سلطان محمود غزنوی (بُت شکن)؟

Rate this post

سلطان محمود غزنوی (بُت شکن)1 :-۔874ء (260ھ) میں خلافت عباسیہ کے دور میں اسد بن سامان کے نام پر ”سامانی سلطنت“ نے ماوراء النہر (ازبکستان، تاجکستان قازقستان)، افغانستان اور خراسان میں حکومت کی۔

سامانی حکومت کے کمزور اور صوبے خود مختار ہونے پر ایک صوبہ دار سبکتگین نے 366 سے 387ھ یعنی977 تا 997ء)میں غزنی شہر میں ایک آزاد حکومت قائم کیا۔

۔375ھ یعنی 986ء میں ہندوستان کے راجہ جے پال نے سبکتگین کی بڑھتی طاقت کو ختم کرنے کیلئے غزنی پر حملہ کرنا چاہا تو سبکتگین نے پشاور اور جلال آباد کے درمیان اُسے شکست دے کر اپنی حکومت کو وسیع کیا۔

سلطان محمود غزنوی کون؟

2۔ سبکتگین کا بیٹا محمود المعروف محمود غزنوی (پیدائش 361 – وفات 420ھ، عمر 59 سال) 971 سے 1030

شجرہ سلطان محمود غزنوی

غزنویہ کا پہلا آزاد اہلسنت سلطان حکمران تھا جس نے تیس سال (999 سے 1030) میں شمال مغربی ایران، برصغیر میں پنجاب، ماوراء النہر اور مکران (بلوچستان) تک حکومت کو وسیع کیا۔

سلطان محمود غزنوی کا خطاب

عباسی خلیفہ نے سلطان محمود غزنوی کو ”یمین الدولہ“ کا خطاب بھی دیا۔

3۔ سلطان محمود غزنوی پشاور اپنی سلطنت کا دفاع بھی کرتا اور مخالفین کے خلاف تیزی سے کاروائی بھی کرتا۔

راجہ جے پال سبکتگین سے اپنی شکست نہیں بھولا تھا، اسلئے 1001ء (391ھ) میں غزنی پر حملہ کرنے نکلا۔

پشاور کے پاس سلطان محمود غزنوی سے ٹکرا کر شکست کھا کرگرفتار ہوا، تاوان دے کر چھوٹ کر لاہور واپس آیا، اپنے بیٹے انند پال کر راجہ بنا کر شرمندگی سے خود کشی کر لی۔

4۔ سلطان محمود غزنوی نے 1004ء (395ھ) بھیرہ کے راجہ پر حملہ کیا کیونکہ تاوان نہیں دے رہا تھا، میدان سے بھاگ کر اس نے خود کشی کر لی۔

۔ 1006ء (396ھ) میں سلطان ملتان کے حاکم ابوالفتح داؤد، رافضی، قرامطہ فرقہ، مکہ مدینہ پر حملہ کرنے والوں پر حملہ کرنے نکلا مگر راستے میں جے پال کے بیٹے انند پال سے مقابلہ ہو گیا۔

وہ شکست کھا کر کشمیر بھاگ گیا۔سلطان محمود غزنوی ملتان گیا، وہاں جے پال کے پوتے سکھ پال نے اسلام قبول کیا۔

اس کو حاکم مقرر کیا لیکن سکھ پال نے بعد میں بغاوت کر دی تو 1008ء (398ھ) میں سلطان نے سکھ پال کو شکست دے کر معزول کر کے اپنا حاکم مقرر کیا۔

5۔ 1008ء (399ھ) کے آخر میں انند پال نے دیگر راجاؤں سے مدد لے کر ایک لشکر تیار کیا مگر ایک بار پھر شکست ہوئی۔1009ء (400ھ) میں سلطان محمود نے ہندوستان میں نرائن پور کی ریاست کو فتح کیا۔

۔ 1010ء (401ھ) ملتان کے قرامطی فرقے کا کام تمام کیا۔1014ء (405ھ) میں انند پال کے بیٹے لوجن پال اور اس کے ساتھ آئے کشمیری ہندؤں کوشکست دی۔

سلطان کئی دفعہ کشمیر کے لئے نکلا مگر برف باری کی وجہ سے واپس آنا پڑا اور زندگی میں کشمیر فتح نہ کیا۔

6۔ سلطان نے تھانیسر، غزنی کے راستے کے جتنے قلعے اُن کو، 1018ء (409ھ) ہندؤں کے مذہبی مقام متھرا کو فتح کیا۔

مشہور ریاست قنوج کا محاصرہ کر کے راجہ سے صلح کر کے باجگزار بنایا۔

۔ 1019ء (410ھ) میں قنوج کے راجہ کو کالنجر کے راجہ گنڈا نے قتل کیا تو سلطان نے اس کا بدلہ لینے کے لئے حملہ کر اس کو شکست دی۔ پھر راجہ لوجن پال اور راجہ گنڈا نے حملے کی تیاری کی تو سلطان نے دونوں کو شکست دے کر ہندوستان سے ہندو شاہی راجہ کا خاتمہ کر دیا۔

سلطان محمود غزنوی 1020 سے 1025ء تک دوسرے علاقوں میں مصروف رہا اور ہندوستان کی بہت سی ریاستوں نے اکٹھا ہو کر گجرات کے کاٹھیا وار میں سومنات مندر کو مرکز بنایا اور پلاننگ کی کہ سلطان کو سبق سکھایا جائے۔

سلطان بے خبر نہیں تھا بلکہ وہ دفاعی انداز جانتا ہی نہیں تھا، اسلئے خود 1025ء (416ھ) میں غزنی سے نکلا،۔

تین ماہ کا سفر کر کے جنوری 1026ء میں سومنات کے ارد گرد لڑائی کر کے سب کو شکست دی۔

ہندوؤں نے بُت کو نہ توڑنے پر پیسہ پیش کیا مگر سلطان نے بُت فروش بننا پسند نہیں کیا اور توڑنے کا مقصد سومنات کا مندر نہیں بلکہ ہندوؤں کا اجتماعی سیکرٹ سیل تباہ کرنا تھا۔

سلطان محمود غزنوی کی وفات

9۔ 1027 (418ھ) میں جاٹوں کے خلاف کشتیوں پر لڑائی میں جاٹوں کو شکست دی۔ آخری جنگ بیماری کے دوران 1029 (420ھ) میں ایرانی علاقے رے میں ہوئی جس میں رے کے حاکم آل بویہ کو شکست دی اور 1030ء میں 59 سال کی عمر میں غزنی میں وفات پائی۔

10۔ 1974میں غزنوی میں زلزلہ کی وجہ سے سلطان محمود غزنوی کا مزار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا، قبر بھی پھٹ گئی،۔

تابوت بھی ظاہر ہو گیا جس میں سلطان کا جسد خاکی رکھ کر دفن کیا گیا تھا۔ تابوت بدلنے کے لئے جب کھولا گیا تو سلطان محمود غزنوی اسی حالت میں تھا جیسے ابھی اسے تازہ تازہ تابوت میں رکھ کر دفن کیا گیا ہو۔

نتیجہ: اپنی اپنی بقا کی جنگ ہے، جس میں غدار اور وفادار پیدا ہوتے ہیں۔

سلطان ایک نیک آدمی تھا جس نے علماء کرام سے سیکھا اور بزرگان دین سے فیض لیا۔

اہلتشیع جس طرح بنو امیہ کے خلاف پراپیگنڈہ کرتے ہیں، اسطرح لبرلز، قادیانی، رافضی، سیکولر، منکرین احادیث وغیرہ کے یونٹ بنے ہوئے ہیں جن کو اسی کام پر لگایا گیا ہے کہ مسلمانوں کا امیج خراب کیسے کرنا ہے۔

تاکہ سپر پاورز کے ساتھ ساتھ کفار کی چوری، بد دیانتی وغیرہ کی طرف دھیان نہ جائے۔

لبرلز: سومنات کے حملے میں کچھ لبرلز سلطان کو لُٹیرا ثابت کرنا چاہتے ہیں حالانکہ سوال یہ ہےکہ یہ لبرلز کون ہیں؟

اُن کا مذہب اور مذہبی کتاب کونسی ہے؟ کن علماء کی پیروی کرتے ہیں؟ لبرلز کا ایجنڈا اسلام اور دیگر مذاہب کے متعلق کیا ہے؟

موازنہ: کسی بھی مذہب یا شخصیت کا موازنہ اُس کے دور کے مطابق کرنا ہو گا۔

اسلئے سلطان محمود غزنوی کے دور میں ہندوستان کے راجے کسطرح بنے اور اُنہوں نے کیا کیا رفاعی کام کئے۔

اس دور میں دیگر قوموں کے ساتھ اُن کا سلوک کیا تھا وغیرہ وغیرہ۔ البتہ سلطان اپنے وقت کا واقعی سلطان تھا۔

دہلی یونیورسٹی کی پروفیسر رومیلا تھاپر کی کتاب ”سومنات: تاریخ کی بہت سی آوازیں (Somantha: the many voices of history)“ سلطان کے حق میں ہے اور بہت سا پراپیگنڈہ ملی بگھت سے نان مسلم کا مسلم فاتح کے حق میں نہیں۔

سلطان محمود غزنوی کے دربار کا واقعہ

*سلطان محمود غزنوی کا دربار لگا ھوا تھا. دربار میں ہزاروں افراد شریک تھے جن میں اولیاء قطب اور ابدال بھی تھے۔ سلطان محمود نے سب کو مخاطب کر کے کہا کوئی شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہے..

سب خاموش رہے دربار میں بیٹھا اک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا میں زیارت کرا سکتا ہوں۔

سلطان نے شرائط پوچھی تو عرض کرنے لگا 6 ماہ دریا کے کنارے چلہ کاٹنا ہو گا لیکن میں اک غریب آدمی ہوں میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہو گا۔

سلطان نے شرط منظور کر لی اس شخص کو چلہ کے لیے بھیج دیا گیا اور گھر کا خرچہ بادشاہ کے ذمے ہو گیا۔

6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان نے اس شخص کو دربار میں حاضر کیا اور پوچھا تو دیہاتی کہنے لگا حضور کچھ وظائف الٹے ہو گئے ہیں لہٰذا 6 ماہ مزید لگیں گے۔

سلطان محمود غزنوی

مزید 6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان محمود کے دربار میں اس شخص کو دوبارہ پیش کیا گیا تو بادشاہ نے پوچھا میرے کام کا کیا ہوا…. ؟

یہ بات سن کے دیہاتی کہنے لگا بادشاہ سلامت کہاں میں گنہگار اور کہاں حضرت خضر علیہ السلام میں نے آپ سے جھوٹ بولا۔

میرے گھر کا خرچا پورا نہیں ہو رہا تھا بچے بھوک سے مر رہے تھے اس لیے ایسا کرنے پر مجبور ہوا۔

سلطان محمود غزنوی نے اپنے اک وزیر کو کھڑا کیا اور پوچھا اس شخص کی سزا کیا ہے . وزیر نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ جھوٹ بولا ھے۔لہٰذا اس کا گلا کاٹ دیا جائے ۔

دربار میں اک نورانی چہرے والے بزرگ بھی تشریف فرما تھے، کہنے لگے بادشاہ سلامت اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا۔

بادشاہ نے دوسرے وزیر سے پوچھا آپ بتاو اس نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ فراڈ کیا ہے اس کا گلا نہ کاٹا جائے بلکہ اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے تاکہ یہ ذلیل ہو کہ مرے اسے مرنے میں کچھ وقت تو لگے۔

دربار میں بیٹھے اسی نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا بادشاہ سلامت یہ وزیر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔

سلطان محمود غزنوی نے اپنے پیارے غلام ایاز سے پوچھا تم کیا کہتے ہو؟

ایاز نے کہا بادشاہ سلامت آپ کی بادشاہی سے اک سال اک غریب کے بچے پلتے رہے آپ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آیی۔

.اور نہ ہی اس کے جھوٹ سے آپ کی شان میں کوئی فرق پڑا اگر میری بات مانیں، تو اسے معاف کر دیں ……..اگر اسے قتل کردیا

تو اس کے بچے بھوک سے مر جائیں گے …..ایاز کی یہ بات سن کر محفل میں بیٹھا وہی نورانی چہرے والا بابا کہنے لگا

ایاز بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔

سلطان محمود غزنوی نے اس بابا جی کو بلایا اور پوچھا آپ نے ہر وزیر کے فیصلے کو درست کہا اس کی وجہ مجھے سمجھائی جائے

بابا جی کہنے لگا بادشاہ سلامت پہلے نمبر پر جس وزیر نے کہا اس کا گلا کاٹا جائے وہ قوم کا قصائی ہے اور قصائی کا کام ہے گلے کاٹنا اس نے اپنا خاندانی رنگ دکھایا غلطی اس کی نہیں آپ کی ہے کہ آپ نے اک قصائی کو وزیر بنا لیا۔

دوسرا جس نے کہا اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے اُس وزیر کا والد بادشاہوں کے کتے نہلایا کرتا تھا کتوں سے شکار کھیلتا تھا اس کا کام ہی کتوں کا شکار ہے تو اس نے اپنے خاندان کا تعارف کرایا آپ کی غلطی یے کہ ایسے شخص کو وزارت دی جہاں ایسے لوگ وزیرہوں وہاں لوگوں نے بھوک سے ھی مرنا ہے۔

اور تیسرا ایاز نے جو فیصلہ کیا تو سلطان محمود سنو ایاز سیّد زادہ ہے سیّد کی شان یہ ہے کہ سیّد اپنا سارا خاندان کربلا میں ذبح کرا دیتا یے مگر بدلا لینے کا کبھی نہیں سوچتا۔

سلطان محمود اپنی کرسی سے کھڑا ہو جاتا ہے اور ایاز کو مخاطب کر کہ کہتا ہے ایاز تم نے آج تک مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم سیّد ہو۔

ایاز کہتا ہے آج تک کسی کو اس بات کا علم نہ تھا کہ ایاز سیّد ہے لیکن آج بابا جی نے میرا راز کھولا آج میں بھی ایک راز کھول دیتا ہوں۔

اے بادشاہ سلامت یہ بابا کوئی عام ہستی نہیں یہی حضرت خضر علیہ السلام ہیں۔

۔ بحوالہ کتاب: شبلی نعمانی.

#طالب_دعا: حافظ نعمان نقشبندی شاذلی

سلطان محمود غزنوی کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت

حضرت سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللّٰه علیہ کے پاس ایران کا بادشاہ اپنے سفیر کے ساتھ ملاقات کے لیے آیا ھوا تھا دن سارا سلطنت کے اُمور پر تبادلۂ خیال میں گزر گیا رات کے کھانے کے بعد ایرانی بادشاہ اور سفیر کو مہمان خانے میں آرام کرنے کی غرض سے بھیج دیا گیا۔۔۔

 سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللّٰه علیہ خود بھی مہمان خانہ میں ھی ایک الگ خیمہ نما کمرے میں ٹھہرے تاکہ مہمان داری میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔۔۔

 تقریباً نصف رات کے بعد سلطان نے اپنے خیمہ کے باہر کھڑے غلام کو آواز دی :

حسن۔۔۔

 اس نے پانی کا لوٹا اور خرمچی اٹھائی اور خیمہ میں داخل ھو گیا ۔۔۔

ایرانی بادشاہ بڑی حیرت سے اپنے خیمہ کے پردہ سے یہ منظر دیکھ رھا تھا اور ساتھ ھی ساتھ سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللّٰه علیہ کے غلام حسن کا باہر آنے کا منتظر بھی تھا ۔۔۔

جیسے کوئی سوال اسکو بے چین کیے ھوئے تھا

جیسے ھی حسن سلطان کے خیمہ سے باھر نکلا ایرانی بادشاہ نے اسے بلایا اور پوچھا جب سلطان نے تمھیں آواز دی حسن۔۔۔

 تو تمھارا حق تھا پہلے پوچھتے جی کیا حکم ھے آقا۔۔۔!

 تم بنا پوچھے ہی پانی کا لوٹا اور خرمچی لیکر سلطان کے خیمہ میں چلے گئے ہوسکتا ھے سلطان کو کسی اور چیز کی طلب ہو ۔۔؟

حسن مسکرایا اور ایرانی بادشاہ کو جواب دیتے ہوئے بولا

حضور میرا مکمل نام محمد حسن ہے…

 اور میرا سلطان ھمیشہ با وضو رہتا ہے اور جب اسکا وضو نا ہو تب ہی مجھے حسن کہہ کر پکارتا ہے۔۔

 اور میں سمجھ جاتا ھوں اب سلطان کو وضو کی حاجت ہے جو انھوں نے اسم محمد صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم اپنی زبان سے ادا نہیں کیا۔۔

 آج تک میرے سلطان نے بغیر وضو کے مجھے محمد حسن کہہ کر نہیں پکارا ۔۔۔

اللّٰه اکبر۔۔۔!

 یہ تھے وہ ہمارے اسلامی تاریخ کے” ھیروز “جن کے دلوں میں عشق مصطفیٰ صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا …

اور کافر مشرک انکا نام سن کر کانپتے تھے۔۔۔

سلطان محمود غزنوی

سلطان محمود غزنوی کا خواب میں حضور کی دیدار

“تین سوال”

کہاجاتا ہے کہ سلطان محمود غزنوی کے ذہن میں ہمیشہ تین سوال کھٹکتے ، رہتے،،،،،

“پہلا سوال یہ کہ میں واقعی سبکتگین کا بیٹا ہوں کے نہیں… کیونکہ ان کے متعلق مشہور تھا کہ یہ بادشاہ کے سگے بیٹے نہیں بلکہ لے پالک ہے

دوسرا یہ یہ کہ علماء واقعی انبیاء کے وارث ہے ؟ یہ تو خود بے اختیار قوم ہے انبیاء کا وارث تو بادشاہِ وقت یا کسی با اختیار آدمی کو ہونا چاہیے تھا

تیسرا یہ کہ میں جنت میں جاؤں گا یا نہیں،،،،

انہی تین سوالات کو ذہن میں لے کر وہ ہمیشہ پریشان رہتے تھے

ایک مرتبہ کسی سفر سے واپس آرہے تھے کے راستے میں ایک طالبعلم کو دیکھا جو کتاب ہاتھ میں لیے ایک کباب فروش کے دئیے کے پاس کھڑا ہے ہوا چلتی ہے تو یہ طالب علم دئیے کے ذرا قریب ہوجاتے ہے زیادہ آگے بھی نہیں بڑھ سکتے کہیں کباب فروش یہ نہ کہدے کہ بھائی لینا نہیں تو پھر کھڑے کیو ہو

سلطان محمود نے جب یہ منظر دیکھا تو خادم کو حکم دیا کہ مشعل اس طالب علم کو دیا جائے،،،،

خود اندھیرے میں گھر تشریف لے آئے،،، اسی رات

خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جملہ ارشاد فرمایا اور سلطان محمود کو اپنے تینوں سوالوں کے جواب مل گئے،

معلوم ہے جملہ کیا تھا’

ملاحظہ ہو،،،

“اے سبکتگین کے بیٹے،،،،تیرے جنت میں جانے کے لئے اتنا کافی ہے کہ ،،،،،تو نے اس انبیاء کے وارث کو چراغ دیا…!

شیخ المشائخ، بحر معرفت و حقیقت, حضرت سیدنا خواجہ ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کو نصیحت!

۱- اے محمود! چار چیزوں کا خیال رکھو:

ا- جو چیز کہ شریعت نے منع کی ھو اس سے پرھیز کرو

ب- نماز باجمعت پڑھو

ج- سخاوت کرو

د- حق تعالی کی مخلوق پر شفقت اور مھربانی کرو-

۲- میں نے عافیت تنہائی میں پائی اور سلامتی خاموشی میں

۳- جو کچھ اولیاء اللہ کے اندر ھوتا ھے اگر اس میں سے ذرہ کے برابر ان کے لبوں سے باھر آجاۓ تو تمام زمین وآسمان کی مخلوق گھبرا جاۓ

۴- فرشتے تین جگہ اولیا اللہ سے ھیبت اور دھشت رکھتے ھیں:

ا- ملک الموت نزع کے وقت

ب- کراما کاتبین لکھنے کے وقت میں

ج- منکر نکیر سوال کے وقت میں

۴- زندگی اس طرح بسر کرو کہ کراما کاتبین کو واپس بھیج دو, اگر اس طرح نہیں کر سکتے ھو تو اس طرح زندگی ضرور بسر کرو کہ رات کے وقت تو ان کے ہاتھ سے دیوان لے لو اور جس کو چاہو مٹادو اور جس کو چاہو لکھ دو اور یہ بھی نہ کرسکو تو سب سے ادنی درجہ یہ ھے کہ ایسے بن جاؤ کہ جب فرشتے حق تعالی کے حضور میں واپس لوٹ کر جائیں تو عرض کریں کہ اس نے نیکی کی ہے اور بدی سے باز رہا ہے

۶- جو دل اللہ تعالی کی محبت کے درد میں مبتلا ھوا سبحان اللہ! وہ دل تو نہایت ہی مبارک دل ہے اس لیے کہ اس درد کی شفاء بھی اللہ تعالی ھے

۷- اور جب تو نیکیوں کا ذکر کرتا ھے تو اس وقت ایک سفید نورانی ابر آتا ھے اور نیکیوں کے ذکر کرنے والے پر اس نورانی ابر سے رحمت برستی ہے اور جب اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتا ہے تو ایک سبز ابر چڑھ کر آتا ہے اور اس اللہ تعالی کے ذکر کرنے والے پر اس سبز ابر سے عشق برستا ہے اور اس ذاکر کا دل اور دل کی کھیتی ہری بھری ہو جاتی ہے

۸- بہت روؤ اور کم ہنسو اور بہت خاموش رہو کم بولو اور بہت تقوی کرو اور کم کھاؤ اور کم سوؤ

۹- عالم علم کو اختیار کرتا ہے اور زاھد زھد کو اختیار کرتا ہے اور عابد عبادت کو اختیار کرتا ہے اور یہ لوگ ان چیزوں کو اللہ تعالی تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں مگر خبردار ہوشیار ہوجاؤ اور میری اس بات کو دل کے کانوں سے سن لو کہ تم تو سواۓ کسی پاکی کے کسی چیز کو پسند نہ کیجیو اور پاکی کو ہی اللہ رب العزت تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھو کیونکہ اس کی ذات پاک ہے وہ تو پاکی ہی کو پسند کرے گا میرا تو معشوق اللہ ہی اللہ ہے

۱۰- صدق یہ ہے کہ دل باتیں کرے یعنی وہ بات کہے کہ جو دل میں ہو جو کچھ تو اللہ تعالی کے واسطے کرے وہ اخلاص اور جو خلق کے واسطے کرے وہ ریا ہے ایسے آدمی کے پاس مت بیٹھو کہ تم اللہ کہو اور وہ کچھ اور کہے اور اندر وہ پیدا کرو کہ تیری آنکھ سے پانی نکلے کیونکہ اللہ تعالی بندۂ گریاں اور بریاں کو دوست رکھتا ھے

۱۱- جس دل میں اللہ تعالی کے سوا کچھ اور ہو وہ دل مردہ ہے اگرچہ سراپا طاعت ہی ہو

۱۲- اللہ تعالی کی دوستی اس شخص کے دل میں نہیں ہوتی جس کو خلق پر شفقت نہیں ہوتی

۱۳- بہت سے آدمی ایسے ہیں جو زمین پر چلتے ہیں مگر وہ مردہ ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو زمین کے اندر سوۓ ہوۓ ہیں مگر زندہ ہیں جس شخص نے اللہ تعالی کے کلام کی حلاوت ولذت نہ چکھی اور دنیا سے چلا گیا وہ گویا تمام بھلائی اور آرام سے محروم گیا

۱۴- اپنی ساری عمر میں ایک بار بھی تو نے اپنے اللہ پاک کو ناخوش کیا ہو تو تجھے لازم ہے کہ باقی ساری عمر اس کی معزرت میں روتا رہے کونکہ وہ اگر معاف بھی کردے تب بھی یہ حسرت کا داغ نہ ہٹے گا ھاۓ!میں نے اپنے عظیم رب جل جلالہ و اعظم شانہ کو کیوں ناراض کیا؟

۱۵- ٹاٹ پہننے اور مرقع رکھنے والے بہت ہیں لیکن اس پاک ذات کے یہاں تو دل کی سچائی اور اخلاص عمل کو دخل ہے اور نہ ہر دغا باز کو کیونکہ اگر ٹاٹ پہننے اور جو کی روٹی کھانے ہی پر صوفی بننا منحصر ہے تو ضروری ہے کہ تمام اون والے اور جو کھانے والے جانور سب کے سب صوفی ہوتے

(خزینۂ معرفت: صفحہ ۵۳ – ۵۶)

#تاریخِ_اسلامی

حکمرانوں کو کونسا غصہ آتا ہے؟

جب عباسی خلیفہ معتصم باللہ کو غصہ آیا اس نے عموریہ شہر فتح کر لیا

جب محمد بن قاسم کو غصہ آیا اس نے سندھ فتح کر لیا

جب سلطان محمود غزنوی کو غصہ آیا اس نے سومنات فتح کر لیا

جب سلطان محمد فاتح کو غصہ آیا اس نے قسطنطنیہ فتح کر لیا

جب سلطان ایوبی کو غصہ آیا اس نے بیت المقدس فتح کر لیا

جب طارق بن زیاد کو غصہ آیا اس نے اندلس فتح کر لیا

جب سلطان سلیمان کو غصہ آیا اس نے بلغاریا فتح کر لیا

مگر جب ہمارے جرنیلوں کو غصہ آیا تو صرف ایک ترانہ جاری کر دیتے ہیں 😁

تاریخ میں ایسی بہادری کا مثالیں نہیں ملتی

فتح والا غصہ مومنین کا غصہ ہے اور ترانوں والا غصہ منافقین کا غصہ ہے!

✍️ #سیدمہتاب_عالم

مزید جانیئے

ایوبی اخلاقیات

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment