سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی 1 شخصیت و تعلیمات و افکار و مرتبہ و مقام

Rate this post

سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی شخصیت اور تعلیمات و افکار اور مرتبہ و مقام

غوث اعظم دلیل راہ یقیں

بہ یقیں رہبر اکابر دیں

اوست در جملہ اولیاء ممتاز

چوں پیمبر در انبیاء ممتاز

سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی

کرہ ارض پر بسنے والے انسانوں کی تاریخ و تہذیب کو متاثر کرنے والی علمی وروحانی شخصیات میں یوں تو کئی نام آتے ہیں لیکن حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی رضی اللہ عنہ کی علمی وروحانی شخصیت نے انسانیت پر جو اثرات مرتب کیے اور لا تعداد انسانوں کی زندگیوں پر انمٹ نقوش چھوڑے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اپنوں اور بیگانوں سب نے آپ کی عظمتوں کا اعتراف کیا ہے۔

مستشرقین نے بھی آپ کے حالات زندگی اور کارناموں کو بیان کیا ہے ،اہل اسلام کا وہ طبقہ جو تصوف اور صوفیا کے طریقوں سے دور رہا، وہ بھی آپ کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوا نظر آتا ہے اور آپ کی کرامات کا انکار نہیں کرتا۔ کیوں کہ آپ قلزم شریعت کے بھی ماہر غواص تھے اور بحر حقیقت کے بھی عظیم شناور تھے ۔

آپ نے شریعت کے ظاھری اور باطنی دونوں پہلوؤں کی رعایت رکھتے ہوئے تعلیمات اسلامیہ کو قلب و روح کی گہرائیوں میں اتارا ،آپ کے ایک ہاتھ میں شریعت کا جام تھا تو دوسرے میں طریقت کا جام تھا۔

جہاں آپ نے علم کے چراغ روشن کیے وہیں پہ معرفت کے پھول بھی بکھیرے ۔ آپ کا انداز تعلیم اور منہج تربیت نبوی طریقہ تعلیم و تربیت کا عکس جمیل تھا۔قصیدہ غوثیہ میں ایک مقام پر خود فرماتے ہیں۔

و كل ولى له قدم و إنى

على قدم النبي بدر الكمال

“ہر ولی کے لیے ایک نقش قدم ہے جس پر وہ چلتا ہے،بے شک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ،جو بدر کامل ہیں،ان کے نقش قدم پر ہوں”۔

سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی کی ولادت

 جب ہم آپ کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایام طفولیت سے لے کر عنفوان شباب تک اور پھر دمِ وصال تک، عنایت ربانی آپ کے شاملِ حال رہتی ہے۔مشاطہ ازل آپ کی شخصیت کو ظاہری و معنوی لحاظ سے خوب سنوارتی ہے۔

خاندانی نجابت و شرافت اور عظمت کے لیے اتنا کافی ہے کہ آپ نجیب الطرفین سید ہیں، شیخ ابو صالح جنگی دوست اور سیدہ ام الخیر فاطمہ بنت سید ابو عبداللہ صومعی جیسی ہستیوں کے ملاپ سے دریائے دجلہ کے قریب علاقہ جیلان /جیل کے کوہستانی قصبہ نیف میں 471ھ میں پیدا ہونے والا یہ بچہ افق ولایت پر بدر منیر بن کر چمکتا ہے،

سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی کی تعلیم و تربیت

بچپنے میں والد گرامی کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے باعث پرورش اور تعلیم کی ساری زمہ داری نانا جان اور والدہ کے کندھوں پر آ پڑتی ہے، جیلان میں ابتدائی تعلیم کے بعد بغداد شریف حصول علم اور زیارتِ صالحین کے لیے پہنچتے ہیں، اس راستے میں آپ جو مشکلات اٹھاتے ہیں اور مجاہدات کرتے ہیں، اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔خود فرماتے ہیں۔

“جس قدر مشقتیں اور صعوبتیں مجھ پر پڑی تھیں،اگر وہ کسی پہاڑ پر ڈال دی جاتیں تو پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو جاتے” (سیر الأعلام )

سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی کی درس وتدریس

شیخ حماد بن مسلم الدباس جیسے شیخ تربیت اور حضرت ابو سعید مخرمی جیسے شیخ طریقت بزرگوں کے فیض سے خوب مستفیض ہو کر اپنے مرشد شیخ ابو سعید مخرمی کے قائم کردہ “مدرسہ لطیفیہ” میں درس و تدریس کے لیے مقرر ہوئے اور پھر اس مدرسے کی جدید تعمیر و توسیع کر کے اس کا نام “مدرسہ قادریہ” رکھا ،جہاں سے ہزاروں تشنگان علم و معرفت سیراب ہوئے۔حافظ عبد الغنی مقدسی اور شیخ موفق الدین بن قدامہ جیسے محدث و فقیہ آپ کے تلامذہ میں سے ہیں۔ آپ کی درس و تدریس کی مدت کم و بیش 33 سالوں پر محیط ہے۔حافظ ابن کثیر آپ کے علمی کمالات کے سلسلے میں لکھتے ہیں۔

“بغداد جا کر آپ نے حدیث کی سماعت کی اور اس سے اپنا شغل قائم رکھا، یہاں تک کہ اس میں پوری مہارت حاصل کر لی۔حدیث و فقہ اور وعظ و علوم حقائق میں آپ کو ید طولی حاصل تھا۔”(البدایہ والنہایہ)

سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی کا درس

حضرت سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی مختلف علوم و فنون کا درس دیا کرتے تھے، تقریباً 13 علوم میں کلام فرماتے تھے۔قصیدہ غوثیہ میں فرماتے ہیں:۔

درست العلم حتى صرت قطبا

و نلت السعد من مولى الموالى

“علم پڑھتے پڑھتے میں مقام قطبیت پر فائز ہو گیا اور میں نے سعادتمندی کو پا لیا مولائے کل کی بارگاہ سے”

آپ اپنے وقت کے مفتی حنابلہ بھی تھے اور مرجع علماء و عوام بھی تھے۔مشکل مسائل کے سلسلے میں آپ کی طرف رجوع کیا جاتا تھا۔

ابن جوزی جیسے محدث جب آپ کی مجلس علم میں حاضر ہوئے اور آپ نے ایک آیت طیبہ کے چالیس معنی بیان کر دیے ،تو وہ آپ کی وسعت علمی پر انگشت بدنداں رہ گئے۔پھر جب بحر غوثیت مزید طلاطم خیز ہوا اور ارشاد ہوا کہ “ہم قال کو ترک کرتے ہیں اور حال کی طرف لوٹتے ہیں ” تو محدث ابن جوزی پر اس قدر کیفیت کا غلبہ ہوا کہ انھوں نے اپنا لباس ہی چاک کر ڈالا۔ (علماء عاملوں)

سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی کی وعظ و نصیحت

سیدنا غوث اعظم جب مسند وعظ پر بیٹھتے تو ستر ستر ہزار کے مجمع کو خطاب فرماتے، مجلس وعظ میں علماء و مشائخ اور عوام کے علاوہ رجال الغیب، جنات اور فرشتے بھی شامل ہوتے۔وعظ میں ایسا مسحورکن لہجہ ہوتا کہ سامعین پر رقت طاری ہو جاتی، بعض بیہوش ہو جاتے اور گریبان چاک کر دیتے اور بعض اوقات کئی کئی جنازے اٹھ جاتے۔ (بہجۃ الاسرار)

سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی کی تعلیمات

آپ کی تعلیمات اور مواعظ و خطبات پر مشتمل کتب مثلا فتوح الغیب ، الفتح الربانی اور غنیۃ الطالبین وغیرہا کو دیکھ کر ایک طرف آپ کی وسعت علمی اور ذوق توحید کا اندازہ ہوتا ہے تو دوسری طرف موضوعات کا تنوع آپ کی تعلیمات کی جامعیت اور ہمہ گیریت کا پتہ دیتا ہے۔ آپ فرد کی اصلاح کے لیے دل کی درستگی پر بہت زیادہ زور دیتے تھے اور بارگاہ الٰہی تک وصول کے لیے سات اصولوں کی تاکید و تلقین فرماتے تھے:۔

1)مجاھدہ

2)توکل

3)حسن خلق

4)شکر

5)صبر

6) رضا

7)صدق

 (الفتح الربانی)

آپ کا طریقہء تصوف میں اتباع قرآن و سنت کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔شریعت و طریقت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں، قرآن وسنت اور سلف صالحین کی اتباع کے بغیر دارین کی کامیابی کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔آپ خود فرماتے ہیں:۔

لا فلاح لك حتى تتبع الكتاب والسنة ….إذا لم تتبع الكتاب والسنة ولا الشيوخ العارفين بهما فما تفلح أبدا

“کتاب وسنت اور عارفین کتاب وسنت کی اتباع کے بغیر کامیابی کی امید ہرگز نہ رکھو” (الفتح الربانی)

غنیہ میں فرماتے ہیں:۔

أساس الخیر متابعۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی قولہ و فعلی

“تمام خیر کی اساس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وعمل کی متابعت میں ہی ہے”( غنیۃ)

 سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی کی دنیا سے بے رغبتی

دنیا اور لذات دنیا سے آپ کو کمال درجے کی بے رغبتی اور بے نیازی حاصل تھی، استغناء کا یہ عالم تھا کہ آپ نے 6 عباسی خلفاء کا زمانہ پایا لیکن کسی کے دربار میں چل کر نہیں گئے بلکہ اگر کبھی کوئی حاکم وقت خود  حاضر خدمت ہوا اور ہدیہ کے طور پر کچھ پیش کیا تو وہ بھی آپ نے قبول نہیں فرمایا۔

ایک مرتبہ خلیفہ  مستنجد باللہ نے مال سے بھری ہوئی دس تھیلیاں پیش کیں جو دس غلاموں نے اٹھا رکھی تھیں، آپ نے لینے سے انکار کر دیا۔جب خلیفہ نے اصرار کیا تو دو تھیلیاں ہاتھوں میں لے کر زور سے نچوڑا، ان سے خون جاری ہو گیا۔آپ نے فرمایا: “اے ابو المظفر! کیا تم اللہ تعالیٰ سے شرم نہیں کرتے؟لوگوں کا خون چوستے ہو اور مجھے پیش کرتے ہو۔”

( بہجۃ الاسرار)

سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی کے واقعات

خوف آخرت کا یہ عالم تھا کہ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ کے مرید خاص حضرت شیخ سعدی شیرازی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:۔

“لوگوں نے دیکھا کہ حضرت شیخ عبد القادر گیلانی علیہ الرحمہ حرم کعبہ میں اپنا چہرہ کنکریوں پر رکھے ہوئے ہیں اور کہ رہے ہیں کہ اے پروردگار! مجھے بخش دے، وگرنہ اگر واقعی میں سزا کا مستحق ہوں تو قیامت کے دن مجھے نابینا کر کے اٹھانا، تاکہ صالحین کے سامنے مجھے شرمسار نہ ہونا پڑے” (گلستان سعدی)۔

شیخ عبد القادر جیلانی

سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی کے کمالات و امتیازات :۔

1) مقام غوثیت کبریٰ پر آپ فائز ہیں، امام محمد مھدی علیہ الرحمہ تک یہ منصب بالاصالۃ آپ کے پاس ہے۔اب جس کو بھی غوثیت و قطبیت کا منصب ملے گا وہ آپ کے واسطے سے ملے گا۔

2) آپ کا قدم تمام اولیاء کرام کی گردن پر ہے۔ آپ خود فرماتے ہیں:۔

قدمى هذه على رقبة كل ولى الله

“میرا یہ قدم اللہ کے ہر ولی کی گردن پر ہے”( بہجۃ الاسرار ،قلائد الجواھر)

(اس فرمان صداقت نشان کی وسعت و ہمہ گیریت اور اطلاق میں تفاصیل ہیں)

3)تمام اولیاء کی روحانیت آپ سے مستفیض ہے۔جملہ سلاسل تصوف میں آپ کا فیضان جاری و ساری ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی لکھتے ہیں: حق تعالیٰ نے آنجناب کو وہ قوت عطا فرمائی ہے کہ دور و نزدیک ہر جگہ یکساں تصرف فرماتے ہیں۔آپ اپنے ہمعصر اور بعد میں آنے والے تمام اولیاء کرام کے لیے حصول ولایت اور وصول فیض کا وسیلہ کبریٰ اور واسطہ عظمیٰ ہیں۔ (ہمعات)

4)آپ مقام محبوبیت و معشوقیت پر فائز تھے۔خواجہ نصیرالدین چراغ دہلوی علیہ الرحمہ کے خلیفہ شیخ ابو جعفر مکی فرماتے ہیں کہ یہ فقیر ایک دن حضرت خضر علیہ السلام کے ساتھ دریائے نیل میں کشتی پر سوار تھا، محبوب و مقبول اولیاء کرام کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی ،اسی درمیان خضر علیہ السلام نے فرمایا:۔

“شیخ نظام الدین اولیاء بدایونی و شیخ عبد القادر گیلانی رحمھما اللہ مقام محبوبیت و معشوقیت پر فائز تھے، واللہ روئے زمین پر آپ حضرات جیسا آیا ہے اور نہ آئے گا” (بحر المعانی)

5)آپ کی ولادت کی بشارت خود جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے مع صحابہ کرام و اولیاء عظام آ کر آپ کے والد گرامی سیدنا ابو صالح جنگی دوست کو دی اور فرمایا کہ اس کی شان اولیاء و اقطاب میں ایسے ہو گی جیسے میری انبیاء و مرسلین میں ہے۔ (تفریح الخاطر)

6) آپ ان چار بزرگوں میں سے ایک ہیں جو بعد وصال بھی اپنی قبر انور میں زندوں کی طرح تصرف فرماتے ہیں۔(ہمعات)

7)آپ جب بچپن میں مکتب جاتے تھے تو فرشتے آپ کے ارد گرد چلتے تھے، اور کہتے تھے کہ اللہ کے ولی کے لیے جگہ چھوڑ دو۔شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ حضرت محبوب سبحانی سے پوچھا گیا کہ آپ کو اپنے ولی ہونے کا علم کب ہوا؟فرمایا:۔

میں دس سال کا تھا اور مدرسے جایا کرتا تھا ،تو فرشتے راہ میں میرے ارد گرد چلتے تھے اور جب مدرسے پہنچ جاتا تو میں سنتا تھا کہ فرشتے بچوں سے کہا کرتے تھے:۔

“اللہ کے ولی کے لیے جگہ کشادہ کر دو” (اخبار الاخیار)

شیخ عبد القادر جیلانی

8) تاریخ اسلام میں مجددین کی فہرست طویل ہے جنہوں نے ہر صدی میں تجدید دین کا فریضہ انجام دیا لیکن اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں احیاء دین کا فریضہ صرف آپ کے ہاتھوں سر انجام ہوا کیونکہ احیاء دین کا فریضہ نبی یا اس کا نائب مطلق کے علاوہ کوئی انجام نہیں دے سکتا۔اس لیے “محی الدین” لقب صرف آپ کا ہے۔آپ خود اپنے اس مشہور زمانہ لقب کے متعلق فرماتے ہیں کہ “میں ننگے پاؤں بغداد واپس آ رہا تھا کہ راستےمیں پڑے ایک لاغر و نحیف جسم کے پاس سے گزر ہوا ۔اس نے سلام کیا اور مجھے کہا بٹھانے کو کہا، جوں ہی اسے ہاتھ لگا کر بٹھایا تو وہ ترو تازہ ہو گیا اور کہا کہ میں “دین اسلام” ہوں جو مردہ ہو چکا تھا ، اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کے ہاتھوں زندہ فرما دیا ہے” (نفحات الانس)

9)آپ کے علاوہ کسی ولی کی کرامات تواتر کے ساتھ ہم تک نہیں پہنچیں۔(سیر اعلام النبلا)

10) کرامات کی کثرت میں بھی آپ سب اولیا سے فائق ہیں۔شیطانی قوتیں ہمیشہ آپ کے مقابلے میں خائب و خاسر ہوئیں۔

اعلیحضرت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ بارگاہ غوثیت میں یوں نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں:

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا

اُونچے اُونچوں کے سَروں سے قدَم اعلیٰ تیرا

جووَلی قبل تھے یا بعد ہوئے یا ہوں گے

سب اَدب رکھتے ہیں دِل میں مِرے آقا تیرا

سارے اقطاب جہاں کرتے ہیں کعبہ کا طواف

کعبہ کرتا ہے طوافِ درِ والا تیرا

مزرعِ چِشت و بخاراو عِراق و اجمیر

کون سی کِشت پہ برسا نہیں جھالا تیرا

ہیں رضاؔ یُوں نہ بلک تو نہیں جَیِّد تو نہ ہو

سیِّدِ جَیِّدِ ہر دَہر ہے مولیٰ تیرا

تحریر: صاحبزادہ ڈاکٹر حافظ عبدالسلام ثمر  (چیلاواہن شریف)

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment