خیرآبادی علماء کا طریقہ درس اور اس کی خصوصیات

Rate this post

خیرآبادی علما کا طریقہ درس اور اس کی خصوصیات:- یہ مضمون علامہ اسید الحق صاحب قادری بدایونی کی کتاب خیرآبادیات سے پیش کیا گیا

خیرآبادی علما اپنا ایک مخصوص طریقہ درس رکھتے تھے، جو ان کو دوسری درسگاہوں سے ممتاز کرتا ہے ، طریقہ درس کے سلسلہ میں کچھ باتیں تمام خیرآبادی علما میں مشترک ہیں ، اور کچھ خصوصیات شخصی طور پر کچھ اساتذہ نے اختیار کیں ، پھر وہی خصوصیات ان کے تلامذہ میں منتقل ہوئیں۔

خیرآبادی طریقہ درس اور اس کی خصوصیات کے بارے میں مولانا سیدنجم الحسن خیرآبادی فرماتے ہیں

اساتذہ خیرآباد کے طریق تعلیم کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ طالب علم کو کتاب کی چار دیواری میں مقید نہیں کرتے ہیں،بلکہ مسائل فن کو اس طرح ذہن نشین کرادیتے ہیں جس سے طالب علم کے اندر مجتہدانہ استعداد پیدا ہوجاتی ہے ،وہ مقلد محض بن کر نہیں رہتا بلکہ بہ نظر دقیق ہر چیز کا تجزیہ کرتا ہے،اس کے برخلاف دوسرے اساتذہ عبارت پڑھوانے کے بعد ترجمہ کراتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی مطلب بھی بیان کرتے جاتے ہیں،لیکن اساتذہ ٔ خیرآباد بقدر ضرورت عبارت کا ایک حصہ پڑھوانے کے بعد مسئلہ کی تقریر کرکے اس کے تمام پہلو طالب علم کے ذہن نشین کروادیتے ہیں،اس کے بعد ترجمہ کراتے ہیںتاکہ کتاب سے بھی مطابقت ہوجائے اور عبارت کی پے چیدگیاں دور ہوجائیں

(مولانا معین الدین اجمیری تلامذہ کا خراج عقیدت:ص ۱۵؍۱۶)

مولانا عبدالشاہد خاں شیروانی مدرسہ خیرآباد کے طریقہ تدریس کے بارے میں لکھتے ہیں:

سلسلہ خیرآباد میں عبارت پڑھوا کر خلاصہ مطلب بیان کیا جاتا ہے،اس کے بعد ترجمہ کراکے لفظی مباحث کے بجائے تحقیق مسائل پر زور دیا جاتا ہے،یہ طریقہ زیادہ نافع اور باعث تسکین خاطر طلبہ ہے

(باغی ہندوستان :ص ۱۸۶)

مولانا امجد علی اعظمی اپنے استاذ مولانا ہدایت اللہ رامپوری (تلمیذ علامہ فضل حق خیرآبادی) کے طریقہ درس کے سلسلے میں لکھتے ہیں:

ان کا مخصوص طلبہ کے ساتھ طریق تعلیم یہ تھاکہ سارا بوجھ طالب علم کے ذمہ ہوتا تھا،خود صرف اغلاط پر تنبیہ فرمایا کرتے تھے،نہ عبارت پڑھنے میں طالب علم کو کوئی مدد پہنچاتے تھے،نہ ترجمہ کرنے میں،اگر طالب علم نے عبارت غلط پڑھ دی یا ترجمہ غلط کیاتو اس عبارت کے غلط پڑھنے یا ترجمہ غلط کرنے کی وجہ دریافت کرتے کہ یہاں ایسا کیوں پڑھا؟غرض یہ کہ طالب علم کو اپنی کوشش سے عبارت کو صحیح کرنا پڑتا تھااور ترجمہ بھی عبارت کے مطابق کرنا پڑتا تھا،یہ تو معمولی باتیں ہیںجن کو بعض دیگر اساتذہ بھی برت لیا کرتے تھے،اگرچہ یہ اس زمانے میں بھی نادر تھا،مگر مولانا کی یہ خصوصیت خاصہ تھی کہ کتاب فہمی کا پورا بار طالب علم کے سر پر رکھا کرتے تھے،جس طرح کہ عموماً اساتذہ کا دستور ہے کہ تقریر کیا کرتے ہیں اور اپنی تقریر سے مضمون کو طلبہ کے ذہن نشین کیا کرتے ہیں،ان کے یہاں ایسا نہ تھابلکہ طالب علم کو مطالعہ ایسا کرنا پڑتا تھاکہ کتاب کا پورا مضمون مطالعہ ہی کے ذریعے ذہن نشین ہوتااور استاذ کے پاس سبق میں مطالعہ میں سمجھا ہوامضمون پیش کرنا پڑتا،اگر صحیح ہے فبہااور غلطی ہو تو اگر وہ اس کی استعداد سے زائد ہے تو مولانا اپنی تقریر سے طالب علم کی غلطی کا ازالہ فرماتے اور صحیح مطلب ذہن نشین کراتے اور ایسی غلطی ہوتی جو اس طالب علم کے لیے نہیں ہونی چاہیے تھی تو حضرت مولانا اس کی تقریر پر اعتراض کردیا کرتے اور یہ بتاتے کہ کتاب کے اس لفظ سے یہ مضمون کیسے حاصل ہوسکتا ہے؟ طالب علم کو اپنے سبق میں یہ بھی بتانا پڑتا کہ مصنف نے یہ کہا تھا اس پر شارح نے یہ کہااور محشی نے یہ ،یعنی مضمون کا پورا سلسلہ اور مصنف، شارح،اور محشین کے اقوال کا ماحصل بتانااور ان میں فرق دکھانا اگر کچھ فرق ہو ضروری ہوا کرتا تھا۔

(حیات صدرالشریعہ :ص۲۱)

مولانا حبیب الرحمن قادری بدایونی مدرسہ قادریہ کے فاضل اور خیرآبادی سلسلے کے ایک نامور فرزند تھے ان کے طریقہ درس کے بارے میں ان کے تلمیذ مولانا عبدالہادی قادری بدایونی لکھتے ہیں:

حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمن قادری (علیہ الرحمہ) کا طریق درس یہ ہے کہ طالب علم سے عبارت پڑھواتے ہیں (تھے) پھر مسئلہ پر تقریر فرماتے ہیں، پھر سوال کرتے ہیں کہ ’’سمجھ گئے؟‘‘ پھر ارشاد ہو تا ہے اب آہستہ آہستہ عبارت پڑھو اور غور کرو کہ جو مطالب میں نے بیان کیے ہیں وہ اس عبارت سے سمجھ میں آ رہے ہیں یا نہیں، ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ترجمہ کرنے کی عادت پڑ گئی تو عربی عبارت کبھی سمجھ میں نہیں آئے گی۔

(مقدمہ خمیازۂ حیات:ص۲۲)

مولانا فضل حق رامپوری نے بھی خیرآبادی طریقہ درس کی یہ خصوصیت بیان کی ہے فرماتے ہیں:

خیرآبادی فضلا صرف تقریر کرتے تھے اور ترجمہ کرانا اور اور تقریر کو منطبق کرانا اپنے آپ سے فروتر اور معلمین کا پیشہ سمجھتے تھے

(برصغیر کے علمائے معقولات :ص۷۸)

مولانا فضل حق رامپوری کے شاگرد مولانا عبدالسلام خاں رامپوری مولانا عبدالحق خیرآبادی کے طریق درس کے بارے میں لکھتے ہیں

مولانا کے درس کی یہ صورت تھی کہ طالب علم عبارت پڑھتا اور مولانا تقریر کرتے، تقریر کو عبارت پر چسپاں کرنا مولاناکا طریق درس نہ تھا

( مرجع سابق، ص ۶۹ )

خیرآبادی علما کے بارے میں ایک اہم بات یہ بھی ملتی ہے کہ زیرتدریس کتاب خواہ بالکل ابتدائی درجہ ہی کی کیوں نہ ہو اس کو بھی بغیر مطالعہ کے نہیں پڑھاتے تھے ، اور اس کو وہ اپنے اساتذہ خیرآباد کی ’’سنت ‘‘سمجھتے تھے ،حکیم محمود احمد برکاتی لکھتے ہیں:

مطالعہ غالباً صرف خیرآبادی سلسلہ کی مخصوص اصطلاح ہے، استاذ اور شاگرد کے لیے یہ لازمی تھا کہ وہ زیر تعلیم ومتعلم کتاب کا بقدر درس پہلے مطالعہ کرلیں ،اس کا اس قدر اہتمام والتزام کیا جاتا تھا کہ ابتدائی کتابوں تک کے درس سے پہلے مطالعہ کرلینا اساتذہ نے اپنے اوپر فرض کررکھا تھا،اور جس روز اس کا موقعہ نہیں ملتا صبح بے تکلف کہہ دیتے تھے کہ آج سبق نہیں ہوگا رات مطالعہ نہیں کرسکا۔

( مولانا معین الدین اجمیری کردار وافکار : ص ۲۸؍ ۲۹)

مولانا عبدالحق خیرآبادی کے بارے میں حکیم صاحب لکھتے ہیں

علامہ عبدالحق کو نحو کی کافیہ لابن حاجب کے درس کا ذوق تھا، اس کی شرح (تسہیل الکافیہ ) بھی لکھی تھی، مگر اس کا درس بھی مطالعہ کے بغیر نہیں دیتے تھے

( مرجع سابق : ۲۹)

مولانا برکات احمد ٹونکی کے بارے میںان کے تلمیذ مولانا مناظر احسن گیلانی لکھتے ہیں:

بغیر مطالعہ کے حضرت شرح تہذیب وقطبی جیسی آسان ابتدائی کتابیں مشکل ہی سے پڑھاتے ،فرماتے تھے کہ بغیر دیکھے ہوئے کسی کتاب کا درس جائز نہیں ہے

( حیات مولانا حکیم سید برکات احمد: ص ۵۷ )

دور آخر میں خیرآبادی درس گاہ کی آبرو مولانا عطا محمد بندیالوی کے بارے میں ان کے تلمیذ رشید مولانا عبدالحکیم شرف قادری لکھتے ہیں

بیسوں دفعہ درسی کتب پڑھانے کے باوجود ہر کتاب باقاعدہ مطالعہ کرکے پڑھاتے ہیں ،پھر یہی نہیں کہ کتاب پر ایک سرسری نگاہ ڈال لی بلکہ نظر غائر سے مطالعہ فرماتے ہیں

( تجلیات مہر انور : ص ۵۷۰ ؍ ۵۷۱ )

یہی بات میں نے دیگر اساتذہ خیرآباد کے بارے میں بھی پڑھی اور اپنے اساتذہ سے سنی ہے ۔اسی طرح اساتذہ خیرآباد اپنے طلبہ کو بھی مطالعہ کرکے آنے کی سخت تاکید کیا کرتے تھے ،اس سلسلہ میں اپنے استاذ کے بارے میں مولانا امجد علی اعظمی کا بیان گزشتہ صفحات میں گزرا ،مولانا عبدالحکیم شرف قادری اپنے استاذ مولانا عطا محمد بندیاوی کے بارے میں لکھتے ہیں:

طلبہ سے مطالعہ کی سخت پابندی کرواتے ہیں کسی طالب علم کے متعلق اگر یہ محسوس کرلیں کہ اس نے پوری طرح مطالعہ نہیں کیا ہے تو اسے اچھی خاصی سرزنش فرماتے ہیں ، اس لیے آپ کے یہاں غیر محنتی طالب علم کی بہت کم گنجائش ہوتی ہے

( مرجع سابق: ص ۵۷۱)

طلبہ کے اوپر خیرآبادی اساتذہ کی بے پناہ شفقت بھی اپنے اندر ایک الگ شان رکھتی ہے،آئندہ سطور میں ہم مدرسہ خیرآباد کے اس پہلو پر روشنی ڈالیں گے۔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment