شان نبی الاعظم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم بزبان غوث الاعظم رضی ﷲ عنہ

Rate this post

🌸شان نبی الاعظم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم بزبان غوث الاعظم رضی ﷲ عنہ 🌸 حضور سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ (المتوفی:٥١٦ھ) فرماتے ہیں:۔

ويعتقد أهل الاسلام قاطبة أن محمد بن عبدالله بن عبد المطلب بن هاشم رسول الله ، وسيد المرسلين و خاتم النبيين عليهم السلام ، وانه مبعوث إلى الناس كافة والى الجن عامة.

“تمام مسلمانوں کا قطعی عقیدہ ہے کہ حضرتِ سیدنا محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب بن ہاشم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، رضی ﷲ عنہم) اللہ تعالیٰ کے رسول ، تمام رسولوں کے سردار اور خاتم النبيين ہیں ۔ اور آپ تمام انسانوں اور جنوں کے لئے ہدایت دینے والے (رسول بنا کر)بھیجے گئے ہیں “

غوث اعظم رضی اللہ عنہ ♦️چند سطروں کے بعد لکھا: ۔

وانه صلى الله عليه وسلم أعطى من المعجزات ما أعطى غيره من الانبياء وزيارة ، وقد عدها بعض أهل العلم ألف معجزة.منها القرآن المنظوم على وجه مخصوص مفارق لجميع اوزان كلام العرب ونظمه وترتيبه وبلاغته وفصاحته على وجه جاوز فصاحة كل فصيح ، وبلاغة كل بليغ ، وعجزت العرب أن تأتي بمثله……فعجزوا عن ذلك مع براعتهم و فصاحتهم على أهل زمانهم ، وانقطعوا فظهر فضله عليهم ، فلذالك صار القرآن معجزة له صلى الله عليه وسلم ، كالعصا فى حق موسى عليه السلام لأن موسى بعث فى زمن السحرة الحذاق فى صنعتهم ، فتلقفت عصا موسى عليه السلام ما سحروا به اعين الناس وخيلوه اليهم: (فغلبوا هنالك وانقلبوا صاغرين ، والقى السحرة ساجدين) وكاحياء عيسى عليه السلام الموتى ، وابراءة الاكمه والابرص لأنه عليه السلام بعث فى زمن الناس فيه أطباء حذاق ، يوقفون الاعلال والاسقام التى لا تبرا ببراعتهم فى حذاق الصنعة ، فانقادوا إليه وامنوا به لمجاوزته فى الصنعة عليهم وبراعته فى المعجزة فيما تعاطوه منه.

ففصاحة القرآن واعجازه معجزة للنبى صلى الله عليه وسلم كالعصا واحياء الموتى فى حق موسى وعيسى عليهما السلام.

ومن معجزاته عليه الصلاة والسلام نبع الماء من بين اصابعه واطعام الزاد القليل للخلق الكثير ، وكلام الذراع المسموم ، وقوله: لا تأكل منى فانى مسموم ، وانشقاق القمر ، وحنين الجذع ، وكلام البعير ، ومجئ الشجرة إليه ، وغير ذلك مما يبلغ ألف معجزة على ما ذكروا.

ترجمہ

” آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ معجزات بھی عطاء کئے گئے جو دوسرے انبیاء کرام کو دیئے گئے اور اس کے علاوہ بھی ، بعض اہلِ علم نے ایک ہزار معجزات کا شمار کیا ہے۔

ان میں سے ایک قرآن کریم ہے جو اپنی ترتیب کے اعتبار سے ایک مخصوص کلام ہے اور عرب کے تمام کلام کے تمام کلام سے جدا ہے ، اس کی ترتیب اور نظم ہر فصیح اور بلیغ سے بڑھی ہوئی ہے اور اہل عرب اس کی مثل ایک سورت بھی نہ لا سکے،۔۔۔۔۔

سو وہ ایسا بھی نہ کر سکے حالانکہ وہ اپنے زمانے کے لوگوں سے زیادہ فصاحت و بلاغت میں بڑھے ہوئے تھے تو اس طرح حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت ان پر عیاں ہو گئی اسی واسطے قرآن کریم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ٹھہرا۔

 جس طرح عصا مبارک حضرتِ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ تھا ، اس لئے کہ حضرتِ موسیٰ علیہ السلام جادو گروں اور اپنے فن میں ماہرین کے دور میں آئے اور حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے عصا نے لوگوں کے سامنے ان کے جادو اور نظر بندی کو نگل لیا (تو یہاں وہ مغلوب پڑے اور ذلیل و خوار ہو کر پلٹے اور جادوگر سجدے میں گر گئے)

اور جیسا کہ حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ کرتے تھے، برص اور مادر زاد اندھوں کو تندرست کرتے تھے اور آپ کو طبیبوں کے دور میں مبعوث کیا گیا اور وہ فن طب میں ماہر ہونے کے وجہ سے بیماری کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکتے تھے ۔سو انہوں نے حضرتِ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے گردنوں کو جھکا لیا اور آپ کی فرمانبرداری میں لگ گئے ۔ سو جیسے مردوں کا زندہ کرنا حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ اور حضرتِ موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ عصا ہے ویسے ہی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ قرآن مجید ہے ۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے انگلیوں سے پانی نکلنا ، بہت زیادہ لوگوں کے لئے تھوڑے کھانے کو زیادہ کر دینا ،زہر ملے ہوئے کھانے کا کلام کرنا اور یہ خود کہنا کہ یارسول اللہ!( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے نہ کھائیں اس لئے کہ میں زہر آلود ہوں، چاند کے دو ٹکڑے کر دینا ، خشک تنے کا آپ کے فراق میں رونا ، اونٹ کا گفتگو کرنا ، درخت کا آپ کی طرف چل کے آنا اور اس کے سوا بھی معجزات ہیں جن کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ جاتی ہے جس طرح پہلے مذکور ہو چکا ہے “

♦️ غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے مزید یوں فرمایا:۔

وانما لم يات النبى صلى الله عليه وسلم بمثل عصا موسى ويده البيضاء ، واحياء الموتى ، وابراء الاكمه والابرص ومثل ناقة صالح ، والمعجزات التى كانت للانبياء لامرين اثنين.

أحدهما: لئلا يكذب بها امته فيهلكوا كما هلكت الامم قبلهم ، كما قال الله تعالى:(وما منعنا ان نرسل بالايات الا أن كذب بها الاولون).

والثاني: لو جاء بمثل ما جاء به الاولون لقالوا له ما جئت بغريب وقد تعلمت من موسى وعيسى ، فانت من اتباعهم لا نؤمن لك حتى تاتينا بما لم يات به الاولون. ولهذا لم يؤت الله سبحانه نبيا من انبيائه معجزة غيره ، بل خص كل نبي بمعجزة غير معجزة من كان قبله.

ترجمہ و تشریح

“حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرتِ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے عصا اور چمکتے ہوئے ہاتھ ، حضرتِ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا اور برص و مادر زاد اندھوں کو تندرست کرنا ، حضرتِ سیدنا صالح علیہ السلام کی اونٹنی اور اس کے سوا معجزات جو انبیاء کرام علیہم السلام کو عطاء ہوئے اس کی مثل معجزات دو وجہ سے سامنے نہیں لائے ۔

ایک تو یہ کہ ان کی امت بھی ان کو جھٹلاتی تو پہلی امتوں کی طرح ہلاک ہو جاتی ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:”(اور ہم ایسی نشانیاں بھیجنے سے یونہی باز رہے کہ انہیں اگلوں نے جھٹلایا)”۔

دوسرا سبب یہ ہے کہ اس طرح کے معجزات لے کے آتے نو دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام لے کر آئے ہیں تو لوگ یہ کہتے کہ کوئی نئی چیز لے کر نہیں آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ان جیسے یعنی حضرت سیدنا عیسیٰ اور حضرتِ سیدنا موسیٰ جیسے معجزات لے کر آئے ہیں ۔ آپ تو ان کے تابع ہیں ہم ان پر تب تک ایمان نہیں لائیں گے جس وقت تک کوئی نئی چیز نہ لے آئیں ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو ایک جیسا معجزہ عطا نہیں کیا بلکہ سب کو الگ الگ معجزات عطاء فرمائے “

⛔غنية الطالبين ، القسم الثانى: العقائد والفرق الاسلامية ، جلد:١، ص:١٥٦، ١٥٧، مطبوعه قديمى كتب خانه مقابل ارام باغ، كراچی۔

✍️ابو الحسن محمد افضال حسین نقشبندی مجددی ۔

(١٨/١٠/٢٠٢٣)

🌹وسیلہ مصطفیٰ اور عقیدہ غوث الورٰی🌹

♦️حضرتِ سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی:٥٦١ھ) بیان کرتے ہیں کہ بارگاہ خداوندی میں یوں دعا مانگے:

اللهم انى اتوجه إليك بنبيك عليه سلامك نبى الرحمة ، يا رسول الله انى اتوجه بك إلى ربى ليغفر لى ذنوبى ، اللهم انى اسالك بحقه أن تغفر لى وترحمنى.

“اے اللہ! میں تیری طرف تیرے نبی (کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے متوجہ ہوتا ہوں جو رحمت والے نبی ہیں ۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! میں آپ کے واسطہ سے اپنے رب کی طرف توجہ کرتا ہوں تاکہ وہ میرے گناہ بخش دے ۔ اے اللہ! میں بطفیل نبی (کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما “.

12 rabi ul awal quotes in urdu حُسن و جمالِ مصطفٰے

⛔غنية الطالبين ، القسم الاول: الفقه ، جلد: ١، ص: ٣٦، مطبوعه قديمى كتب خانه مقابل ارام باغ ، كراچی۔

🔹فائدہ: حضور غوثِ پاک رحمۃ اللہ علیہ نے دعا میں دو بار وسیلہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر فرما کر بتا دیا کہ وصال مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی وسیلہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دعا کرنا بلا شک و شبہ جائز ہے ۔

♦️ماہ شعبان المعظم کے فضائل بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔

ويتوسل إلى الله تعالى بصاحب الشهر محمدا صلى الله عليه وسلم حتى يصلح فساد قلبه ، ويداوى مرض سره.

حُسن و جمالِ مصطفٰے

“اور جس ذات کی طرف یہ مہینہ منسوب ہے یعنی حضرتِ سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ تک رسائی حاصل کرے تاکہ اس کے دل کا فساد دور ہو اور دل کی بیماری کا علاج ہو جائے”.

⛔غنية الطالبين ، القسم الثالث : مجالس فى مواعظ القرآن والالفاظ النبوية، جلد: ١، ص: ٣٤٢، مطبوعه قديمى كتب خانه مقابل ارام باغ ، كراچی۔

♦️ایک مقام پر یوں فرمایا:۔

من صفاء قلبه كان النبي صلى الله عليه وسلم سفيرا بينه وبين ربه عز وجل.

“جس کا دل صاف ہو جاتا ہے اس کے اور اس کے خدا کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفیر (وسیلہ) بن جاتے ہیں”.

⛔جلاء الخاطر ، القلب ، ص: ٣٧، مطبوعه مركز الجيلانى للبحوث العلمية ، إسطنبول.

✍️ابو الحسن محمد افضال حسین نقشبندی مجددی ۔

(٢٠/١٠/٢٠٢٣)

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment