درود تاج کے مصنف،صاحب درود تاج کون؟

Rate this post

الإمام أبو بكر بن سالم ( 909-992 ھ) ، صاحبِ درودِ تاج

فخر الوجود بحر المکارم الشيخ ابوبکر بن سالم علوی 13 جمادی الثانی 909 ھ ، تریم ( بلادِ حضرمیہ) میں پیدا ہوئے ۔

درود تاج کے مصنف کون؟

 شیخ ابوبکر بن سالم ۔۔۔۔۔۔ مؤلف درود تاج ان کا مکمل نام ابوبكر بن سالم بن عبد اللہ السقاف صاحب عينات باعلوی ہے۔

جبکہ نسب اس طرح ہے ابو بكر بن سالم بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عبد الرحمن السقاف بن محمد مولى الدويلة بن علي بن علوي الغيور بن الفقيہ المقدم محمد بن علي بن محمد صاحب مرباط بن علي خالع قسم بن علوي بن محمد بن علوي بن عبيد اللہ بن احمد المهاجر بن عيسى بن محمد النقيب بن علي العريضي بن جعفر الصادق بن محمد الباقر بن علي زين العابدين بن الحسين السبط بن علي بن ابي طالب، وعلي زوج فاطمة بنت محمد صلى اللہ عليہ وسلم

صاحب درود تاج کی ولادت

آپ ١٣ یا ٢٣ جمادی الاول ٩١٩ ھ بمطابق١٥١٣ ءحضرموت کے شہر تریم میں پیدا ہوئے۔ ساداتِ باعلویہ کے کتنے ہی ائمہ نے آپ کی ولادت سے قبل آپ کی آمد کی بشارت دی جن میں سے ایک سیدنا الامام حبیب ابوبکر العیدروس صاحب العدن بھی ہیں۔

آپ متعدد کتب کے مصنف تھے اس کے علاوہ آپ نے رسول ﷲ ﷺ پر متعدد درودِ پاک بھی لکھا اور پڑھا ہے جس میں سے مشہور ’’درودِ تاج‘‘ ہے جو تمام عالم میں بہ کثرت پڑھا جاتا ہے علاوہ ازیں آپ کا بہترین دیوان ہے جس میں عشق الٰہی میں ڈوبے ہوئے اشعار و قصائد، حقیقی محبت، علم اور حکمت سے لبریز کلام موجود ہے۔

«فتح باب المواهب وبغية مطلب الطالب»

«معارج التوحيد»

«معراج الأرواح إلى المنهج الوضاح»

«مفتاح السرائر وكنز الذخائر»

صاحب درود تاج کے مشائخ

آپ نے جن مشائخ اور علماء سے استفادہ کیا ان میں فقیہ صالح عبداللہ بن محمد باسہل باقشیر ، فقیہ عمر بن عبد اللہ بامخرمہ اور الشیخ معروف بن عبد اللہ باجمال جیسے افاضل فقہاء و محدثین شامل ہیں۔

صاحب درود تاج کا تقویٰ

آپ کثرت سے مجاہدہ و ریاضت اور عبادت کرنے والے تھے ، خود فرمایا کرتے۔

[ من لم يُجاهد في البدايات لم يصل إلى النهايات ]

جو ابتدا میں مجاھدہ نہیں کرتا وہ انتہاء (معرفت و حقیقت) کو نہیں پا سکتا۔

یہ بھی فرمایا کرتے جو مجاھدہ نہ کرے اسے مشاہدہ کہاں نصیب ہوتا ہے ، مشاہدہ کے لئے مجاھدہ ضروری ہے۔

درود تاج کی فضیلت

مزید پڑھیں

جمعہ مبارك کی رات اور جمعہ مبارك کے دن درود پاک پڑھنے کی فضیلت

صاحب درود تاج کی علمی مجالس میں شرکت

آپ بکثرت مجالسِ علمی میں شرکت فرمایا کرتے جس میں علوم و فنون کی کتب سبقا سبقا پڑھی جاتی تھیں۔

آپ نے مجالسِ علمی کے ذریعے صرف احیاء العلوم چالیس مرتبہ ختم فرمائی آج بھی بلادِ یمن کے مشائخ کے ہاں کثرت سے علمی مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں کتب حدیث ،فقہ و تصوف کی قرات کرنے کا معمول ہے۔

صاحب درود تاج کی سخاوت

آپ نہایت کریم ، جواد اور سخی تھے ، روزانہ ہزار روٹیاں فقرا میں تقسیم کرنے کو معمول بنا رکھا تھا ، ہر روز زائرین کے لئے ایک یا دو اونٹ ذبح کیا کرتے تھے ۔

خلق خدا سے انتہائی شدید محبت کا اظہار فرمایا کرتے تھے بلا کسی امتیاز کے زائرین کے لئے سہولیات کا اہتمام فرمایا کرتے ۔

آپ اکثر اوقات حضرت ھود علیہ السلام کی قبر مبارک کی زیارت کو جایا کرتے یہی وجہ ہے کہ آج بھی آپ کے سلسلہ معرفت سے تعلق رکھنے والے حضرت ھود علیہ السلام کے مزار مقدس پر حاضر ہوتے ہیں اور چار روز وہاں قیام کرتے ہیں اور مجالسِ ذکر و اذکار کا اہتمام کرتے ہیں

آپ کو کتب تراجم و اعلام میں درجہ ذیل القابات سے یاد کیا گیا ہے

مزید پڑھیں

درود تاج کے فوائد

صاحب درود تاج کے القابات

شیخ الاسلام ، قدوۃ الانام ، امام العلماء ، حلیۃ الاولیاء ، العالم الربانی ، فخر الوجود ، بحر المکارم ………

تصانیف صاحب درود تاج

آپ کی تالیفات میں مفتاح السرائر و کنز الذخائر ، معراج الارواح ، فتح باب المواھب اور معارج التوحید زیادہ معروف ہیں !

درودِ تاج کی صورت میں نبی کریم رؤوف الرحیم شفیع المذنبین سید المرسلین علیہ الصلاۃ والتسلیم کی بارگاہِ اقدس میں پیش کردہ آپ کا ھدیہ عقیدت عرب و عجم میں مقبول و معروف ہوا

الشیخ محمد بن سالم بن محسن بن سالم بن الشیخ ابوبکر بن سالم “بدر السعادة” میں لکھتے ہیں :

[ وله رضي الله عنه صلاة التاج ، تقرأ كل يوم سبع مرات ، و لقضاء الحاجة وهي هذه ]

 (بدر السعادۃ ، مؤسسة المحضار للأدوية ، صنعاء ، طبع اوّل 1404ھ، ص 45)

ہمارے ہاں زیادہ تر اہلِ علم نے بلا سند اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے درودِ تاج کو امام ابو الحسن الشاذلی کی طرف منسوب کیا جو درست نہیں ہے ، راقم سطور نے اس حوالے سے معاصر معروف شاذلی مشائخ اور یمنی محققین سے استفسار کیا۔ تمام نے تصریح کی کہ درودِ تاج امام ابوبکر بن سالم نے تحریر فرمایا ہے۔

 ڈاکٹر ابوبکر باذیب ، جنہوں نے “المجموع الفخري في مناقب الشيخ أبوبكر سالم” پر تحقیق و تقدیم اور تصحیح کا کام کیا ہے ، نے اپنے جواب میں لکھا

[ وعليكم السلام

اذا كان لديهم دليل على ذلك فليظهروه

اما نحن فكتبنا التي ترجمت للشيخ أبي بكر المتوفى سنة 992 تنسبها اليه

وهي ضمن كتاب (المجموع الفخري) الذي صدر حديثاً وفيه أكثر من 10 مؤلفات تشتمل على ترجمة الشيخ أبي بكر وأوراده وغير ذلك ۔والله أعلم ]

لہذا جو اہلِ طریقت درودِ تاج کو اپنے معمولات اور وظائف میں شامل کرتے ہیں انہیں یہ توضیح پیشِ نظر رکھنی چاہئے

عطاء المصطفیٰ مظہری

درود تاج کے مصنف

صاحب درود تاج کی وفات

سیدنا شیخ ابوبکر بن سالم نے ٢٧ ذوالحجۃ ٩٩٢ ھ بمطابق ١٥٨٤ء کو وفات پائی۔ آپ کی تدفین عینات کے قبرستان میں عمل میں آئی

ابوالحامدپیرمحمدامیرسلطان چشتی ہاشمی قادری

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment