خلافت عثمانیہ اور آل سعود

Rate this post

خلافت عثمانیہ اور آل سعود

1) اگرچہ اس میں بہت اختلاف ہے مگر عیسوی سال یعنی جنوری، فروری کو حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے شروع ہوتا ہے، البتہ اسلامی ھجری سال، محرم سے، حضورﷺ کی ہجرت کے وقت سے شروع کیا گیا۔ 11ھ کی ابتدا میں حضورﷺ کا وصال ہوتا ہے اور سیدنا ابوبکر (11 سے 13ھ)، سیدنا عمر فاروق (13سے 23ھ) ، سیدنا عثمان (23 سے 35ھ)،سیدناعلی مرتضی (35ھ سے 40ھ) (632 سے 662ء یعنی 30 سال) کا دور ”خلافت راشدہ“ کا دور کہلاتا ہے جس میں سیدنا حسن کی 6 ماہ کی خلافت بھی شامل ہے۔

تجزیاتی رپورٹ: سیدنا ابوبکر نے 27 ماہ میں دارالخلافت مدینہ میں بیٹھ کر رومیوں، منکرین زکوۃ اور منکرین ختم نبوت کو ہرایا۔ سیدنا عمر فارق نے اپنے 10 سالہ دور میں قیصر و کسری کو فتح کیا اورسبائی و رافضی سیکرٹ ایجنٹ ابو لولو فیروزنے سیدنا عمرکو شہید کر کے اس دور کا خاتمہ کیا۔ سیدنا عثمان کا 6 سالہ بہترین دور اور 6 چھ سالہ سبائی و رافضی باغی ایجنٹوں کے پراپیگنڈے کا دور جو سیدنا عثمان کی باغیوں کے ہاتھوں شہادت سے ختم ہوا۔ سیدنا علی نے مدینہ پاک سے نکل کر کوفہ کو دارالحکومت بنایا، یہ دور جمل و صفین مسلمانوں کے درمیان غلط فہمی سے لڑنے کا دوراور نہروان کے خارجیوں کے ساتھ لڑنے کا دور، یہ دور خارجیوں کے ہاتھوں سیدنا علی کی شہادت سے ختم ہوا۔

سبق: خلافت راشدہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ اپنوں کی غلط فہمیاں اور غیروں کی باغیانہ کاروائی کو سامنے رکھتے ہوئے ہر عام و خاص (صدر، وزیر اعظم، اسٹیبلیشمنٹ، جج، بیوروکریسی، پارلیمنٹ وغیرہ) کواپنے مُلک اوردین اسلام کی حفاظت کے لئے پلان کرنا چاہئے ورنہ انٹرنیشنل ایجنسیاں اتنی طاقت رکھتی ہیں کہ تمہارے ہی مُلک میں تمہاری ہی عوام کو تہمارے خلاف کرکےتمہیں مروا سکتی ہیں۔

2۔ بنو امیہ دور (خلافت یا بادشاہت

 1۔ سیدنا حسن نے حضرت معاویہ سے صُلح اور ان کی بیعت کر کے خلافت حضرت امیر معاویہ کے سپرد کر دی اور اس خلافت کو ملوکیت کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ یہ یار دہے کہ سیدنا عمار کے قاتل باغی نہروان والے تھے اسلئے مولا علی، سیدنا حسن و حسین نے کبھی بھی سیدنا معاویہ کو باغی نہیں کہا۔ سیدنا معاویہ کی خلافت 41 ھ سے 61ھ (661 ء سے680 ء) 20 سال تک رہی۔ اُس کے بعد اموی خلفاء کی حکومت کی ترتیب:

2۔یزید بن معاویہ نے تین سال 61 ھ سے 64 ھ

3۔ معاویہ بن یزید یعنی یزیدکے بیٹے نے چھ ماہ حکومت کی ہو گی جو 64ھ میں ہی ختم ہو گی۔

4۔ مروان بن حکم نے ایک سال 64 ھ سے 65ھ

5۔ عبدالملک بن مروان نے 21 سال 65 ھ سے 86 ھ

6۔ ولید بن عبدالملک نے 10سال86 ھ سے 96 ھ

7۔ سلیمان بن عبدالملک نے تین سال 96 ھ سے 99 ھ

8۔ حضرت عمر بن عبدالزیز رحمتہ اللہ علیہ نے تین سال 99 ھ سے 101ھ

9۔ یزید بن عبدالملک نے چار سال 101ھ سے 105ھ

10۔ ہشام بن عبدالملک نے بیس سال 105ھ سے 125ھ

11۔ ولید بن یزید نے ایک سال 125ھ سے126ھ

12۔ ولید بن عبدالملک نے چند ماہ 126ھ تک

13۔ ابراہیم بن الولید نے ایک سال 126ھ سے127ھ

14۔ مروان بن محمد نے پانچ سال127ھ سے 132ھ

تجزیاتی رپورٹ

1۔ اموی دور 100سال (41ھ سے 132ھ) پر محیط ہے جس کا دارالحکومت شام تھا، اس دور میں اہلبیت شہید بھی ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر بھی خلیفہ بنے اوراموی گورنر حجاج ابن یوسف کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

سوال: اس دور میں اگر کوئی قرآن و سنت پر نہیں تھا تو کونسا دین مسلم سپہ سالار یعنی قتیبہ بن مسلم، محمد بن قاسم، موسی بن نصیر، طارق بن زیاد نے ماوراء النہر، بخارا، سمرقند، روس، چین، ہندوستان، افریقہ، اسپین وغیرہ تک پہنچا دیا۔ ان سپہ سالاروں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اللہ کریم کی مرضی مگر دین اسلام نہ تو یزید کا ہے اور نہ ہی سیدنا حسین کا ہے بلکہ دین اسلام قرآن اور حضور ﷺ کے فرمان کا نام ہے۔

سبق: بنو امیہ کے خلاف پراپیگنڈہ سبائی و ایرانی و رافضی ایجنٹوں کا کام ہے حالانکہ سب لڑائیوں کے باوجود اسلام پھیلتا رہا۔ اسلئے اس وقت بھی سب مسائل کے باوجود اسلام کو پھیلانا چاہئے۔

3۔ عباسی دور

132ھ میں سلطنت عباسیہ (حضورﷺ کے چچا کی نسل جو بنو امیہ کے خلاف کام کرتی رہی) کا دور ہے جس میں ابوالعباس السفاح کی مدد ایرانی ابو مسلم خراسانی نے کی، جس کو بعد میں ابوالعباس کے بھائی ابوجعفر المنصور نے قتل کروا دیا۔ بنو امیہ کا دارالخلافہ دمشق تھا اور دمشق کوفتح کرنے اور فتح کر کے لاکھوں مسلمان شہید کئے گئے، یہاں تک کہا جاتا ہے کہ ابو العباس السفاح نے سیدنا امیر معاویہ سمیت تمام اموی حکمرانوں کی قبریں کھود کر ان کی لاشوں کی بے حُرمتی کی بلکہ جلایا تک گیا۔ خلافت عباسیہ کے مندرجہ ذیل خلفاء کا نام، عرصہ ھجری اور عیسوی سال کے مطابق ہے:

1۔ ابوالعباس السفاح (132 – 136ھ) (750 – 754ء) 2۔ ابو جعفر المنصور (136 – 158ھ) (754 – 775ء) 3۔ محمد المہدی (158 – 169ھ) (775 – 785ء) 4۔ موسیٰ الہادی (169 – 170ھ) (785- 786) 5۔ ہارون الرشید (170- 193ھ) (786 – 809ء) 6۔ امین الرشید (193 – 198ھ) (809- 813ء) 7۔ مامون الرشید (198- 218ھ) (813 – 833ء) 8۔ المعتصم باللہ (218 – 227ھ) (833 – 842ء) 9۔ الواثق باللہ (227 – 232ھ) (842 – 847ء) 10۔ المتوکل علی اللہ (232 – 247ھ) (847 – 861ء) 11۔ المنتصر باللہ (247 – 248ھ) (861 – 862ء) 12۔ المستعین باللہ (248 – 252ھ) (862 – 866ء) 13۔ المعتز باللہ (252 – 255ھ) 866 – 869ء) 14۔ المہتدی باللہ (255 – 256ھ) (869 – 870ء) 15۔ المعتمد باللہ (256 – 279ھ) (870 – 892ء) 16۔ المعتضد باللہ (279 – 289ھ) (892 – 902ء) 17۔ المکتفی باللہ (289 – 295ھ) (902 – 908ء) 18۔ المقتدر باللہ (295 – 320ھ) (908 – 932ء) 19۔ القاہر باللہ (320 – 322ھ) (932 – 934ء) 20۔ راضی باللہ (322 – 329ھ) (934 – 940ء) 21۔ المتقی باللہ (329 – 333ھ) (940 – 944ء) 22۔ المستکفی باللہ (333 – 334ھ) (944 – 946ء) 23۔ المطیع باللہ (334 – 363ھ) (946 – 974ء) 24۔ الطائع باللہ (363 – 381ھ) (974 – 991ء) 25۔ القادر باللہ (381 – 422ھ) (991 – 1031ء) 26۔ القائم باللہ (422 – 467ھ) (1031 – 1075ء) 27۔ المقتدی بامر اللہ (467 – 487ھ) (1075 – 1094ء) 28۔ المستظہر باللہ (487 – 512ھ) (1094 – 1118ء) 29۔ المسترشد باللہ (512 – 529ھ) (1118 – 1135ء) 30۔ راشد باللہ (529 – 530ھ) (1135 – 1136ء) 31۔ المقتفی لامر اللہ (530 – 555ھ) (1136 – 1160ء) 32۔ مستنجد باللہ (555 – 566ھ) (1160 – 1170ء) 33۔ المستضی باللہ (566 – 575ھ) (1170 – 1180ء) 34۔ الناصر لدین اللہ (575 – 622ھ) (1180 – 1225ء) 35۔ الظاہر بامر اللہ (622 – 623ھ) (1225 – 1226ء) 36۔ المستنصر باللہ (623 – 640ھ) (1226 – 1242ء) 37۔ مستعصم باللہ (640 – 656ھ) (1242 – 1258ء)

تجزیاتی رپورٹ

1۔ بنو عباس نے دریائے دجلہ کے کنارے ”بغداد“ شہر کو آباد کر کے اسے اپنا دارالحکومت بنایا۔ بنو عباس کی حکومت حضرات ابوبکر، عمر،عثمان و علی رضی اللہ عنھم کی طرح خلافت راشدہ نہیں تھی بلکہ اموی حکومت کی طرح تھی جس میں لائق و نالائق حکمران آتے رہے۔ خلافت عباسیہ صدیوں (132 – 656ھ) (750 – 1258ء) تک پھیلی خلافت ہے جسے ہلاکو خاں منگول نے بغداد اُجاڑ کر ختم کیا۔

2۔ حضرت نعمان بن ثابت (امام ابو حنیفہ 80 – 150ھ)، حضرت مالک بن انس (امام مالک 93 – 179ھ)، حضرت محمد بن ادریس (امام شافعی 150 – 204ھ)، حضرت احمد بن محمد حنبل (امام حنبل 165 – 241ھ) رحمتہ اللہ علیھم بنو عباس کے دور میں ظلم و ستم کا شکار ہوئے۔ یہ چاروں امام جعفر صادق کے شاگرد تھے یا نہیں مگر امام جعفر صادق سمیت ان چاروں کا عقیدہ چودہ معصوم اور بارہ امام کا نہیں تھا۔

3۔ بنو امیہ دور میں کوئی احادیث نہیں گھڑی گئیں کیونکہ یہ سب محدثین امام محمد بن اسماعیل بخاری (256 – 194ھ)، امام مسلم بن حجاج (261 – 204ھ)، امام ابو داؤد سیلمان بن الاشعث (275 – 202ھ)، امام محمد بن عیسی (279 – 229ھ) جامع ترمذی، امام محمد بن یزید (273 -209ھ) ابن ماجہ، امام احمد بن شعیب (303 – 215ھ) نسائی بنو عباس دور کے ہیں۔ دوسرا جب احادیث بنو امیہ کے دور تک نہیں تھیں تو سوال ہے کہ اہلتشیع کی نہج البلاغہ کس دور کی ہے؟؟

سبق: اہلتشیع کی احادیث، علماء، کتابیں، نہج البلاغہ، فقہ جعفر یہ سب بے بنیاد ہیں۔ تاریخی حوالہ جات پر عقائد نہیں بنتے، اہلتشلیع سازشی سبائی گروپ ہے جو بنو امیہ کی آڑ میں اسلام کو نقصان پہنچاتا ہے۔

 4۔ خلافت عثمانیہ

 شاہ بیبرس نے اپنے دور میں ہلاکو خان کو گیدڑ کُوٹ لگا کر بھگا دیا اور ایک عباسی خلیفہ کی بیعت بھی کر لی لیکن اصل اختیارشاہ بیبرس یعنی مملوکوں کے پاس تھے۔ شاہ بیبرس نے ہی چار ائمہ کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی)کے چار قاضی مقرر کئے۔ بنو امیہ اور بنو عباس کے بعد تیسری بڑی سلطنت جسے خلافت کہا جاتا ہے، اس سلطنت نے تین براعظم پر حکومت کی وہ ارطغرل کے بیٹے عثمان غازی کی تھی۔خلافت عثمانیہ کے یہ خلیفہ رہے ہیں:

1- سلطان عثمان غازی ولد ارطغرل غازی (699 – 723ھ) (1299 – 1323ء)

2- سلطان اورخان غازی ولد سلطان عثمان غازی (723 – 770ھ) (1323 – 1369ء)

3- سلطان مراد اول ولد سلطان اورخان اول (770 – 791ھ) (1369 – 1389ء)

4- سلطان بایزید اول(یلدرم) ولد سلطان مراد اول(791 – 804ھ) (1389 – 1402ء)

نوٹ: 1402ء میں جنگِ انقرہ ہوئی جو امیر تیمور اور بایزید یلدرم کے درمیان لڑی گئی، سلطان بایزید کو شکست ہوئی اور یہ گرفتار ہو کر قید ہوئے، بعد میں قید کے دوران ہی فوت ہوئے، یوں سلطنت ایک بار ختم ہو گئی اور کئی سال 1413 تک با یزید کے بیٹوں میں خانہ جنگی چلتی رہی، پھر سب سے چھوٹے بیٹے محمد چلپی نے سلطنت پر مکمل قبضہ کیا یوں یہ دوبارہ شروع ہوئی-

5- سلطان محمد اول ولدسلطان بایزید اول (816 – 824ھ) ( 1413 – 1421ء)

6- سلطان مراد دوم ولد سلطان محمد اول (824 – 848 / 850 – 854) (1421 – 1444ء دوسرا دورِ: 1446 – 1451ء)

7- سلطان محمد فاتح ولد سلطان مراد دوم (854 – 886ھ) (1451 – 1481ء)

8- سلطان بایزید دوم، ولد سلطان محمد دوم(886 – 918ھ) (1481 – 1512ء)

9- سلطان سلیم اول ولد سلطان بایزید دوم (918 – 926ھ) (1512 – 1520ء)

10- سلطان سلیمان اول (القانونی) ولد سلطان سلیم اول(926 – 974) (1520 – 1566ء)

11- سلطان سلیم دوم ولد سلطان سلیمان (974 – 982ھ) (1566- 1574ء)

12- سلطان مراد سوم ولد: سلطان سلیم دوم(982 – 1003ھ) (1574 – 1595ء)

13- سلطان محمد سوم ولد سلطان مراد سوم (1003 – 1012ھ) (1595 – 1603ء)

14- سلطان احمد اول ولد سلطان محمد سوم (1012 – 1026ھ) (1603 – 1617ء)

15- سلطان مصطفی اول ولد سلطان محمد سوم (1026 -1027 / 1031 – 1032ھ) (1617 – 1618ء دوسرا دورِ: 1622 – 1623ء)

16- سلطان عثمان دوم ولد سلطان احمد اول (1027 – 1031ھ) (1618 – 1622ء)

17- سلطان مراد چہارم ولد سلطان احمد اول (1032 – 1049ھ) (1623 – 1640ء)

18- سلطان ابراہیم اول ولد سلطان احمد اول(1049 – 1058ھ) (1640 – 1648ء)

19- سلطان محمد رابع ولد سلطان ابراہیم اول (1058 – 1099ھ) (1648 – 1687ء)

20- سلطان سلیمان دوم ولد سلطان ابراہیم اول (1099 – 1102ھ) (1687 – 1691ء)

21- سلطان احمد دوم ولد سلطان ابراہیم اول (1102 – 1106ھ) (1691- 1695ء)

22- سلطان مصطفی دوم ولد سلطان محمد چہارم(1106 – 1115ھ) (1695 – 1703ء)

23- سلطان احمد سوم ولد سلطان محمد چہارم (115 – 1143ھ) (1703 – 1730ء)

24- سلطان محمود اول ولد سلطان مصطفی دوم (1143 – 1168ھ) (1730 – 1754ء)

25- سلطان عثمان سوم ولد سلطان مصطفی دوم (1168 – 1171ھ) (1754 – 1757ء)

26- سلطان مصطفی سوم ولد سلطان احمد سوم (1171 – 1188ھ) (1757 – 1774ء)

27- سلطان عبدالحمید اول ولد سلطان احمد سوم (1188 – 1203ھ) (1774 – 1789ء)

28- سلطان سلیم سوم ولدسلطان مصطفی سوم (1203 – 1222ھ) (1789 – 1807ء)

29- سلطان مصطفی چہارم ولد سلطان عبدالحمید اول (1222 – 1223ھ) (1807 – 1808ء)

30- سلطان محمود دوم ولد سلطان عبدالحمید اول (1223 – 1255ھ) (1808- 1839ء)

31- سلطان عبدالمجید اول ولد سلطان محمود دوم (1255 – 1277ھ) (1839 – 1861ء)

32- سلطان عبدالعزیز ولد سلطان محمود دوم (1277 – 1293ھ) (1861 – 1876ء)

33- سلطان مراد پنجم ولد سلطان عبدالمجید اول (93 دن)

34- سلطان عبدالحمید دوم ولد سلطان عبدالمجید اول (1293 – 1327ھ) (1876 – 1909ء)

35- سلطان محمد پنجم ولد سلطان عبدالمجید اول (1327 – 1336ھ) (1909 – 1918ء)

36- سلطان محمد وحید الدین ششم ولد سلطان عبدالمجید اول (3 جولائی تا 1 نومبر 1922ء)

تجزیاتی رپورٹ

1۔ترک مسلمان خلفاء علماء اور صوفیوں کو عزت دینے والے تھے۔ حکومت وقت نے چار ائمہ کرام کی سفارشات پر تقلید کا قانون منظور کر کے چار مصلے خانہ کعبہ میں رکھے کیونکہ چاروں قرآن و سنت کے مطابق تھے۔ اس دور میں کوئی بھی عالم شہید ہوتا نظر نہیں آیا بلکہ مفسر و محدثین نے خوب کام کیا۔

2۔ 100سال کے لئے ترکی سیمت تمام مسلمانوں کے لئے ”خلافت“ لفظ حرام اور سیکولر لازم کر دیا۔ ترکی کے خلیفہ کی جائیداد قرق اور ترکی سے بھی جلا وطن، ترکی اپنے ملک سے تیل گیس نہیں نکال سکتا اور اپنے دریا و سمندر سے یورپ کے جہاز گذرنے پر 100سال تک راہداری وصول نہیں کر سکا۔

3۔ خلافت عثمانیہ کو ملک حجاز سے ختم کرنے میں بھی شریف مکہ اورآل سعود کے ساتھ آل وہاب نے بھی کام کیا۔ لارنس آف عریبیا کا نام بھی جاسوس کے طور پر آتا ہے، یورپ سے آل سعود کے معاہدے ہوئے، عربوں کی نسلی عصبیت کو اُبھار کر مسلمانوں سے مسلمانوں کی لڑائی کروائی گئی۔ برصغیر میں بھی خلافت عثمانیہ کے خلافت تحریک چلائی گئی تھی مگر قدرت کو منظور نہیں تھا، اسلئے کامیاب نہیں ہو سکی۔

5۔ آل سعود (سعودی عرب)

1۔ آل سعود کا تعلق 18ویں صدی میں جزیرہ نما عرب کے ایک مقامی شیخ سعود بن محمد سے ملتا ہے اور سعود کے نام پرسعودی عرب ہے۔ شیخ سعود کے بیٹے محمد نے 1744ء میں محمد بن عبدالوہاب سے اتحاد کر لیا (محمدبن عبدالوہاب کیلئے سلطنت عثمانیہ کے اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) مزار، پیری مریدی، دم درود، تعویذ دھاگے، تقلید، استمداد، استغاثہ، توسل کی وجہ سے بدعتی و مُشرک تھے)۔اسلئے آل سعود اور آل وہاب کا معاہدہ ہوا کہ بادشاہت آل سعود کی ہو گی اور وزارت مذہبی امور پر آل وہاب کی اجارہ داری ہو گی، اسلئے پاکستان میں بھی اہلسنت کو بدعتی و مشرک کہنے والے وہابی ہیں۔

2۔ سعود بن محمد کی نسل کو 1818ء میں عثمانی افواج (ترکی) کے ہاتھوں شکست ہوئی لیکن چھ برس بعد ہی سعود خاندان نے ریاض (نجد) پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ 1902میں عبدالعزیز بن سعود نے ریاض سے اپنے حریف راشدی قبیلے کو بے دخل کر دیا۔ اس کے بعد مختلف قبیلوں سے لڑائی کے بعد بہت سے علاقوں کو متحد کر لیا۔ 1913میں خلیجی ساحل کا کنٹرول حاصل کر لیا۔

3۔ دوسری جانب 1918ء میں سلطنت عثمانیہ کو سعودی عرب میں شکست ہوئی اور سلطنت عثمانیہ کے خلاف لڑنے والے حسین بن علی آخری شریف مکہ قرار پائے۔ شریف مکہ کا منصب فاطمین مصر کے دور میں 967ء میں قائم کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری مکہ اور مدینہ میں عازمین حج و عمرہ کا انتظام کرنا تھا۔

4۔ حسین بن علی کے شریف مکہ بننے کے بعد 1924ء میں عبدالعزیز بن سعود نے اپنے حملے تیز کر دئے اور آخر کار 1925ء میں حسین بن علی کو بھی اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا۔ عبدالعزیز بن سعود نے 1932ء میں آج کے سعودی عرب کی بنیاد رکھتے ہوئے خود کو بادشاہ قرار دیا جس کی وجہ یہ بھی تھی کہ خلافت کا لفظ مسلمانوں پر حرام کر دیا گیا تھا۔ اب تک کے بادشاہوں کی تفصیل یہ ہے:

۱) نومبر 1953 کو سعودی ریاست کے بانی عبدالعزیز کا انتقال ہو۔

۲) شاہ سعود حکمران بنے مگر 2 نومبر 1964 کوکرپشن اور نااہلی کے الزامات کے تحت معزول۔

۳) شاہ فیصل بادشاہ بنے مگر مارچ 1975 میں ان کے ایک بھتیجے نے قتل کر دیا۔

۴) شاہ فیصل کے سوتیلے بھائی شاہ خالد 1982 میں اپنی وفات تک حکمران رہے۔

۵) شاہ فہد حکمران بنے اور اپنی عمر سے دو سال چھوٹے شاہ عبداللہ کو ولی عہد مقرر کر دیا۔ 1995 میں شاہ فہد پر فالج کا حملہ،عملی طور پر شاہ عبداللہ نے کام سنبھالا اور آئینی طور پر 2005 میں شاہ فہد کے انتقال پر حکمران بنے اور 23 جنوری 2015 کو انتقال کیا۔

۶) اب ان کے سوتیلے بھائی سلمان بن عبدالعزیز حکمران اور محمد بن سلمان ولی عہد بن چکے ہیں۔

تجزیاتی رپورٹ

1۔سلطنت عثمانیہ کے احتتام پر یورپ نے تین بر اعظم کے ممالک کی بندر بانٹ کر کے اپنی پسند کے حکمرانوں کو مختلف ممالک کا حکمران بنایا۔ خلافت کا نام ختم ہوا، یہود و نصاری اکٹھے ہوئے، ترکی اور سعودی مسلمان کا آپس میں اختلاف قرآن و سنت پر نہیں ہوا بلکہ اقتدار کی وجہ سے ہوا۔ آل وہاب نے اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کو بدعتی و مُشرک کہا اور اب ساری دنیا کے اہلسنت علماء کرام اپنے اپنے ممالک میں بے یارو مددگارہیں اور مکہ مکرمہ میں بھی اکٹھے میٹنگ نہیں کر سکتے۔

2۔ سعودی حکومت بھی گدی نشین پیروں کی طرح باپ کی جگہ بیٹا یا بھائی لیتا ہے۔ سعودی عرب میں مسلمان کمائی کرنے جاتے ہیں لیکن سعودی عرب میں کوئی اپنا مکان، دُکان یا جائیداد نہیں بنا سکتا۔ ہر مسلمان کفیل کے انڈر کام کرتا ہے یعنی کفیل کو ہر سال اپنی تنخواہ سے پالتا ہے اور کفیل تنگ کرے تو دوسرا کفیل کر لیا جاتا ہے یعنی غلامی کی ایک نئی قسم ہے۔

3۔ آل وہاب نے بدعت و شرک ختم نہیں کیا بلکہ اجماع امت کا دور ختم کیا۔وہابی علماء نے خلافت عثمانیہ، چار مصلوں کے خلاف ایسا پراپیگنڈہ کیا کہ تاریخ مٹا دی گئی کہ عام و خاص یہ بتانے سے قاصر ہے کہ کس شاندار طریقے سے چار ائمہ کرام خانہ کعبہ میں امامت کرواتے، جمعہ کیسے ہوتا، حج کا خطبہ کون دیتا تھا۔ بس اتنا کہہ دیا کہ بدعت و شرک تھا مگر یہ نہیں بتایا کہ بدعت و شرک کیا تھا۔

4۔ سعودی عرب میں سکون اسلئے ہے کہ کسی کو بھی مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے حتی کہ مسجد حرام اور مسجد نبوی کے خطیب کے ساتھ ساتھ پورے سعودی عرب کے خطیب وہی خطبہ پڑھیں گے جو حکومت سے تیار ملے گا۔ حرمین شریفین کا انتظام بہت شاندار ہے اور خوبصورتی بھی قابل دید ہے، البتہ یہ ایک کمائی کا ذریعہ بھی ہے کیونکہ ہر مسلمان نے اپنے مذہبی فرائض کے لئے حج و عمرہ کرنے جانا ہوتا ہے۔

5۔ سعودی عرب میں خلافت نہیں بادشاہت ہے اور سعودی عرب صرف اپنی قوم کو دنیاوی طور پر مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں اور کسی بھی مسلمان ملک کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ عربوں کا اپنا بلاک ہے جو یورپ کی مدد سے کام کرتا ہے۔ اسلئے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بعض اوقات یورپ نے مدد کرنی ہو تو سعودی عرب کے ذریعے مسلمان ممالک کی کرواتا ہے تاکہ سیکریسی رہے۔

6۔ سلطنت عثمانیہ کے دور میں قرآن و سنت کے مطابق چار فقہی انداز (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کے مقلد خانہ کعبہ میں اپنے اپنے امام کے پیچھے بغیر اضطراب کے نماز ادا کرتے۔ سعودی عرب کے امام کعبہ کی امامت میں نماز ادا کرنے والی پاکستانی دینی جماعتیں (سلفی، توحیدی، محمدی، اہلحدیث، غیر مقلد، حنفی دیوبندی) سعودی عرب سے”امام کعبہ“ کے عقائد اور مسائل میں کس کے ”مقلد“ ہیں، اس پر ایک فتوی حاصل کریں اور پاکستان میں بھی ایک ہو کر ”ایک فقہی مصلہ“ قائم کریں جیسا خانہ کعبہ میں ہے تاکہ مسلمان ایک نظر آئیں ورنہ چار مصلوں کی بجائے خود کتنے مصلے بنائے بیٹھے ہیں۔

7۔بریلوی جماعتوں کے علماء اور پیر حضرات (جو رافضی نہیں ہیں) چار مصلے اجماع امت کے نعرے پر اکٹھے ہو کر اپنی پہچان فتاوی رضویہ کے ”عقائد اہلسنت“ سے کروائیں ورنہ رافضی تو خارجی سے بھی بدتر ہیں جو کہ کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں۔

8۔ بنو عباس نے بنو امیہ کا نام و نشان مٹا دیا، عباسی حکومت کے بعد خلافت عثمانیہ آئی اور اب سعودی عرب کے بادشاہوں کی حکومت ہے اور رہنی وہ بھی نہیں ہے کیونکہ یہ اللہ کریم کی سنت ہے کہ دن بدلتا رہتا ہے اور قیامت والے دن اس کو اجر ملے گا جس نے اسلام اور مسلمانوں کے لئے کچھ کیا ہو گا۔

9۔ مسلمان یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا حال ساری دنیا میں بُرا کیوں ہے، مسلمانوں نے صدیاں حکومت کی ہیں اور اب بھی مسلمان ملکوں پر معاشی پابندیاں اور کالے قانون یورپ لاگو کرتا ہے کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ مسلمان سے مذہبی روح ختم کرنی ہے۔

10۔ چار مصلے کے دور کے محدثین اور علماء کے نام یہ ہیں جن کو سعودی عرب کے وہابی علماء بدعتی و مشرک کہتے ہیں مگررافضیوں کی طرح اپنے محدثین کے نام نہیں بتاتے: امام حجر عسقلانی ، امام بدرالدین عینی، امام جلال الدین سیوطی، امام حجر مکی، امام ملا قاری، امام یوسف نبہانی، امم شمس الدین دمشقی، امام زرقانی، امام عابدین شامی ، امام مجدد الف ثانی، امام احمد قسطلانی، شیخ عبدالحق محدث دہلوی، شاہ ولی اللہ ، شاہ عبدلاعزیز محدث دہلوی، مولانا فضل حق خیر آبادی رحمتہ اللہ علیھم

سبق: البتہ ہم نے کسی کی ریاست، بادشاہت یا خلافت کو ختم نہیں کرنا بلکہ اپنے وقت میں حقائق تلاش کر کےسچ کا ساتھ دینا ہے کیونکہ دین نہ تو یہ یزیدی ہے اور نہ حسینی، نہ بنو امیہ، نہ بنو عباسی، نہ عثمانی اور نہ سعودی بلکہ دین قرآن اور حضور کے فرمان کا نام ہے۔

اصول و قانون: اہلتشیع سے سوال ہے کہ اہلتشیع حضرات کی حضورﷺ کی احادیث (مرفوع، موقوف، مقطوع) کی کونسی مستند کتابیں ہیں جو قرآن سے نہیں ٹکراتیں، جن کو وہ مانتے ہیں اور ان احادیث کی شرح کن اصولوں پر کرتے ہیں؟ اور اہلسنت کی کتابوں کی احادیث کی تشریح بھی کیا انہی اصولوں پر کرتے ہیں یا سازش کر کے اپنی مرضی کی تشریح کرتے ہیں؟

سوال: کیا ہر مسلمان اسطرح اپنے بچوں کی تربیت کر رہا ہے تاکہ احادیث کا بچوں کو علم ہو اور نبی کریم ﷺ کا دین پھیلے، اگر نہیں تو تیار ہوں، وقت تھوڑا ہے اور قیامت والے دن جواب دینا ہے کہ اپنے بچوں کو کونسا دین دے کر آئے ہو۔

حقیقت: اہلتشیع دین مولا حسین کے مُنکر، ان کے نانا کے دین کے مُنکر، ان کے بابا علی کے دین کے مُنکر بلکہ اسلام کے مُنکر ہیں کیونکہ قرآن ”کتابی” شکل میں ہے تو قرآن کو ماننا اللہ کریم کو ماننا ہے۔ حضور ﷺ اور مولا علی کو ماننے کا مطلب ہے کہ اُس مستند اسناد اور راوی کے ساتھ نماز روزے کی ”احادیث کی کتاب” کو ماننا جو حضور ﷺ اور مولا علی کے الفاظ ہوں تو اہلتشیع بتا دیں کہ ان کی مستند احادیث کی کتابیں کونسی ہیں جس کو مان کر نبی ﷺ اور مولا علی کو مانتے ہیں؟

اجماع امت: اہلسنت علماء جو خلافت عثمانیہ، چار مصلے، اجماع امت، عقائد اہلسنت پر ہیں ان کو چاہئے کہ عوام کو بتائیں کہ اصل فتنہ تفسیقی و تفضیلی و رافضیت ہے جو ہماری صفوں میں پھیل رہا ہے۔ دیوبندی اور بریلوی کا اصولی اختلاف چار کفر یہ عبارتیں ہیں اور دونوں جماعتوں کو سعودی عرب + اہلحدیث نے بدعتی و مشرک کہا۔ اذان سے پہلے درود، نماز کے بعد کلمہ، جمعہ کے بعد سلام، جنازے کے بعد دُعا ، قل و چہلم، میلاد، عرس، ذکر ولادت، یا رسول اللہ مدد کے نعرے ہماری پہچان نہیں ہیں۔ تینوں جماعتوں کی لڑائی میں عوام کے ساتھ ساتھ شیطان بھی اہلسنت پر ہنس رہا ہے ۔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment