حضور سیدنا امام محمد رضا زکوړی شریف مجددی نقشبندی قادری چشتی

Rate this post

آفتاب نقشبند، حضرت سید المشائخ، قطب الاقطاب، غوث الاغواث، امام الانس والجن، سند الاولیاء، شرف الصلحاء، مجدد الوقت، حضور سیدنا امام محمد رضا زکوڑی شریف مجددی نقشبندی علیہ الرحمہ کو خلافت حضرت مجدد الف ثانی کے پیارے بیٹے حضرت شیخ فضل احمد فاروقی سرہندی پشاوری مجددی نقشبندی علیہ الرحمۃ الرحمان سے ملی تھی۔ آپ حضرت جی صاحب مبارک کے نام سے معروف ہیں۔ آپ اپنے وقت میں غوثیت کے آخری مقام پر فائز تھے۔

    حضرت جی صاحب مبارک علیہ الرحمہ امام محمد رضا زکوڑی صاحب سے بہت زیادہ پیار اور محبت کرتے تھے۔ آپ حضرت امام فقیر صاحب کی بہت زیادہ عزت کرتے اور نہایت شفقت اور مہربانی سے پیش آتے تھے۔ یہاں تک کہ باقی خلفاء کی بات تو دور ہے اپنے بیٹوں سے بھی زیادہ پیار کرتے تھے۔

    حضرت جی صاحب کے باقی خلفاء کے دل میں یہ رشک پیدا ہوگیا کہ کیا وجہ ہے کہ پیر صاحب حضرت فقیر صاحب سے اتنی زیادہ محبت کیوں کرتے ہیں۔ حالانکہ ہم دانشور اور عالم بھی ہیں اور اولیاء بھی۔ بڑے عرصہ سے حضرت جی صاحب کی خدمت بھی کر رہے ہیں۔ پھر بھی حضرت صاحب ہم پر اتنی شفقت نہیں کرتے جتنی فقیر صاحب پر کرتے ہیں۔

    حضرت جی صاحب مبارک اپنے خلفاء کے دلوں سے واقف ہوگئے اور فرمانے لگے

     “اے میرے خلفاء۔۔۔! تم لوگ امام رضا سے برابری اور ہمسری نہ کیا کرو کیوں کہ تم سب میرے مرید ہو اور امام رضا میری “مراد” ہے”۔

    یعنی تم مجھے راضی کرتے ہو اور میں امام رضا کو راضی کرتا ہوں کہ وہ مجھ سے خوش رہے۔ مزید فرمایا، تم سب کا علم بہت کم ہے اور امام رضا کے علم کی کوئی انتہاء نہیں۔ امام رضا کو علم لدنی حاصل ہے۔ مزید فرمایا،

   “تم سب کسبی ہو جبکہ امام رضا فضلی ہے”۔

        (بحوالہ روضۃ الاولیاء از مقامات امام رضا)

حق يا امام الفقراء

المدد يا امام المتقین والکاملین

المدد يا امام الجن والانس

المدد يا مجدد الوقت

المدد یا قطب الاقطاب

المدد یا غوث الاغواث

المدد یا سید المشائخ

المدد یا قیوم الزمان

المدد يا سيدی و سندی و مرشدی

 المدد يا حضور سیدنا امام محمد رضا زکوړی شریف مجددی نقشبندی قادری چشتی……………..💓🤲💓

قبل از پیدائش کرامات امام الفقراء

حضرت امام الفقراء سیدنا حضور قبلہ فقیر امام محمد رضا زکوڑی شریف مجددی نقشبندی کے والد بزرگوار حضرت سیدنا شیخ شاہ احمد زکوڑی شریف فرماتے ہیں کہ حضرت امام محمد رضا کی پیدائش سے پہلے اللہ کریم جل جلالہ میرے اوپر یہ الہام فرماتا تھا کہ اللہ تعالی آپ کو ایسے دو عظیم فرزند عطا کرے گا جو بہت بڑے اولیاء اللہ ہوں گے۔

   ساتھ ہی یہ الہام بھی کیا کہ ایک کا نام “امام رضا” اور دوسرے کا “محمد” رکھنا۔ پھر جب میرا پہلا بیٹا پیدا یوا تو حیران ہوا کہ کون سا نام رکھوں۔ تین بار قرعہ اندازی کرنے کے بعد مسلسل “محمد” نکلا۔ پھر میں نے اپنے پہلے بیٹے کا نام “محمد” رکھ دیا۔ اس طرح جب میرا دوسرا فرزند پیدا ہوا تو اس کا نام “امام رضا” رکھ دیا۔

    اللہ کریم جل جلالہ نے حضرت امام الفقراء کا نام امام رضا اس لئے رکھ دیا تھا کہ آپ جناب والا “مقام رضا” پر پہنچنے والے اولیاء کے امام تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ عشق رسول کی وجہ سے آپ پر دوبارہ الہام ہوا کہ اپنے نام کے درمیان لفظ “محمد” کا اضافہ کرو جس کے بعد آپ کا نام مبارک “امام محمد رضا” بن گیا۔

                                  روضۃ الاولیاء

حضور سیدنا امام محمد رضا زکوړی شریف مجددی نقشبندی قادری چشتی

کرامات اولیاء

امام نسفی فرماتے ہیں

   “کرامات الاولیاء حق فتظھر الکرامة علی طریق نقض العادة للولی من قطع مسافة البعیدة فی مدة القلیلة”

ترجمہ۔۔۔

       اولیاء اللہ کی کرامات حق ہیں پس ولی کی کرامت خلاف عادت طریقے سے ظاہر ہوتی ہے مثلا طویل سفر کو کم وقت میں طے کر لینا۔

   اس کی شرح میں علامہ سعد الدین تفتازانی فرماتے ہیں:

   جیسے حضرت سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے امت کے ولی اور آپ کے درباری آصف بن برخیا رضی اللہ تعالی عنہ کا طویل مسافت (Long Distance) پر موجود تخت بلقیس کو پلک جھپکنے سے پہلے لے آنا اولیاء کی کرامت کی ایک بڑی مثال ہے۔

                         شرح العقائد النسفیہ

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment