رئیس المفسرین و الاصولیین حضرت شیـخ احـمد صـدیقی المعروف ملا جیون نوَّراللّٰہ مرقدہٗ

Rate this post

رئیس المفسرین و الاصولیین حضرت شیـخ احـمد صـدیقی المعروف ملا جیون نوَّراللّٰہ مرقدہٗ…(صاحبِ “نورالانوار و تفسیرات احمدیہ”)

                حضرت ملا احمد جیون امیٹھوی قدس سرہ، سلطان اورنگ زیب عالمگیر کے عہد کے ایک جید عالم دین، بے مثال مفسر، مایہ ناز اصولی، بلند پایہ مصنف اور صوفی بزرگ تھے۔

  اورنگ زیب عالمگیر خود آپ کے شاگردرشید اور آپ کے علم و فضل کے بڑے قدر داں تھے۔ دین و دانش کے فروغ و استحکام میں آپ کے کارنامے ناقابل فراموش ہیں۔ اصولِ فقہ کی بہترین کتاب “نورالانوار” آج بھی مدارس اسلامیہ کے نصاب میں داخل ہے۔۔

  “نام و نسبت”:-

                   آپ کا نام “احمد” ہے “ملا جیون” کے نام سے مشہور ہیں والد ماجد کا نام “ابوسعید”ہے

   آپ کا نسب شریف امیر المؤمنین خلیفۂ بلافصل حضرت سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ سے ملتا ہے۔

“ولادت”:-

                    25 شعبان المعظم 1047ھ بروز پیر کو قصبہ امیٹھی میں آپ کی ولادت ہوئی

“تحصیل علوم”:-

                 آپ نے سات سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا درسیات میں سے اکثر کتب شیخ محمد صادق ترکھی سے پڑھی ، سند فراغت ملا لطف اللہ کوڑوی جہاں آبادی سے حاصل کی اور تقریباً بائیس سال کی عمر میں علوم دینیہ سے فراغت حاصل کی

“تدریس”:-

              تحصیلِ علم کے بعد اپنے وطن امیٹھی آ کر درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ آپ کی علمی قابلیت اور تقوی کے سبب آپ کے گرد طلبہ کا ہجوم رہتا تھا۔

“تصانیف”:-

              مدینہ منورہ میں نور الانوار کی تصنیف فرمائی اس کے علاوہ تفسیرات احمدیہ بھی آپ ہی کی شاہکار تصنیف ہے۔

“دنیا سے رحلت”:-

               9 ذیقعدہ1130ھ بروز منگل وصال فرمایا

 پچاس روز کے بعد نعش مبارک دیلی سے امیٹھی لے جا کر آپ کے مدرسہ میں دفن کی گئی…

     (نوَّراللّٰہ مرقدہٗ و اعلی اللّٰہ تعالیٰ درجاتہ)

(تمہیدی کلمات مولانا طفیل مصباحی صاحب کی کتاب “ملا احمد جیون امیٹھوی حیات اور خدمات” میں موجود مفتی عبد الشکور مصباحی سابق شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ مبارکپور ہند کے دعائیہ کلمات سے لئیے گئے ہیں)

#MBR786

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment