4 شادی کے اسلامی واقعات

Rate this post

ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری سے فرمایا کہ “اپنی بیٹی کا نکاح (شادی) مجھے کرنے دو۔” انہوں نے عرض کیا، ” یا رسول اللہ یہ تو آپ کا بڑا کرم اور انعام ہو گا۔” حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، “میں خود اس سے نکاح کا ارادہ نہیں رکھتا۔” انصاری نے عرض کیا، یا رسول اللہ! پھر آپ کس کے ساتھ میری بیٹی کا رشتہ کرنا چاہتے ہیں؟”

.

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جلبیب کے ساتھ”

.

انصاری نے عرض کیا، “یا رسول اللہ، میں اپنی بیوی کے ساتھ مشورہ کر لوں” حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، “ہاں، اس میں کوئی حرج نہیں”

.

انصاری نے اپنی اہلیہ سے اس بارے میں مشورہ کیا تو وہ کچھ تو حضرت جلبیب رضی اللہ عنہ کی کم روئی کی وجہ سے اور کچھ ان کی مزاحیہ طبیعت کی وجہ سے رشتہ دینے میں متذبذب ہوئیں۔ لڑکی نہایت زیرک اور مخلص مومنہ تھی، اس کو یہ بات معلوم ہوئی تو اس نے والدین کو اللہ کا یہ حکم یاد دلایا کہ “جب اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو کسی مسلمان کو اس میں چون و چرا کی گنجائش نہیں” پھر کہا، ” آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو رد کرنا چاہتے ہیں، ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ آپ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دیں، وہ مجھے کبھی ضائع نہ ہونے دیں گے۔ میری مرضی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے تابع ہے اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بسر و چشم منظور ہے”

..

لڑکی کے والد نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ عرض کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم لڑکی کی سعادت مندی پر بہت مسرور ہوئے اور اس کے حق میں یہ دعا مانگی:

.

“الہی اس (بیوہ) لڑکی پر خیر کی بوچھاڑ کر دے اور اس کی زندگی کو گدلا اور مکدر نہ کر”

.

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جلبیب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ فلاں لڑکی سے تمہارا نکاح کرتا ہوں۔ انہوں نے عرض کیا: “یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ مجھے کھوٹا پائیں گے۔”

.

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، “نہیں، تم الله کے نزدیک کھوٹے نہیں ہو”

.

اس کے بعد آپ نے حضرت جلبیب رضی اللہ عنہ کا نکاح اس لڑکی سے کر دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا یہ اثر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی گھریلو زندگی کو جنت بنا دیا اور وہ نہایت آسودہ حال ہو گئے۔ اہلِ سیر نے لکھا ہے کہ انصار میں کوئی عورت اس خاتون سے زیادہ تونگر اور شاہ خرچ نہ تھی۔

حوالہ .

صحیح ابنِ حبان..(4059) قال شعیب اسناد صحیحہ.

 اور یہ بهی حوالہ موجود ہے

مسند احمد، جلد – 5، ناشر مکتبہ رحمانیہ،۲۰۰۹

شادی کے وقت حرام اور حلال

شادی کے کئی سال بعد ابا اور بھائی اسکے گھر آرہے تھے ۔۔ وہ بہت خوش تھی ۔۔ کئی پکوان تیار کیے تھے ۔۔ مشروب بنائے تھے ۔۔ خوشی سے پھولی نہیں سما رہی تھی ۔۔ خدا خدا کر کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں ۔۔ وہ بڑے شوق سے انکو ڈرائینگ روم میں لیکر آئی۔۔ باپ نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا بھائیوں نے بھی حال چال پوچھا۔۔ وہ جلدی سے ٹھنڈے مشروب لے آئی۔۔

“ناں پتر ۔۔۔” باپ نے دیکھتے ہی کہا ۔۔ ” ہمارے خاندان میں بیٹیوں کے گھر کا پانی بھی حرام سمجھا جاتا ہے ۔۔ اسے واپس لیجا ۔۔ ہم تو تجھے دیکھنے آئے تھے بس اب چلتے ہیں ۔۔” یہ کہہ کر ابا اور بھائی واپس چلے گئے اور اسے وہ دن یاد آگیا جب وہ دلہن بنی بیٹھی تھی ۔۔ کمرے میں اسکی سہیلیاں خوش گپیوں میں مصروف اسے چھیڑ رہی تھیں کہ ابا اور بھائی آگئے تھے ۔۔

“دیکھ پتر۔۔۔” ابا نے اس سے مخاطب ہو کر کہا تھا ۔۔۔ “ہمارے خاندان کی ریت ہے کہ شادی سے پہلے بیٹیاں اپنی جائیداد سے دستبرداری کرتی ہیں ۔۔ لے پتر تو بھی اس کاغذ پر سائن کردے۔۔۔”

اور پھر اس سے دستبرداری کے کاغذات پر دستخط کروا لیے گئے تھے ۔

اور اب وہ چپ چاپ کھڑی یہی سوچتی رہ گئی کہ یہ کیسی ریت کیسا رواج ہے کہ بیٹیوں کے گھر کا پانی پینا تو حرام ہے پر انکی جائیداد کا حصہ ہڑپ کرنا حلال ہے ۔۔

سعد الاسود کی شادی

*اللہ کے نبی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے* ایک صحابی آئے سعد الاسود اور کہا یا رسول اللہ میری شادی کروا دیں میں بہت کالا بھی ہوں اور بد صورت بھی ہوں تو مجھے اپنی لڑکی ہی کوئی نہیں دیتا۔ آپ نے کہا اچھا اور پھر پوچھا کیا عمربن وہب بیٹھے ہیں؟ بتایا گیا نہیں تو فرمایا عمر بن وہب کے پاس جاؤ اور کہو کہ مجھے اللہ کے نبی نے بھیجا ہے اور مجھے اپنی بیٹی نکاح میں دے دو۔ عمر بن وہب کافی خوبصورت بھی تھے اور بہت مالدار بھی تھے۔ یہ اٹھے اور جاکر ان کے دروازے پر دستک دی اور کہا اللہ کے رسول کا قاصد آیا ہے باہر آؤ۔ باہر آئے تو دیکھا سعدالاسود تھے۔ پوچھا کس لئے آئے ہو جواب دیا اللہ کے نبی نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ اپنی بیٹی میرے نکاح میں دے دو۔ عمر بن وہب نے کہا جاجا تجھے دوں گا اپنی بیٹی، تم غریب کو دونگا اپنی بیٹی ۔ سعد الاسود اسی قدموں کے ساتھ واپس آگئے لیکن عمر بن وہب کی بیٹی نے ساری بات سن لی۔ بیٹی نے عمر بن وہب سے کہا ابا جان آپ نے میرے نبی کی بات کو ٹھکرایا ہے جاؤ جا کر ہاں کر دو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم تباہ و برباد ہو جائیں۔ آپ نے میری خاطر انکار کیا ہے نہ کہ میری بیٹی گزارا کیسے کرے گی آپ جاکر ہاں کر دیں میرے نبی کا حکم ہے میں گزارا کر لوں گی۔ عمر بن وہب مجلس میں آئے تو سعد الاسود پہلے مجلس میں آئے بیٹھے تھے۔ اللہ کے نبی نے عمر بن وہب کو دیکھا تو کہا عمر بن وہب آپ نے تو ہماری بات ہی ٹھکرا دی۔ کہا یا رسول اللہ میں نے نہیں ٹھکرائی میں حاضر ہوں یا رسول اللہ آپ میری بیٹی کا سعد الاسود کے ساتھ نکاح پڑھیں۔ 400 درہم حق مہر طے ہوا آپ نے فرمایا سعد اپنی بیوی کو لے جاؤ۔ کہا یارسول اللہ پیسے کہاں سے لاؤں میرے پاس تو حق مہر ادا کرنے کے پیسے ہی نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا تم عبدالرحمن بن عوف کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اللہ کے نبی نے مجھے بھیجا ہے اور وہ تمہارا کام کر دیں گے (عبد الرحمن بن عوف وہ صحابی تھے جن کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی تھی اور وہ اتنے امیر تھے کہ ان کے بارے میں علماء کرام لکھتے ہیں اگر آج کے دور میں ہوتے تو اتنا پیسہ تھا ان کے پاس کہ پورا یورپ خرید سکتے تھے لیکن ایماندار تاجر تھے اور اللہ کے نبی نے ان کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی تھی)۔ سعد ان کے پاس گئے اللہ کے نبی کا پیغام دیا تو انہوں نے رقم کا بندوبست کر دیا اور چار سو درہم سے زیادہ پیسے جمع ہوگئے۔ سعد نے سوچا 400 درہم تو بیوی کو حق مہر دوں گا باقی میں بیوی کے لئے کچھ تحائف لیے لیتا ہوں اور بازار چلے گئے۔ بازار میں داخل ہوئے تو اتنے میں اعلان ہوا کہ مدینے پر کچھ بدوؤ نے حملہ کر دیا ہے۔ جیسے ان کے کان میں آواز پڑی کہ مسلمانوں آؤ دفاع کرنے کے لئے تو بیوی کے تحائف کا خیال ترک کیا، ایک گھوڑا اور تلوار خریدی اور لشکر میں گھس گئے۔ لڑتے لڑتے ان کا گھوڑا زخمی ہو کر نیچے گرا اور بدوؤ نے ان پر حملہ کردیا تو اچانک دور سے اللہ کے نبی کی سعد پر نظر پڑی تو لپکے سعد تم یہاں کیا کر رہے ہو تمہیں تو میں نے تمہاری بیوی کے پاس بھیجا تھا تب تک سعد الاسود شہید ہوچکے تھے۔ اللہ کے نبی سعد کی طرف لپکے سعد کے سر کو اپنی جھولی مبارک میں رکھ لیا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل کے سعد کے چہرے پر پڑ رہے تھے اور اللہ کے نبی پیار سے کہنے لگے سعد تو کتنا پیارا ہے، تو کتنا خوبصورت ہے، تو کتنا خوشبودار ہے۔ پھر آپ مسکرائے اور فرمایا رب کعبہ کی قسم سعد حوض کوثر پر پہنچ گیا ہے۔ ایک صحابی نے پوچھا یا رسول اللہ ابھی آپ رو رہے تھے اور پھر آپ اچانک مسکرا پڑے یہ سمجھ نہیں آیا۔ اللہ کے نبی نے فرمایا میں رو سعد کی جدائی میں رہا تھا اور مسکرایا اس لیے کہ مجھے سعد کے جنت میں عالی شان محلات نظر آئے۔

References:

بحوالہ اسد الغابہ فی فضائل صحابہ امام اعز الدین ابن الاثیر رحمۃ للہ علیہ

اور

ابن الاثیر (اسد الغابہ:1/668)

أَخرجه أَبوموسى.(2/418)

شادی خانہ آبادی

ایک پرانے اور بوسیده مکان میں ایک غریب مزدور رہتا تھا مکان کیا تھابس آثار قدیمه کا کھنڈر هی تھا

غریب مزدور جب سرشام گھر لوٹتا اس کی بیوی معصومیت سے کہتی اب تو گھر کا دروازه لگوادیں کب تک اس لٹکے پردے کے پیچھے رہنا پڑے گا اور ہاں!

اب تو پرده بھی پرانا ہو کر پھٹ گیا ہے مجھے خوف ہے کهیں چور ہی گھر میں نه گھس جائے

شوہر مسکراتے ہوئے جواب دیتا میرے ہوتے ہوئے بھلا تمہیں کیا خوف؟ فکر نه کرو میں ہوں نا تمهاری چوکھٹ

غرض کئی سال اس طرح کے بحث ومباحثے میں گزر گئے ایک دن بیوی نے انتہائی اصرار کیا کہ گھر کا دروازه لگوادو

بالآخر شوہر کو ہار ماننا پڑی اور اس نے ایک اچھا سا درازه لگا دیا.اب بیوی کا خوف کم ہوا اور شوهر کے مزدوری پر جانے کے بعد گھر میں خود کو محفوظ تصور کرنے لگی

ابھی کچھ سال گزرے تھے که اچانک شوهر کا انتقال ہوگیااور گھر کا چراغ بجھ گیا عورت گھر کا دروازه بند کیے پورا دن کمرے میں بیٹھی رہتی

ایک رات اچانک چور دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوگیا اس کے کودنے کی آواز پر عورت کی آنکھ کھل گئی

اس نے شور مچایامحلے کے لوگ آگئے،اور چور کو پکڑ لیاجب دیکھا تو معلوم ہوا که وه چور پڑوسی ہے

اس وقت عورت کو احساس ہوا که چور کے آنے میں اصل رکاوٹ دروازه نهیں میرا شوہر تھااس چوکھٹ سے زیاده مضبوط وه چوکھٹ (شوہر) تھی

شوہر میں لاکھ عیب ہوں لیکن حقیقت یہی هے که مضبوط چوکھٹ یهی شوہر ہیں

ہماری شادی شده ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کو چاہیے که ان چوکھٹوں کی خوب دیکھ بھال کیا کریں اور الله کا شکر ادا کیا کریں۔“

ایک لڑکی کی شادی کا ایمان افروز واقعہ

 شادی کی پہلی رات دولہا کھانے کا بڑا سا تھال لئے کمرے میں داخل ہوا

کھانے سے بڑی زبردست 👌

خوشبو آرہی تھی،

 کہنے لگا: آؤ کھانا کھاتے ہیں۔

بیوی بولی : میں نے دیکھا ہے تمہاری والدہ نے بھی کھانا نہیں کھایا،

 ان کو بھی بلا لو، پھر مل کر کھاتے ہیں،

شوہر نے کہا : وہ سوگئی ہوں گی،

انہیں چھوڑو ہم دونوں کھاتے ہیں۔

بیوی اصرار کرتی رہی پر وہ اِسی بات پر مُصِر رہا کہ امی کو رہنے دو،

شادی کے اسلامی واقعات

جب بیوی نے شوہر کا یہ رویہ دیکھا تو اسی وقت طلاق کا مطالبہ کردیا۔۔

شوہر بڑا حیران ہوا اسکے مطالبے پر، اُس نے بڑا سمجھایا، لیکن وہ اپنی بات پہ ڈٹی رہی یہاں تک کہ طلاق ہوگئی۔

دونوں الگ ہو گئے پھر دونوں نے دوسری شادیاں کرلیں تیس ۔پنتیس سال گزر گئے عورت کے بیٹے ہوئے بہت محبت کرنے والے، ماں کا خیال رکھنے والے، بہت آسودہ حال تھی وہ،

اس نے ارادہ کیا کہ حج کرنا چاھیے۔ سفر کے دوران اس کے بیٹے اس سےکسی ملکہ کی طرح پیش آرہے تھے

پاوں زمین پر لگنے نہ دیتے تھے،

 صحرائی سفر تھا

راستے میں ایک آدمی پر نظر پڑی، جوبہت بری حالت میں بھوکا پیاسا بال کھچڑی، کپڑے پرانے، اس عورت نےبیٹوں سے کہا: جاؤ دیکھو! کون مسافر ہے، اسے اٹھاو، ہاتھ منہ دھلا کر، کھانا کھلاؤ، پانی پلاو، چنانچہ بیٹے گئے ماں نے جیسا کہا تھا ویسا کیا۔

عورت کی جب اس پر نظر پڑی تو جان گئی وہ اِسکا پہلا شوہر تھا۔

کہنے لگی یہ کیا کیا، وقت نے تمارے ساتھ؟

 بولا میری اولاد نے میرے ساتھ بھلائی نہیں کی،

عورت کہنے لگی : کیوں کرتی کہ تم نے والدین کہ ساتھ برا سلوک کیا تھا۔ میں اسی دن جان گئی تھی کہ تم ماں باپ کے حقوق ادا نہیں کرتے۔

اسی لئے میں ڈر گئی کہ کل کو میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔

 یہ دیکھو آج میں کہاں ہوں اور تم کہاں!

ماں باپ کے ساتھ برا سلوک اللہ کی نافرمانی ہے،اگر اپنا بڑھاپا ہم شاندار گزارنا چاہتے ہیں تو والدین کے ساتھ شاندار سلوک کیجیے، کیوں کہ یہ ایسا عمل ہے کہ جس کا بدلہ دنیا میں ہی دیدیا جاتا ہے خواہ اچھا ہو، یا برا۔

اللہ تعالی ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment