سانحہ کربلا علامہ سعد حسین رضوی صاحب

Rate this post

سانحہ کربلا علامہ سعد حسین رضوی صاحب کی نظر میں

نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کردار اورعمل سے، حق کی آواز کو بلند کرنا اوراسلامی اقدار کا تحفظ کرنا سکھایا ہے،

حافظ سعد حسین رضوی

 یزیدی کردار اپنانے والے حکمران دورحاضر کے یزید ہیں،

حافظ سعد حسین رضوی

امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی میدان کربلا میں لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

،امیر تحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی

 امام حسینؓ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ وقت کے یزیدوں کے خلاف علم جہاد بلند کرناہے،

حافظ سعد حسین رضوی

 رسول اللہ کے دین کی حرمت کی پامالی کو حسینی کبھی برداشت نہیں کر سکتا،

حافظ سعد حسین رضوی

یوم عاشورہ یاد دلاتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں کو حقیقی معنوں میں اسوہ حسین رضی اللہ عنہ کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے،

حافظ سعد حسین رضوی

مورخہ29-07-2023: حوالہ نمبر…………..

لاہور( )امیر تحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ سانحہ کربلا راہ حق میں استقامت دکھانے، ظلم کے مقابلہ میں ڈٹ جانے اور اللہ کے راستے میں ایثار و قربانی پیش کرنے کی لازوال و بے مثال داستان ہے۔اس کا ہر پہلو اہل ایمان کے لئے باعث فخر اور قابل تقلیدہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی میدان کربلا میں لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور حسین رضی اللہ عنہ کے خادم انکی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہمیشہ قربانیاں پیش کرتے رہیں گے، امام حسین رضی اللہ عنہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ وقت کے یزیدوں کے خلاف علم جہاد بلند کرناہے،انہوں نے کہا کہ رسول اللہ کے دین کی حرمت کی پامالی کو حسینی کبھی برداشت نہیں کر سکتا۔ امام حسین کا نام لینا آسان ہے لیکن اسوہ حسینی پر عمل حسین کا خادم اور غلام ہی کر سکتا ہے۔معرکہ کرب و بلا نظام ظلم وجبر کے خلاف جدوجہد کا پیغام ہے،امام عالی مقام  نے اپنی بے مثال قربانیوں سے تاریخ امم میں یہ نقش و ثبت کر دیا کہ ایک بندہ مومن کی زندگی کا مقصد اسلامی نظام کا قیام ہے اور وہ جب بھی اسلامی حکومت و ریاست کو خطرات میں گھرا ہوا پائے، اس کی بنیادیں منہدم ہوتے دیکھے تو وہ اس کے بچاؤ و تحفظ کے لئے جان و خاندان کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔ مرکز سے جاری اپنے بیان میں حافظ سعد حسین رضوی کا کہنا تھا کہ یزیدی کردار اپنانے والے حکمران دورحاضر کے یزید ہیں، جواپنی پست ذہنیت پوری قوم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی جدوجہد ظالم حکمران کیخلاف سینہ سپر ہونے کا ابدی پیغام ہے۔ شہدائے کربلا کا سفر، جرأت اورعظیم قربانیاں رہتی دنیا تک مظلوم قوموں کوحوصلہ اور ولولہ مہیا کرتی رہیں گی۔ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کردار اورعمل سے حق کی آواز کو بلند کرنا اوراسلامی اقدار کا تحفظ سکھایا ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم اس داستان سے درس لے کر موجودہ دور کی مشکلات کا مقابلہ کریں اور یزیدی طاقتیں جو امت مسلمہ کو کچلنے کی سازشیں کر رہی ہیں،ان کے ارادوں کو ناکام و نامراد کر دیں، ان کا کہنا تھا کہ یوم عاشورہ یاد دلاتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں کو حقیقی معنوں میں اسوہ حسین رضی اللہ عنہ کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔

*‏جو ساری حکمتوں کو بالا طاق رکھ کے اپنے بچوں سمیت کربلا جائے اسے حسین (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں*

*اور جو ساری مجبوریوں اور معذوریوں کو پیچھے چھوڑ کر اسمبلی ہال بیٹھا ہو اسے خادم حسین (رحمۃ اللہ علیہ) کہتے ہیں*

جاری کردہ

شعبہ نشرواشاعت

تحریک لبیک پاکستان

*کوئی ذاکر، کوئی خطیب، کوئی مقرر، کوئی شیخ، کوئی مولوی 61 ہجری کی قصہ گوئی کرتے وقت یہ نہیں بتاتا کہ 1445 ہجری کے یزید کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے؟*

ظالم سلطنتیں ہڈیوں کا گودا نچوڑ رہی ہوں تو کیا کرنا ہے؟

جب منکرین ختم نبوت قادیانیوں کو اعلی عہدے دیے جا رہے ہوں تب حسینی کردار کیسے ادا کرنا ہے ؟

جب شراب کے پرمٹ دیے جا رہے ہوں تو یزیدی طاقتوں کو کیسے روکنا ہے؟

 *علمی درسگاہوں میں قوم کی بیٹیوں کی حرمت پامال کی جا رہی ہو تو کیا کرنا ہے؟*

غریب کی بیٹیوں پر انصاف کے رکھوالے تشدد کریں اور سر میں کیڑے پڑ جائیں بالآخر مر جائے تو کیا کرنا ہے؟

 *آئی ایم ایف سے قرض لے کر، مہنگائی کا طوفان برپا کر کے آفیسرز کیلیے نئی گاڑیوں کے آرڈر پاس ہو رہے ہوں تو کیا کرنا ہے؟*

مزدور کی دیہاڑی 700 روپے ہو اور چیئرمین سینیٹ کیلیے مراعات کے بل پاس کیے جا رہے ہوں تو کیا کرنا ہے؟

61 ہجری کا یزید بھی کتے پالتا ہو اور 1445 ہجری کا یزید بھی کتے لڑائے تو کیا کرنا ہے؟

 *ذرا نہیں پورا سوچیے*

Muhammad Adnan Chunda Bandiyalvi

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment