شان و فضائل امام حسن علیہ السلام |2 ولادت و شہادت امام حسن رضی اللہ عنہ

Rate this post

امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) کا اسم مقدس ” حسن ” کنیت ” ابومحمد ” اور

امام حسن کے القابات

مشہور القاب تقی نقی زکی سید اور شبیہ الرسول ﷺ ہیں۔ آپ (علیہ السلام) کو سبط رسول (صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم) بھی کہا جاتا ہے۔

ولادت امام حسن

رمضان المبارک 15 یوم ولادت سردارِ جنت نواسئہ رسولﷺ جگر گوشئہ بتول رضی اللہ عنہا حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ ابنِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنھما

ولادت امام حسن

امام حسن کی شان میں اشعار

وہ حسن مجتبیٰ سید الاسخیا “”

راکبِ دوشِ عزت پہ لاکھوں سلام **

جسکو کاندھوں پر آقاﷺ کھیلاتے رہے “”

 اُس حسن ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام

آپ (علیہ السلام) ولایت کے لحاظ سے دوسرے امام ہیں اور خلافتِ ظاہری کے لحاظ سے پانچویں خلیفہ ہیں اور سب سے خاص بات یہ کہ آپ (علیہ السلام) سر سے سینہ تک اپنے نانا جان (صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم) کے مشابہ تھے۔

امام حسن (علیہ السلام) حسن و جمال میں سب سے الگ تھے جیسے کہ اوپر بیان کردیا گیا ہے اور عنبریں زلفوں کے خم آپ (علیہ السلام) کے حسن کو دوبالا کردیتی تھیں ۔ اہلبیت اطہار (علیہم السلام) میں آپ کو خاص مقام حاصل تھا جب آپ (علیہ السلام) سوار ہوا کرتے تو حضرت عبد اللّٰہ ابن عباس (علیہما السلام) آپ (علیہ السلام) کے گھوڑے کی رکاب پکڑا کرتے ۔

امام حسن رضی اللہ عنہ کی عبادت و ریاضت

حافظ ابن کثیر نے بیان کیا کہ امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) جب صبح کی نماز پڑھتے تو وہیں مسجد میں ذکر اللّٰہ ﷻ میں مصروف ہو جاتے اور تب تک نا اٹھتے جب تک سورج بلند نا ہوجاتا ۔ آپ (علیہ السلام) نے پچیس حج پیدل کیے حالانکہ آپ (علیہ السلام) کے پاس سواریاں بھی ہوتی تھیں آپ (علیہ السلام) کا فرمانِ مقدس ہے کہ اللّٰہ ﷻ کے گھر جاتے ہوئے سوار ہو کر جانے میں مجھے حیاء آتی ہے ۔

شان امام حسن

Shan e Imam Hassan

🌀 حضرتِ سیدنا ابوھریرہ رضی ﷲ عنہ کی حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی ﷲ عنہ سے محبت کا انداز بے مثال 🌀

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ(المتوفی :٢٤١ھ)کے بیٹے اپنے والد کے طریق سے بسند یوں نقل کرتے ہیں:

حدثنا عبد اللہ قال:حدثنی ابی نا ابن ابی عدی ،عن ابن عون ،عن عمیر بن اسحاق ،قال:کنت مع الحسن بن علی ،فلقینا ابوھریرة،فقال:ارنى أقبل منك حيث رأيت رسول ﷲ صلى الله عليه وسلم يقبل،قال:فقال:بقميصه،قال:فقبل سرته

حضرتِ عمیر بن اسحاق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میری اور حضرتِ سیدنا امام حسن بن علی رضی ﷲ عنہما کی ملاقات حضرتِ سیدنا ابوھریرہ رضی ﷲ عنہ سے ہوئی تو حضرتِ سیدنا امام حسن رضی ﷲ عنہ سے حضرتِ سیدنا ابوھریرہ رضی ﷲ عنہ نے کہا:میں وہاں سے تمہیں بوسہ دوں گا جہاں سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیا کرتے تھے ،پس حضرتِ سیدنا ابوھریرہ رضی ﷲ عنہ نے انہیں ناف پر بوسہ دیا ۔

شان امام حسن

⛔ فضائل الصحابة ،فضائل الحسن والحسین رضی ﷲ عنہما ،رقم الحدیث:١٣٧٧،ص:٣٠٥،٣٠٦، مطبوعہ دارالکتب العلمیة بيروت ،لبنان۔

فضائل الصحابة کے محقق “شیخ وصی اللہ بن محمد عباس “کہتے ہیں:اسناده صحيح.

           ✍️ ابوالحسن محمد افضال حسین نقشبندی مجددی

(١٥/٨/٢٠٢٣)

فضائل امام حسن

🌸حضرتِ سیدنا ابوھریرہ رضی ﷲ عنہ کی حضرتِ سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی ﷲ عنہ سے کمال محبت🌸

  امام ابی یعلیٰ احمد بن علی بن المثنی الموصلی رحمہ اللہ (٣٠٧ھ)نے اپنی سند کے ساتھ اس طرح نقل کیا ہے:

حدثنا أبو بكر، حدثنا زيد بن حباب، حدثنا محمد بن صالح التمار المدني، حدثنا مسلم بن أبي مريم، عن سعيد بن أبي سعيد المقبري قال: كنا مع أبي هريرة إذ جاء الحسن بن علي، فسلم فرددنا عليه، ولم يعلم أبو هريرة، فمضى فقلنا: يا أبا هريرة هذا الحسن بن علي سلم علينا، قال: فتبعه فلحقه قال: وعليك السلام يا سيدي، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إنه سيد»

حضرت ابو سعید المقبری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ

فضائل امام حسن

ایک مرتبہ ہم کچھ لوگ حضرتِ سیدنا ابو ھریرہ رضی ﷲ عنہ کے پاس (بیٹھے ہوئے)تھے ،اچانک حضرتِ سیدنا امام حسن بن علی رضی ﷲ عنہما تشریف لائے اور آپ رضی ﷲ عنہ نے ہمیں سلام کیا،ہم نےآپ رضی ﷲ عنہ کے سلام کا جواب دیا ۔ حضرت سیدنا ابو ھریرہ رضی ﷲ عنہ کو انکے سلام کا علم نہ ہوا ،اور وہ (حضرت سیدنا امام حسن رضی ﷲ عنہ) چلے گئے ۔ ہم نے عرض کی :

“اے ابو ھریرہ(رضی ﷲ عنہ)! یہ حسن بن علی (رضی ﷲ عنہما)ہمارے پاس سے گزرے ہیں اور انہوں نے ہمیں سلام کیا۔ (یہ سن کر) آپ رضی ﷲ عنہ ان کے پیچھے چل کر گئے ، اور ان سے ملاقات کی اور عرض کی: آپ پر سلام!اے میرے سردار! (ہم نے عرض کیا: آپ نے انہیں یا سیدی کیوں فرمایا؟) آپ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ نے ارشاد فرمایا: “یہ (حسن) سید(یعنی سردار ہے”۔

 ⛔مسند ابی یعلیٰ ،مسند ابی ھریرة ، شهر بن حوشب ،عن ابى هريرة ،عن النبى صلى الله عليه وسلم ،رقم الحديث:٦٥٥٤،ص:١١٤٥،مطبوعہ دار المعرفة بيروت ،لبنان.

■مسند ابى يعلى کے محقق “حسین سلیم اسد” کہتے ہیں:اسناده صحيح.

 ⛔المستدرك على الصحيحين للحاكم ،كتاب معرفة الصحابة رضى الله عنهم ،ومن فضائل الحسن بن علی بن ابی طالب رضی ﷲ عنہ وذکر مولدہ ومقتله رقم الحديث:٤٧٩٢،جلد:٣،ص:١٨٥، مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت ،لبنان.

■امام حاکم رحمه الله (المتوفى:٤٠٥ھ) کہتے ہیں:هذا حديث صحيح الاسناد.

■امام ذهبى رحمه الله( المتوفى:٧٤٨ھ) کہتے ہیں: صحیح ۔

⛔مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ،کتاب المناقب ،باب ما جاء فی الحسن بن علی رضی ﷲ عنه ،رقم الحديث:١٥٠٤٩،جلد:٩،ص:١٧٨، مطبوعہ مکتبة القدسى القاهرة.

■امام نور الدين الهيثمى رحمه الله (المتوفى:٨٠٧ھ) فرماتے ہیں:رجاله ثقات.

🌹فوائد:

(1.) معلوم ہوا کہ حضرت سیدنا ابو ھریرہ رضی ﷲ عنہ حضرت سیدنا امام حسن رضی ﷲ عنہ کی حد درجہ تعظیم و تکریم فرماتے تھے ۔

(2.) حضرتِ سیدنا ابوھریرہ رضی ﷲ عنہ حضرتِ سیدنا امام حسن رضی ﷲ عنہ کو “یاسیدی”کہہ کر پکارتے تھے ۔

(3.) حضرتِ سیدنا ابوھریرہ رضی ﷲ عنہ اپنے شاگردوں کو اہل بیت کے عظیم چشم و چراغ امام حسن مجتبی رضی ﷲ عنہ کے فضائل و کمالات گاہے بگاہے سناتے رہتے تھے ۔

(4.)اس میں ان لوگوں کا بھی بھرپور رد موجود ہے جو کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی ﷲ عنہ اھل بیت کے فضائل معاذاللہ چھپایا کرتے تھے ۔

(5.) امام ابن شاہین رحمہ اللہ (المتوفی ٣٨٥ھ)فرماتے ہیں کہ:

“سید و سردار ہونا آپ کی انفرادی فضیلت ہے جس میں کوئی دوسرا شریک نہیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے علاوہ کسی کے لئے سیادت کا اطلاق نہیں فرمایا ۔۔۔ آپ اھل بیت کے سید ہیں اور صحابہ کرام میں سید ہیں اور یقینی طور پر یہ شرف کسی کو حاصل نہیں ہوا “

 ⛔شرح مذاھب اھل السنة ،ذكر ما تفرد به الحسن بن على ،ص:٢٦٣،مطبوعہ موسسة قرطبة للنشر والتوزيع.

✍️ابو الحسن محمد افضال حسين نقشبندى مجددى .

(٢/٨/٢٠٢٣)

امام حسن مجتبیٰ کی خلافتِ ظاہری

اکیس رمضان امام علی المرتضیٰ (علیہ السلام) کی شہادت کے بعد لوگ آپ (علیہ السلام) کے پاس جمع ہونا شروع ہو گئے اور تقریباً نوے ہزار افراد نے آپ (علیہ السلام)  کے دستِ مقدس پہ بعیت کی اور آپ (علیہ السلام) نے ایک نہایت فصیح و بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا

میں حسن ہوں علی ابن ابی طالب (علیہماالسلام) کا بیٹا اور بشیر و نزیر کا فرزند ہوں۔ میں اہلبیت اطہار سے ہوں جن کے متعلق آیتِ تطھیر نازل ہوئی جن کے متعلق آیتِ مودت نازل ہوئی ۔

اے لوگو ! آج وہ شخص دنیا سے چلا گیا جس کی مثل نا کوئی سابقین میں ہوا اور نا ہی بعد میں کوئی ہوگا ۔ نیز آپ (علی علیہ السلام) نے اپنی جان رسول اللّٰہ (صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم) کے لئے وقف کر رکھی تھی اور انہوں نے بڑے بڑے معرکے فتح کیے اور انہوں نے ہی قلعہ خیبر پر اسلامی پرچم گاڑا ۔

امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) کے خطبہ مکمل ہوتے ہی حضرت عبد اللّٰہ ابن عباس (علیہماالسلام) نے فرمایا ! یہ حسن ہیں فرزند رسول (صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم) اور علی المرتضیٰ (علیہ السلام) کے وصی ہیں۔ انکی اطاعت اپنے اوپر واجب کر لو۔ جب ان واقعات کی خبر امیرِ شام معاویہ بن ابی سفیان کو ہوئی تو ایک لشکر تیار کیا اور ساٹھ ہزار کا لشکر لے کر عراق کی طرف روانہ ہوئے ۔

ادھر امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) اپنا لشکر لے کر شام کی طرف روانہ ہوئے اور جب معاویہ بن ابی سفیان اور عمرو بن عاص نے امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) کا لشکر دیکھا تو گھبرا گئے کیونکہ امام مجتبیٰ (علیہ السلام) کے لشکر کی تعداد امیرِ شام کے لشکر سے زیادہ تھی تو فوراً صلح کی پیشکش کی۔

تب امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) نے امت کو خونریزی سے بچانے کی خاطر جنگ کو ترک کردیا اور صلح کی اور شرائط طے ہو گئیں اور امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) خلافت سے دستبردار ہو گئے اور حکومت معاویہ بن ابی سفیان کے سپرد کردی اور خلافتِ راشدہ ربیع الاول 41 ہجری میں تکمیل کو پہنچی اور ملوکیت شروع ہو گئی۔

امام حسن کی وصیت

امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی امام حسین (علیہ السلام) کو چند وصیتیں فرمائیں جن میں ایک یہ تھی کہ میں نے ام المؤمنین عائشة الصدیقہ (سلام اللّٰہ علیہا) سے اجازت لے لی ہے کہ میرے وصال کے بعد مجھے رسول اللّٰہ (صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم) کے پاس دفن کیا جائے اگر بنوامیہ والے جھگڑا کریں تو لڑائ جھگڑے کے بغیر مجھے جنت البقیع میں دفن کردینا۔

امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) کو امام حسین و غازی عباس (علیہما السلام) نے غسل دیا اور امام حسین (علیہ السلام) کے حکم پر حضرت سعید بن عاص (رضی اللّٰہ عنہ) نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ جب مروان ملعون کو امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) کے جنازہ کی خبر ہوئی تو وہ چند مسلح ساتھیوں کو لے کر میدان میں آ گیا جنازہ پر تیر برسائے اور بحث شروع کردی کہ لوگوں نے حضرت عثمان بن عفان (رضی اللّٰہ عنہ) کو روضةالرسول ﷺ میں دفن نہیں ہونے دیا لحاظہ ہم حسن ابنِ علی (علیہما السلام) کو بھی دفن نہیں ہونے دیں گے۔

حضرت ابوہریرہ (رضی اللّٰہ عنہ) نے مروان سے فرمایا ! تم حسن ابن علی (علیہماالسلام) کو روضةالرسول (صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم) میں دفن نہیں ہونے دے رہے حالانکہ رسول اللّٰہ (صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم) نے انکے متعلق فرمایا ! کہ یہ جوانانِ جنت کے سردار ہیں ۔ مروان ملعون نے کہا اے ابوہریرہ ! یہ وقت حدیثیں بیان کرنے کا نہیں ہے ۔

تب چند افراد امام حسین (علیہ السلام) کے پاس آئے تو امام حسین (علیہ السلام) نے فرمایا ! جھگڑے کی ضرورت نہیں اور امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) کو جنت البقیع میں دیگر اہلبیت (علیہم السلام) کے قرب میں دفن کردیا گیا اور حضرت ابوہریرہ (رضی اللّٰہ عنہ) بلند آواز میں یہ فرما رہے تھے کہ لوگو ! آج رسول اللّٰہ (صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم) کا محبوب ترین فرزند وصال فرما گیا

(انا للّٰہ وانا الیہ راجعون)

۔

ترمزی : جلد 5 صفحہ 659

مسنداحمدبن حنبل : جلد 6 صفحہ 283

البدایہ والنہایہ : جلد 8 صفحہ 37

الصوائق المحرقہ : صفحہ 137

البدایہ والنہایہ : جلد 8 صفحہ 17

منہاج السنہ : صفحہ 185

البدایہ والنہایہ : جلد 8 صفحہ 135

الصوائق المحرقہ : صفحہ 139

تاریخ الخلفاء : صفحہ 196

شہادت حضرتِ سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی ﷲ عنہ

  5ربيع الأول یوم شہادت ۔۔۔۔۔۔امام الاولیاء ، سیّدالاصفیاء ، سیّدالاتقیاء ، برادرِ شھیدِ کربلا ، دلبند حیدر ، نور دِیدہ بتول ، راکب دوش مصطفیٰ ، شبیہ مصطفیٰ ،خلیفہ راشد پنجم، حضرتِ سیدنا امام حسن مجتبٰی رضی ﷲ عنہ ہے آپ کو زہر دیا گیا ، جس کی پاداش میں آپ نے جام شہادت نوش فرمایا ۔

علامہ ابن سعد علامہ سیوطی اور حافظ ابنِ کثیر نے بیان کیا کہ امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) نے گھر والوں کو خواب بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ میری پیشانی اور آنکھوں کے درمیان ” قل ہو اللّٰہ احد ” لکھا ہوا ہے ۔ جب یہ خواب حضرت سعید بن مسیب (رضی اللّٰہ عنہ) کے سامنے بیان کیا گیا تو انہوں نے فرمایا ! حسن ابن علی (علیہما السلام) کے وصال کا وقت قریب ہے چنانچہ کچھ دن بعد آپ (علیہ السلام) کو زہر کی وجہ سے شہادت نصیب ہوئی ۔

جناب عمیر بن اسحاق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ

دخلت أنا ورجل على الحسن بن على نعوده ، فجعل يقول لذلك الرجل: سلنى قبل أن لا تسالني ، قال: ما أريد أن اسالك شيئا، يعافيك الله ، قال: فقام فدخل الكنيف ، ثم خرج الينا ، ثم قال: ما خرجت اليكم حتى لفظت طائفة من كبدى اقلبها بهذا العود ، ولقد سقيت السم مرارا ما شيء اشد من هذه المرة ، قال: فغدونا عليه من الغد فاذا هو فى السوق ، قال: وجاء الحسين فجلس عند رأسه ، فقال: يا اخى ، من صاحبك ؟ قال: تريد قتله ؟ قال: نعم ، قال: لئن كان الذي أظن ، الله اشد نقمة ، وان كان بريئا فلما أحب ان يقتل بريء.

“میں ایک شخص کے ساتھ حضرت سیدنا امام حسن بن علی رضی ﷲ عنہما کی عیادت کو آیا ۔ آپ رضی ﷲ عنہ اس آدمی سے فرمانے لگے۔

” سوال کیجئے ، یوں نہ ہو کہ موقع نہ ملے”

اس نے کہا: میں آپ رضی ﷲ عنہ سے کوئی سوال نہیں کرنا چاہتا ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو عافیت دے ، آپ رضی ﷲ عنہ کھڑے ہوئے اور بیت الخلاء گئے ۔ پھر نکل کر ہمارے پاس آئے ، فرمایا۔

“میں نے آپ کے پاس آنے سے پہلے اپنے جگر کا ایک ٹکڑا (قضاء حاجت کے دوران) پھینک دیا ہے ۔ میں اسے اس لکڑی کے ساتھ الٹ پلٹ کر رہا تھا ۔ مجھے کئی بار زہر پلایا گیا ، لیکن اس دفعہ سے سخت کبھی نہیں پلایا گیا”۔

راوی کہتے ہیں کہ ہم آپ رضی ﷲ عنہ کے پاس اگلے دن آئے تو آپ رضی ﷲ عنہ حالت نزع میں تھے ۔ حضرتِ سیدنا امام حسین رضی ﷲ عنہ آپ رضی ﷲ عنہ کے پاس آئے ، سرہانے بیٹھ گئے اور کہا: “بھائی جان! آپ کو زہر کس نے دیا ؟ “فرمایا: “اس کے قتل کا ارادہ ہے ؟” کہا: “جی ہاں!” فرمایا: “اگر وہ شخص وہی ہے ، جو میں سمجھتا ہوں ، تو اللہ تعالیٰ سخت انتقام لینے والا ہے اور اگر وہ بری ہے ، تو میں ایک بری آدمی کو قتل نہیں کرنا چاہتا “.”۔

⛔ مصنف ابن ابی شیبة ، كتاب الفتن ، من كره الخروج فى الفتنة وتعوذ عنها ، الرقم:٣٧٣٥٩ ، جلد:٧ ، ص: ٤٧٦، مطبوعه مكتبة الرشد ، الرياض.

اللہ تعالیٰ آپ کی تربت اطہر و انور ومعطر پر ریت کے ذرات ، درختوں کے پتوں کے برابر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرمائے ۔

آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

✍️ابو الحسن محمد افضال حسین نقشبندی مجددی ۔

(١٥/٩/٢٠٢٣)

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment