حضور کے ولادت کا واقعہ اور عامر یمنی کا عشق

Rate this post

 آقا کا میلاد اور عامر یمنی کی فریاد

  علامہ ابن حجر مکی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں۔ ایک شخص جس کا نام ” عامر یمنی “ تھا۔

عامر یمنی کی بیٹی ؟

اس کی ایک بیٹی تھی جو قولنج (یعنی بڑی آنت کا درد) جذام ( یعنی سفید داغ ) وغیرہ کے امراض میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ چلنے پھرنے سے معذور بھی تھی۔

عامر یمنی اور بت

عامر کے پاس ایک بُت تھا وہ اپنی بیٹی کو اس کے سامنے بٹھاتا اور بُت سے کہتا : ” اگر تو شفا دے سکتا ہے تو میری بیٹی کو شفا دے

سالوں تک وہ یوں کہتا رہا مگر بُت ، بُت بنا رہتا ، پتھر کا بُت دے بھی کیا سکتا ہے

تو !توفیق و عنایت کی ہوا چلی کہ ایک دن عامر اپنی بیوی سے کہنے لگا کہ ہم کب تک اس گونگے بہرے پتھر کو پوچھتے رہیں گے ، جونہ بولتا ہے نہ سنتا ہے ، میں نہیں سمجھتا کہ ہم ” صحیح دین “ پر ہیں ۔

عامر یمنی حق کی راہ نمائی ؟

اُس کی بیوی نے کہا : ٹھیک ہے ، پھر ہمیں ساتھ لے کر ہدایت کی تلاش کے لیے نکلو شاید کہ ہمیں حق کی طرف کوئی راہ نمائی مل جائے ۔

حضور کی ولادت کے واقعات

حضور کی آمد

دونوں میاں بیوی اپنے مکان کی چھت پر بیٹھے یہی گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک انہوں نے دیکھا کہ ایک نور ہے جو سارے آسان پر پھیلا ہوا ہے اور اس کی روشنی سے ساری دنیا چمک اٹھی ہے۔

الله پاک نے ان کی آنکھوں سے ظلمت (یعنی اندھیرے) کے پردے ہٹا دیئے تا کہ وہ خوابِ غفلت سے جاگ جائیں۔

کیا دیکھتے ہیں کہ فرشتے صف باندھے ایک مکان کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں ، پہاڑ سجدہ کر رہے ہیں ، زمین ٹھہری ہوئی ہے اور درخت جھکے ہوئے ہیں اور ایک کہنے والا کہہ رہا ہے : ” مبارک ہو! سچے اور آخری نبی صلی الله عليه الله و سلم پیدا ہوگئے ہیں ۔ “

عامر یمنی کی بت کا حال؟

عامر نے اپنے بُت کو دیکھا وہ اوندھے منہ زمین پر ذلیل و خوار پڑا تھا ؟

عامر کی بیوی کہنے لگی : ذرا اس بُت کو تو دیکھئے ! کیسے سر نیچا کئے زمین پر پڑا ہے ! اتنا سنتے ہی بُت بول اُٹھا : خبردار رہو! بڑی خبر ظاہر ہو گئی ہے۔

وہ پاک ذات پیدا ہو چکی ہے جو کائنات کو شرف و افتخار بخشے گی ، آگاہ رہو ! وہ آخری نبی صلی الله عليه الله و سلم جن کی آمد ( یعنی آنے) کا ہر ایک کو انتظار تھا۔

جن سے شجر و حجر ( یعنی درخت اور پھتر) باتیں کریں گے ، وہ کہ جن کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہو گا اور جو قبیلہ ربیعہ و مضر کے سردار ہوں گئے ظاہر ہو چکے ہیں ۔

یہ سن کر عامر نے بیوی سے کہا : تو سن رہی ہے کہ یہ پتھر کیا کہہ رہا ہے ! بولی اس سے پوچھئے : اس پیدا ہونے والے سعادت مند کا نام کیا ہے جن کے نور سے اللہ پاک نے سارے جہان کو روشن فرما دیا ہے ؟

عامر نے کہا : اے غیب سے آنے والی آواز ! اس پتھر نے صرف آج ہی بات کی ہے یہ تو بتاؤ اس کا نام کیا ہے ؟

جواب دیا ان کا نام نامی اسم گرامی محمد صل الله عليه وسلم ہے جو صاحبِ زم زم و صفا ( حضرت سیدنا اسماعیل علیه الصلوة السلام ) کے بیٹے ہیں۔

ان کی زمین هامہ “ ہے اور ان کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت “ ہے وہ جب چلیں گے تو بادل ان پر سایہ کرے گا ۔

نہیں نہیں بلکہ بادل أن سے سایہ حاصل کرے گا اتنے میں عامر کی بیٹی جو کہ نیچے بے خبر سو رہی تھی اپنے پاؤں پر چلتی ہوئی چھت پر آگئی۔

عامر یمنی کی بیٹی کو عافیت مل گئی ؟

عامر نے حیران ہوتے ہوئے کہا : اے میری بیٹی ! تیری وہ تکلیف کہاں گئی جس میں تم مبتلا تھی اور جس نے تیرا جینا مشکل کر رکھا تھا ؟

بیٹی نے جواب دیا : آبا جان میں دنیا جہان سے بے خبر سو رہی تھی کہ میں نے اپنے سامنے نور کی تجلی دیکھی ، میرے سامنے ایک بزرگ تشریف لائے ، میں نے پوچھا یہ نور کیسا ہے جو میں دیکھ رہی ہوں اور یہ کون بزرگ ہیں۔

جن کے مبارک دانتوں کے نور نے مجھ پر سایہ کیا ہوا ہے ؟ جواب آیا یہ عدنان کے بیٹے کا نور ہے ( حضرت عدنان رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ دادوں میں سے ایک بزرگ ہیں) جس سے کائنات پر نور ہو رہی ہے۔

ان کا نام نامی اسم گرامی احمد و محمد ہے ، فرمانبرداروں پر رحم اور خطاکاروں سے درگزر فرمائیں گے ۔

میں نے پوچھا : ان کا دین کیا ہے ؟ جواب دیا : وہ دین حنیف “ ( یعنی سچے دین ) پر ہیں ۔

میں نے پوچھا : وہ کس کی عبادت کرتے ہیں ؟ جواب ملا : اللہ وحدہ لا شریک کی یعنی اس الله پاک کی جو اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔

میں نے پوچھا : آپ کون ہیں ؟ تو جواب ملا : میں ان فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہوں جسے نور محمدی کے اٹھانے کا شرف بخشا گیا ہے ۔

میں نے عرض کی : کیا آپ میری اس تکلیف کو نہیں دیکھتے ؟ فرشتے نے کہا : ہاں ! تم نبیِ احمد صلی الله عليه و اله و سلم کے وسیلے سے دعا کرو الله پاک نے فرمایا ہے میں نے محبوب کی ذات میں اپنا راز و دلیل رکھی ہے۔

جو کوئی مجھ سے میرے محبوب کے وسیلے سے دعا کرے گا میں اس کی مشکل کو حل کر دوں گا اور جنہوں نے میری نافرمانی کی ہے میں ان کے بارے میں قیامت کے دن اپنے حبیب صلی الله علیہ واله وسلم کو شفيع ( یعنی سفارش کرنے والا ) بناؤں گا ۔

وہ بچی کہہ رہی ہے کہ یہ سنتے ہی میں نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دیئے اور سچے دل سے اللہ پاک سے دعا کی اور پھر اپنے ہاتھوں کو چہرے اور جسم پر پھیرا ،۔

جب نیند سے اٹھی تو ایسی تھی جیسے اب آپ مجھے دیکھ رہے ہیں ۔

یہ سن کر عامر یمنی نے اپنی بیوی سے کہا : بیشک ہم نے اس مبارک ہستی کی عجیب و غریب نشانیاں دیکھی ہیں ، میں ان کی محبت اور دیدار کے شوق میں جنگلوں اور دشوار گزار وادیوں کو طے کروں گا ۔

حضور کی ولادت کے واقعات

عامر یمنی حضور کی تلاش ؟

چنانچہ عامر یمنی اور اس کے تمام گھر والے نور والے آقا صلی الله عليه و اله و سلم کی تلاش میں اٹھ کھڑے ہوئے اور مکہ مکرمہ : زادھااللہ شرفا و تعظیماً کے سفر کا ارادہ کیا ،

سر زمینِ مکہ میں داخل ہو کر بی بی آمنہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مکانِ عالیشان کا پتا پوچھ کر دروازے پر دستک دی ۔

عامر یمنی حضور کی زیارت کا شرف

بی بی آمنہ خاتون رضی الله عنہا نے آنے کا مقصد پوچھا تو انہوں نے عرض کی : ہمیں اپنے لخت جگر ، نور نظر کا نور برسانے والا چہرہ دکھا دیجئے جس نے اپنی چمک دمک سے ساری دنیا کو چکا دیا ہے جن کے طفیل اللہ کریم نے کائنات کو روشن فرما دیا ہے ۔

حضرت سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں ابھی اپنا نور نظر ( اپنا پیارا پیارا بیٹا ) تمہیں نہیں دکھاؤں گی کیونکہ مجھے یہودیوں کا ڈر ہے کہیں وہ ان کو نقصان نہ پہنچائیں اور میں نہیں جانتی کہ تم کون لوگ ہو اور کہاں سے آئے ہو ؟

عامر اور اس کے گھر والوں نے کہا : ہم نے تو اسی آخری نبی صلی اللہ علیہ واله سلم کی محبت میں اپنے وطن اور اپنے دین ( یعنی اپنے باطل مذہب) کو چھوڑا ہے کہ اس نور والی سرکار صلی الله علیه و اله و سلم کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو روشن کریں جن کے دربار میں حاضر ہونے والا کبھی ناکام و نامراد نہیں لوٹے گا ۔

یہ سن کر بی بی آمنه رضی الله عنها نے فرمایا : اچھا اگر میرے پیارے بیٹے کے دیدار کے بغیر تمہارا گزارا نہیں تو جلدی نہ کرو کچھ دیر ٹھہرو ۔

یہ فرما کر آپ اپنے مکان عرش نشان میں تشریف لے گئیں ، تھوڑی ہی دیر میں ارشاد فرمایا : آندر آجاؤ ۔ اجازت ملتے ہی وہ اس مبارک کمرے میں داخل ہوئے جس میں دو جہاں کے تاجدار صلی اللہ عليه و اله و سلم آرام فرما تھے۔

وہاں کے انوار و تجلیات میں ایسے گم ہوئے کہ دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بے خبر ہو گئے۔

بے ساختہ الله پاک کا ذکر کرنے لگے ، جیسے ہی چہرہ پُر انوار سے پردہ اُٹھا تو دیدار کرتے ہی یکدم اُن کی چیخیں نکل گئیں ، اتنا روئے کہ ہچکیاں بندھ گئیں ، قریب تھا کہ ان کی روح ان کے جسم سے نکل جاتی ۔

آگے بڑھ کر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ننھے مُنے مبارک ہاتھوں کو چوما ۔ حضرت بی بی آمنه رضی اللہ عنها نے ارشاد فرمایا ۔ اب جلدی سے چلے جایئے ، آخر کار نہ چاہتے ہوئے عامر یمنی دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے گھر سے باہر آئے ۔

عامر یمنی کا حال ہی بدل چکا تھا ، وہ اس نورانی چہرے کے دیدار کے عاشقِ زار بن چکے تھے ، دیوانہ وار چیخ کر کہنے لگے : مجھے حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنها کے گھر واپس لے چلو اور دوبارہ التجا کرو کہ مجھے دیدار کرادیں ۔

مزید پڑھیں

حضور کی ولادت کے واقعات

عامر یمنی حضور پر قربان

بی بی آمنه رضی اللہ عنھا کے گھر واپس آئے ( اب کی بار ) جوں ہی عامر یمنی نے حضور پاک صلی اللہ علیہ واله وسلم کو دیکھا تو دیکھتے ہی لپکا قدموں میں گر گیا پھر ایک زور دار چیخ ماری اور اس کی روح أن ننھے مُنے قدموں پر قربان ہوگئی ۔

 النعمة الکبری، صفحہ :22 ‘ حقیقت کتابوی ‘ ترکی

علامہ شیخ شعیب بن سعد ابن عبد الکافی المصری المکی الحریفیش رحمة اللہ علیہ ( المتوفی 810 ہجری) نے بھی یہ واقعہ نقل کیا ہے _

الروض الفائق ‘ صفحہ : 367’ 368 ‘ المکتبة العصریة ‘ بیروت

دیوبندی مولوی ابراہیم دہلوی نے بھی یہ واقعہ نقل کیا ہے

احسن المواعظ ‘ صفحہ : 30 ‘ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment