داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ ابو الفضل ختلی رحمۃ اللہ علیہ

Rate this post

داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ ابو الفضل ختلی رحمۃ اللہ علیہ

🌾 حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ”کشف المحجوب” میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ

“ایک دفعہ میں اپنے پیر ومرشد حضرت شیخ ابو الفضل ختلی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ بیت الجن سے دمشق کاسفر کررہا تھا، کہ راستے میں بارش ہو گئی جس کی وجہ سے بہت زیادہ کیچڑ ہوگیا اور ہم بہت ہی مشکل سے چل رہے تھے کہ اچانک میری نظر پیر و مرشد پر پڑی، تو کیا دیکھتا ہوں کہ اُن کا زیبِ تن کیا ہوا لباس بھی بالکل خشک ہے اور پاﺅں مبارک پر بھی کیچڑ کا کوئی نشان نہیں۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی، دریافت کیا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ، ہاں جب سے میں نے پروردگارِ عالم پر توکل کرتے ہوئے ہر قسم کے وہم و شبہ کو خود سے دور کردیا ہے اور دل کو حرص و لالچ کی دیوانگی سے محفوظ کرلیا ہے، تب سے اللـــــہ رب العزت کی ذاتِ مقدس نے میرے پاﺅں کو کیچڑ سے محفوظ رکھا ہے۔“

🌾 ایک اور مقام پر حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ اپنےپیرومرشد کا تذکرہ یوں فرماتے ہیں کہ ”جب میرے پیرومرشد حضرت شیخ ابو الفضل ختلی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ہونے لگا تو اُن کا سر مبارک میری گود میں تھا اور میں سخت مضطرب اور خاصا پریشان تھا۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ نے میری حالت کو دیکھا تو فرمانے لگے کہ میں تمہیں عقیدے کا ایک مسئلہ بتاتا ہوں۔ اگر تم سمجھ گئے اور اُس پر عمل کیا تو ہر قسم کے دکھ اور رنج اور تکلیف سے بچ جاﺅ گے۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ،

” یاد رکھو کہ اللـــــہ تعالیٰ کی پاک ذات کے ہر کام میں حکمت اور مصلحت مضمر ہوتی ہے۔ وہ حالات کو اُن کے نیک و بد کا لحاظ کرکے پیدا فرماتا ہے۔

اس لیے بیٹا !

اُس کے کسی فعل پر انگشت نمائی نہ کر اور نہ ہی دل میں اس پر معترض ہو۔”

اس کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ خاموش ہوگئے اور اپنی جان اس کائنات کو سجانے اور بنانے والے حقیقی خالق و مالک کے سپرد کردی۔“

💞 الا ان اولیاء اللـــــــہ لا خوف علیهم ولا هم یحزنون

داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے (اقوال)ارشادات

Quotes Of Daata Ali Hujweri رحمۃ اللہ علیہ

فرمان داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ

حضرت سَیِّدنا داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ چونکہ

تصوُّف کے اعلیٰ مرتبے پر فائز عشقِ حقیقی سے سرشار فنافی اللہ بُزرگ تھے لہٰذا آپ کی گفتگو کے ہر پہلو میں رضائے الٰہی ،مسلمانوں کی خیرخواہی اور عقائد و اعمال کی اصلاح سےمتعلق مہکتے پھول نظر آتے ہیں آئیے۔ ان میں سے چند اقوال ملاحظہ کیجئے۔

1. کرامت ولی کی صداقت کی علامت ہوتی ہے اور اس کا ظہورجھوٹے انسان سے نہیں ہوسکتا۔

2. ایمان ومعرفت کی انتہا عشق ومحبت ہے اور محبت کی علامت بندگی (عبادت)ہے۔

3. کھانے کے آداب میں سے ہے کہ تنہا نہ کھائے

 اور جو لوگ مل کرکھائیں وہ ایک دوسرے پر ایثار کریں۔

4. مسلسل عبادت سے مقامِ کشف ومشاہدہ ملتا ہے ۔

5. غافل امراء ،کاہل (سُست)فقیر اور جاہل درویشوں کی صحبت سے پرہیز کرنا عبادت ہے ۔

6. سارے ملک کا بگاڑ ان تین گروہوں کے بگڑنے پر ہے ۔حکمران جب بے علم ہوں،علماء جب بے عمل ہوں اور فقیر جب بے توکل ہوں۔

7. رضا کی دو قسمیں ہیں :(1)خداکا بندے سے راضی ہونا ۔(2)بندے کا خدا سے راضی ہونا۔

(اقوال زرین کا انسائیکلوپیڈیا ص ۷۶)

8. دنیا سرائے فساق و فجار (گنہگاروں کا مقام)ہے اور صوفی کا سرمایہ زندگی محبتِ الٰہی ہے ۔

(کشف المحجوب مترجم،ص۱۰۴)

9. بھوک کو بڑا شرف حاصل ہے اورتمام امتوں اور مذہبوں میں پسندیدہ ہےاس لیےکہ بھوکے کا دل ذکی (ذہین) ہوتا ہے، طبیعت مہذب ہوتی ہے اور تندرستی میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر کوئی شخص کھانے کے ساتھ ساتھ پانی پینے میں بھی کمی کردے تو وہ ریاضت میں اپنے آپ کو بہت زیادہ آراستہ کر لیتا ہے ۔

(کشف المحجوب مترجم،ص۵۱۹)

گنج بخش فیضِ عالم مظہرِ نورِ خدا

          ناقصاں را پیرِ کامل کاملاں را راہنما

قبر مبارک داتا علی ہجویری

 داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کی کمالِ درویشی

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ھیں کہ ”جس قدر آدمی دنیا سے بیزار ھوتا ھے، حق تعالیٰ سے اُس کا تعلق اسی قدر مضبوط ھوتا ھے…اس کا یہ مطلب نہیں کہ گھر بار، بچےّ چھوڑ کر جنگل میں جا بیٹھے۔۔ بلکہ مطلب یہ ھے کہ دل میں دنیا کی محبّت نہ ھو…دنیا میں رھے اور پھر دنیا کا نہ بنے

یہ ھے کمالِ درویشی” ۔۔۔

دریا کے اندر رہ کر دامن تر نہ کرنا بڑی بہادری ھے، اور دریا کے نزدیک بھی نہ جائے اور کہتا پھرے کہ میرا دامن تر نہیں ھوا، یہ کون سی بڑی بات ھے

صوفیاء کرام کے نزدیک ترکِ دنیا سے یہی ترکِ محبّتِ دنیا مراد ھے۔۔۔۔ یہ ترک روحانی ھوتا ھے نہ کہ جسمانی

کمال یہ ھے کہ جسمانی طور پر خلق میں رھےاور روحانی طور پر اس سے بیزار ہو۔

مزار مبارک گنج بخش داتا علی ہجویری

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

’’ وجد کی کیفیت بیان نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ یہ وہ غم ہے جو محبت میں ملتا ہے اس لیے بیان سے باہر ہے نیز وجد طالب اور مطلوب کے درمیان ایک راز ہے جسے بیان کرنا مطلوب کی غیبت کے برابر ہے وجد عارفوں کی صفت ہے۔‘‘

کشف المحجوب

…… مزارات اولیائےکرام پر حاضری دینا

اَوْلِیاءُ اللہ کے مزارات پر حاضری دینے کی برکت سے دعائیں قبول ہوتی ہیں، مشکلات و مصائب سے نجات ملتی ہے اور خاص اس نظریے سے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کے مزارات پر جانا بھی ہمارے اسلاف کا طریقہ رہا ہے۔

چنانچہ حضرت سَیِّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بھی معمول تھا کہ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کے مزارات پر حاضری دیتے.

داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

“ایک بارمجھے ایک (دینی) مُشْکِل درپیش ہوئی،میں نے اس کے حل کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوا، اس سے قبل بھی مجھ پر ایسی ہی مُشْکِل آئی تھی تو میں نے حضرتِ شیخ بایزید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مزار شریف پرحاضری دی تھی اور میری وہ مُشْکِل آسان ہو گئی تھی۔ اس مرتبہ بھی میں نے ارادہ کیا کہ وہاں حاضری دوں۔اسی نیت سے تین ماہ تک مزار مبارک پر چلہ کشی کی، تاکہ میری مُشْکِل حل ہو جائے۔”

……… ( کشف المحجوب،باب الملامۃ ،ص۶۵)……..

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمتہ الله علیہ کے نزدیک علم کی بہترین تعریف یہ ہے ایسا وصف جو نا سمجھوں کو دانا بنا دیتا ہے علم سے بے پرواہی برتنا کفر کی مانند ہے

انسان کے علم حاصل کرنے کا مقصد الله تعالیٰ اور اس کے احکام کے بارے میں معرفت حاصل کرنا ہونا چاہیے

شیخ عبدالعزیز الدبّاغ کے مطابق جسم کی روشنی روح ہے اسی طرح دماغ کی روشنی علم ہے جب روح جسم سے نکل جاتی ہے تو جسم بے جان ہو جاتا ہے اور جب علم دماغ کا ساتھ چھوڑ دے تو اس کی حالت ایک لاش کی مانند ہو جاتی ہے

داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی معرکتہ آراء تصنیف منہاج السالکین سے اقتباس

صحفہ نمبر 54

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا

اگر کوئی مشکل پیش آئے تو والدین کی قبر پر جا کر دعا کرے تو اس کی مشکل حل ہو جاتی ہے

 

بحوالہ کتاب چشمہ فیض داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ۔ ص 308

حضرت سَیِّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ روزے کی حقیقت رُکنا ‘‘ ہے اور رُکے رہنے کی بہت سی شرائط ہیں مَثَلاً معدے کو کھانے پینے سے رَوکے رکھنا، آنکھ کو بد نگاہی سے روکے رکھنا، کان کو غیبت سننے، زَبان کو فضول اور فتنہ انگیز باتیں کرنے اور جسم کو حکم الٰہی عَزَّوَجَلَّکی مخالفت سے روکے رکھناروزہ ہے۔ جب بندہ اِن تمام شرائط کی پیروی کرے گاتب وہ حقیقتاً روزہ دار ہوگا۔ ‘‘

(کَشْفُ الْمَحْجُوب ص۳۵۴، ۳۵۳)

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللّٰہ

علیہ شام کے وقت عام مریدوں کیلئے درس و

 تدریس کا اہتمام کرتے تھے۔ لوگ آتے تھے سوال

کرتے تھے اور علم کی پیاس بجھاتے تھے۔ آپ ایک

 روز مریدوں کے درمیان بیٹھے تھے، لاہور کا ایک

 مرید آیا اور آپ سے پوچھا ”حضور اللّٰہ کی بارگاہ

میں افضل ترین عبادت کیا ہے“حضرت داتا صاحب

 نے مسکرا کر دیکھا اور فرمایا ”خیرات“

اُس شخص نے دوبارہ عرض کیا ”اور افضل ترین

خیرات کیا ہے؟“ آپ رح نے فرمایا ”معاف کر دینا“

 پھر آپ رح چند لمحے رک کر دوبارہ یوں گویا ہوئے

 ”دل سے معاف کر دینا دنیا کی سب سے بڑی خیرات

 ہے اور اللّٰہ کو یہ خیرات سب سے زیادہ پسند ہے __!!

 آپ دوسروں کو معاف کرتے چلے جاؤ، اللّٰہ آپ کے

 درجے بلند کرتا چلا جائے گا …..!!

داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ

 

حضرت سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ نے بہت خوبصوت انداز میں روشنی ڈالی ھے

🔘 اللّٰہ تعالیٰ نے دلوں کو اجسام سے سات ہزار برس

      پہلے پیدا کیا اور مقامِ قُرب میں رکھا۔

🔘 روحوں کو دلوں سے سات ہزار برس قبل پیدا کیا

      اور انس کے مقام پر رکھا۔

🔘 باطن کو روحوں سے سات ہزار برس پیشتر پیدا کیا

     اور مقامِ وصل میں رکھا۔

           ھر روز تین سو ساٹھ بار اپنے جمالِ ظاہر سے باطن پر تجلی فرمائی اور تین سو ساٹھ بار روحوں کو اپنی عنایت سے کلمہ محبت سُنایا اور تین سو ساٹھ لطائف سے دلوں کو نوازا سب نے عالم کائنات پر نظر کی تو اپنے سے بڑھ کر کسی کو نہ پایا غرور و تفاخر رونما ھوا حق تعالیٰ نے اسی واسطہ انہیں آزمائش میں ڈال دیا۔

♻ باطن کو روح میں روح کو دل میں اور دل کو

     جسم میں مقید کر دیا۔

 ♻پھر عقل کو اُن میں سمو دیا انبیاء علیہم السلام

      کے ذریعہ احکام دئیے اور اس طرح سب اپنے اپنے

      مقام کے جویا ھوئے۔

🔘نماز کا حُکم ھُوا تو جسم نماز میں مشغول ھو گیا۔

🔘دل محبت سے سرشار ھو گیا۔

🔘 روح کو قربِ حق کی تلاش ھوئی۔

🔘 اور باطن وصل حق میں تسکین کا طالب ھُوا۔

📚 کشف المحجوب

      از حضرت داتا علی ہجویری رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ‼

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment