سوانح حیات مبارک 1 حضرت خواجہ سید محمد عبداللہ شاہ صاحب

Rate this post

سوانح حیات مبارک حضرت خواجہ سید محمد عبداللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ (اول سجادہ نشین خانقاہ فاضلیہ گڑھی شریف ٹیکسلا)خصوصی اشاعت بسلسلہ عرس مبارک 

خواجہ سید محمد عبداللہ شاہ صاحب نام گرامی

آپ کا اسم گرامی محمد عبداللہ آپ کے والد محترم کا اسم گرامی امیر اعظم شاہ رحمتہ اللہ علیہ ہے ۔

خواجہ سید محمد عبداللہ شاہ صاحب کی ولادت

حضرت خواجہ محمد عبداللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت 1253ھ بمطابق 1836ء کو میر پور وادی رش ضلع ایبٹ آباد میں ہوئی ۔

خواجہ سید محمد عبداللہ شاہ صاحب برکت دعا

منقول ہے کہ ایک بار حضرت خواجہ محمد عبداللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ صاحبہ آپ کے حقیقی چچا حضرت خواجہ محمد فاضل شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو عرض کی کہ میرے بچے ہوتے ہی مر جاتے ہیں دعا فرمائیں جس پر حضرت خواجہ محمد فاضل شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا میں اللہ تعالی جل شانہ سے دعا کرتا ہوں اس کے بعد جو بچے پیدا ہوں گے وہ ان شاءاللہ زندہ رہیں گے ۔

آپ نسباً سید ہیں آپ کے آباو اجداد وقت کے جید عالم دین تھے۔

خواجہ سید محمد عبداللہ شاہ صاحب

خواجہ سید محمد عبداللہ شاہ صاحب شجرہ نسب

کتاب آثار الصالحین میں شجرہ نسب یوں درج ہے

حضرت خواجہ سید محمد عبداللہ شاہ صاحب المعروف حضور ثانی رحمتہ اللہ علیہ

(اول سجادہ نشین خانقاہ عالیہ فاضلیہ گڑھی شریف)

بن

حضرت سید امیر محمد اعظم شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ

(برادرِ حضرت خواجہ سید محمد فاضل شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ)

بن

حضرت سید محمد انور شاہ اخوندزادہ رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید احمد شاہ اخوندزادہ رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید عبدالحکیم شاہ رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید عبدالحلیم شاہ رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید محمد دولت شاہ المعروف کالو ڈھیری بابا رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید کرم بیگ شاہ رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید شاہ بیگ رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید باقر علی المعروف باکل شاہ بابا رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید شاہ جنید رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید شاہ ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید شاہ محمد رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید شاہ عبدالعزیز مشہدی رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید عبداللہ غالب رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید عبدالغنی رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید شاہ حسین رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید آدم رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید شاہ علی شیر رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید عبدالکریم غازی رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید وجیہ الدین رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید محمد ولی الدین رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید محمد ثانی کابلی الغازی رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید رضا الدین عالم رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید صدرالدین محمد رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید احمد رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید ابوالقاسم حسین المشہدی رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید علی امیر بلبندی رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید عبدالرحمان رئیس زمان رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید اسحاق ثانی رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید ابو الحسن موسیٰ ذاہد رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید محمد عالم قطب رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید ابو القاسم عبداللہ رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید ابو عبداللہ محمد اول رحمتہ اللہ علیہ

بن

حضرت سید اسحاق رضی اللہ عنہ

بن

حضرت سید موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ

بن

حضرت سید امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ

بن

حضرت سید امام محمد باقر رضی اللہ عنہ

بن

حضرت سید امام علی زین العابدین رضی اللہ عنہ

بن

حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ ( شہیدِ کربلا )

بن

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا رضی اللہ عنہ ۔

خواجہ سید محمد عبداللہ شاہ صاحب کی تعلیم

منقول ہے کہ حضرت خواجہ محمد عبداللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے قرآن مجید ناظرہ اپنی والدہ ماجدہ سن پڑھا حفظ قرآن مجید اور صرف و نحو کی ابتدائی کتب حضرت مولانا شیخ احمد قریشی رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے فرزند حضرت مولانا قاضی محمد شفیع قریشی رحمتہ اللہ علیہ سے ان کے زمانہ کی مشہور علمی درسگاہ مدرسہ بھوئی گاڑ میں پڑھیں۔  علم الفقہ معانی وغیرہ کی کتب ڈھینڈہ نزد ہری پور میں مولانا قاضی محمد معصوم ہزاروی رحمتہ اللہ علیہ سے پڑھیں اعلی کتب کی تعلیم دہلی ہندوستان میں حاصل کیں بعد ازاں علی گڑھ میں حضرت مولانا عبدالجلیل بن ریاض الدین اسرائیلی محدث کوئلی سے حدیث کی کتب کی تحصیل کر رہے تھے کہ جنگ آزادی 1857ء شروع ہوگئی آپ کے استاد صاحب بمعہ اپنے طلباء اور عوام علاقہ نے جنگ آزادی میں حصہ لیا

آپ کے استاد محترم اپنے دیگر افراد کے اپنے غداروں کےسبب شہید ہو گئے ۔

حضرت خواجہ سید محمد عبداللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے علم طب کی تعلیم حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن صاحب ثموں سے حاصل کی کچھ عرصہ آپ کے حقیقی چچا حضرت خواجہ محمد فاضل شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے زیرنگرانی رکھا علوم ظاہری کے ساتھ ساتھ باطنی علوم کی بھی تربیت فرمائی ۔

علم التصوف کی کتب فصوص الحکم ، فتوحات مکیہ ، نقش نقد النصوص وغیرہ کتب کی تعلیم دی اور سلسلہ چشتیہ نظامیہ سلیمانیہ میں سلوک کی منازل طے کرکے خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا ۔

حضرت خواجہ محمد فاضل شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی حیات میں گڑھی افغاناں میں رہائش گاہ تعمیر کروا کر یہیں حضرت خواجہ محمد عبداللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی شادی کر دی تھی آپ کی پہلی شادی اپنی جدی برادری موضع ترلاندئی مردان میں ہوئی

آپ نے 3 شادیاں کی تھیں اور تینوں میں سے 8 صاحبزادگان پیدا ہوئے لیکن راقم کو 6 صاحبزادگان کے نام موصول ہوسکے ان کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں

1 حضرت خواجہ محمد اکرم شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ

(دوم سجادہ نشین خانقاہ فاضلیہ گڑھی شریف)

2 حضرت صاحبزادہ محمد انور شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ

3 حضرت صاحبزادہ محمد طاہر شاہ صاحب المعروف حکیم صاحب رحمتہ اللہ علیہ

4 حضرت صاحبزادہ محمد نور الحق شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ

5 حضرت صاحبزادہ محمد طیب شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ (بچپن میں وصال فرما گئے)

6 حضرت صاحبزادہ محمد فضل الحق شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ

علی گڑھ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ دہلی میں حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی چشتی رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ، قبرستان مہندیاں میں حضرت شیخ عبدالعزیز شکر بار ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ ، اور حضرت خواجہ فخرالدین دہلوی رحمتہ اللہ علیہ اور دوسرے بزرگان دین کے مزارات پر حاضر ہوئے ۔

اس کے بعد اجمیر شریف میں حضرت سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ اور مختلف شہروں سے کے بزرگان دین کے مزارات مبارکہ کی زیارت کے بعد واپس دہلی آ کر دو رمضان المبارک 1292ھ بمطابق 2 اکتوبر 1875ء کو واپس وطن تشریف لائے ۔

حضرت خواجہ محمد فاضل شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے وصال کے بعد 1292ھ بمطابق 1875ء میں آپ اپنے چچا حضرت خواجہ محمد فاضل شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے جانشین مقرر ہوئے مسند خانقاہ عالیہ فاضلیہ کے پہلے سجادہ نشین جلوہ افروز ہوئے ۔

گڑھی شریف میں حضرت خواجہ محمد فاضل شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا خوبصورت گنبد شریف تعمیر کرایا جو آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے ۔

حضرت خواجہ محمد عبداللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے حج بیت اللہ شریف کی سعادت اور روضہ نبویﷺ کی زیارت کا شرف حاصل کیا .

خواجہ سید محمد عبداللہ شاہ صاحب کے خلفاء

حضرت خواجہ محمد عبداللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے بے شمار خلفاء تھے لیکن راقم کو 13 خلفاء کے نام مل سکے جن کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں

1 حضرت مولانا فیض علی المعروف فقیر جی صاحب کشمیری رحمتہ اللہ علیہ (مندری سالیاں علاقہ غربی باغ آزاد کشمیر)

2 حضرت پیر سید محمد یعقوب شاہ سوہاوی رحمتہ اللہ علیہ (سوہاوہ شریف)

3 حضرت پیر فقیر اللہ بکوٹی رحمتہ اللہ علیہ (موضع بکوٹ شریف ضلع ایبٹ آباد)

4 حضرت حافظ فضل قادر میرپوری رحمتہ اللہ علیہ (مدفن گڑھی شریف)

5 حضرت حکیم خلیفہ امیرالدین صاحب پشاوری رحمتہ اللہ علیہ ( مدفن گڑھی شریف)

6 حضرت مولانا نور احمد رحمتہ اللہ علیہ (رجوعیہ ہزارہ)

7 حضرت قاضی حافظ عبدالرب پشاوری رحمتہ اللہ علیہ (امام مسجد مہابت خان پشاور)

8 حضرت حافظ فضل قادر چشتی رحمتہ اللہ علیہ (پشاور)

9 حضرت مولانا حافظ محمد عظیم اخوندزادہ ہزاروی رحمتہ اللہ علیہ (موضع رجوعیہ نزد حویلیاں ضلع ایبٹ آباد)

10 حضرت مولانا سید ولی شاہ گردیزی رحمتہ اللہ علیہ (چناٹ)

11 حضرت مولانا یار محمد اغضر خیل رحمتہ اللہ علیہ (لکی مروت)

12 حضرت حافظ غلام احمد ہزاروی المعروف حافظ جی صاحب رحمتہ اللہ علیہ (موضع پنجگراں نزد حویلیاں ضلع ایبٹ آباد ہزارہ)

13 حضرت جیوے ملنگ رحمتہ اللہ علیہ (پنیالہ) ۔

خواجہ سید محمد عبداللہ شاہ صاحب کی تصانیف

حضرت خواجہ محمد عبداللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے کئی تصانیف لکھی مگر صد افسوس آپ کی تمام تصانیف حوادث زمانہ کا شکار ہوگئیں اور آج ان کا کوئی ایک نسخہ بھی کتب خانہ خانقاہ فاضلیہ میں موجود نہیں صرف چند رسائل کے نام معلوم ہو سکے ہیں ۔

1 شمس الشہدا فی بیان رد الافتراء

2 الحق المبین

3 اظہار ماہوالحق وازھاق الباطل

4 القول السدید فی اثبات معنی کلمہ توحید ۔

خواجہ سید محمد عبداللہ شاہ صاحب کی وصال

آپ کے علاقہ میں طاعون کی وبا پھیلی ہوئی تھی جسکی وجہ سے آپ اس مرض میں مبتلا تھے تقریباً 18 دن اس مرض طاعون میں مبتلا رہے 25 ربیع الاول شریف 1325ھ بمطابق 7 مئی 1907ء کو صبح کے وقت آپ کا وصال ہو گیا ۔

آپ کی نماز جنازہ علاقہ پنج کٹھہ چھچھ ہزارہ میں اہل سنت کے متبحر اور بزرگ عالم حضرت مولانا قاضی امیر حمزہ قریشی رحمتہ اللہ علیہ (موضع بھوئی گاڑ) نے بعد نماز مغرب پڑھائی اور اپنے چچا حضرت خواجہ محمد فاضل شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے پہلو میں سپرد خاک کر دیے گئے ۔

حضرت خواجہ سید محمد عبداللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ تقریباً 33 سال مسند سجادگی پہ جلوہ افروز رہے ۔

حضرت خواجہ سید محمد عبداللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے وصال کے بعد حضرت خواجہ میاں حامد تونسوی رحمتہ اللہ علیہ (سوم سجادہ نشین دربار عالیہ سلیمانیہ تونسہ شریف) نے آپ کے فرزند اکبر حضرت خواجہ سید محمد اکرم شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی دستار بندی فرما کر خانقاہ فاضلیہ گڑھی شریف کے دوسرے سجادہ نشین مقرر فرمایا ۔

خواجہ سید محمد عبداللہ شاہ صاحب

حضرت خواجہ سید محمد عبداللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا تین روزہ سالانہ عرس مبارک خانقاہ فاضلیہ گڑھی شریف تحصیل ٹیکسلا ضلع راولپنڈی میں جاری ہے آج آخری دن ہے دعا میں ضرور شامل ہوں.

تحریر خلیفہ مدنی تونسوی

 *بزم چشتیہ فاضلیہ گڑھی شریف*

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment