رزق ، رزق کی اقسام

Rate this post

کیا علماء کرام محبت میں پڑتے ہیں_رزق کے بارے ایک بڑی غلط فہمی

ایک آدمی کنویں میں گر گیا لوگوں نے مل جل کر باہر نکالا

گرنے والا گھبرا گیا تھا کنویں سے نکالتے ہیں کسی نے اس کو دودھ کا پیالہ پیش کیا

اس نے دودھ پیا اور اچانک پھر اس کا پاؤں پھسلا وہ دوبارہ کنویں میں جا گرا

مگر اس بار زندہ نہ نکل سکا

وہاں موجود ایک حکیم شخص نے کہا کہ اس کے حصے کے رزق میں سے ایک پیالہ دودھ کا باقی رہ گیا تھا

جسے پینے کے بعد دوبارہ کنویں میں گر کر مر گیا!

رزق کے بارے میں حضرت علی کا قول

مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان ہے کہ

اگر تم رزق سے بھاگنے کے لیئے ہوا پر سوار ہو کر اڑ جاؤ تو تمہارے حصے کا رزق بجلی پر سوار ہو کر تمہیں پکڑ لے گا

یعنی جو رزق نصیب میں انسان کر وہ مل کر ہی رہے گا!

رزق کیا ہے؟

عموما لوگ رزق صرف کھانے پینے کو سمجھتے ہیں جبکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے!

لسان العرب میں علامہ ابن منظور نے لکھا

رزق کی تعریف

الرزق : هو ما تقوم به حياة كل كائن حي مادي كان أو معنوي

رزق ہر وہ شے جس سے ہر زندہ شخص کی زندگی کی بقاء ہو وہ چیز مادی ہو یا معنوی ہو

معلوم ہوا کہ رزق کی دو قسمیں ہیں

(1) مادی رزق

  جو دیکھنے چھونے سننے میں آتا ہو

یا یوں کہ لیں جو دنیا میں انسان کو کسی طرح بھی فائدہ پہنچائے جیسے کھانا، پینا کپڑے،گاڑی گھر،اولاد حسن و جمال، وغیرہ

(2) معنوی رزق

جو دیکھنے چھونے سے معلوم نہ ہو

جیسے علم و عمل،ایمان و یقین،عقل و جذبات،عشق محبت وغیرہ

سچ بولنے والوں کی رزق

اعلام الموقعین میں ابن قیم نے لکھا کہ

سچ بولنے والے کو اللہ رب العزت ھیبت و وقار کا رزق عطاء فرماتا ہے

جو اس سچے کو دیکھتا ہے مرعوب ہوجاتا ہے اس کے آگے دب جاتا ہے

اور جھوٹے انسان کو اھانت و بغض کا رزق ملتا ہے

جو اسے دیکھتا ہے اسکی توہین کرتا ہے اور نفرت کرتا ہے

رزق حلال کے واقعات

معلوم ہوا کہ عزت و ھیبت و وقار بھی رزق ہے اور ذلت و اھانت و نفرت بھی رزق ہے

مالدار اور غریب کا رزق

کسی بزرگ سے پوچھا گیا کہ

کیا وجہ ہے بہت سے احمق مالدار ہیں اور اکثر عقلمند غریب و فقیر ہیں؟

فرمایا

عقل رزق ہی تو ہے!

یعنی جس کو عقل ملی اس کو رزق کا بڑا حصہ نصیب ہوا

مالدار کو مادی و حسی رزق ملا اور عقلمند کو معنوی و روحانی رزق ملا ہے!

بالکل اسی طرح عشق و محبت بھی رزق ہے!

کسی کو کم ملتا ہے کسی کو زیادہ نصیب ہوتا ہے

رزق انسان کے حصے میں لکھا ہوتا ہے کہ اس کو ملنا ہے یا نہیں، اب انسان پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اس تقسیم شدہ رزق کو حلال طریقے سے حاصل کرے یا حرام طریقے سے حاصل کرے!

یونہی محبت رزق ہی تو ہے

 اور اگر آپ کے مقدر میں لکھی ہوئی ہے تو آپ پر منحصر ہے کہ

آپ اس کو جائز طریقے سے حاصل کریں یا ناجائز طریقے سے حاصل کریں

عالم ارو جاہل کی محبت

علم والے اگر محبت میں پڑتے ہیں تو علم کی برکات سے سے ناجائز کاموں میں نہیں پڑتے اور محبت کو حلال طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں

جبکہ جاہل گناہوں میں بھی پڑتے اور ناجائز ذرائع بھی اختیار کرتے ہیں

قل ھل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون

فرما دیں کہ کیا علم والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہو سکتے ہیں

علم والوں اور جہل والوں کے ہر کام میں امتیازیت ہوتی ہے

یہی وجہ ہے آپ علماء کو دیکھیں گے کہ عشق میں پڑنے کے باوجود مجنوں نہیں بنتے ذلت و رسوائی والے کام اختیار نہیں کرتے

بلکہ آپ علماء کو عشق و محبت میں پڑتا ہو دیکھیں گے ہی نہیں!

اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کو محبت ہوتی نہیں

ان کو عشق و محبت سے واسطہ پڑتا ہے ضرور پڑتا ہے مگر ان کا علم حرام طریقے اختیار کرنے سے منع کرتا ہے

ان کا علم مجنوں بننے سے روکتا ہے

ورنہ محبت تو لکھا ہوا رزق ہے

علماء کے ہر کام میں اعتدال ہوتا ہے اور اس محبت میں بھی اعتدال ہونا لازمی ہے

مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان ہے

أَحْبِب حبيبك هونًا ما، عسى أن يكون بغيضك يومًا ما، وأبغض بغيضك هونًا ما، عسى أن يكون حبيبك يومًا ما

اپنے محبوب سے ہلکی محبت کرو ممکن ہے کسی دن وہ تمہارا ناپسند ہو جائے

اور اپنے ناپسند شخص سے ہلکی نفرت کرو ممکن ہے کسی دن تمہارا محبوب ہو جائے

یعنی محبت ہلکی کرو تاکہ ناپسند ہو جائے تو بھلانا ناممکن نہ ہو

اور نفرت کم کرو تاکہ محبت کرنی پڑ جائے تو آسان ہو!

یہی اعتدال علماء کرام کی محبتوں میں ہوتا ہے

ایک طویل فہرست ہے علماء کرام کی جو محبت میں مبتلاء ہوئے مگر نہ ذلیل ہو نہ رسوا ہوئے

کیونکہ عالم جانتا ہے کہ لکھا ہوا مقدر مل کر رہتا ہے حرام راہ اپنانے کی کیا ضرورت ہے؟

✍️ #سیدمہتاب_عالم

بچوں کی پانچ خصلتیں رزق )(

بچوں کی پانچ خصلتیں ایسی ہیں کہ بڑے اگر خدا کے ساتھ اپنے تعلق میں انھیں اپنا لیں تو وہ اولیا میں شامل ہو جائیں:۔

1: وہ رزق کے متعلق فکر مند نہیں ہوتے۔

2: بیماری میں خالق سے شکوہ کناں نہیں ہوتے۔

3: اکٹھے ہو کر کھانا کھاتے ہیں۔

4: ڈرتے ہیں تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں۔

5: آپس میں جھگڑا ہو جائے تو صلح میں جلدی کرتے ہیں!

حافظ سیوطی رحمہ اللّٰہ

(حسن المحاضرۃ، 1: 526)

رزق حلال کے واقعات

رزق حلال کے واقعات

ہر قسم کا رزق ملے گا

ایک آدمی عشاء کی نماز کے بعد بیوی کے پاس گھر آیا

 اس نے دیکھا کہ بچے سو گئے ہیں،

اس نے پوچھا: کیا بچوں نے نماز پڑھی؟

 بیوی نے کہا: میرے پاس کھانا نہیں تھا.

 میں نے ان کو تھپک تھپک کر سلا دیا انہوں نے نماز نہیں پڑھی.

 شوہر نے کہاانہیں جگا دو

 بیوی نے کہا:

 اگر آپ ان کو جگائیں تو وہ بھوک سے روئیں گے اور کھانا بھی تو نہیں ہے

 شوہر نے کہا سنو

مجھ پر فرض ھے ان کو نماز کا حکم دوں ان کی روزی میرے ذہن نہیں ہے

 انہیں جگاؤ ان کا رزق خدا تعالیٰ کے ذمے ھے

 اور خدا تعالیٰ فرماتا ھے

 “اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور اس پر صبر کرو، ہم تم سے رزق نہیں مانگتے، ہم تمہیں رزق دیتے ہیں اور اس کا آخرت تو تقویٰ والوں کی ھے(طہ: 132)

 ماں نے اندر آ کر انہیں جگایا

اور جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو دروازے پر دستک ہوئی

  ایک امیر آدمی دسترخوان اٹھائے ہوئے تھا جس پر انتہائی لذیذ کھانا تھا

 مالدار نے کہا اسے اپنے گھر والوں کے پاس لے جاؤ

 خاوند نے کہا اتنی رات گئے کھانا لائے ہو کیا وجہ ھے؟

 امیر آدمی نے کہا:

 ملک کا ایک رئیس میرے پاس آیا

میں نے اسے یہ کھانا دیا

 اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کھاتا ہمارے درمیان جھگڑا ہوگیا اس نے قسم کھائی کہ میں کچھ نہیں کھاؤں گا اور باہر چلا گیا.

 تو میں نے کھانا اٹھایا اور کہا:

جہاں بھی یہ جائے گا میں کھانا اس کے پاس لے جاؤں گا

 خدا کی قسم آپ کے دروازے پر آکر وہ غائب ہوگیا

خدا کی قسم مجھے لگتا ھے کہ وہ مجھے آپ کے پاس کیا لایا ھے

 جب بندہ دل جمعی اور توکل کے ساتھ رب العالمین کی عبادت کرتا ھے تو اللہ تعالیٰ ہر قسم کے رزق کے دروازے کھول دیتا ہے

پھر وہ رزق اولاد کی صورت ہو یا مال کی شکل میں ہو یا منصب و شہرت کی صورت میں ہو یا حسن و جمال کی شکل میں ہو

اللہ تعالیٰ ہر قسم کے دروازے کھول دیتا ھے

✍️ #سیدمہتاب_عالم

مزید پڑھیں

قرآن سے محبت کے واقعات

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment