حضور کی ولادت کے واقعات ( 1 )

Rate this post

حضور کی ولادت کے واقعات :- حضور نبی کریم صلی اللـــــــہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت سے پہلے مکّہ کے لوگ خشک سالی اور قحط کا شکار تھے۔ لیکن جونہی آپ کے دنیا میں تشریف لانے کا وقت قریب آیا۔ بارشیں شروع ہوگئیں، خشک سالی دور ہوگئی۔ درخت ہرے بھرے ہوگئے اور پھلوں سے لد گئے۔ زمین پر سبزہ ہی سبزہ نظر آنے لگا۔

حضور کی ولادت کا دن؟

آپ کی ولادت کس دن ہوئی؟ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ پیر کا دن تھا۔ آپ صبح فجر طلوع ہونے کے وقت دنیا میں تشریف لائے۔

ولادت مصطفی

پیدائش کے وقت آپ اپنے ہاتھوں پر جھکے ہوئے تھے۔ سر آسمان کی طرف تھا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے تھے۔ مطلب یہ کہ سجدے کی سی حالت میں تھے۔

{طبقات}

آپ کی مٹھی بند تھی اور شہادت کی انگلی اٹھی ہوئی تھی۔ جیسا کہ ہم نماز میں اٹھاتے ہیں ۔

حضور کی ولادت کے وقت نور

حضور انور ﷺ فرماتے ہیں : ۔

“جب میری والدہ نے مجھے جنم دیا تو ان سے ایک نور نکلا۔ اس نور سے شام کے محلات جگمگا اٹھے۔”

( طبقات )

آپ ﷺ کی والدہ سیدہ آمنہ سلام اللـــــــہ علیها فرماتی ہیں : ۔

محمد( ﷺ )کی پیدائش کے وقت ظاہر ہونے والے نور کی روشنی میں مجھے بصری میں چلنے والے اونٹوں کی گردنیں تک نظر آئیں۔

علامہ سہلی رحمہ اللـــــــہ نے لکھا ہے کہ جب آپ پیدا ہوئے تو آپ نے اللـــــــہ کی تعریف کی۔

ایک روایت میں یہ الفاظ (ترجمہ) آئے ہیں

“اللـــــــہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، اللـــــــہ تعالیٰ کی بےحد تعریف ہے اور میں صبح و شام اللـــــــہ کی پاکی بیان کرتا ہوں ۔

” اللـــــــہ اکبر کبیرا والحمد للـــــــہ کثیرا وسبحان اللـــــــہ

 ماہِ میلادِ ( ولادت )مصطفیٰ ﷺ

جشنِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ آپ ﷺ ‏کی ولادت باسعادت کی صورت میں ملنے والی ‏نعمتِ عظمی پر تاریخی مسرت و شادمانی کا ‏اِظہار ہے۔ اُمتی حضور ﷺ کی ولادت پر ‏خوش ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اُن سے خوش ہوگا۔

حضور کی ولادت کے واقعات

        حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما دونوں نے فرمایا

   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ عام الفیل، پیر کے دن 12 ربیع الاول کو ہوئی اور اسی پیر کے دن آپ کو نبوت سے سرفراز کیا گیا اور اسی روز آپ کو آسمان کی طرف بلند کیا گیا یعنی معراج کرائی گئی اور اسی دن آپ نے ہجرت فرمائی اور اسی دن آپ کا وصال مبارک ہوا۔۔۔❤️❤️

حضور کی ولادت پر شیطان کا رونہ

1.1 ) محترم قارئینِ کرام : امام یوسف صالح شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : ابلیس (شیطان) چار بار بلند آواز سے رویا ہے ، پہلی بارجب اللہ تعالیٰ نے اسے لعین ٹھہرا کراس پر لعنت فرمائی ، دوسری بار جب اسے آسمان سے زمین پر پھنکا گیا ، تیسری بار جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ولادت ہوئی ، چوتھی بار جب سورۃ الفاتحہ نازل ہوئی ۔

 (سبل الھدیٰ والرشاد فی سیرت خیر العباد جلد اول باب سوم کا ترجمہ)

1.2) امام ابو نعیم اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 430 ہجری لکھتے ہیں :ابلیس(شیطان) چار بار بلند آواز سے رویا ہے ، پہلی بارجب اللہ تعالیٰ نے اسے لعین ٹھہرا کراس پر لعنت فرمائی ، دوسری بار جب اسے آسمان سے زمین پر پھنکا گیا ، تیسری بار جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ولادت ہوئی ، چوتھی بار جب سورۃ الفاتحہ نازل ہوئی ۔ (حلیۃ الاولیاء جز ثالث صفحہ نمبر 299 عربی)

1.3)علامہ ابن کثیر البدایۃ والنہایۃ میں لکھتے ہیں:۔

أَنَّ إِبْلِیسَ رَنَّ أَرْبَعَ رَنَّاتٍ حِینَ لُعِنَ، وَحِینَ أُہْبِطَ، وَحِینَ وُلِدَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَحِینَ أُنْزِلَتِ الْفَاتِحَۃُ

(بحوالہ البدایۃ والنہایۃ جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 391،)

ترجمہ : ابلیس (شیطان) چار بار بلند آواز سے رویا ہے ، پہلی بارجب اللہ تعالیٰ نے اسے لعین ٹھہرا کراس پر لعنت فرمائی ، دوسری بار جب اسے آسمان سے زمین پر پھنکا گیا ، تیسری بار جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ولادت ہوئی ، چوتھی بار جب سورۃ الفاتحہ نازل ہوئی ۔

نعت ولادت مصطفی

مبارک ہو آمد شہِؐ دوسرا کی

یہ مژدہ سناؤحضُورؐ آ گئے ہیں

اُٹھو غم کے مارو سنو بے سہارو

لو خوشیاں مناؤ حضُورؐ آ گئے ہیں

وہ صبحِ ولادت خدا کا یہ فرماں

کہ جبرئیلؑ جلدی سے جاؤ زمیں پر

کھڑے ہو کے کعبے پہ فرطِ خوشی سے

یہ ڈنکا بجاؤ حضُورؐ آ گئے ہیں

دو شنبے کا دن تھا سماں تھا سہانا

جب آیا وہ رحمت لقب پانے والا

کہا آمنہؓ نے حلیمہؓ سے کہہ دو

میرے گھر میں آؤ حضُورؐ آ گئے ہیں

حضور کی ولادت کے واقعات

بوقتِ ولادت یہ رضوان بولا

ارے حُور و غلماں مبارک ہو تم کو

وہ آیا ہے جس کا خدا منتظر تھا

عَلَم لہلہاؤ حضُورؐ آ گئے ہیں

وہ تفریقِ انساں مٹا دینے والا

وہ ادنٰی کو اعلٰی بنا دینے والا

ارے بادشاہو ارے کجکلاہو

سروں کو جھکاؤ حضُورؐ آ گئے ہیں

میرے گھر قدم سرورِؐ انبیاء کے

کبھی پڑ ہھی جائیں یہ حسرت ہے میری

میں بچوں سے اپنے خوشی میں کہوں گا

کہ جلدی سے آؤ حضُورؐ آ گئے ہیں

تھا مجھ پر بہت عالمِ ضعف طاری

کہ اتنے میں آئی نبیؐ کی سواری

لحد میں نکیرین سے میں یہ بولا

مجھے بھی اٹھاؤ حضُورؐ آ گئے ہیں

زمانے میں ہے آج تشریف لایا

وہ آقاؐ تمہارا نبیؐ کملی والا

حسّامؔ اَب تمہارا بھی ہے فرض بنتا

منادی کراؤ حضُورؐ آ گئے ہیں ـ

ہدیہ گزار ۔ پیر سید حسّامؔ الدین حسّامؔ جیلانی گولڑہ شریف

*ربیع الاول ہی میں میلاد کیوں؟ بزبان تھانوی

*تھانوی کہتا ہے؛ میرا اکثر مذاق یہ ہے کہ ربیع الاول کے مہینے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کچھ بیان کرنے کو جی جاہتا ہے کیونکہ یہ مہینہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ولادت و تشریف آوری کا ہے۔ اس وقت حضور (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی یاد تقاضے کے ساتھ دل میں پیدا ہوتی ہے اور ایک خاص تحریک حضور (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ذکر کی ہوتی ہے۔اگر اس کے ساتھ منکرات منضم نہ ہوتے تو اس ماہ میں یہ حالت اور اس حالت میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا ذکر کرنا علامت محبت ہوتی ہے۔

(خطبات میلاد 138)

نوٹ: بدعات ، خرافات اور غیر شرعی امور کے جواز کا کوئی قائل نہیں بلکہ اس پر تو میلاد کا اطلاق ہی نہیں ہوتا اگر کوئی کرے تو اسے اپنی ایمان کی فکر کرنی چاہئے۔

امام اہل سنت فرماتے ہیں: میلاد میں ایسا پڑھنا، سننا جو منکرات شرعیہ پر مشتمل ہو، ناجائز ہے جیسے روایات باطلہ و حکایات موضوعہ و اشعار خلاف شرع خصوصا جن میں توہین انبیاء و ملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام ہو۔ کہ آج کل کے جاہل نعت گویوں کے کلام میں یہ بلائے عظیم بکثرت ہے حالانکہ وہ صریح کلمہ کفر ہے۔

[فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 712]

ابو الحسن

ولادت کی خوشی میں جھنڈے

سيدتنا آمِنہ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا فرماتی ہیں میں نے دیکھا کہ تین جھنڈے نصب کئے گئے ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں ، تیسرا کعبے کی چھت پر اور حضور اکرم ﷺ کی ولادت ہوگئی۔

( صبح بہاراں ہیں، 7 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ بحوالہ خصائص کبری ج اول ص ۸۲ مختصر ))

روح الامیں نے گاڑا کعبے کی چھت پہ جھنڈا

تا عرش اڑا پھریرا صبح شب ولادت

اب جس کا دل چاہے بارہ (12) ربیع الاول کو ابلیس کے ساتھ رہ کرگزارے اور جس کا دل چاہے ، امت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محفل میلاد منعقد کرتے ہوئے اظہار مسرت کرے : ⬇

نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں ربیع الاول

سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں

میں تو کئے ہی جاؤں گا میلاد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم بیان

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں میرے والد ہر سال میلاد مناتے تھے ایک سال لنگر کےلیئے کچھ نہ تھا بھنے چنے منگوائے ان پر میلاد پڑھا اور تقسیم کر دیئے رات کو خواب میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلّم کی زیارت ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلّم بہت خوش تھ ۔ (رسائل شاہ ولی اللہ الدر الثمین صفحہ 199 ، بائیسویں حدیث)

نجدیوں کے قبضہ سے پہلے اہل مکّہ میلاد مناتے تھے : حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں اہل مکہ ولادت کے دن میلاد منا رہے تھے میں نے دیکھا یکا یک انوار نازل ہو رہے تھے جب غور کیا تو دیکھا یہ وہ فرشتے ہیں جو ایسی محافل پر انوار و رحمت لے کر نازل ہوتے ہیں ۔ (فیوض الحرمین صفحہ 115)

اے اہل ایمان شاہ صاحب کی اس گواہی و بیان سے معلوم ہوا حرمین مقدسہ پر نجدیوں کے قبضہ سے پہلے اہل مکّہ بڑی دھوم دھام سے میلاد مناتے تھے کیا نجدی قابضوں کا عمل ہمارے لیئے بہتر ہے یا 13 سو سالہ مسلمانوں اور اکابرین ملت اسلامیہ علیہم الرّحمہ کا عمل مبارک فیصلہ خود کیجیئے ۔

میں تو کئے ہی جاؤں گا میلاد مصطفیٰﷺ بیان

*ارے اسکو کبھی نہ چھیڑنا سنی بڑا دبنگ ہے

خاک ہوجایں عدو جل کر مگر ہم تو رضا

دم میں جب تک دم ہے ذکر انکا سناتے جایں گے

سب سے پہلے چند باتیں ذہن نشین کرلیں

میلاد کا مطلب کیا ہے ؟

دلیل کے اعتبار سے اسکو کرنے کا کیا حکم ہے ؟

جو نہ کر سکے اس کے لئے کیا حکم ہے ؟

معترض کے ہر اعتراض کا جواب ان تین باتوں کی روشنی میں بآسانی دیا جاسکتا ہے ہم اس موضوع میں ہر بات کو مختصر اور واضح طور پر بیان کرنے کی کوشش کریں گے لہٰذا تمام پڑھنے والوں کی بارگاہ میں عرض ہے کے تمام دلائل کو اپنے پاس کاپی کرلیں تا کہ معترض کو خود ہی جواب مل جاۓ

میلاد کا مطلب ہے پیدائش یا ولادت اسکا سادہ سا مفہوم یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے بلخصوص ولادت کے واقعات بیان کرنا اور بالعموم آپکی سیرت نسب آپ کے کمالات و برکات و معجزات و واقعات کو بیان کرنا اس مفہوم کو بھی اچھی طرح ذھن نشین فرمالیں ۔

میلاد کا حکم شرعی :۔

مستحب ہے اور یہ شریعت کے اصولوں میں سے ایک ہے

میلاد کرنا مستحب :۔

وہ کام ہےجس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کبھی کیا ہو اور اس کو سلف صالحین نے پسند کیا ہو ( شامی ج ١ ص ٥١١ ) اس کےکرنے میں ثواب نہ کرنے میں گناہ بھی نہیں اس کو نفل مندوب اور تطوع بھی کہتے ہیں ۔

حضور کی ولادت کے واقعات

والنفل و منہ المندوب یثاب فاعلہ ولا یسیئی تارکہ(شامی ج ١ ص٥٩ )مطلب یہ ہے کہ میلاد 1 مستحب عمل ہے جس کے کرنے پر ثواب ہے اور نہ کرنے پر گناہ نہیں جو کوئی کام میں مشغولیت کی وجہ سے نہ کرسکے تو اس پر ملامت نہیں نہ ہی اس سے سوال کیا جاےگا کہ کیوں نہ کیا ؟

میلاد کا مطلب اور اسکو کرنے اور نہ کرنے کا حکم بھی ہم نے بیان کردیا اب سوال یہ ہے کہ میلاد ثابت کہاں سے ہے تو جواب یہ ہے کہ مستحب عمل کے لئے دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ تمام بحث آپ کتاب سعید الحق شرح جاء الحق کے باب بدعت میں پڑھ سکتے ہیں کہ کس طرح کوئی عمل اگر شریعت کے خلاف نہ ہو تو اسے کرنے کا ثواب ہے اور نہ کرنے کا گناہ نہیں ۔

اب ان شاء اللّه عزوجل ہم میلاد کے ثبوت و دلائل پیش کریں گے جس کے لئے پہلے بیان کی گئی 3 باتوں کا ذھن نشین ہونا بہت ضروری ہے ۔

سوال: ابھی تو اپ نے کہا کہ مستحب عمل پر دلیل کی حاجت نہیں پھر خود ہی دلائل کی بات کر رہے ہیں ؟

جواب : ہم یہ باتیں اسلئے بیان کر رہے ہیں کہ ہمارے سنی بھائیوں کے عقائد مضبوط ہوں اور ان سے بدمذ ھبی دور ہو اور انھیں عقائد اہل سنت سے متعلق آگاہی حاصل ہو ورنہ بدمذہبوں پر ان دلائل کا کچھ اثر نہ ہوگا ۔

 میلاد منانے پر قرآن مجید سے دلائل

اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ترجمہ ’’اور اپنے رب کی نعمت کے خوب چرچے کرو‘‘ (سورۂ وَٱلضُّحَىٰ :11)

معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ حکم دے رہا ہے کہ جو تمہیں میں نے نعمتیں دی ہیں، ان کا خوب چرچا کرو، ان پر خوشیاں مناؤ۔ ہمارے پاس اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی بے شمار نعمتیں ہیں۔ کان، ہاتھ، پاؤں، جسم، پانی، ہوا، مٹی وغیرہ اور اتنی زیادہ نعمتیں ہیں کہ ہم ساری زندگی ان کو گن نہیں سکتے۔ خود اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ترجمہ ’’اور اگر اﷲ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے‘‘ (النحل:18)

معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں کی گنتی ہم سے نہیں ہوسکتی۔ تو پھر ہم کن کن نعمتوں کا پرچار کریں۔ عقل کہتی ہے کہ جب گنتی معلوم نہ ہوسکے تو سب سے بڑی چیز کو ہی سامنے رکھا جاتا ہے۔ کیونکہ وہی نمایاں ہوتی ہے۔ اسی طرح ہم سے بھی اﷲ پاک کی نعمتوں کی گنتی نہ ہوسکی تو یہ فیصلہ کیا کہ جو نعمت سب سے بڑی ہے اس کا پرچار کریں۔ اسی پر خوشاں منائیں تاکہ اﷲ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہوسکے۔ سب سے بڑی نعمت کون سی ہے؟ آیئے قرآن مجید سے پوچھتے ہیں ترجمہ ’’اﷲ کا بڑا احسان ہوا مومنوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا۔ جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے‘‘ (سورۂ آل عمران آیت 164)

اﷲ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں مگر کسی نعمت پر بھی احسان نہ جتلایا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے کسی اور نعمت پر احسان کیوں نہیں جتلایا۔ صرف ایک نعمت پر ہی احسان کیوں جتلایا؟ ثابت ہوا کہ اﷲ تعالیٰ کی عطا کردہ ان گنت نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت آخری نبی کرم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم ہیں اور قرآن کے مطابق ہر مسلمان کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی آمد پر خوشیاں منانی چاہئیں۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔ ترجمہ ’’تم فرماؤ اﷲ عزوجل ہی کے فضل اور اسی کی رحمت، اسی پر چاہئے کہ وہ خوشی کریں۔ وہ ان کے سب دھن و دولت سے بہتر ہے‘‘ (سورۃ یونس آیت 58)

لیجئے! اس آیت میں تو اﷲ تعالیٰ صاف الفاظ میں جشن منانے کا حکم فرما رہا ہے۔ کہ اس کے فضل اور رحمت کے حصول پر خوشی منائیں۔ قرآن نے فیصلہ کردیا کہ نبی کی آمد کا جشن مناؤ کیونکہ اﷲ کے نبی صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم سے بڑھ کر کائنات میں کوئی رحمت نہیں۔ خود اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ترجمہ ’’اور ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہاں کے لئے‘‘ (الانبیاء :107)

مسلمان اگر رحمتہ للعالمین کی آمد کی خوشی نہیں منائیں گے تو اور کون سی رحمت پر منائیں گے۔ لازم ہے کہ مسلمان رحمت دوعالمﷺ کی آمد کا جشن منائیں۔

 میلاد کو عید کہنا کیسا ؟

ترجمہ : عیسیٰ بن مریم نے عرض کی، اے اللہ! اے رب ہمارے! ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے(المائدة:114)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آسمان سے خوان یعنی نعمت اترنے کے دن کو عید کہا اپنے اگلے پچھلوں کے لئے تو وہ نبی جو تمام کائنات کے لئے رحمت و نعمت ہو انکی تشریف آواری کا دن کیوں نہ عید ہو ؟؟؟ بلکہ وہ تو عیدوں کی عید ہے

میلاد بدعت نہیں

مفہوم احادیث

حضور صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے خود اپنا نسب اور پیدائش کا تذکرہ ممبر پر کھڑے ہوکر بیان فرمایا (ترمذی ج 2 ص201 )

حضور صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے اپنی پیدائش کے ساتھ دیگر نبیوں کی پیدائش کا ذکر فرمایا (مسلم ج2 ص245 ) غزوہ تبوک سے واپسی پر حضرت ابن عباس رضی اللّه عنہ نے آقا صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی بارگاہ میں عرض کی میرا دل چاہتا ہے کہ آپکی تعریف کروں ارشاد ہوا بیان کرو اللّه تمھارے منہ کو ہر آفت سے بچاۓ پس انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی پیدائش کا حال بیان کیا(دلائل النبوت لالبیہقی ج5 ص47،48)

کیا وہ کام جس پر حضور صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم دعا دیں بدعت ہوسکتا ہے ؟

اپنی آمد کا جشن تو خود آقا صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے منایا ہے۔ تو ان کے غلام کیوں نہ منائیں؟ چنانچہ حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بارگاہ رسالت میں عرض کی گئی کہ ’’یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم آپ پیر کا روزہ کیوں رکھتے ہیں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے جواب دیا ’’اسی دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی‘‘ (صحیح مسلم شریف جلد 1ص 7، مشکوٰۃ شریف ص 179)

مخالفین کہتے ہیں کہ کیا میلاد صحابہ رضی اللہ عنہم نے منایا ؟ ہم پوچھتے ہیں کہ جب آقا صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم اپنی آمد کا جشن خود منائیں تو حضور صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کا عمل کافی نہیں ؟

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کا چچا ابولہب جوکہ پکا کافر تھا۔ جب اسے اس کے بھائی حضرت عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کے یہاں بیٹے کی ولادت کی خوشخبری ملی تو بھتیجے کی آمد کی خوشخبری لانے والی کنیز ’’ثویبہ‘‘ کو اس نے انگلی کا اشارہ کرکے آزاد کردیا۔ ابولہب کے مرنے کے بعد حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اسے خواب میں دیکھا کہ وہ بڑے برے حال میں ہے تو اس سے پوچھا کیا گزری؟ ابولہب نے جواب دیا ’’مرنے کے بعد کوئی بہتری نہ مل سکی ہاں مجھے اس انگلی سے پانی ملتا ہے کیونکہ میں نے ثویبہ لونڈی کو آزاد کیا تھا‘‘ (بخاری شریف جلد 2ص 764)

اسی روایت کے مطابق ہمارے اسلاف جوکہ اپنے دور کے مستند مفسر، محدث اور محقق رہے ہیں ان کے خیالات پڑھئے اور سوچئے کہ اس سے بڑھ کر جشن ولادت منانے کے اور کیا دلائل ہوں گے؟

حضرت علامہ مولانا حافظ الحدیث ابن الجزری رحمتہ اﷲ علیہ کا فرمان مبارک:جب ابولہب کافر جس کی مذمت میں قرآن پاک نازل ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی ولادت کی خوشی میں جزا نیک مل گئی (عذاب میں تخفیف) تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی امت کے مسلمان موحد کا کیا حال ہوگا۔ جو حضورصلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی ولادت کی خوشی مناتا ہو اور حضور کی محبت میں حسب طاقت خرچ کرتا ہو۔ مجھے اپنی جان کی قسم اﷲ کریم سے اس کی جزا یہ ہے کہ اس کو اپنے فضل عمیم سے جنت نعیم میں داخل فرمائے گا‘‘ (مواہب لدنیہ جلد 1ص 27)

جلیل القدر محدث حضرت علامہ ابن جوزی رحمتہ اﷲعلیہ کا فرمان مبارک:جب ابولہب کافر (جس کی قرآن میں مذمت بیان کی ہے) آپ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی ولادت پر خوش ہونے کی وجہ سے یہ حال ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی امت کے اس موحد مسلمان کا کیا کہنا جو آپ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی ولادت پر مسرور اور خوش ہے‘‘ (بیان المولد النبوی ص 70 بحوالہ مختصر سیرۃ الرسول ص 23)

جھنڈے اور جلوس : ہجرت کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلّم کی مدینے میں آمد پرصحابہ نے جلوس نکالا (ابو داود ج2 ص 300)

سیدتنا آمنہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے تین جھنڈے بھی دیکھے، ایک مشرق میں گاڑا گیا تھا، دوسرا مغرب میں اور تیسرا جھنڈا خانہ کعبہ کی چھت پر لہرا رہا تھا (بحوالہ: سیرت حلبیہ جلد اول ص 109)

آپ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی ولادت باسعادت کی خوشی میں جھنڈے لہرائے گئے۔ ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں اور تیسرا کعبتہ اﷲ کی چھت پر (بحوالہ: بیان المیلاد النبی، محدث ابن جوزی ص 51، خصائص الکبریٰ جلد اول ص 48، مولد العروس ص 71، معارج النبوت جلد دوم ص 16)

ان محدثین کرام اور اسلاف کے خیالات سے ثابت ہے کہ جشن ولادت منانا اسلاف کا بھی محبوب فعل رہا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ جب کافر محمد بن عبداﷲ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی آمد کی خوشی مناکر فائدہ حاصل کرسکتا ہے تو مسلمان محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی آمد کا جشن کیوں فائدہ حاصل نہیں کرسکتا؟ بلکہ ابن الجزری نے تو قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ میلاد منانے والوں کی جزا یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں جنت میں داخل فرمادے گا۔اللہ بغض رسول صلی اللہ علیہ وسلّم سے بچائے آمین ـ

ابو لہب کا واقعہ میلاد منانا۔

(1۔) حافظ شمس الدین محمد بن عبداللہ الجزری الشافعی رحمہ اللہ (المتوفى:٦٦٠ھ)لکھتے ہیں:

“ابو لہب کو مرنے کے بعد خواب میں دیکھا گیا تو اس سے پوچھا گیا:اب تیرا کیا حال ہے ؟ کہنے لگا آگ میں جل رہا ہوں ، تاہم ہر پیر کے دن میرے عذاب میں تخفیف کر دی جاتی ہے ۔ انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا کہ (ہر پیر کو) میری ان دو انگلیوں کے درمیان سے پانی نکلتا ہے جسے میں پی لیتا ہوں اور یہ تخفیف عذاب میرے لئے اس وجہ سے ہے کہ میں نے ثویبہ کو آزاد کیا تھا جب اس نے مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کی خوشخبری دی اور اس نے آپ کو دودھ بھی پلایا تھا “

یہ سب لکھنے کے بعد حافظ شمس الدین الجزری رحمہ اللہ یوں تحریر فرماتے ہیں:۔

فاذا كان أبو لهب الكافر ، الذى نزل القرآن بذمه جوزى فى النار بفرحة ليلة مولد النبى صلى الله عليه وسلم به ، فما حال المسلم الموحد من أمة النبى صلى الله عليه وسلم ، يسر بمولده ، ويبذل ما تصل إليه قدرته فى محبته صلى الله عليه وسلم ؟ ولعمرى انما يكون جزاؤه من المولى الكريم ، أن يدخله بفضله جنات النعيم.

“نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے موقع پر خوشی منانے کے اجر میں اس ابو لہب کے عذاب میں بھی تخفیف کر دی جاتی ہے جس کی مذمّت میں قرآن پاک میں ایک پوری سورة نازل ہوئی ہے ۔ تو امت محمدیہ کے اس مسلمان کو ملنے والے اجر و ثواب کا کیا عالم ہوگا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی مناتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و عشق میں حسبِ استطاعت خرچ کرتا ہے ؟ خدا کی قسم! میرے نزدیک اللہ تعالیٰ ایسے مسلمان کو اپنے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی منانے کے طفیل اپنی نعمتوں بھری جنت عطا فرمائے گا “

⛔حسن المقصد فی عمل المولد للسيوطى ، ص٦٥ ، ٦٦ ، مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت ، لبنان.

⛔الحاوى للفتاوى للسيوطى، ص: ٢٠٦، مطبوعه مكتبه رشيدية سركى روڈ ، كوئٹه.

⛔ المواهب اللدنية بالمنح المحمدية للقسطلانى، المقصد الأول: فى تشريف الله تعالى له عليه السلام….الخ ، ذكر رضاعه صلى الله عليه وسلم ، جلد: ١ ، ص: ٧٨، مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت ، لبنان.

⛔حجة الله على العالمين للنبهانى ، الباب الثاني، فصل فى اجتماع الناس لقراءة قصة مولد النبى صلى الله عليه وسلم ، ص:١٧٧، مطبوعه قديمى كتب خانه مقابل ارام باغ كراچی۔

(2.)شارح “صحیح مسلم” امام نووی رحمہ اللہ (المتوفی:٦٧٦ھ) کے شیخ امام ابو شامہ عبد الرحمن بن اسماعیل رحمہ اللہ (المتوفی:٦٦٥ھ) فرماتے ہیں:

من احسن ما ابتدع فى زماننا ما يفعل كل عام فى اليوم الموافق ليوم مولده صلى الله عليه وسلم من الصدقات والمعروف واء ظهار الزينة والسرور ، فان ذلك مع ما فيه من الاحسان للفقراء مشعر بمحبته صلى الله عليه وسلم وتعظيمه فى قلب فاعل ذلك ، وشكر الله على ما من به من ايجاد رسوله الله صلى الله عليه وسلم الذى ارسله رحمة للعالمين.

“ہمارے دور کا نیا مگر بہترین کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یوم ولادت کا جشن منانا ہے ۔ جس میں ہر سال میلاد النبی کے موقع پر اظہارِ فرحت و سرور کے لئے صدقات و خیرات کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، نیک کام کئے جاتے ہیں ، صاف ستھرے لباس پہنے جاتے ہیں ، یہ ایک حسین ترین طریقہ ہے جو (اگرچہ نیا ہے) مگر اس کے حسین ہونے میں کلام نہیں کیونکہ اس سے جہاں ایک طرف غرباء و مساکین کا بھلا ہوتا ہے وہاں اس سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کے ساتھ والہانہ محبت کا پہلو بھی نکلتا ہے اور پتہ چلتا ہے کہ اظہارِ شادمانی کرنے والے کے دل میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے حد تعظیم پائی جاتی ہے اور ان کی عظمت کا تصور موجود ہے گویا وہ اپنے رب کا شکر ادا کر رہا ہے کہ اس نے بے پایاں رحمت عطا فرمائی اور وہ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو دے دیا جو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے “

⛔ انسان العیون فی سیرة الامين المامؤن المعروف به السيرة الحلبية ، باب: تسميته صلى الله عليه وسلم محمدا واحمدا ، جلد: ١ ، ص: ١٢٣، مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت ، لبنان.

⛔حجة الله على العالمين للنبهانى ، الباب الثاني، فصل فى اجتماع الناس لقراءة قصة مولد النبى صلى الله عليه وسلم ، ص:١٧٤، مطبوعه قديمى كتب خانه مقابل ارام باغ كراچی۔

♦️یہی قول غیر مقلدین کے معروف عالم وحید الزمان حیدر آبادی نے بھی نقل کیا ہے:

⛔هدية المهدى (حاشيه) ص: ٤٦، مطبوعه دهلى.

امام ابو شامہ رحمہ اللہ شاہ اربل کی طرف سے وسیع پیمانے پر میلاد شریف منائے جانے اور اس پر خطیر رقم خرچ کئے جانے کے بارے میں اس کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

مثل هذا الحسن يندب إليه ويشكر فاعله ويثنى عليه.

“اس نیک عمل کو مستحب گردانا جائے گا اور اس کے کرنے والے کا شکریہ ادا کیا جائے گا اور اس پر اس کی تعریف کی جائے گی”

⛔سبل الھدی والرشاد فی سيرة خير العباد ، الباب الثالث عشر: فى اقوال العلماء فى عمل المولد الشريف واجتماع الناس له وما يحمد من ذلك وما يذم ، جلد: ١ ، ص: ٣٦٣، مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت ، لبنان.

   ✍️ابو الحسن محمد افضال حسین نقشبندی مجددی ۔

(٢٦/٩/٢٠٢٣)

ربیع الاول ولادت کا مہینہ »اسلامی سال کا تیسرا مہینا:«

”ربیع الاول“ اسلامی سال کا تیسرا مہینا ہے۔

یہ مہینا فضیلتوں اور سعادتوں کا مجموعہ ہے

کیونکہ وہ ذاتِ پاک جن کو الله کریم نے

تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بیھجا

وہ عظمتوں والے نبی، امام الانبیاء، خاتم النبیین، حض

رت محمدِ مُصطفٰی کریم ﷺ

اسی ماہِ مبارک میں دنیا میں تشریف لائے۔

گویا اس مہینے کو سب فضیلتیں اور سعادتیں

حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت کے صدقے نصیب ہوئیں۔

(اسلامی مہینوں کے فضائل (فیضان ربیع الاول)، صفحہ 55 تا 56)

01 ربیع الاول 1445ھ

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment