خوشحال خان خٹک | علامہ اقبال | پاک افغان تعلقات تاریخ اور مستقبل”

Rate this post

“خوشحال خان خٹک | علامہ اقبال | پاک افغان تعلقات تاریخ اور مستقبل”

میں اپنے نوجوانوں سے اکثر اس بات کا ذکر کرتا ہوں کہ تصوف کی دنیا میں معاشرے کی اصلاح کرنے کا بہترین طریقہ self example ہے۔ اور ایک صوفی عام عوام میں گھل مل کر اسی فارمولے کے زریعے اصلاح معاشرے کا عظیم کام سر انجام دیتا ہے۔

تاریخ سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ سپاہ سالاروں کا بھی صوفیاء کرام سے ایک تعلق رہا اور بعض اولیاء کرام تو ایسے بھی رہے ہیں جنھوں نے خود غاصبوں اور ظالموں کے خلاف تلوار بھی اٹھائی۔ اور یوں اصلاح معاشرہ اور قیام ریاست کا کام ساتھ ساتھ انجام دیا گیا۔

آج اپکے ساتھ ایک انقلابی صوفی شاعر، سپہ سالار اور جنگجو کی حالات زندگی شیئر کرنا چاھتا ھوں جو پاکستان اور افغانستان میں یکساں شھرت رکھتے ہیں۔

جی جناب یہ شخصیت ھے پشتو کے عظیم شاعر ادیب عالم، حکیم اور جنگجو سردار خوشحال خان خٹک کی۔

تاریخ دانوں کے مطابق خٹک قبیلے کا پہلا مسکن افغانستان کی وادی لوگر ھے، لیکن معاشی ضروریات کے پیش نظر یہ لوگ وزیرستان، کوہ شمال کے راستے ھوتے ھوئے موجودہ علاقوں میں آباد ھوئے۔

خوشحال خان خٹک 1022 ھجری/1613 عیسوی، اکوڑہ خٹک نوشھرہ میں شھباز خان کے ہاں پیدا ھوئے

اور اسی مقام پر 1100 ھجری/1688 عیسوی میں وفات پائی۔

بچپن سے والد کے ھمراہ قبیلوی جنگوں میں لڑے لیکن شاعرانہ فطرت ھونے کی وجہ سے قومی فکر غالب رہی۔

ملک بھاکو خان یوسفزے، ایمل خان مہمند اور دریا خان آفریدی کی طرح مغلوں کے خلاف میدان جنگ میں بسر پیکار رہے۔

خوشحال خان افغانستان کے قومی شاعر ہیں۔

خوشحال خان خٹک نے اپنے دور میں مغلوں کے خلاف پشتونوں کو بیدار کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لی۔ ادھر تقریبا 250 سال بعد پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کا مفھوم سمجھایا۔

1862میں پشاور میں تعینات برطانوی فوج کے میجر راورٹی نے خوشحال خان کی 100 نظموں کا انگریزی میں ترجمہ کروایا۔

بعد میں علامہ اقبال نےانگریزی کی وہ نظمیں پڑھیں تو خوشحال خان سے بہت متاثر ھوئے اور

اپنی ایک شاگرد خدیجہ فیروز الدین کو خوشحال خان خٹک پر پی ایچ ڈی کرنے کی ھدایت کی۔ یوں پنجاب یونیورسٹی کی خدیجہ، خوشحال خان خٹک پر پی ایچ ڈی کرنے والی پہلی خاتون بنیں۔

علامہ اقبال نے خوشحال خان کو افغانیوں کا حکیم مانا اور لکھا ھے.

افغانی بادشاہ نادرشاہ نے جب تعلیمی نصاب کی تیاری کے لئے علامہ اقبال اور سید سلیمان ندوی کو افغانستان مدعو کیا تو اس موقع پر علامہ اقبال نے نادرشاہ سے کہا کہ افغانی، اخوت اور بھائی چارے کو دوام دیں، غیروں کی چالوں کو جانیں گے تو پورہ خطہ گلستان بن کر ابھرے گا۔ علامہ اقبال نے بادشاہ نادر شاہ کو پیغام دیا کہ آپ اپنے نصاب کو خوشحال خان خٹک سے مزین کر لیں۔

موجودہ دور میں بھی پاک افغان عوام کو خوشحال خان خٹک اور علامہ اقبال کے زریں افکار پر عمل پیرا ھونے کی ضرورت ھے۔

خوشحال بابا کے ایک پشتو شعر کا اردو ترجمہ کجھ یوں ہے۔

افغانیوں کی عزت کی خاطر میں نے تلوار اٹھائی

میں زمانے کا عزت دار بہادر خوشحال خٹک بن گیا ھوں.

‏علامہ اقبال نے کہا تھا

آسیا یک پیکر آب وگل است

ملت افغان در آں پیکر دل است

از کشاد او کشاد آسیا

از فساد او فساد آسیا

ترجمہ: ایشیا پانی اورمٹی کا ایک بڑا وجود ہے اورافغانستان اس کا دل ہے اس کے کھلنے سےایشیا کی ترقی اوراسکے بگاڑ سے ایشیا میں فساد ہوگا.

ہم نے 9/11 کے بعد افغانستان کو فسادیوں کے حوالے ہونے دیا، جس کا نتیجہ ہم نے 21 سال بھگتا۔ امریکہ اور بھارت نے ان فسادیوں کے ذریعے پاکستان میں قتل عام کا بازار گرم رکھا اور مجھے ڈر آج پھر ہم اپنی دو سال پرانی تاریخ کو بھی نظر انداز کر رہے ہیں۔ امریکہ بہادر اور ان کا ساتھی بھارت افغانستان میں اٹھائی حزیمت کا بدلا ہم سے لینا چاہتے ہیں اور ہمارے بد عقل لالچی حکمران ایک دفعہ پھر افغان طالبان حکومت سے اپنے حالات خراب کرنے کے درپے ہیں۔

ان سنی باتیں جواد رضا خان

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment