دجال سے ڈر اور بچنے کی تدابیر ، دجال اسلامی نقطہ نظر میں

Rate this post

دجال سے ڈر اور بچنے کی تدابیر

دَجّال کی حقیقت کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ اس پر احادیث کی تعداد تقریبا 430 ہے جیسے ترمذی 2234: حضرت نوح علیہ السلام کے بعد ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے ، میں بھی تمہیں ڈراتاہوں۔

مستدرک حاکم 6620: اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی نبی نہیں بھیجا جس نے اپنی امّت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو ،میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امّت ہو لہٰذا وہ تمہارے اندر ضرور نکلے گا۔

ترمذی 2240: نبی کریمﷺ نے ایک دفعہ صبح کے وقت دجال کا تذکرہ کیا اوراُس کے تذکرے کو کبھی بلند کیا اور کبھی پست ، یہاں تک کہ ہمیں اُس کے بارے میں یہ گمان ہونے لگا کہ کہیں وہ یہیں درختوں کے جھنڈ میں نہ ہو۔

صحیح مسلم 2946: حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک کوئی فتنہ دجال کے فتنہ سے بڑا پیدا نہیں کیاگیا۔ (ابن ابی شیبہ 37471، طبرانی کبیر 22/174)

صحیح مسلم 398: جب تین باتوں کا ظہور ہوجائے گا، تو اس کے بعد ایمان لانا یا نیکی کرنا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ سُورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دَجّال کا نمودار ہونااور دابّۃ الارض یعنی زمین سے ایک عجیب الخلقت جانور کا نکلنا۔

دجال کو دیکھنا

صحیح بخاری 3239: سفرِ معراج کے دوران مَیں نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ اُن کا رنگ گندمی، قد لمبا اور بال گھنگھریالے تھے، جیسے قبیلہ شنوہ کا کوئی شخص ہو۔ پھر مَیں نے عیسیٰ ابنِ مریم علیہما السلام کو دیکھا، اُن کا قد درمیانہ، رنگ سُرخ و سفید اور سر کے بال سیدھے تھے۔ اس سفر میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی نشانیاں دکھائیں۔ مَیں نے دوزخ کے داروغہ اور دَجّال کو بھی دیکھا۔

میں نے رات خود کو نیند کی حالت میں۔۔۔ ایک آدمی کو دیکھا۔ اُلجھے ہوئے گھنگھریالے بالوں والا، اس کی دائیں آنکھ کانی تھی، جیسے انگور کا اُبھرا ہوا دانہ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو کہا گیا کہ یہ مسیح دَجّال ہے۔‘‘ (صحیح مسلم 425، صحیح بخاری، 3440، 3441، 5902، 6999، 7026، 7128)۔

صورت حال یا ہو گی؟

مسند احمد 14954: دجال ایسے زمانے میں نکلے گا جبکہ دین میں کمزوری آچکی ہوگی اور علم رخصت ہورہا ہوگا۔ علم اُٹھ چکا ہوگا ہوگا اور جہالت عام ہوگی۔

مستدرک حاکم 8612: دجال ایسے وقت میں نکلے گا جب اچھے لوگ کم رہ جائیں گے، دین میں کمزوری آجائے گی اور آپس کی عداوتیں پھیلی ہوئی ہوں گی، پس وہ ہر گھاٹ پر اُترے گا اور (مسافتیں اتنی تیز رفتاری سے قطع کرے گا کہ گویا) اس کے لئے زمین لپیٹ دی جائے گی جیسے کہ مینڈھے کی کھال لپیٹ دی جاتی ہے۔

ابو داود 4242: ایک دفعہ نبی کریم ﷺ نے فتنوں کو بیان فرمایا اور بہت تفصیل سے بیان فرمایا یہاں تک کہ ”اَحلاس “ کے فتنے کو بیان فرمایا، کسی نے پوچھا یہ اَحلاس کا فتنہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ فتنہ بھاگنے اور لڑنے کا فتنہ ہوگا پھر خوشحالی اور آسودگی کا فتنہ آئے گا، اس کا دھواں ایسے شخص کے قدموں کے نیچے سے نکلے گا جو یہ گمان کرتا ہوگا کہ وہ مجھ سے ہے حالآنکہ وہ مجھ سے نہیں، بے شک میرے اولیاء تو پرہیز گار لوگ ہیں، پھر لوگ ایک نااہل شخص پر متفق ہوجائیں گے، پھر تاریک فتنہ ہوگا، یہ فتنہ ایسا ہوگا کہ امّت کا کوئی فرد نہیں بچے گا، ہر شخص کو اس کے تھپیڑے لگیں گے، جب بھی کہا جائے گا کہ فتنہ ختم ہوگیا تووہ اور لمبا ہوجائے گا، ان فتنوں میں آدمی صبح کو مومن ہوگا اور شام کو ک اف ر ہوجائے گا۔ لوگ اسی حالت میں ہوں گے، یہاں تک کہ دو خیموں میں بٹ جائیں گے، ایک ایمان والوں کا خیمہ جس میں بالکل نفاق نہیں ہوگا دوسرا نفاق والوں کا خیمہ جس میں ایمان نہیں ہوگا۔ اُس کے بعد نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم لوگ اس طرح تقسیم ہوجاؤ تو بس دجال کا انتظار کرنا کہ آج آئے یا کَل۔ (مسند احمد :6168)

طبرانی کی حدیث میں ہے: دجال کے آنے سے پہلے دھوکے اور فریب کے چند سال آئیں گے، جن میں بارش تو بکثرت ہوگی لیکن غلّہ و اناج کم اُگے گا، ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن سمجھا جائے گا، اس زمانہ میں امور عامہ کے بارے میں کمینہ اور حقیرآدمی بات چیت کرتا ہوگا۔ (طبرانی کبیر: 18/68)

الفتن لنعیم1481: حضرت اسماء بنت یزید فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ میرے گھر میں تشریف فرماتھے، آپ ﷺ نے دجال کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: دجال کے آنے سے پہلے تین سال ہوں گے: پہلے سال آسمان اپنی تہائی بارش روک لے گا اور زمین اپنی ایک پیدا وار روک لے گی، دوسرے سال آسمان اپنی دو تہائی بارش روک لے گا اور زمین بھی اپنی دو تہائی پیداوار روک لے گی، اور تیسرے سال آسمان اپنی مکمل بارش روک لے گا اور زمین بھی اپنی پوری پیداوار روک لے گی جس سے کُھر رکھنے والے داڑھ رکھنے والے تمام مویشی مرجائیں گے۔

حدیث کے مطابق دجال کے آنے سے قبل دھوکے اور مکرو فریب کے سالوں میں یہ حالت ہوگی کہ امور عامہ کے بارے میں کمینہ اور حقیر آدمی بات چیت کرتا ہوگا۔ (طبرانی کبیر: 18/68)

مسند احمد 17900: مسلمانوں کے تین شہر ایسے ہوں گے کہ ان میں سے ایک شہر تو دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پر واقع ہوگا، دوسرا شہر حیرہ کے مقام پر ہوگا اور تیسرا شام میں، پس تین مرتبہ (ایسا واقعہ پیش آئےگا کہ ) لوگ گھبرا اُٹھیں گے پھر جلد ہی لوگوں کے برابر میں دجال نکل آئے گا ۔

صحیح مسلم 2897: قیامت سے پہلے یہ واقعہ ضرور ہوکر رہے گا کہ اہلِ روم ”اعماق یا وابق“ کے مقام پر پہنچ جائیں گے، اُن کی طرف مدینہ منوّرہ سے ایک لشکر پیش قدمی کرے گا جو اس زمانہ کے بہترین لوگ ہوں گے۔ جب دونوں لشکر آمنے سامنے صف بستہ ہوں گےتو رومی کہیں گے کہ ہمارے جو آدمی قید کیے گئے ہیں (اور اب مسلمان ہوچکے ہیں ) انہیں اور ہمیں تنہا چھوڑ دو ہم ان سے لڑائی کریں گے، مسلمان کہیں گے: نہیں و اللہ! ہم ہر گز اپنے بھائیوں کو تمہارے حوالہ نہیں کریں گے اس پر وہ ان سے لڑائی کریں گے، اب ایک تہائی مسلمان تو بھاگ کھڑے ہوں گے جن کی توبہ اللہ تعالیٰ کبھی قبول نہیں کرے گا (یعنی اُنہیں توبہ کی توفیق ہی نہیں ہوگی ) اور ایک تہائی مسلمان قتل ہوجائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل الشہداء (بہترین شہید) ہوں گے اور باقی ایک تہائی مسلمان فتح حاصل کرلیں گے(جس کے نتیجہ میں ) یہ آئندہ ہر قسم کے فتنے سے محفوظ و مامون ہوجائیں گے۔ اس کے بعد جلد ہی یہ لوگ قسطنطنیہ فتح کرلیں گے اور اپنی تل وا ریں زیتون کے درخت پر لٹکا کر ابھی یہ لوگ مالِ غنیمت تقسیم ہی کر رہے ہوں گے کہ شیطان ان میں چیخ کر یہ آواز لگائے گا کہ ”مسیح دجال تمہارے پیچھے تمہارے گھر والوں (بستیوں) میں گھس گیا ہے۔ یہ سنتے ہی یہ لشکر (دجال کے مقابلے کے لئے قسطنطنیہ) سے روانہ ہوجائے گا اور یہ خبر (اگرچہ ) غلط ہوگی لیکن جب یہ لوگ شام پہنچیں گے تو دجال واقعی نکل آئے گا۔

ابن ماجہ 4077: ایک دفعہ نبی کریم ﷺ نے دجالی فتنے کے نشیب و فراز بڑی تفصیل سے بیان فرمائے، ایک صحابیہ حضرت اُمِّ شریک بنت ابی العسکر نے سوال کیا کہ عرب اُس وقت کہاں ہوں گے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: عرب اُس زمانہ میں تھوڑے ہوں گے اور اُن میں سے اکثر ”بیت المقدس“ میں ہوں گے اور اُن کا امام ایک مردِ صالح ہوگا۔

مجمع الزوائد 12499: دجال اُس وقت تک نہیں نکلے گا جب تک کہ لوگ اس کے تذکرہ سے غافل نہ ہوجائیں، یہاں تک کہ (مساجد کے) ائمہ بھی منبرو محراب پر اس کا تذکرہ کرنا چھوڑدیں۔

مستدرک حاکم 8420: حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص فرماتے ہیں: دجال کے آنے کی کچھ متعیّن نشنیاں ہیں: جب چشمے نیچے چلے جائیں (پانی نیچے ہوجائے)، نہروں کا پانی نکال لیا جائے، گھاس پیلی ہوجائے، قبیلہ مَذحج اور ہمدان عراق سے قِنّسرین منتقل ہوجائیں، تو تم اُس وقت دجال کا انتظار کرو کہ صبح آجائے یا شام کو آجائے۔

دجال کا حُلیہ

رنگ سرخ و سفید ہوگا۔ (طبرانی اوسط 1648)

جسم بھاری بھر کم ہوگا۔ (طبرانی اوسط 1648)

قد کے اعتبار سے پستہ قد ہوگا۔ (ابوداؤد 4320)

سر کے بال بہت زیادہ ہوں گے (ترمذی 2240) گھنگریالے ہوں گے (مسلم 2934) اور الجھے ہوئے ہوں گے۔ (طبرانی اوسط 1648)

اُس کی دونوں آنکھیں خراب ہوں گی ، بائیں آنکھ سے کانا ہوگا اور دائیں آنکھ پر ایک موٹی پھلی ہوگی۔ (مسند احمد 21929، مسلم 169،مسلم 4/2247، مسلم 2937،مستدرکِ حاکم 1230) دجال کی آنکھوں کے بارے میں روایات میں مختلف الفاظ آئے ہیں، راجح یہ ہے کہ اُس کی دونوں ہی آنکھیں خراب ہوں گی۔

نوجوان ہوگا (ترمذی 2240)

عبدالعُزّیٰ بن قَطَن خزاعی کے مشابہ ہوگا۔ (ترمذی 2240، مستدرک 8614)

دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان ”ک ، ف، ر“ لکھا ہوگا جس کو ہر وہ شخص پڑھ سکے گا جو مومن ہوگا اور دجال کے عمل کو ناپسند کرتا ہوگا، خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا نہیں۔ (ترمذی 2235، مسلم 2933)

دجال کا خروج کے چار مقام

شام اور عراق کے درمیان (ترمذی 2240)

خوزوکِرمان (خراسان کی طرف کے علاقے) (مسند احمد 8453، مسند ابی یعلیٰ موصلی 5976، الفتن لنعیم بن حماد 1913)

خراسان (ترمذی 2237)

اصبہان کے مقام یہودیہ (مستدرکِ حاکم 8611)

اس طرح سمجھیں کہ دجال کا خروج سب سے پہلے شام اور عراق کے درمیان کی گھاٹی سے ہوگا مگر اُس وقت اُس کی شہرت نہ ہوگی ،اُس کے اعوان و انصار (مددگار) طیہودیہ گاؤں میں اُس کے منتظر ہوں گے، وہ وہاں جائے گااور اُن کو ساتھ لے کر پہلا پڑاؤ طخوز و کرمان میں کرے گا پھر مسلمانوں کے خلاف اس کا خروج خراسان سے ہوگا۔ (تحفۃ الالمعی:5/606)

دجال کا دعویٰ

پہلے نبوّت کا دعویٰ کرے گا اور پھر ربّ ہونے کا دعوی کرے گا۔ (الفتن لحنبل بن اسحٰق 37)

دجال کے فتنے سے حفاظت

سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیات پڑھنا۔ (ترمذی 2240، ابوداؤد 4321)

سورۃ الکہف کی آخری دس آیات پڑھنا۔ (سنن کبریٰ للنسائی 10720)

سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرنا۔ (صحیح مسلم 809)

ثابت قدم رہنا۔ (ترمذی 2240)

چھ چیزوں کے ظاہر ہونے سے پہلے اعمال میں سبقت کرو: دجال، دھواں، دابّۃ الارض، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، عام موت (یعنی قیامت) اور خاص تم میں سے کسی کا مرنا۔ (صحیح مسلم 2947، ترمذی 2201)

اُس کے چہرے پر تھوک دینا یعنی اُس کے خدائی کو تسلیم کرنے اور حمایت و تعاون سے انکار کردینا۔ (الفتن لحنبل بن اسحٰق 37)

اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا۔ (الفتن لحنبل بن اسحٰق 37)

دجال کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنا۔ (ابن ابی شیبہ 37461، صحیح مسلم 132، مسلم 2867، نسائی 5511، بخاری 832، مسلم 588)

ذکر کرنا: عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک عظیم کوشش کا ذکر کیا جو دجال کے ہاتھ میں ہو گی، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، تو عرب کہاں ہوں گے؟ اس وقت؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ، اس دن عرب بہت کم ہوں گے، میں نے کہا: اس دن مومن کے لیے کیا کھانا کافی ہوگا؟ اس نے کہا: الحمد للہ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (مسند ابویعلیٰ موصلی 4607)

دجال سے جتنا دور رہنا اور بھاگنا ممکن ہو بھاگا اور دور رہا جائے۔ (ابن ابی شیبہ 37459، ابوداؤد 4319، طبرانی کبیر:18/221، مستدرکِ حاکم 8616)

حضرت حذیفہ بن یمان فرماتے ہیں کہ جب دجال کا سنو تو اُس سے بھاگو، اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو پہاڑوں کی چوٹیوں پر نکل جانے کی تلقین کرو، وہاں نہ جاسکیں تو اُنہیں کہو کہ اپنے گھروں کا ٹاٹ بن جائیں۔ (مستدرکِ حاکم 8611)

نماز میں دجال سے بچنے کی دعا

صحیح بخاری 832: نبی کریم ﷺ نماز میں یہ دعا مانگا کرتے تھے: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْر، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا، وَفِتْنَةِ المَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ المَأْثَمِ وَالمَغْرَمِ۔ (صحیح مسلم 590، ابوداؤد 984، تہذیب الآثار مسند عمر:863، بخاری 4707، بخاری 6368،نسائی 5466) یہ سب مختلف احادیث ہیں مگر ان میں دجال سے بھی پناہ مانگی گئی ہے۔

دجال کی مدّت

ترمذی 2240: کُل چالیس دن رہے گا ، جس میں سے پہلا دن ایک سال ، دوسرا دن ایک مہینہ ، تیسرا دن ایک ہفتہ کے برابر ہو گا اور اُس کے بعد بقیہ ایام معمول کے مطابق ہوں گے۔ یعنی اِس طرح تقریباً 439 دن بن جاتے ہیں، یعنی ایک سال ، دو مہینے اور چودہ دن۔

دجال کی طاقت اور شعبدہ بازیاں

ہواؤں والے بادل کی طرح اُس کی رفتار ہوگی۔ (ترمذی 2240)

اپنے نہ ماننے والوں سے اُن کا مال و متاع چھین لے گا۔ (ترمذی 2240)

اپنے ماننے والوں کو دنیا کا ظاہری مال و متاع خوب دے گا۔ (ترمذی 2240)

ایک نوجوان کو مار کر زندہ کردے گا۔ (ترمذی 2240، بخاری 1882، ابن ابی شیبہ:37506، مسلم 2938)

دجال کے پاس آگ اور پانی ہوگا، جسے لوگ پانی سمجھیں گے وہ آگ ہوگی اور جسے آگ سمجھیں گے وہ ٹھنڈا پانی ہوگا۔ (مسلم 2934، ابن ابی شیبہ 37505)

صحیح بخاری 2934: اگر کسی کو دجال کا سامنا کرنا پڑجائے تو اُسے چاہیئے کہ پانی کے مقابلے میں دجال کی آگ کو اختیار کرے ، کیونکہ وہ آگ نہیں بلکہ ٹھنڈا پانی ہوگا۔ (صحیح مسلم 2934)

دجال کے پاس جنت اور جہنم ہوگی ، لیکن اُس کی جہنم جنت اور جنت جہنم ہوگی۔ (ابن ابی شیبہ 37506)

دجال کے پاس پانی کی نہر اور روٹیوں کا پہاڑ ہوگا۔ (ابن ابی شیبہ: 37506)

دجال کے ساتھ دو پہاڑ ہوں گے: ایک آگ اور دھوئیں کا ہوگا، دوسرا درخت اور نہروں کا ہوگا۔ (مستدرکِ حاکم:8611)

حضرت حذیفہ بن یمان فرماتے ہیں کہ دجال ہر گھاٹ پر اترے گااوراُس کے لئے زمین ایسے لپیٹی جائے گی جیسے مینڈھے کی کھال۔ (مستدرکِ حاکم 8612)

اُس کی سواری گدھا ہوگی جس کے دونوں کانوں کے درمیان چالیس گز کا فاصلہ ہوگا۔ (مستدرکِ حاکم 8612، 8613)

دجال مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست اورمُردے کو زندہ کردے گا۔(مسند احمد 20151)

دجال کے ساتھ کچھ شیاطین ہوں گے جو انسانوں کی صورت بنا کر آئیں گے۔ دجال کسی دیہاتی کے پاس آکر کہے گا: اگر میں تمہارے ماں باپ کو زندہ کردوں تو کیا تم میرے رب ہونے کی گواہی دوگے؟ وہ کہے گا: جی، دجال اپنے شیاطین کو اُس دیہاتی کے ماں باپ کی شکل میں تبدیل کر کے دیہاتی کے سامنے پیش کرے گا اور ماں باپ (کی شکل میں آنے والے شیاطین) کہہ رہے ہوں گے: اے میرے بیٹے اس کی پیروی کرلو، یہ تمہارا رب ہے۔ (الفتن لحنبل بن اسحٰق:37)

دجال کسی دیہاتی سے کہے گا کہ میں اگر تمہارے اونٹ کو زندہ کردوں تو کیا تم میرے ربّ ہونے کی گواہی دوگے؟ وہ کہے گا: ہاں، تو (دجال کے) شیاطین اُس دیہاتی کے اونٹ کی شکل اختیار کرکے آجائیں گے۔ (الفتن لحنبل بن اسحٰق: 37)

دجال آسمان کو برسنے کا حکم دے گا تو برسنے لگے گا، زمین کو اُگانے کا حکم دے گا تو زمین غلّہ اُگانے لگے گی۔ (الفتن لحنبل بن اسحٰق:37)

دجال مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست اورمُردے کو زندہ کردے گا۔(مسند احمد 20151)

کسی علاقے میں سے گزرے گا، اُس علاقے کے لوگ دجال کی تکذیب کردیں گے، پس اِس کے نتیجے میں اُن کا کوئی جانور نہیں بچے گا، سب ہلاک ہو جائیں گے، دوسرے علاقے سے گزرے گا جہاں کے لوگ اس کی تصدیق کریں گے، اس کے نتیجے میں دجال آسمان کو حکم دے گا وہ بارش برسانے لگے گا، زمین کو حکم دے گا تو زمین خوب غلّہ اُگانے لگےگی، اُن ماننے والوں کے مویشی شام کو اِس حال میں آئیں گے کہ وہ پہلے سے زیادہ بڑے اور فربہ ہوں گے، کوکھیں بھری ہوئی ہوں گی اور اُن کے تھن دودھ سے بھرے ہوں گے۔ (الفتن لحنبل بن اسحٰق:37)

دجال کا قتل

حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کا پیچھا کریں گےاور بابِ لُدّ پر دجال کو پکڑیں گے اور قتل کردیں گے۔ (ترمذی 2244، 2240)

 دجال ایسے زمانے میں نکلے گا جبکہ دین میں اضمحلال یعنی کمزوری آچکی ہوگی اور علم رخصت ہورہا ہوگا۔ اس (کے خروج کے بعد دنیا میں رہنے) کی مدّت چالیس روز ہوگی اس مدّت میں وہ گھومتا رہے گا، ان چالیس روز میں ایک دن ایک سال کے برابر، ایک دن ایک ماہ کے برابر اور ایک دن ایک ہفتہ کے برابر ہوگا، پھر اس کے باقی دن عام دنوں کی طرح ہوں گے۔ اس کا ایک گدھا ہوگا جس پر وہ سوار ہوگا، اس گدھے کے دو کانوں کے درمیان چالیس ہاتھ کا فاصلہ ہوگا، دجال لوگوں سے کہے گا: میں تمہارا رب ہوں حالآنکہ وہ کانا ہوگا اور (ظاہر ہے کہ) تمہارا رب کانا نہیں (لہٰذا تمہارے لئے یہ فیصلہ کرلینا کہ وہ تمہارا رب نہیں نہایت آسان ہے) اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) ک ۔ ف ۔ ر لکھا ہوگا، جسے ہر مومن پڑھ سکے گا خواہ وہ لکھنا جانتا ہو یا نہیں۔ وہ ہر پانی اور گھاٹ پر اترے گا، سوائے مدینہ اور مکہ کے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں شہروں کو اس پر حرام کردیا ہے اور ان کے دروازوں (راستوں) پر فرشتے کھڑے (پہرہ دے رہے )ہیں (تاکہ دجال داخل نہ ہوسکے)۔ اس کے ساتھ روٹی کے( ذخیرے) پہاڑوں کی مانند ہوں گے اور سوائے ان لوگوں کے جو اس کی پیروی کریں گے، سب لوگ مشقت میں ہوں گے، اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی جن کو میں اس سے زیادہ جانتا ہوں، ایک نہر کو وہ جنت کہے گا اور دوسری نہر کو آگ کہے گا، پس جوشخص اس نہر میں داخل کیا جائے گا جس کا نام دجال نے جنت رکھا ہوگا وہ (در حقیقت) آگ ہوگی، اور جو شخص اس نہر میں داخل کیا جائے گا جس کا نام دجال نے آگ رکھا ہوگا وہ (در حقیقت) جنت ہوگی، اور اللہ اُس کے ساتھ شیاطین بھیجے گا جو لوگوں سے باتیں کریں گے اور اس کے ساتھ ایک عظیم فتنہ یہ ہوگا کہ وہ بادلوں کو حکم دے گا تو وہ لوگوں کو بارش برساتے ہوئے نظر آئیں گے اور وہ ایک شخص کو قتل کرے گا پھر لوگوں کو نظر آئے گا کہ وہ اسے زندہ کررہا ہے، دجال کو اس شخص کے علاوہ کسی اور (کے مارنے اور زندہ کرنے ) پر قدرت نہیں دی جائے گی اور وہ کہے گا: اے لوگو!کیا اس جیسا کارنامہ ربِ عزّ و جلّ کے سوا کوئی اور کرسکتا ہے (میرا یہ کارنامہ میرے رب ہونے کی دلیل ہے)۔ پس مسلمان شام کے ”جبلِ دخان“ کی طرف بھاگ جائیں گے، اور دجال وہاں آکر ان کا محاصرہ کرلے گا، یہ محاصرہ بہت سخت ہوگا، اور ان کو سخت مشقت میں ڈال دے گا۔ پھر فجر کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے وہ مسلمانوں سے کہیں گے: اس خبیث کذاب کی طرف نکلنے سے تمہارے لئے کیا مانع ہے؟ مسلمان کہیں گے کہ یہ شخص جن ہے (لہٰذا اس کا مقابلہ مشکل ہے)۔غرض مسلمان روانہ ہوں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے ساتھ ہوں گے، پس نماز کی اقامت ہوگی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہا جائے گا یا روح اللہ! آگے بڑھئے (اور نماز پڑھائیے ) وہ فرمائیں گے: تمہارے امام کو آگے بڑھ کر نماز پڑھانی چاہیئے، غرض نماز فجر اداء کرکے یہ سب لوگ دجال کی طرف نکل کھڑے ہوں گے، پس کذاب (دجال )عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی یوں گھلنے لگے گا جیسے پانی میں نمک گھلنے لگتا ہے، پس عیسیٰ علیہ السلام اس کی طرف چلیں گے اور اسے قتل کرڈالیں گے حتی کہ درخت اور پتھر بھی پکاریں گے کہ یا روح اللہ! یہودی یہ ہے ، چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو بھی دجال کا پیرو کار ہوگا اُسے قتل کرکے چھوڑیں گے۔۔۔ (مسند احمد :14954)

دجال کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر پگھلنا

ایسے پگھلے گا جیسے سیسہ آگ میں پگھل جاتا ہے۔ (مستدرکِ حاکم 8473)

ایسے پگھلے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔ (ابن ماجہ 4077)

دجال کہاں داخل نہیں ہوسکے گا

احادیث طیبہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال چار جگہوں پر نہ آسکے گا :

(1) مکہ مکرّمہ (2) مدینہ منوّرہ (3) بیت المقدس (4) طور(ابن ابی شیبہ: 37506، مجمع الزوائد:12523، مستدرکِ حاکم:1230، بخاری:1881، ترمذی 2242، مستدرک حاکم 8631، بخاری:1879)

مسیح الدَجّال مشرق کی جانب سے نمودار ہوگا۔ وہ مدینے میں داخل ہونے کے لیے اُحد پہاڑ کے پیچھے اُترے گا۔ پھر فرشتے اس کا رُخ شام کی طرف پھیر دیں گے۔ (صحیح مسلم 3351) مدینے پر دَجّال کا رُعب بھی نہیں پڑے گا۔ اُس دَور میں مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر دو فرشتے ہوں گے (صحیح بخاری 1879) مدینے کے راستوں پر فرشتے ہیں۔ اس میں طاعون آسکتا ہے اور نہ دَجّال (صحیح بخاری 1880)

دجال کا لشکر

دجال کے ساتھ نکلنے والے لوگوں میں اکثر عورتیں ہوں گی۔ (طبرانی اوسط 4099) دجال کے ساتھ منافق مرد اور عورت ہوں گے، حتی کہ مدینہ منورہ میں بھی جو منافق ومنافقہ ہوں گےوہ دجال کے ساتھ آملیں گے۔ (الفتن لحنبل بن اسحٰق:37) دجال کا لشکر یہودیوں کاہوگا۔ (طبرانی اوسط 4099)

دجال کے ساتھ جو لوگ ہوں گے اُن کے جوتے بالوں کے ، اور چہرے ایسے ہوں گے جیسے ڈھال جس پر تہہ بتہ چمڑا چڑھایا گیا ہو۔ (ابن ابی شیبہ 37501) دجال کے ساتھ اصفہان کے ستر ہزار یہودی ہوں گے، جن پر سبز رنگ کی چادریں ہوں گی۔ (مسلم 2944)

تقدیر کے انکار کرنے والے دجال کے لشکری ہیں۔ (ابوداؤد:4692)

دجال کا ذکر کیا قرآن مجید میں ہے

اگر کوئی شیطان صفت انسان شک پیدا کریں کہ دجال کا ذکر قرآن میں کہاں ہے تو سب سے پہلے اُس سے اصولی طور پر سوال کریں کہ آپ اپنی قرآن کی تفسیر کا لنک دیں جس میں آیات کا شان نزول مستند احادیث سے ہو تاکہ آپ کون ہیں اُس کی پہچان ہو ورنہ بحث برائے بحث ہے۔ مفسرین فرماتے ہیں:

قرآن مجید میں ہے: جس دن تیرے رب کی نشانیاں ( یعنی بڑی 4 اہم نشانیاں ) آئیں گی تو کسی نفس کو اسکا ایمان لانا نفع نا دے گا۔ (سورة الانعام: 158) اس کی شرح ہے صحیح مسلم 396: تین چیزیں ہیں جب ان کا ظہور ہو جائے گا تو اس وقت کسی شخص کو، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا اپنے ایمان کے دوران میں کوئی نیکی نہ کی تھی، اس کا ایمان لانافائدہ نہ دے گا: سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال اور دابۃ الارض (زمین سے ایک عجیب الخلقت جانور کا نکلنا۔)“

سورہ نساء 159: اور نہیں کوئی اہل کتاب مگر وہ ضرور بالضرور آپ پر ایمان لائے گا اپنی موت سے پہلے۔

یہ آیت بھی واضح کر دیتی ہے کہ قرب قیامت میں حضرت عیسی علیہ السلام نبی کریم ﷺ پر ایمان لائیں گے، آپ علیہ اسلام دجال کو قتل کریں گے تو اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کا ذکر کیا لیکن دجال کا نہیں بلکہ ان کے ذکر میں ہی دجال کا ذکر موجود ہوا۔

سورہ غافر 57: یقینا آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسان کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

تفسیر معالم التنزیل میں نقل کیا ہے “یہ آیت یہودی کے بارے میں نازل ہوئی تھی کیونکہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا تھا:

إن صاحبنا المسيح إبن داود . يعنون الدجال . يخرج فى آخر الزمان فيبلغ سلطانه البر والبحر و يرد الملك إلينا ترجمہ: بے شک ہمارا صاحب مسیح ابن داود ہے ۔ یعنی انکی مراد دجال سے ہے۔ آخری زمانہ میں نکلے گا تو اسکی حکومت بر و بحر یعنی خشکی تری میں ہو گی اور وہ ملک ہمیں واپس دلا دے گا۔

اس بات پر اللہ تعالی نے فرمایا: فاستعذ بالله ترجمہ: اللہ کی پناہ مانگ ( یعنی مسیح دجال کے فتنے سے) ( تفسیر بغوی معالم التنزیل 101/10 سیوطی نے ابی عالیہ سے عبد بن حمید سے مرسلا ذکر کیا ابن ابی حاتم نے صحیح سند کیساتھ درمنشور میں نقل کیا ہے 661/5 )

بعض نے دجال کے متعلق کہا کہ قرآن نے اسکا ( یعنی دجال کا ذکر ) اسکے حقیر و ذلیل ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا جیسے حافظ ابن کثیرنے فرمایا کہ اللہ تعالی عزوجل نے اسکا یعنی دجال کا ذکر چھوڑا اور اسکا ذکر قرآن میں صرف اور صرف اسکی حقارت اور امتحان ( یعنی جس میں لوگ مبتلا ہونگے فتنہ دجال میں ) کی وجہ سے اللہ نے قرآن میں اسکا ذکر چھوڑ دیا

 جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے حالت مرض میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کویہ فرما کر چھوڑ دیا: يأتى الله والمؤمنون إلا أبا بكر ترجمہ: اللہ تعالی اور مومن ہر ایک کی خلافت کا انکار کریں گے سوائے ابو بکر کے ( طبقات کبری 173/2 ،مستدرک میں کتاب معرفت صحابہ 477/3 )

اس مقام میں دجال کی مذمت واضح اور نقص صاف ظاہر ہے جسکا دعوی وہ خود کرے گا اور وہ مقام مقام ربوبیت ہے ( یعنی رب ہونے کا اعلان استغفراللہ) اور اسی وجہ سے اللہ تعالی نے اسکا ذکر قرآن میں نہیں فرمایا یا ترک کر دیا کیونکہ وہ رب ہونے کا دعوی کرے گا ۔ اور یہ نص بیان فرمانے کا مقصد ہی یہی ہے کہ اللہ تعالی کے مومن بندے یہ جانیں کہ اس جیسی باتیں اللہ تعالی اور اسکے رسول ﷺ پر ایمان اور انکے احکامات کو تسلیم کرنے میں ہی انکی رہنمائی کرتی ہیں اور ایمان و تسلیم کو زیادہ کرتی ہیں۔ (بحوالہ النهاية و الفتن والملاحم تفسير إبن كثير 152/1)

علامہ قرطبی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: دجال پر ایمان رکھنا اور اسکا نکلنا حق ہے اور یہ ہی اہلسنت اور عام اہل فقہ و حدیث کا مذہب ہے ۔ برخلاف معتزلہ اور خارجیوں کے جنہوں نے اسکا انکار کیا۔ ( تذکرہ قرطبی 751/2 )

علامہ طحاوی رحمہ اللہ نےفرمایا: اور ہم قیامت کی علامات پر ایمان رکھتے ہیں جیسے دجال کا نکلنا اور عیسی علیہ اسلام کا آسمان سے نازل ہونا۔ (بشرح عقيدة طحاوية إبن أبى العز الحفى 5650564 )

نتیجہ: تین بڑی نشانیاں جب تک ظہور پذیر نہیں ہوتیں کسی کو بھی اسک

ا ایمان لانا فائدہ نا دے گا۔ قرآن کی تفسیر سے مفسرین نے بھی فرمایا کہ دجال نے آنا ہے اسلئے دجال پر قیامت کی علامات کی وجہ سے حق جاننا لازم ہے۔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment