رویت ہلال اور اختلاف مطالع کے موضوع پر ہونے والی ایک بحث کا خلاصہ

Rate this post

رویت ہلال اور اختلاف مطالع کے موضوع پر ہونے والی ایک بحث کا خلاصہ علماء کی اس بحث سے واقف ہوں جو اختلاف مطالع اور مرکزی یا نجی کمیٹیوں کے اختلاف سے متعلق ہے اور اس کی پیچیدگیوں کا بھی اندازہ ہے، مرکزی کمیٹیوں کے کسی فیصلہ پر کسی صاحب علم کو علمی نوعیت کا کوئی اشکال بھی ہوسکتا ہے، یہ بھی تسلیم۔ لیکن عوام کو ایسے معاملات میں اپنی جغرافیائی وحدت کے اندر اپنے حکومت ہی کے متعین کردہ نمائندوں کے فیصلہ پر اعتماد سے چلنے دینا چاہیے، اسی میں شاید عافیت ہے۔ علماء کو دنیا میں رائج رویت ہلال کے سیٹ اپ پر اگر کچھ اشکال ہیں تو آپس میں بیٹھ کر گفت وشنید کر لینی چاہیے، مگر ایک تو کچھ پیچیدگیوں کی وجہ سے فی الحال یہی سیٹ اپ ہی دنیا میں چلتا نظر آرہا ہے اور دوسرا اگر ہم چاہتے ہیں کہ مسلمان یکسوئی سے اپنی عبادت میں مشغول ہوں اور کمیٹیوں کے اختلاف سے پیدا ہونے والی قیل وقال سے نجات پائیں جوکہ فروعی اختلاف سے شاید زیادہ اہم چیز ہے تو اس کے لیے ہمیں اپنی اپنی جغرافیائی وحدتوں کے اندر اپنی مرکزی کمیٹیوں کے فیصلہ پر اعتماد کے راستہ پر ہی ڈالنا ہوگا اور اسی میں عافیت ہے۔ نجی کمیٹیاں بٹھانے سے خلفشار پیدا ہوتی ہے اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ چیز پھر مسلکی تنازع کا رنگ بھی اختیار کرلیتی ہے۔

اتحاد مطلع کی بات اتنی سادہ نہیں ہے جتنی پیش کی جاتی ہے اور نہ ہی یہ بات شریعت کے مزاج کی معلوم ہوتی ہے کہ پاک وہند اور مکہ ومدینہ کے لوگ امریکا اور کینیڈا میں ہوجانے والی رویت کی اقتداء کریں اور اپنے ہاں چمکنے والے بارہ کے چاند کو چودہ کا چاند بتاتے پھریں، ماضی کے فقہاء گلوبلائزیشن کے دور کے نہیں تھے، ورنہ ان کی بات بھی مختلف ہوتی، وہ زیادہ سے زیادہ اپنے دور کے ذرائع خبر رسانی کی رفتار اور حدود کار کو دیکھتے ہوئے ایک بات کہہ گئے جو زیادہ سے زیادہ چند سو کلومیٹر کے دائرہ میں ہی کار آمد ہوسکتی تھی۔ اب جب اختلاف مطالع اور اتحاد مطالع کی دونوں شکلوں میں پیچیدگیاں ہیں تو اقرب الی العافیہ اور لوگوں کو تشکیک ووسواس کی راہ سے بچانے کے لیے زیادہ مناسب راستہ وہی لگتا ہے جس پر دنیا کا وطنی نظام چل رہا ہے، اسی کی ہی اتباع کرلینی چاہیے اور وساوس کے دروازہ کو نہیں کھولنا چاہیے۔ یاد پڑتا ہے کہ سعودیہ کی لجنۃ کبار العلماء نے بھی شاید مختلف پیچیدگیوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایسی ہی کوئی بات کہی ہے۔ رہی بات وطنی ریاستوں کی شرعی حیثیت کی تو اولی الامر کے دنیا میں رائج موجودہ نظام کی بالکلیہ نفی کرنا ایک بہت بڑے فساد اور انارکی کا شاید پیش خیمہ ہے جبکہ مخالفین کے پاس اس سیٹ اپ کو بہتر تبدیلیوں کے ساتھ سنبھالنے کی کوئی قوت بھی سردست نہ دارد ہے۔ دنیا کے معاملات پرفیکشن یا آئیڈیلزم کی بنیاد پر نہیں چل سکتے، زمینی حقائق اور مشاکل کو دیکھتے ہوئے بہتر سے بہتر دستیاب شکل پہ کفایت کرنا ہی پڑتا ہے اور شریعت کو بھی شاید اس پر اعتراض نہیں، واللہ اعلم

پوری دنیا میں ایک دن عید وچاند کا تصور بہت خوش کن ہے، مگر اس کی کچھ عملی مشکلات بھی ہیں، ماضی کے بعض فقہاء کا مشرق ومغرب کی مثال دینا محض ایک مفروضہ تھا، اس کے عملی نتائج اگر ان کے سامنے ہوتے تو وہ شاید ایسی بات نہ کہتے، عملی نتائج میں وہی بات کہ چاند کا سائز اور چمکنے کا دورانیہ کسی علاقہ میں صاف چغلی کھا رہا ہو کہ یہ اس خطہ کے لیے ابھی بارہ کا چاند ہے، مگر ہم مغرب بعید کی رویت کا اعتبار کرتے ہوئے چودہ کی رات منا رہے ہوں۔ کیا یہ عجیب صورت حال نہ ہو جائے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم آپ نے ذکر کیا کہ کسی اور علاقہ کی رویت کی خبر پہنچنے پر صحابہ کو روزہ توڑنے کا حکم دیا تو شاید اس کا تعلق بھی بس اس دور کے ذرائع خبر رسانی کی رفتار اور حدود کار کے دائرہ ہی کے اندر رہ کر ہو، نہ کہ مشرق بعید یا مغرب بعید کی بات کہ اس میں کچھ مشکلات نتائج کا سامنا کرنا پڑے، باقی اس باب میں کسی فریق کے پاس حتمیت تو نہیں۔ واللہ اعلم

(محمد عبد اللہ شارق)

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment