شیطان کا تخت

Rate this post

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ ثُمَّ يَبْعَث سَرَايَاهٗ یَفْتِنُوْنَ النَّاسَ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ فَعَلَتُ كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ مَا صَنَعْتَ شَيْئًا قَالَ ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ مَا تَرَكْتُهُ حَتّٰى فَرَّقَتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهٖ قَالَ فَيُدْنِيْهِ مِنْهُ وَيَقُولُ نِعْمَ أَنْتَ قَالَ الْأَعْمَشُ أَرَاهُ قَالَ «فَيَلْتَزِمْهُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

ترجمہ💞

روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے ۱؎ پھر اپنے مختلف لشکر کو لوگوں میں فتنہ میں ڈالنے کے لیئے بھیجتا ہے ۲؎ ان میں قریب تر درجہ والا وہ ہوتا ہے جو بڑا فتنہ گر ہو۳؎ ان میں سے آکر ایک کہتا ہے کہ میں نے فلاں فلاں فتنہ پھیلایا ابلیس کہتا ہے کچھ نہیں پھر اور دوسرا آکر کہتا ہے کہ میں نے فلاں کو اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک کہ اس میں اور اس کی بیوی میں جدائی نہ ڈال دی۴؎ فرمایا ابلیس اسے پاس بٹھاتا ہے اور کہتا ہے تو بہت ہی اچھا ہے۔

اعمش فرماتے ہیں مجھے خیال ہے کہ فرمایا اسے چمٹا لیتا ہے ۵؎ (مسلم)

تشریح💞

۱؎ روزانہ صبح کے وقت سمندر پر جب اپنا کاروبارشروع کرتا ہے مگر اس کا تخت سمندر میں ڈوبتا نہیں کہ وہ خود بھی آتشی ہے اس کا تخت بھی آتشی۔

آج کشتیاں اور جہاز ڈوبنےسےمحفوظ ہیں۔

۲؎ سرایا سریہ کی جمع ہے بمعنی چھوٹی فوج جن کی تعداد پانچ افراد سے چارسو تک ہو۔

ذریّتِ شیطان کی مختلف جماعتیں ہیں ان کے نام اور کام الگ الگ ہیں۔

چنانچہ وضوء میں بہکانے والی جماعت کا نام ولہان ہے،اور نماز میں ورغلانے والی جماعت کا نام خنزب ہے۔ایسے ہی مسجدوں میں،بازاروں میں،شراب خانوں میں،اس کی الگ الگ فوجیں رہتی ہیں۔

۳؎ یعنی ابلیس اپنی ذریّت میں سے اُسے اپنا قربِ خصوصی بخشتا ہے جو لوگوں میں بڑی گمراہی یا فتنہ پھیلا کر آئے۔

۴؎ اس طرح کہ طلاق واقع کرادی۔طلاق اگرچہ مباح چیز ہے مگر اکثر بہت فسادات کی جڑ بن جاتی ہے۔اس لیئے ابلیس اس پر خوش ہوتا ہے،اسی لیئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اَبْغضُ الحلالِ الطلاقُحتّی الامکان اس سے بچنا بہتر ہے۔یا مطلب یہ ہے کہ میں نے خاوند بیوی میں جدائی کرادی کہ خاوند کی عورت کو معلقہ کردیا نہ چھوڑے نہ بسائے یہ سخت جرم ہے۔رب نے فرمایا:”فَتَذَرُوھاا کَالْمُعَلَّقَۃِ” اس صورت میں حدیث بالکل واضح ہے۔

۵؎ اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جو شخص ناحق زوجین میں جدائی کی کوشش کرے وہ ابلیس کی طرح مجرم ہے،اس سے وہ عامل لوگ عبرت حاصل کریں جو تفریق زوجین کے لیئے تعویذ و عملیات کرتے ہیں۔

دوسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے ابلیس وغیرہ کوئی چیز چھپی نہیں۔کیونکہ ظاہر یہ ہے کہ حضور مشاہدہ و ملاحظہ فرما کر یہ سب کچھ فرمارہے ہیں۔💞 دعاگو

عارف اللہ رشیدی

مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 حدیث نمبر:71 🥀

بصیرت یہ ہے کہ آدمی کو اس کے سوشل اسٹیٹس سے نہیں، اس کے تقویٰ اور کردار سے پہچانا جائے۔

———————-

امام بخاری، حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص گزرا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا کہ اس کے متعلق کیا کہتے ہو؟ صحابہ نے کہا کہ

۱۔ یہ نکاح کا پیغام دے تو قبول کیا جائے گا

۲۔ سفارش کرے تو سفارش قبول کی جائے گی

۳۔ بات کہے تو سنی جائے گی۔

آپ خاموش ہو گئے۔ پھر تھوڑی دیر میں ایک فقیر مسلمان کا گزر ہوا۔ آپ نے پوچھا کہ اس کے متعلق کیا کہتے ہو؟ صحابہ نے کہا کہ

۱۔ یہ نکاح کا پیغام دے تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا

فقراء کی شان

۲۔ سفارش کرے تو وہ قبول نہیں کی جائے گی

۳۔ بات کہے تو وہ نہیں سنی جائے گی۔

آپ نے فرمایا: پہلے آدمی جیسے لوگوں سے ساری زمین بھر جائے تو بھی (اللہ کی نظر میں) یہ ایک (فقیر ومسکین) ان سب کے مقابلے میں بہتر ہے۔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment