رفعت و شان مصطفی

Rate this post

ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اللہ تعالیٰ نے بے شمُار فضائل و خصائص سے نوازا۔اُن میں ایک فضیلت حضور سیّدُالمرسلین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذِکر ِمبارَک کی بلندی ہے

جو ( وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ )

ترجمہ: اور ہم نے تمہاری خاطر تمہارا ذکر بلند کردیا۔

(پ30، الم نشرح:4)

آیت میں بیان کی گئی ہے۔

رحمت ِ دوعالم، نورِ مجسّم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت جبریل علیہ السَّلام سے اس آیت کے بارے میں دریافت فرمایا تو اُنہوں نے عرض کی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ کے ذکر کی بُلندی یہ ہے کہ جب میرا ذِکْر کیا جائے تو میرے ساتھ آپ کا بھی ذکر کیا جائے۔ اورحضرت قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں

کہا اللہ تعالیٰ نے آپ کا ذکر دنیا و آخرت میں بلند کیا،

ہر خطیب اور ہر تشہد پڑھنے والا ”اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ“ کے ساتھ ”اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ“پکارتاہے۔

(تفسیر بغوی، پ30، الم نشرح:4،ج4،ص469ملتقطاً، تاویلات اہل السنہ، پ30، الم نشرح:4،ج5،ص489ماخوذاً)

 اِس رفعت ِ ذکر کی بہت سی صورتیں ہیں جن میں سے چند بیان کی جاتی ہیں۔

رفعتِ ذکر یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ایمان لانا اور ان کی اطاعت کرنا مخلوق پر لازم کر دیا ہے حتّٰی کہ کسی کا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا،اس کی وحدانیت کا اقرار کرنا اوراس کی عبادت کرنا اس وقت تک مقبول نہیں جب تک وہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ایمان نہ لے آئے ،

یونہی آپ کے راستے سے ہٹ کر چلنے والے کی اطاعت بھی بارگاہِ خداوندی میں مقبول نہیں کہ اب وہی اطاعت، اطاعتِ الٰہی کہلانے کی مستحق ہے جو اطاعتِ رسول کی صورت میں ہو جیسا کہ فرمایا:

(مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ) جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا۔

( پ5،النساء:80)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ،ہر بات میں اس کی تصدیق کرے اور سرور عالم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت کی گواہی نہ دے تو یہ سب بے کار ہے اور وہ کافر ہی رہے گا۔

رفعتِ ذکرِ مصطفیٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم یہ بھی ہے کہ ذکر ِ خدا کے ساتھ ذکر ِ مصطفیٰﷺ کیا جاتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اَذان میں،اِقامت میں،نماز میں،تشہّد میں ،خطبے میں اور کثیر مقامات پر اپنے ذکر کے ساتھ آپ کا ذکر شامل کردیا ہے۔

اس حوالے سے صرف چند آیاتِ قرآنی ملاحظہ فرمائیں

٭آپﷺ سے جنگ خدا سے جنگ ہے ـ

(بقرہ: 278 ،279)

آپﷺ کی اطاعت خُدا کی اطاعت ہے ـ

(النساء:80)

آپﷺ کی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے ـ

(النساء: 14)

آپﷺ کی مخالفت خدا کی مخالفت ہےـ

(انفال:13)

آپﷺ کی طرف بلانا خدا کی طرف بلانا ہےـ

(النساء:61)

آپﷺ کی طرف ہجرت خدا کی طرف ہجرت ہےـ

(النساء:100)

آپﷺ پر ایمان لانا خدا پر ایمان لانے کی طرح ضَروری ہےـ

(النساء:136)

آپﷺ سے مقابلہ خدا سے مقابلہ ہےـ

(مائدہ:33)

آپﷺ سے دوستی خدا سے دوستی ہےـ

(مائدہ:56)

آپﷺ سے منہ پھیرنا خدا سے منہ پھیرنا ہےـ

(انفال:20)

آپﷺ کے بلانے پر حاضِر ہونا خدا کے بلانے پر حاضر ہونا ہے یا بالفاظِ دیگر آپ کا بلاوا خدا کا بلاوا ہےـ

(انفال:24)

آپﷺ سے خیانت خدا سے خیانت ہےـ

(انفال:27)

آپﷺ کی طرف سے کسی شے سے بَراءَت کا اظہار خدا کی طرف سے بَراءت کا اظہار ہےـ

(توبہ:1)

آپﷺ سے معاہدہ خدا سے معاہدہ ہےـ

(توبہ:7)

آپﷺ کی محبت خدا کی محبت ہےـ

(توبہ:24)

آپﷺ کا کسی شے کو حرام قرار دینا خدا کا حرام قرار دینا ہے (توبہ:29)

آپﷺ سے کُفر کرنا خدا سے کفر کرنا ہےـ

(توبہ:54)

آپﷺ کی عطا خدا کی عطا ہے اور آپﷺ کا فضل و کرم خدا کا فضل و کرم ہےـ

(توبہ:59)

آپﷺ کی رضا خدا کی رضا ہے اور آپﷺ کو راضی کرنا خُدا کو راضی کرنا ہےـ

(توبہ:62)

آپﷺ کا کسی کو مال دینا، غنی کرنا خدا کا غنی کرنا ہےـ

(توبہ:74)

آپﷺ سے جُھوٹ بولنا خدا کی بارگاہ میں جھوٹ بولنا ہےـ

(توبہ:90)

آپﷺ کی خیر خواہی خدا کی خیر خواہی ہےـ

(توبہ:91)

آپﷺ کی طرف بلانا خدا کی طرف بلانا ہےـ

(نور:48)

آپﷺ کا وعدہ خدا کا وعدہ ہےـ

(احزاب:22)

آپﷺ کی رضا چاہنا خدا کی رضا چاہنا ہےـ

(احزاب:29)

آپﷺ کا فیصلہ خدا کا فیصلہ ہےـ

(احزاب:36)

آپﷺ کو ایذا خدا کو ایذا ہےـ

(احزاب:57)

آپﷺ پر پیش قدمی خدا پر پیش قدمی ہےـ

(حجرات:1)

آپﷺ کی مدد خدا کی مدد ہے۔

(حشر:08)

آپﷺ کا کنکر پھینکنا اللہ تعالیٰ کا کنکر پھینکنا ہےـ

(سورۃ انفال:30)

میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کہ حبیب یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا

بخدا خدا کا یہی ہے در، نہیں اور کوئی مَفَر مَقَر جو وہاں سے ہو یہیں آکے ہو جو یہاں نہیں وہ وہاں نہیں

ذکرِ مصطفیٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رفعت پر یہ اُمور بھی دلالت کرتے ہیں:

آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر زمین پر بھی ہے اور آسمانوں پر بھی.

آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر انسان بھی کرتے ہیں، فرشتے بھی، جنّات بھی اور دیگر مخلوقات بھی ـ

آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر پتّھروں نے بھی کیا اور درختوں نے بھی ـ

دنیا کے ہر کونے میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذکر کرنے والے موجود ہیں۔

چنانچہ دنیا کے ایک کنارے سے فَجْر کی اَذانیں شُروع ہوتی ہیں اور دنیا کے آخری کنارے تک دی جاتی ہیں اور ابھی اگلی جگہوں پر فجر کی اَذان نہیں ہوتی کہ پہلی جگہ ظہر کی اذانیں شروع ہوجاتی ہیں اور ہر اذان میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نام اور رسالت کی گواہی پڑھی جاتی ہے

اور یوں دنیا کا کوئی ملک اور خطہ ایسا نہیں جہاں ہر وَقْت آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نامِ مبارک نہ لیا جارہا ہو۔ یہی حال قرآنِ مجید کی تلاوت کا ہے کہ دنیا کے ہر خطے میں ہر وقت تلاوتِ قرآن جاری رہتی ہے

اور لاکھوں مسلمان ہروقت تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں اور قرآن ذکرِ مصطفیٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے معمور ہے تو ہر وقت آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر تلاوتِ قرآن کی صورت میں بھی جاری ہے۔

درود ِ پاک کی صورت میں ذکر ِ مصطفیٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شان تو یہ ہے کہ ہر آن، ہر لمحہ دنیا میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر دُرود و سلام پڑھا جارہا ہے اور اگر درود پڑھنے والا کوئی انسان نہ بھی ہو تو فرشتے تو ہر آن آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر درود پڑھ رہے ہیں

اور یہ فرشتے زمین کی گہرائیوں سے لے کر عرش کی بُلندیوں تک موجود ہیں اور معاملہ کچھ یوں نظر آتا ہے۔

فرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ، عرش پہ طرفہ دھوم دھام کان جدھر لگا ئیے تیری ہی داستان ہے

آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نام ِ مبارَک عرش و کرسی پر لکھا ہوا ہے،

سِدْرَۃُ المُنتہیٰ اور جنّتی درختوں کے پتّوں پر نقش ہے،

جنّت کے محلّات پر کندہ ہے۔

تمام انبیا و رسول علیھم الصلوٰۃ والسلام آپ کا ذکر کرتے رہے، آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ایمان لانے کا اپنی اپنی امّت سے وعدہ لیتے رہے۔

ہر آسمانی کتاب میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر موجود ہے۔

سوانح نگاری کی دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرت پر لکھی گئیں

بیانِ فضائل میں دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فضائل کے متعلّق تحریر کی گئیں۔ نظم کی صورت میں دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ کلام یعنی نعتیں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بارے میں لکھی گئیں۔

سب سے زیادہ زَبانوں میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہی کا تذکرہ ملتا ہے۔

اے رضاؔ خود صاحبِ قرآں ہے مدّاح ِحضور

تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسولُ اللہ کی ـ

صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ـ

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment