حضرت فاطمہ کی سیرت

Rate this post

حضرت سیدتنا فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالی عنہا کے یوم ولادت کی تاریخ میں بھی اختلاف ہے۔ لیکن یوم ولادت (20 جمادی الثانی پر اکثر کا اتفاق ہے۔ 

حضرت فاطمہ کی والدہ کا نام

حضورﷺ کی سب سے چھوٹی اولاد سید فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالی عنہا ہیں۔ آپ کی والدہ حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا ہیں۔

شان سیدہ فاطمہ بزبان مصطفیٰ

رسول اکرم ﷺ نے حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کی عظمت کو یوں بیان فرمایا:۔

سیدہ کائنات فاطمہ زہراء (رضی اللہ عنہا) کا مرتبہ اتنا بلند ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری بیٹی جس سے راضی ہو گئیں میں اس سے راضی ہو جاوں گا اور جس سے میں راضی ہوگیا اس سے اللہ راضی ہو جائے گا اور جس سے میری بیٹی ناراض ہوئیں اس سے میں ناراض ہوجاوں گا اور جس سے میں ناراض ہوا اس سے اللہ ناراض ہو جائے گا۔

شان سیدہ فاطمہ سیدہ فاطمہ نساء العالمین

ایک اور حدیث میں آنحضرتﷺ نے فرمایا:۔

قال رسول ‌الله ‌صلى‌الله‌عليه‎و‌آله‌ وسلم: أمّا ابنَتي فاطمةُ فإنّها سيّدةُ نِساءِ العالَمينَ مِن الأوّلِينَ و الآخِرِينَ.

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: لیکن میری بیٹی فاطمہ اولین اور آخرین کے درمیان سیدہ نساء العالمین ہے۔

سیدہ کائنات فاطمہ سے محبت کرنے والوں کی شان یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز فقط جنت میں ہی نہیں ہوں گے بلکہ تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا کی سنگت و صحبت میں ہوں گے۔

یااللہ اپنے حبیب کے صدقے اور سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالی عنہا کے وصیلے سے میرے اور قارئین کرام کے تمام گناہوں سےمعافی عطا فرما۔ اور بخشش کا ذریعہ عطا فرما۔ آمین ثم آمین 

زہراء کی تربیت نے سحرا کو کربلا بنا دیا

حق و باطل کی جنگ میں خون کا دریا بہا دیا

کھڑے ہوں استقبال میں جس کے خود رحمتالعالمین

امی ہیں وہ سجدے میں سر کٹانے والے شہید اعظم کی

 زہراء اگر ناراض بیشک رسول اللہ بھی ناراض

 رسول اللہ ﷺ اگر ناراض تو اللہ بھی ناراض

جس سے زہراء راضی رسول اللہ بھی راضی

رسول جو راضی ہوئے بیشک اللہ بھی راضی

خاتون جنت، سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا

سیدۂ کائنات ،سردار خواتین جنت، سیدہ فاطمہ زہراءرضی اللہ عنہاحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے چھوٹی اور چہیتی صاحبزادی ہیں، جنتی خواتین کی سردار ، اور اصل اہل بیت کرام سے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اہلبیت کرام کی محبت سے متعلق فرمایا ہے:قل لا اسئلکم عليه اجرا الا المودۃ فی القربی۔

 ترجمہ :ائے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم آپ فرمادیجئے ! میں تم سے اس پر کچھ اجر نہیں چاہتا ہوں بجز قرابت داروں کی محبت کے -(سورہ شوریٰ:23)

ونیز ارشاد خدا وندی ہے: انمايريدالله ليذهب عنکم الرجس اهل البيت ويطهرکم تطهيرا-

 ترجمہ:یقینااللہ تعالیٰ تو یہی چاہتا ہے ،ائے حبیب کے گھروالوکہ تم سے ہر ناپاکی دور فرمادے او رتمہیں پاک کرکے خوب ستھراکردے(سورۃالاحزاب :33)

سیدہ فاطمہ کی ولادت

 حضرت سیدتنا فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالی عنہا کے یوم ولادت کی تاریخ میں بھی اختلاف ہے۔ لیکن یوم ولادت (20 جمادی الثانی پر اکثر کا اتفاق ہے۔

آپ کی ولادتِ مبارکہ اعلانِ نبوت کے پہلے سال ہوئی، اور ایک روایت کے مطابق اعلان نبوت سے پانچ سال قبل آپ کی ولادت بابرکت ہوئي- (سبل الھدی والرشاد،ج11،ص37)

سیدہ فاطمہ کے القابات 

آپ کے القاب مبارکہ یہ ہیں : سیدۃ نساء اھل الجنۃ ، زھراء، بتول،بضعۃ الرسول، سیدہ ، زاہدہ، طیبہ، طاہرہ وغیرہ۔

سیدہ فاطمہ جنتی خواتین کی سردار

جامع ترمذی شریف میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ایک فرشتہ آسمان سے نازل ہوا، وہ اس سے پہلے زمین پر کبھی نہیں آیا تھا اُس نے اللہ سے اجازت طلب کہ مجھے سلام پیش کرے اور یہ خوشخبری دے کہ ؛ فاطمہ اہل جنت کے تمام عورتوں کی سردار ہیں اورحسن اور حسین تمام جنتی جوانوں کے سردارہیں ۔

اسی وجہ سے آپ کو سیدة نساء اہل الجنة ﴿یعنی خواتین جنت کی سردار﴾کہا جاتا ہے ۔ 

سیدہ فاطمہ زہراء کے معنی

“زہرا ء” کے معنی روشن وبارونق کے ہیں ،چونکہ آپ صاحبزادوں اور صاحبزادیوں کی ولادت کے موقع پر فورا پاک ہوجاتیں اور کوئی نماز آپ سے کبھی تر ک نہ ہوتی ، اسی وجہ سے آپ کو زہراء ﴿بارونق ﴾ طیبہ ، طاہرہ کہا جاتا ہے ۔

سیدہ فاطمہ بتول کا معنیٰ

“بتول” کے معنی یکسو ہوکر اللہ تعالی کی طرف بہت زیادہ متوجہ رہنے والی اور” زاہدہ” دنیاسے بے رغبت ۔

آپ زہد تقوی کے اعلی مرتبہ پر ہیں اور مخلوق سے کٹ کر خالق کی طرف توجہ کرتی ہیں ۔ اس وجہ سے آپ کو بتول اور زاہدہ کہا جاتاہے ۔

“سیدہ فاطمہ “(رضی اللہ عنہا ) نام رکھنے کی وجہ

سنن دیلمی اور کنز العمال شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت مذکور ہے “إنما سميت فاطمة لأن الله فطمها ومحبيها عن النار.” الديلمي عن أبي هريرة “.

ترجمہ :حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نام مبارک “فاطمہ” اس لئے رکھا گیا، کیونکہ اللہ تعالی نے آپ کو، آپ کے چاہنے والوں کے حق میں دوزخ سے چھٹکارا دلانے والی بنایا ہے۔( کنز العمال،حدیث نمبر: 34227)

حضرت فاطمہ کی شادی

ہجرت کے دو سال بعد آپ کا عقد نکاح حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ سے ہوا۔

معجم کبیر طبرانی میں حدیث پاک ہے :عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُزَوِّجَ فَاطِمَةَ مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا.

ترجمہ:سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضي اللہ عنہ حضور نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے ارشاد فرمایا:بیشک اللہ تعالی نے مجھے حکم دیا کہ میں فاطمہ (رضی اللہ عنہا )کا نکاح علی (رضی اللہ عنہ ) سے کراؤں- (معجم کبیر :طبرانی،حدیث نمبر: 10152)

سیدہ فاطمہ کے اولاد امجاد

آپ کے بطن مبارک سے تین صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں ہیں :۔

(1)امام ہمام حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہٗ

(2) امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ

اور(3) حضرت سیدنا امام محسن رضی اللہ عنہٗ

حضرت فاطمہ کے بیٹیوں کے نام

اور صاحبزادیاں

(1) حضرت زینب رضی اللہ عنہا

(2) حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا

اور(3) حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔

سیدہ فاطمہ کی وصالِ مبارک

حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا وصالِ مبارک حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصالِ اقدس کے چھ ماہ بعد 03 رمضان المبارک اورایک روایت کے مطابق تین ماہ بعدماہ جمادی الاخری 11ہجری میں ہوا، اور آپ کا مزارمبارک جنت البقیع شریف میں ہے۔

حضرت فاطمہ کی سیرت

سیدہ فاطمہ کی کنیت ام ابیھا ہونے کی سات وجوھات

سیدہ کائنات فاطمہ الزھراء رضی اللہ عنھا کی ایک کنیت ام ابیھا بھی ہے

جس کا ظاہری معنی اپنے باپ کی ماں ہے!

آپ کی یہ کنیت مختلف کتب میں منقول ہے

معجم کبیر میں مصعب زبیری سے منقول ہے

كُنْيَةُ فَاطِمَةَ أُمُّ أَبِيهَا

سیدہ فاطمہ کی کنیت ام ابیھا ہے

تاریخ الاسلام میں امام ذھبی نے فرمایا

كنيتها فيما بلغنا أم أبيها

سیدہ فاطمہ کی کنیت جو ہم تک پہنچی وہ ام ابیھا ھے

الاصابہ میں ابن حجر عسقلانی نے فرمایا

كانت تكنى أمَّ أبيها

سیدہ فاطمہ ام ابیھا کی کنیت سے منسوب تھیں!

آپ کی کنیت ام ابیھا کی مختلف وجوہات بیان کی گئیں ہیں

🌹اول کہ جس طرح ماں اپنے بچے پر شفیق ہوتی ہے سیدہ کائنات حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر یوں شفقت کرتی تھیں

🌹دوم کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ کی تکریم ویسے کرتے جیسے ماں کی تکریم کی جاتی سیدہ فاطمہ کے آنے پر قیام فرماتے اپنی جگہ پر بٹھاتے ماتھے پر بوسہ دیتے تھے

 سفر پر جاتے وقت آخر میں سیدہ فاطمہ کے گھر اور سفر سے آتے ہی سب سے پہلے سیدہ فاطمہ کے گھر تشریف لاتے تھے!

🌹سوم کہ ام کا معنی اصل, بنیاد, جڑ ہے کیونکہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد (سادات کرام) کی اصل و جڑ ہیں اس لیئے ام ابیھا کہا گیا یعنی اپنے والد کی اولاد کی بنیاد ہیں!

🌹چہارم کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ سے ایسے سکون پاتے جیسے ماں سے سکون حاصل کیا جاتا ہے!

🌹پنجم کہ ام کا معنی عماد یعنی سہارا ہے جیسا کہ قاموس میں ہے تو اس لحاظ سے معنی ہوا کہ سیدہ فاطمہ مشکل اوقات میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا سہارا تھیں

 جیسا کہ اوجھڑی والی روایت اور ان کو سونگھنے والی روایات سے سے معلوم ہوتا ھے!

جیسا کہ سیدہ خدیجہ سہارا تھیں

 ایسا بعض روایات میں آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ رضی اللہ عنھا ہی کے پاس گئے جب جبریل امین کو دیکھا!

 کہیں اور نہیں گئے!

اور قرآن کریم نے بھی ازواج کو سببِ سکون فرمایا

لتسکنوا الیھا

 تاکہ تم بیویوں سے سکون پاؤ

اسی جائے سکون کے معنی میں سیدہ فاطمہ اپنے عظیم والد کے لیئے سہارا ہیں!

🌹ششم کہ امہات المومنین کو اللہ رب العزت نے مؤمنین کی ماؤں کی کنیت سے شرف بخشا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کو سیدہ نساء اھل الجنہ ہونے کی وجہ سے شرف و عظمت کی زیادتی عطاء فرمائی تو آپ کی کنیت ام ابیھا ہوئی!

 جو کہ ام المومنین سے اعلی و ارفع مقام ہے!

🌹ہفتم کہ مولا علی کو ابو تراب کی کنیت عطاء فرمائی اھل نظر پر مخفی نہیں کہ یہ کنیت محض واقعاتی و حادثاتی نہیں ہے

 بلکہ یہ مقام ولایت کا اعلی مقام ہے جو مٹی سے بنے تمام اولین و آخرین کی ولایت کے منبع و مرکز ہے

 کیونکہ انسان کی اکملیت و افضلیت عبدیت میں ہے اور انسانیت کی بنیاد مٹی ہے

تو لازم تھا کہ ابو تراب کے مقابل ایسی نوری حقیقت ہو جس سے اتحاد اکمل و افضل نسل پیدا کرے تو سیدہ کائنات کو ام ابیھا کنیت عطاء فرمائی!

کہ ابو تراب مقامِ ولایت میں اعلی و ارفع اور ام ابیھا ختمِ نبوت کے فیض سے بلا واسطہ شرف یاب نوری حقیقت ہیں!

یہی وجہ اس پاکباز خاتون کو جنتی حور فرمایا کہ نہ ان کو حیض آیا نہ عبدیت مین نقص ہوا!

اور یہی وجہ ان کو اپنے جسم کو ٹکڑا فرمایا کہ یہ نوری حقیقت ہیں اور یہ شرف غیر کے لیئے نہیں ھے!

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی

ہم الحمد اللہ سیدہ کائنات سے محبت کرتے ہیں اور حدیث پاک میں آیا

إنما سميت فاطمة لان الله تعالى فطم محبيها عن النار

فاطمہ کا نام فاطمہ اس لیئے رکھا گیا کہ اللہ رب العزت اسے اور اس سے محبت کرنے والوں کو جہنم سے آزاد فرما دیا ہے!

✍️ #سیدمہتاب_عالم

الہی بحقِ بنی فاطمہ

‏الہٰی بحقِ بنی فاطمہؓ

کہ بَر قولِ ایماں کُنم خاتمہ

اگر دَعوتَم رَد کُنی، وَر قبول

مَن و دَست و دامانِ آلِ رسولﷺ

سیدہ فاطمہ بعدِ وصال باکمال صرف ایک بار مسکرائیں

سیدہ فاطمہ رضی الله عنھا حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال باکمال کے بعد صرف ایک بار مسکرائی تھیں

آپ جانتے ہیں وہ کونسا موقع تھا!

خاص طور پر خواتین غور سے پڑھیں

جب سیدہِ کائنات کے وصال پر ملال کا وقت آیا تو اُنہوں نے سیدہ اسماء بنت عمیس رضی الله عنھا کو فرمایا

تمہیں کیا لگتا ہے مجھے چارپائی پر کھلم کھلا اٹھایا جائے گا؟

عرض کی میں آپ کے لیئے وہ بناؤں گی جو میں نے حبشہ میں دیکھا تھا

پھر اُنہوں نے سیدہ کائنات کے لیئے ایک خاص قسم کے درخت سے تابوت سا بنا دیا

جس سے لیٹنے والے کا اثر ظاہر نہ ہوتا تھا

حاکم نے سیدہ اسماء بنت عمیس کا قول یوں نقل کیا

فتبسمت فاطمة وما رأيتها متبسمة بعد أبيها إلا يومئذ

تو سیدہ فاطمہ مسکرا اُٹھیں اور میں نے ان کو ان کے والد جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اس دن کے سوا کبھی مسکراتے نہیں دیکھا

(مستدرک حاکم)

مسلمان خاتون غور کرے کہ وہ فاطمہ جن پر غموں کے پہاڑ ٹوٹے اور وہ مسکرانا بھول گئیں مگر جب اپنے پردے کا اطمینان ہوا تو مسکرا اٹھیں

مسلمان پاک دامن عورت کے لیئے پردہ مثلِ جنت ہے جو اسے امن اور چین و قرار دیتا ہے!

✍️ #سیدمہتاب_عالم

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی گھر جلانے کی حقیقت

دفاعِ صحابہ قسط 17

شیعہ حضرات تاریخ طبری کا یہ حوالہ دے کر عام سنی حضرات کو مغالطہ دیتے ہیں ہے دیکھو حضرت عمر نے سیدہ فاطمہ کا گھر جلانے کی دھمکی دی حالانکہ طبری میں ہی یہ بات نیچے لکھی ہے اسکی سند معضل ہے درمیان سے دو راوی حذف (غائب ) ہیں اور اسکا متن بھی نکارہ ہے

اب آٸیے اسکا تحقیقی جاٸزہ لیتے ہیں

حضرت فاطمہ کی سیرت

سند کا راوی جریر بن حازم یہ اختلاط کا شکار ہے

تھذیب التھذیب صفحہ 192 حافظ ابن حجر عسقلانی

دوسرا راوی مغیرہ بن مقسم یہاں تدلیس کر رہا ہے اور اسکی عن والی روایت ضعیف ہے

حافظ ذھبی نے اسکی تدلیس کو بیان کیا ہے

تہذیب الکمال فی اسما۶ الرجال صفحہ 81

ھدی الساری لمقدمہ صحیح بخاری صفحہ 461 حافظ ابن حجر عسقلانی

اب آخری راوی زیاد بن کلیب کی طرف آۓ وہ اس وقت مدینہ میں موجود ہی نہیں تھا تو اس نے دیکھا کیسے

حافظ ذھبی نے اسے بیان کیا ہے

تھذیب الکمال فی اسما۶ الرجال صفحہ 325 326

لہذا اس روایت سے استدلال ہو ہی نہیں سکتا ضعیف ترین روایت ہے یہ

تحقیق محمد فیضان بٹ رضوی چشتی

 سیدہ فاطمہ کے متعلق اشعار

سیدہ فاطمہؓ پہ ہو لاکھوں سلام

دختر مصطفیٰﷺ پہ ہو لاکھوں سلام

یومِ وفات 11 ہجری 3 رمضان المبارک

خاتونِ جنت جگر گوشہ رسولﷺ

زوجہ حیدر کرّارؓ مادر حسنین کریمینؓ

سیدہ فاطمتہ الزھراء رضی اللہ عنہا

آج

یوم وصال لخت جگر حبیب خدا حضرت فاطمۃ الزھراء

راحتِ جانِ سلطانِ ہر دوسرا

نور چشمِ جنابِ حبیبِ خدا

عین لختِ دلِ سرورِ انبیاء

اُس بتولِ جگر پارۂ مصطفیٰ

حجلہ آرائے عفت پہ لاکھوں سلام

کانِ صبرورضا جانِ شرم و حیا

پیکر اتقاء گنجِ حلم و وفا

اُم حسنین اور زوجہء مرتضیٰ

اُس بتولِ جگر پارہء مصطفیٰ

حجلہ آرائے عفت پہ لاکھوں سلام

آنکھ کا نور دل کا سکوں بن گیا

باخدا جس کا ہر ایک تارِ ردا

جس کی عصمت کا حوروں میں ہے تذکرہ

اُس بتولِ جگر پارہء مصطفیٰ

حجلہ آرائے عفت پہ لاکھوں سلام

نورِ قندیلِ کاشانہء مصطفیٰ

ہر قدم رہروِ جادہء مصطفیٰ

یعنی خیرالنساء، آیہء مصطفیٰ

اُس بتولِ جگر پارہء مصطفیٰ

حجلہ آرائے عفت پہ لاکھوں سلام

نازشِ طاعتِ مریم و آسیہ

نورِ عین شہنشاہِ ہر دوسرا

پیکرِ حلم و ایثار و شرم و حیا

اُس بتولِ جگر پارہء مصطفیٰ

حجلہ آرائے عفت پہ لاکھوں سلام

امہات و بناتِ جہاں کے لیے

اسوہ ہیں روز و شب امِ حسنین کے

چکی پیسے تو قرآں بھی پڑھتی رہے

جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے

اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام

وہ ردا جس کی تطہیر اللہ رے

آسماں کی نظر بھی نہ جس پہ پڑے

جس کا دامن نہ سہواً ہوا چھو سکے

جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے

اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام

نور کے جس پہ نورانی نقشے بنے

جس کی تقدیس کے عرش پہ زمزمے

چادرِ دل کشا واہ اللہ رے

جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے

اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام

اُس کی دہلیز پر عرشِ اعظم جھکے

حوریں لائیں جہیز اُس کا فردوس سے

خُلد میں اُس کے ہوتے ہیں یوں تذکرے

جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے

اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام

جس کو پایا ہے یکتا مہ و مہر نے

جس پہ سایا نہ ڈالا مہ و مہر نے

سر ادب سے جھکایا مہ و مہر نے

جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے

اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام

پردہ داری سدا ناز جس پہ کرے

کیسے آ جائے وہ غیر کے سامنے

کس طرح اس کو نا آشنا دیکھ لے

جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے

اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام

صادقہ، صالحہ، صائمہ، صابرہ

صاف دل، نیک خو، پارسا، شاکرہ

عابدہ، زاہدہ، ساجدہ، ذاکرہ

سیّدہ، زاھرہ، طیبہ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

وجہ تسکینِ قلبِ شہِ دوسَرا

راضیہ، عابدہ، ساجدہ، شاکرہ

صابرہ، زاہدہ، صادقہ، ذاکرہ

سیّدہ، زاھرہ، طیبہ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

جن کا نامِ مُبارک ہے بی فاطمہ

جو خواتینِ عالَم میں ہیں عالیہ

عابدہ، زاہدہ، ساجدہ، صالحہ

سیّدہ، زاھرہ، طیبہ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

عالمہ، عاملہ، کاملہ، عادلہ

صالحہ، صاحبہ، ساترہ، سالکہ

مالکہ، حاکمہ، راحمہ، عاطفہ

سیّدہ، زاھرہ، طیبہ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

صالحہ،صادقہ، صائمہ، صابرہ

فاطمہ، کاملہ، زاہدہ، ذاکرہ

نُورِ چشمِ نبی، عابدہ، شاکرہ

سیّدہ، زاھرہ، طیبہ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

اُس کی عظمت کاہےکب کسی کو پتہ

کب کسی پر عیاں اُس کا ہے مرتبہ

جس کی خاکِ قدم سُرمہِ چشمِ مَہ

سیّدہ، زاھرہ، طیبہ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

قدسیوں کی درِ فاطمہ بوسہ گہ

جس کی پاکی کی کھائیں قسم مہر و مَہ

جس کا مریم سے بھی ہے بڑا مرتبہ

سیّدہ، زاھرہ، طیبہ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

جس کا دامن ہے سادات کا دائرہ

شاہدہ، شاکرہ، فاخرہ، ناصرہ

عابدہ، ساجدہ، زاہدہ، صابرہ

سیدہ، زاھرہ، طیبہ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

برتر از سارہ و مریم و ہاجرہ

فاطمہ، دینِ اسلام کی ناصرہ

حامدہ، خاشعہ، کاملہ، صابرہ

سیدہ، زاھرہ، طیبہ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

حضرت فاطمہ کی شان

*پیارے آقاﷺ کا بیٹی سے اندازِ محبت🌸*

*حضرت عائشہ صدیقہ بنت صدیق رضيﷲعنهما فرماتی ہیں:*

كَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا فَأَخَذَ بِيَدِهَا وَقَبَّلَهَا وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ، وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ إِلَيْهِ فَأَخَذَتْ بِيَدِهِ فَقَبَّلَتْهُ وَأَجْلَسَتْهُ فِي مَجْلِسِهَا

*حضرت فاطمہ الزھراء رَضِیَﷲُعَنْهَا جب نبی کریم ،رؤوف و رحیم ﷺ کے پاس آتیں تو آپ ﷺ کھڑے ہوکر اُن کی طرف متوجِّہ ہوتے ، پھر اپنے پیارے پیارے ہاتھ میں اُن کا ہاتھ لے کراُسے بوسہ دیتے پھر اُنہیں اپنی جگہ بٹھاتے۔ اسی طرح جب نبی کریمﷺ حضرت فاطِمہ رَضِیَﷲُعَنْهَا کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ بھی کھڑی ہو جاتیں، آپ کا مبارک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر چُومتیں اورآپ ﷺ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں*

*📑سنن ابی داؤد,ابواب السلام,5217*

زہراء کی تربیت نے سحرا کو کربلا بنا دیا

       حق و باطل کی جنگ میں خون کا دریا بہا دیا

صبح جب نماز اور تلاوت قرآن مجید سے فارغ ہوکر آج کے دن کہ نسبت سے کچھ لکھنے کے لیے کوشش کی تو تھوڑی دیر سوچنے پر مجبور ہوگیا کس ہستی کا نام اور ولادت کی تحریر کرنے جارہے ہو۔

کیا اس قابل ہیں یہ ہاتھ کے شان سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی شان میں کچھ لکھ سکیں۔

مجھ میں اتنی قوت کہاں کہ میں رسول اللہﷺ کی پیاری بیٹی کی شان بیان کر سکوں۔ رسول اللہﷺ کی جگر گوشہ کاتزکر سکوں۔

جنتی عورتوں کی سردار کے نام کا پیکر بن سکوں۔ شیر خدا مشکل کشا فاتح خیبر کی بیوی کو موضوع سخن بنا سکوں۔

یتیموں مسکینوں اور بھوکوں کو کھانا کھلانے اور خود تین دن پانی سے روزہ افطار کرنے والی دنیا کی عظیم خاتون کی شان کو نوک قلم بنا سکوں۔

میرے پاس کہاں اتنا حافظہ کہ سحرا کو خون سے کربلابنانے والے شہید اعظم کی امی جان کی تربیت کا ایک نکتہ بھی بیان کرسکوں۔

حق اور باطل کی تاریخ اپنے کنبے کے خون سے لکھنے والے اور سجدہ میں سرکٹانے والے شجاع لخت جگر کی با پردہ والدہ محترمہ جو تمام زمانہ کی عورتوں کے پردہ کی ضمانت ہیں ان کے یوم پیدائش کا نکتہ بیان کر پاوں۔

بس اتنی آرزو لیے کہ دونوں جہاں کی اس عظیم ہستی کے شہر اور اُس بستی میں پہنچ کر تربت سیدہ طاہرہ شب و روز زیارت کرنے والوں کے راستے سے کنکریاں اٹھاتا رہوں تاکہ زیارت کرنے والوں کو اس کنکری سے ایذا نہ پہنچے

یہ مقام نصیب ہو جائے۔ کبھی کوئی ایسا لمہہ آئے کہ بنت رسولﷺ میرے اس کام سے خوش ہو جائیں اور یہ خوشی اللہ کے پیارے نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش ہوجائے اور آپ ﷺ مجھ سے راضی ہوجائیں انشااللہ جب حضورﷺ راضی ہوئے تو اللہ تعالی بھی راضی ہو جائے گا۔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment