شیخ المشائخ حضرت علامہ سید احمد شاہ صاحب سریکوٹی نوَّراللّٰہ مرقدہٗ❣️

Rate this post

شیخ المشائخ حضرت علامہ سید احمد شاہ صاحب سریکوٹی نوَّراللّٰہ مرقدہٗ (بانی جامعہ احمدیہ سنیہ چٹاگانگ بنگلہ دیش)

علامہ سید احمد سریکوٹی علیہ الرحمہ ہزارہ میں سلسلۂ عالیہ قادریہ کے عظیم بزرگ اور اپنے وقت کے متبحر عالم اور مبلغِ اسلام تھے

 ہری پور سے اٹھارہ میل مغرب کی جانب واقع موضع سریکوٹ میں آپکی ولادت ہوئی

“تحصیلِ علم”:-

              آپ نے تجوید کے ساتھ قرآن کریم حفظ کیا اور اپنے علاقے کے جید فضلاء سے تحصیل علم کیا، بعد ازاں دارالعلوم دیوبند جاکردرس حدیث لیا آپ مولوی محمودالحسن دیوبندی کے اول تلامذہ میں سے تھے بلکہ مولانا محمود الحسن ان پر فخر کیا کرتے تھے لیکن اس کے باوجود اپنی مجالس میں ان کے معتقدات و نظریات کا بڑی شدت سے رد فرماتے اور مسلک اہل سنت پر اخیر دم تک قائم و دائم رہے

“خدمات عالیہ”:-

               * تکمیلِ علوم کے بعدایک عرصہ تک افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤ ن، زنجبار، اورممباسہ میں عرصۂ دراز تک تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دیتے رہے

               * 1339ھ/1920ء میں پھر تبلیغ دین کے لیے رنگون تشریف لے گئے اور مرکزی مسجد ، مسجد ناخدا میں امام وخطیب مقررہوئے

              * 1344ھ/1925ء میں آپ نے چٹا گانگ میں انجمن شوریٰ قائم کی اور جامعہ احمدیہ سنیّہ کی بنیاد رکھی۔

      اس جامعہ کی بنیاد رکھتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ

   “میں نے اس کی بنیاد اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا محدث بریلی رحمه اللٌّہ کے مسلک پر رکھی ہے”

          علامہ سید احمد سریکوٹی کے قائم کردہ اس جامعہ نے خوب ترقی کی اور آج بنگلہ دیش میں اہل سنت و جماعت کے مرکزی دارالعلوم کی حیثیت سے دینی و ملی خدمات انجام دے رہا ہے۔ جس میں تقریباً8000 طلبا زیر تعلیم ہیں

چٹاگانگ میں مدرسہ قائم کرنے کے باوجود اپنے شیخ و مرشد کے قائم کردہ دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور میں دلچسپی لیتے رہے اور دار العلوم کی موجودہ بلند و بالا عمار ت میں آپ کا بہت بڑا حصہ ہے اسی طرح پیرومرشدکی کتاب’’مجموعہ صلوٰۃ الرسول‘‘ کثیر رقم خرچ کرکے اسے پہلی بار چھپوایا ورنہ نہیں معلوم یہ کتاب بھی دیگر اکابرین کے مخطوطات کی طرح ناپید ہوجاتی۔آپ نے تقریباً سولہ سال تک مشرقی پاکستان میں قیام کیا اس عرصے میں بلا مبالغہ لاکھوں افراد حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے آپ کے مریدین کا امتیازی نشان مسلک اہل سنت پر ثابت قدمی، پاکستان سے سچی محبت اور دینِ متین کے ساتھ گہرا لگاؤ تھا

“بیعت و خلافت”:-

                  آپ غوث زماں حضرت خواجہ عبدالرحمن چھوہروی(بانیِ دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ، و مصنف مجموعہ صلوٰۃ الرسول)کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے کچھ عرصہ بعد خلافت واجازت سے مشرف ہوئے۔

“وصال پر ملال”:-

                     11ذیقعدہ1380ھ، بمطابق 27اپریل1961ء بروزجمعرات آپ کا وصال ہوا۔

آپ کی آخری آرام گاہ ’’شتالو شریف، سری کوٹ‘‘میں ہے.

            (سقی اللّٰہ ثراہ وجعل الجنۃ مثواہ)

        خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

#MBR786

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment