سوانح حضرت لعل شہباز قلندر

Rate this post

سوانح حضرت لعل شہباز قلندر یوم وصال :- 21 شعبان المعظم 

حافظ سید محمد عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب :-

اسم گرامی :- حافظ سید محمد عثمان مروندی

لقب :- لعل شہباز قلندر

سلسلۂ نسب :-

حافظ سید محمد عثمان بن سید کبیرالدین بن سید شمس الدین الیٰ آخرہ علیہم الرحمہ

آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاکر ملتا ہے

تاریخ ولادت :-

آپ کی ولادت باسعادت مشہور قول کے مطابق 538ھ بمطابق 1143ء کو آذر بائجان کے ایک قصبہ “مروند” میں ہوئی, علاقے کی نسبت سے “مروندی” کہلاتے ہیں

تحصیل علم :-

ابتدائی تعلیم و تربیت والد گرامی کے زیر سایہ حاصل ہوئی, گھر کے قریبی مسجد میں سات سال کی عمر میں حفظ قرآن مکمل کرلیا, پھر اس کے بعد دیگر علوم دینیہ کے حصول میں مصروف ہوگئے,

بہت جلد ہی علوم نقلیہ و عقلیہ اور عربی و فارسی ادب میں مہارت تامہ حاصل کرلی,

آپ کا شمار اپنے وقت کے جید علمائے کرام میں ہوتا تھا

بیعت و خلافت :-

صحیح قول کے مطابق آپ حضرت ابو اسحاق محمد ابراہیم قادری علیہ الرحمہ سے شرف بیعت حاصل کی, بعض مؤلفین کے قول کے مطابق آپ شیخ الاسلام غوث بہاؤالدین زکریا ملتانی علیہ الرحمہ کے مرید تھے,

اس میں تطبیق اس طرح ہو سکتی ہے کہ حضرت بہاؤالدین زکریا علیہ الرحمہ نے آپ کو خلافت سے نوازا ہو جیسا کہ مشائخ کا طریقہ ہے

سیرت و خصائص :-

امام العلماء والعارفین, رئیس المدرسین, قدوۃالسالکین, برہان الواصلین, عارف بااللہ, فنافی اللہ, باقی بااللہ, حضرت سید حافظ محمد عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ کی ولادت کی بشارت حضرت شیر خدا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بایں الفاظ ارشاد فرمائی,

حضرت لعل شہباز قلندر

اے احمد کبیر :- اللہ تعالیٰ تم کو ایک بیٹا عطا فرمائے گا! اس مگر میری ایک بات یاد رکھنا کہ جب فرزند تولد ہو تو اس کا نام محمد عثمان رکھنا اور جب وہ تین سو چوراسی دن کا ہوجائے تو اس کو لے کر مدینہ منورہ حاضری دینا اور سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حضور سلام کے بعد حضرت سیدنا عثمان غنی ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار پاک پر لے جانا, اور سلام عرض کرنا

چنانچہ والد بزرگ نے حسب وصیت ایسا ہی کیا

(شہباز ولایت, صفحہ 8)

آپ بہت ہی حسین و جمیل تھے آپ کا چہرہ انور ایسے چمکتا تھا جیسے “لعل” اس لئے آپ کو لعل شہباز کہتے ہیں,

لعل شہباز قلندر علیہ الرحمہ جس پایہ کے صاحب علم و فضل اور صاحب تصوف و معرفت تھے, اسی پایہ کے معلم و مقرر اور ادیب و شاعر بھی تھے,

عربی و فارسی علوم و ادبیات پر کامل دسترس رکھتے تھے, قرآن و حدیث و فقہ کا وسیع مطالعہ تھا, ماہر لسانیات اور ماہر قواعد زبان بھی تھے, آپ صاحب تصانیف بزرگ تھے, اور بالخصوص صرف نحو اور عربی ادب کے شائقین دور دراز علاقوں سے سفر کرکے آپ کے یہاں تحصیل علم کے لئے حاضر ہوتے, آپ شیخ الاسلام حضرت غوث بہاؤالدین زکریا علیہ الرحمہ کے مدرسہ جو حقیقتاً اس وقت ایشیا کی عظیم یونیورسٹی تھی, اسی میں صدرالمدرسین کے منصب پر فائز تھے,

قلندری طریقت :-

بعض مؤلفین کا خیال ہے کہ آپ قلندری طریقت رکھتے تھے, ملنگوں نے قلندروں کو شریعت سے آزاد سمجھ رکھا ہے, اور قلندری طریقے کو بے نمازی اور غیر شرعی کاموں سے روشناس کراتے ہیں, اس لئے بہتر ہوگا کہ قلندری طریقت پر وضاحت پیش کی جائے,,,,,

تارک الدنیا تہجد گزار اور نفسانی لذتوں سے پاک شخص کو قلندر کہتے ہیں, صوفی اور قلندر ایک ہی ذات کا نام ہے

حضرت خواجہ عبیداللہ احرار (متوفی 895ھ) نے فرمایا : اپنے آپ کو دنیاوی خواہشات سے مجرد رکھنے اور نفس کو معبود(اللہ تعالیٰ) کے تابع کردینے کو قلندری طریقت کہا جاتا ہے,

شاعر مشرق اقبال کے نزدیک قلندر وہ ہے جس کے دل میں دنیا کے مضرات اور مشکلات کا خوف و ہراس بالکل نہ ہو

ہزار خوف ہوں لیکن زباں ہو دل کی رفیق

یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

عرس کی آڑ میں بدعات کا فروغ

عرس شریف کے مبارک و مقدس پروگرام کو اخلاق و کردار سے آزاد لوگوں کا میلہ, ناچ گانا, کھیل و تماشا, خواتین کا بے پردہ ہونا, محفل موسیقی, دھمال اور دھمال پر عورتوں کا رقص, رنڈیوں کا تماشا, طوائفوں کی بھرمار, شور و ہنگامہ, بھنگ و چرس کا دھندا, مزار میں مہندی لے جانا, قلندر کی شادی کرانا, ملنگوں کی عجیب و غریب حرکتیں, شیعہ روافض کا عَلم کو پوجنا ان پر منتیں مانگنا اور اصحاب کرام کی شان میں گستاخی اور خلفائے ثلاثہ پر تبرا بازی سمیت حیا سوز خرافات اور بد رسموں میں تبدیل کر دیا گیا ہے,

ان تمام خرافات کا حضرت شہباز قلندر کے عقیدہ و مسلک سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ,نفس کے غلاموں, شیطان کے پیروکارو اور خدا کے نا فرمانوں نے اپنے نفس کو خوش کرنے کے لئے ان بیہودہ رسموں اور حیا سوز حرکات کو رواج دیا ہے

اگر ملنگوں کو حضرت لعل شہباز قلندر کی پیروی کرنے کا شوق ہے تو پرہیزگاری کریں, پنجوقتہ نماز کی پابندی کا معمول بنالیں, شب بیداری کی عادت ڈالیں, ذکر و اذکار و درود شریف کو کثرت سے ورد کریں, اپنے بچوں کو حافظ قرآن بنائیں, حرام سے اجتناب اور شریعت مطہرہ پر عمل پیراں ہوں,

حضرت لعل شہباز قلندر علیہ الرحمہ فرماتے ہیں

عثمان چو شد غلامِ نبی و چہار یار

امید شاز مکارم عربی محمد است

وصال :-

آپ کا وصال 21 شعبان المعظم 673ھ بمطابق 1274ء کو ہوا

مزار شریف :-

آپ کا مزار شریف سیہون شریف میں مرجعِ خلائق

َ

                                 لعل شہباز قلندر

          ﻏـــــــــــــــــــــﺮﻕ ﺑﺎﺷﺪ ﺩﺭ ﺟﻤﺎﻝ ﺩﻭﺳﺖ ﺩﻭﺳﺖ

          ﻋﺎﺷـﻖ ﺳﺮ ﻣﺴﺖ ﺭﺍ ﮔﻔﺘــــــــــــــــــــــــﺎﺭ ﻧﯿﺴﺖ

          ﺩﻭﺳﺖ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮯ ﺟﻠﻮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨـــــﮯ

         ﻣﺪﮨﻮﺵ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺑﯿﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺍٓﺳﮑﺘﯽ

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment