حیدری فقر ہے نہ دولتِ عثمانی ہے

تم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہے!؟

وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر!

علامہ اقبال

‏از چمنِ تو رستہ ام قطرۂ شبنمے بہ بخش

خاطر غنچہ وا شد کم نشود ز جوے تو

ترجمہ:

میں تو تیرے ہی چمن کی پیداوار ہوں اس لیے ایک قطرہ شبنم ( عشق کا قطرہ ) مجھے بھی بخش دے۔ اس طرح میرے غنچۂ عشق کا دل کھل جاۓ گا۔ تیری جوۓ رحمت کے پانی میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔۔

حضرت علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ

کلام علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ

خاک لاہور از مزارش آسماں

کس نداند راز او را در جہاں

ترجمہ: ان کے مزار کی وجہ سے لاہور کی مٹی نے آسمان کا رتبہ پایا، دنیا میں کوئی بھی اس کے

راز کو نہیں جانتا۔

آن سراپا ذوق و شوق و درد و داغ

 حاکم پنجاب را چشم و چراغ

ترجمہ: وہ عشق حقیقی کی لذت و آرزو اور درد و نشان کی سراپا تھی، گورنر پنجاب کی صاحبزادی تھی۔

آں فروغ دودۂ عبدالصمد

 فقر او نقشے که مانده تا ابد

ترجمہ: وہ گورنر عبدالصمد کے خاندان کی روشنی اور شعاع تھی، اس کا فقر ایسا نقش تھا جو ہمیشہ

رہے گا۔

تا ز قرآن پاک می سوزد و جود

از تلاوت یک نفس فارغ نبود

ترجمہ: کیونکہ ان کا وجود قرآن پاک سے سوز حاصل کرتا تھا، اس وجہ سے وہ تلاوت قرآن پاک سے ایک لمحہ بھی فارغ نہ ہوتی تھی۔

در کمر تیغ دورو قرآن بدست

 تن بدن ہوش و حواس الله مست

ترجمہ: اس کی کمر میں دو دھاری تلوار اور ہاتھ میں قرآن پاک رہتا تھا، اس کا تن بدن اور ہوش وحواس اللہ کی یاد میں مست رہتے تھے۔

مزید پڑھیں ۔۔۔۔۔apostasy ارتداد کے بارے میں 

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment