حضرت میاں میر | میاں میر

Rate this post

حضرت میاں میر رحمۃ اللہ علیہ قسط دوم آپ کا اسم گرامی محمد میر اور عرف میاں میر، میاں جیو، بالا پیر اور شاہ میر ،پیر لاہوری ہے۔ میاں کا لفظ ’’صاحب‘‘ ’’جیو‘‘ عزت اور تعظیم کے لئے ہے۔حضرت میاں میر 1550 عیسوی بمطابق 957 ہجری سندھ کے شہر سیوستان میں عہد ارغون اور ترخان میں پیدا ہوئے۔ جس دور میں اس علاقے پر یہ شہر ضلع دادو میں بھکر اور ٹھٹھہ کے درمیان واقع ہے۔اس علاقہ پر اس زمانہ میں شاہ بیگ ارغون بن ذوالنون بن حسن بصری نے سما سلطنت کے آخری حکمران سے پہلے تو اس علاقہ کا قبضہ لیا پھر سیوستان کا حاکم اسکو بنا دیا۔

میاں میر رح کا خاندان قاضی خاندان کے طور پر مشہور تھا جن کے علم و فضل کا بڑا چرچا تھا۔ آپ کے آباؤاجداد عرصہ سے یہاں مقیم تھے۔ آپ کا بچپن یہیں گزرا آپ سندھی زبان بولتے تھے۔جب آپ سات سال کے تھے تو آپ کے والد وفات پا گئے۔

داراشکوہ نے اپنی کتاب سکینۃ الاولیاء میں آپ کی ولادت کے بارے میں درج ذیل دو روایتیں نقل کی ہیں۔اول۔ آپ 938ھ/1532ھ میں پیدا ہوئے۔دوم۔ آپ کی ولادت 957ھ/1550ھ میں ہوئی۔البتہ محققین کی رائے میں 957ھ/1550ھ کا سال ولادت صحت کے زیادہ قریب ہے تحفتہ الکرام میں بھی یہی سال ولادت تحریر کیا گیا ہے۔

والد کا نام

تاریخ کی کتب میں آپ کے والد کے مختلف نام لکھے ہیں لیکن انکا کا شجرہ نسب درج نہیں ہے ۔ سکنیتہ الاولیاء میں قاضی سائیں دتا بن قاضی قلندر فاروقی لکھا ہے۔گلشن قادری مفتی محمد اقبال کھرل میں بھی قاضی سائیں دتہ بن قاضی قلندر لکھا ہے۔تذکرہ میاں میر محمد دین کلیم میں بھی یہی نام درج ہے۔آپ کے والد کا نام قاضی سائیں دتہ لکھا ہے اور کچھ کتب میں آپ کے دادا کا نام قاضی سائیں قلندر لکھا ہے۔ جبکہ قاضی سائیں دتہ کے والد کا نام قاضی شرف الدین بن محمود تھا۔ اور صوفیائے سندھ کے مصنف اعجاز الحق قدوسی نے ان دونوں شخصیات کو دو مختلف صوفیاء کے بتایا ہے۔جبکہ مندرجہ ذیل نام بحوالہ کتب یوں درج ہیں۔نامور عالم و تاریخ دان مرزا قلیچ بیگ نے سندھی ادبی بورڈ کی شائع کردہ کتاب ‘قدیم سندھ’ میں میان میر کے والد کا مختصر احوال بیان کیا ہے کہ، ’’میاں میر کے والد قاضی سائیں ڈنو تھے، خود بڑے پرہیزگار، شریعت اور طریقت کے پابند تھے، بعد میں ان کے بیٹے میر محمد جو کہ میاں میر کے نام سے مشہور ہوئے۔

1. قاضی دتہ سائیں بن قاضی قلندر (گلشن قادری،تذکرہ میاں میر)

2. قاضی سائیں دتا بن قاضی قلندر (سکینتہ الاولیاء دارالشکوہ)

3. قاضی سائیندتہ بن قاضی قلندر (صوفیائے سندھ اعجاز الحق قدوسی)

4. قاضی سائیں ڈنو( تخفۃ الکرام میر علی شیر قانع)

5. قاضی دتہ سیوستانی بن شرف الدین مخدوم راہوبن شیخ محمود (صوفیائے سندھ اعجاز الحق قدوسی)

6. مزار قاضی سائیں دتہ کا باغبان میں ہے اور ممکن ہے آپ ہی والد گرامی حضرت میاں میر ہوں ۔

والدہ اور نانا

آپ کی والدہ کا نام بی بی فاطمہ بنت قاضی قاضن یاں قاون تھا ۔قاضی قاضن آپ رحمۃ اللہ علیہ کے نانا تھے۔ قاضی قاضن کی پیدائش1463ء اور وفات 1551ء کو ہوئی ۔آپ والیٔ سندھ شاہ بیگ ارغون کے مشیر خاص، بکھر کے قاضی کے عہدہ پر فائز تھے۔آپ کا شجرہ نسب یوں ہے قاضی قاضن بن قاضی ابو سعید بن زین العابدین بن قاضی ابو الخیر بکھری ہے۔ آپ کے اجداد سیوستان سیہون میں رہتے تھے۔ آپ کے جدِ امجد قاضی ابوالخیر بکھری تھے جو اپنے زمانے کے مشہور علما میں شمار کیے جاتے تھے، بکھر میں سکونت پزیر ہوئے۔جب شاہ بیگ ارغون کے دور میں ٹھٹہ میں غارتگری شروع ہوئی تب قاضی قاضن کے خط سے اہلِ ٹھٹہ کو قیامتِ صغریٰ سے نجات ملی۔ آپ سید محمد مہدی جونپوری کے مرید تھے۔ قاضی قاضن کو والیٔ سندھ شاہ بیگ ارغون نے مشیر خاص مقرر کیا تھا اور شاہ بیگ ارغون کے انتقال کے بعد مرزا شاہ حسن بن شاہ بیگ ارغون نے آپ کو بکھر کا قاضی مقرر کیا اور آپ نے اس عہدہ کو نہایت احتیاط سے نبھایا۔آخر عمر میں اس اہم ذمعداری سے مستعفی ہوئے اور یہ عہدہ آپ کے بھائی قاضی نصراللہ کے حوالے ہوا با رہا حج پر گئے، مدینہ منورہ کے ایام میں شیخ عبد اللہ متقی بن مولانا سعد دربیلوی کی صحبت میں رہے۔آخر عمر میں اس اہم ذمعداری سے مستعفی ہوئے اور یہ عہدہ آپ کے بھائی قاضی نصراللہ کے حوالے ہوا، بارہا حج پر گئے، مدینہ منورہ کے ایام میں شیخ عبد اللہ متقی بن مولانا سعد دربیلوی کی صحبت میں رہے۔

میاں میر کا ایک تعارف یہ بھی ہے کہ وہ سندھ کے ایک بڑے شاعر قاضی قاضن یا قاضی قادن کے نواسے تھے، قاضی قادن سندھ میں سما دور کے شاعر تھے ان کے ہم عصروں میں گرونانک، شیخ فرید، بھگت کبیر، میراں بائی اور سور داس شامل ہیں۔ قاضی قادن کی شاعری شاہ عبدالکریم بلڑی کے رسالے میں بھی ملتی ہے، شاہ عبداللطیف بھٹائی پر بھی قاضی قادن کا کافی اثر دکھائی دیتا ہے، شاہ بھٹائی کی شاعری میں کئی جگہوں پر قاضی قادن کی شاعری کے حوالے موجود ہیں۔

خاندان قاضی کا سیہون

سکینۃ الاولیاء سے اتنا پتہ چلتا ہے کہ حضرت قاضی دتہ سائیں کے مندرجہ ذیل فرزند اور دختران تھیں۔ یعنی پانچ فرزند اور دو دختران۔

1. قاضی بولن

2. قاضی عثمان

3. قاضی طاہر

4. قاضی محمد میر المعروف بہ میاں میر

5. قاضی لطف

6. بی بی جمال خاتون

7. بی بی جمال باری

آپ کا خاندان منصب قضاۃ پر فائز رہا تھا اور علمی میراث کا حامل تھا۔

نسب اور اجداد

حضرت میاں میر کے دادا کا نام زیادہ تر کتب میں قاضی قلندر لکھا ہے جو کسی بھی صورت نام نہیں ہو سکتا البتہ لقب ضرور ہو سکتا ہے جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ قاضی دتہ سیوستانی کے والد مخدوم شرف الدین ہیں جن کا نام راہو تھا ممکن ہے یہی قلندر کے نام سے مشہور ہو گئے ہوں اور جو قاضی شرف الدین کے والد کا نام محمود بتا یا گیا ہے یہ مخدوم محمود بن عبدالفتح ہوں۔جس سے دونوں صوفیاء کا شجرہ نسب کچھ یوں یکجاء کیا جا سکتا ہے جس سے حضرت میاں میر کا شجرہ نسب حل کیا جا سکتا ہے۔

شجرہ نسب سچل سر مست اور حضرت میاں میر رح

آپ دونوں ہستیاں سیہون سے ہیں اور دونوں ہی فاروقی نسب سے تعلق رکھتے ہیں

  پیدائش حضرت میاں میر رح: 1550 عیسوی بمطابق 957 ہجری

پیدائش سچل سرمست رح: 1739 عیسوی بمطابق 1152 ہجری

دونوں ہستیوں کے درمیان 190 سال کا فاصلہ ہے سچل سر مست کے شجرہ نسب میں 39پشتیں ہیں اور کہا جاتا ہے کہ حضرت میاں میر سے اٹھائیس پشتیں حضرت عمر تک پہنچتی ہیں لیکن کسی نے آپ کا نسب سوائے دادا تک بیان کرنے کے مزید نہیں لکھا نا ہی اس بارے تحقیق کی ہے۔

نسب میاں میر

حضرت میاں میر رحمۃ اللہ علیہ کا شجرہ نسب کسی نسب کی کتاب یاں تاریخی کتاب میں درج نہیں ہر جگہ یہی لکھا ہے کہ آپ کے والد کا نام یہ تھا اور آپ کا نسب اٹھائس واسطوں سے حضرت عمر فاروق رضہ سے ملتا ہے جبکہ آپ اور سچل سر مست ہم جدی تھے اس لیے آپ کا شجرہ نسب ممکنہ طور پر وہی ہو گا۔ آ پ کے شجرہ نسب کے نا ہونے کی وجہ آپ کی اولاد نا ہونا ہے اور اس لیے کسی کو اس بارے تحقیق کی ضرورت پیش نہیں آئی ہو گی ممکن ہے ہماری اس پوسٹ کے بعد کوئی ہماری راہنمائی فرما دے۔

نسب میاں میر رح

میاں میر بن قاضی سائیں دتہ سیوستانی بن مخدوم شرف الدین بن مخدوم سلیمان بن مخدوم خواجہ ابو سعید بن مخدوم نور الدین بن مخدوم محمود بن عبدالفتح بن محمد اسماعیل بن محمد یوسف بن سلیمان بن محمد بن احمد بن برہان الدین بن عبدالعزیز بن عبدالوہاب بن عبدالمطلب بن برہان الدین بن احمد بن عبداللہ بن یونس بن محمد بن شیخ اسحاق بن شیخ عبدالطیف بن محمد باقر بن محمد بن شیخ شہاب الدین بن عبدالعزیز بن عبداللہ بن عمر بن خطاب

نسب سچل سر مست رح

سچل سر مست بن عبدالوہاب بن صلاح الدین بن محمد خافظ بن عبدالوہاب بن مخدوم محمد خافظ بن مخدوم شرف الدین بن مخدوم سلیمان بن مخدوم خواجہ ابو سعید بن مخدوم نور الدین بن مخدوم محمود بن عبدالفتح بن محمد اسماعیل بن محمد یوسف بن سلیمان بن محمد بن احمد بن برہان الدین بن عبدالعزیز بن عبدالوہاب بن عبدالمطلب بن برہان الدین بن احمد بن عبداللہ بن یونس بن محمد بن شیخ اسحاق بن شیخ عبدالطیف بن محمد باقر بن محمد بن شیخ شہاب الدین بن عبدالعزیز بن عبداللہ بن عمر بن خطاب

بیعت

والدہ سے سلوک کی ابتدائی تربیت پانے کے بعد آپ نے ان کی اجازت سے سندھ میں سلسلہ قادریہ کے عظیم صوفی حضرت شیخ خضر سیوستانی کے دست مبارک پر بیعت کر لی۔ ان کے فیوض و برکات سے پورا سندھ منور تھا۔ آپ سیوستان کے باہر ایک پہاڑ میں مقیم رہے جہاں ان کا سارا وقت عبادت اور یادالٰہی میں گزرتا تھا۔ (خزینۃ الاصفیائ، ج1، ص136)مرشد حضرت شیخ خضر سیوستانیؒ ریاضت و مجاہدہ میں مصروف رہے تاآنکہ علوم باطنی کی تکمیل پر مرشد نے فرمایا کہ اب تمہارا کام مکمل ہو چکا ہے لہٰذا جہاں چاہو سکونت اختیار کر لو چنانچہ آپ ان کی اجازت سے لاہور تشریف لے آئے اور وصال تک یہیں رہے۔

حضرت میاں میرؒ ، لاہور آمد

آپ پچیس سال کی عمر میں 982ھ/1575ھ میں بعہد جلال الدین اکبر لاہور تشریف لائے لاہور میں قیام کے دوران آپ نے مولانا سعد اللہؒ، نعمت اللہ لاہوریؒ اور مفتی عبدالسلام لاہوریؒ علماء سے علوم و فنون پڑھے۔ شیخ محب اللہ الٰہ آبادیؒ، عبدالسلامؒ آپ کے ساتھ فیض یاب ہوئے۔

برصغیر میں سیاسی و مذہبی حالات

حضرت میاں میرؒ یہ دور جلال الدین اکبر کا عہد حکومت تھا۔ جو 993ھ بمطابق 1585ء سے 1006ھ بمطابق 1598ء تک مختلف بغاوتوں اور شورشوں کو دور کرنے کیلئے لاہور میں رہے۔ ۔ اصلاح احوال کیلئے دیگر علماء و صوفیاء کے ساتھ ساتھ سلسلہ قادریہ کے مشائخ کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ انہوں نے ہندوستان خاص طور پر پنجاب اور سندھ میں اشاعت اسلام میں بڑا کردار ادا کیا۔ خصوصاً سلسلہ قادریہ کے عظیم بزرگ حضرت میاں میر قادری اور ان کے خلفاء کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ خاندان مغلیہ کے حکمران حضرت میاں میر سے عقیدت رکھتے تھے چنانچہ جہانگیر، شاہ جہاں، شہزادہ داراشکوہ، شہزادہ شہریار اور اورنگزیب عالمگیر آپ کے دربار میں حاضری کو سعادت سمجھتے تھے۔ آپ کے زہد و تقویٰ اور توکل و استغناء کے پیش نظر مسلم آبادی کے ساتھ ساتھ غیر مسلم آبادی بھی آپ سے خاص عقیدت رکھتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ گرو ارجن نے جب امرتسر میں دربار صاحب کی تعمیر کا ارادہ کیا تو عقیدت کے طور پر اس کا سنگ بنیاد حضرت میاں میر سے رکھوایا۔ اس طرح مہاراجہ رنجیت سنگھ زندگی بھر آپ کے مزار مبارک پر نذرانہ بھجواتا رہا۔

حضرت میاں میرؒ کا سفر سرہند اور واپسی

لاہور میں قیام کے دوران آپ کے علم و فضیلت کی شہرت ہوئی تو معتقدین اور طالبان علم بکثرت آپ کے پاس کسب فیض کے لئے آنے لگے۔ اسی اثنا میں آپ سرہند تشریف لے گئے۔ وہاں آپ گھٹنے کے درد اور دوسرے عوارض میں مبتلا ہو گئے۔ اس دوران حاجی نعمت اللہ سرہندیؒ نے آپ کی تیمار داری کی۔ صحت یاب ہونے پر فرمایا کہ مال و متاع نہیں جو تمہیں دوں لیکن روحانی دولت سے مالا مال کر سکتا ہوں‘ چنانچہ آپ نے ان پر خصوصی توجہ فرمائی اور ایک ہی ہفتہ میں سلوک کے درجہ کمال پر پہنچا دیا۔ سرہند ایک سال قیام کے بعد آپ واپس لاہور آئے اور آخر عمر تک یہیں مقیم رہ کر دعوت و ارشاد میں مصروف رہے۔ (تذکرہ صوفیائے پنجاب‘ ص 569)

وفات:

 آپ کی وفات 88 سال کی عمر میں بروز منگل 7 ربیع الاؤل 1045ھ بمطابق 1635ء کو ہوئی۔ آپ کے سال وفات پر تمام تذکرہ نگار متفق ہیں لیکن عمر کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ داراشکوہ سکینۃ الاولیاء میں لکھتے ہیں کہ ’’بعض لوگ آپ کی عمر 107 سال ولادت 957ھ اور وفات 1045ھ ہے۔ اس حساب سے آپ کی عمر 88 سال ہوتی ہے۔ (سکینۃ الاولیا‘ ص 118)

مدفن اور مزار:

حضرت میاں میرؒ کو ان کی وصیت کے مطابق مریدین کے ساتھ موضع ہاشم پورہ نزد دارا پور میں دفن کیا گیا۔ موضع ہاشم پورہ 1053ھ میں داراشکوہ کے حکم پر مسمار کر دیا گیا تھا۔آج کل یہ علاقہ ’’میاں میرؒ کے نام سے موسوم ہے۔ مزار مبارک کی تعمیر کے لئے داراشکوہ نے انتظامات کئے مگر وہ قتل ہو گیا تو اس کے بعد اس کی تعمیر اورنگزیب عالمگیر کے ہاتھوں انجام پائی۔

خلفاء مریدین:

آپ کے خلفاء و مریدین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان میں سے جنہوں نے سلسلہ قادریہ کے فیوض و برکات کو عام کیا ان میں حاجی نعمت اللہ سرہندی‘ میاں نتھادیوان‘ حاجی مصطفی سرہندی‘ ملا حامد گجر‘ ملا روحی معروف بہ ابراہیم‘ ملا خواجہ کلاں‘ حاجی صالح کشمیری‘ ملا عبدالغفور شیخ ابوالخیر‘ شیخ اسماعیل‘ قاضی عیسیٰ اور ملا محمد بدخشی سرفہرست ہیں۔

سجادہ نشینان خانقاہ عالیہ

آپ کی صلبی اولاد نہ تھی۔ اس لئے شہزادہ داراشکوہ نے آپ کے وصال کے بعد آپ کی بہن حضرت بی بی جمال خاتون کے صاحبزادے حضرت محمد شریفؒ (1054ھ) کو سندھ سے بلا کر آپ کا سجادہ نشین مقرر کیا اور خانقاہ سے ملحق تمام عمارات و جائیداد ان کے سپرد کی۔ ان کی وفات کے بعد ان کی اولاد سجادہ نشین رہی۔ 1960ء میں محکمہ اوقاف پنجاب نے اس خانقاہ کا انتظام و انصرام اپنی تحویل میں لے لیا۔ محکمہ اوقاف پنجاب کے زیرانتظام مزار مبارک اور مسجد کی تعمیر و تزئین اور زائرین کی سہولت کے لئے مختلف منصوبوں پر کام جاری‘ ساری رہتاہے

سکھ مذہب اور حضرت میاں میر رح

یہی نہیں میاں میر کا ایک تعارف یہ بھی ہے کہ سکھ مت کے 5 ویں گرو ارجن دیو کی ان سے اتنی محبت و عقیدت تھی کہ اکثر ان کے پاس آیا کرتے تھے، ارجن دیو نے ہی میاں میر سے متاثر ہو کر ان سے امرتسر میں ہری مندر صاحب کا سنگ بنیاد رکھنے کی درخواست کی تھی، جو میاں میر نے قبول کی اور گولڈن ٹیمپل کی جگہ چار اینٹیں رکھ کر اس مذہبی عبادت گاہ کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔یہ سکھ مت کے پیروکاروں کی محبت اور عقیدت کا تقاضا ہے کہ آج بھی لاہور میں میاں میر کے سالانہ عرس پر مسلمانوں کے ساتھ سکھ یاتری بھی بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔میاں میر کا مقبرہ بھی گولڈن ٹیمپل کی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے، چاروں اطراف مسجد، بیٹھک، مدرسہ اور قبرستان ہیں جبکہ بیچ میں مزار ہے۔اس مقبرے کے احاطے میں کبوتروں کو دانہ ڈالنے کے لیے ایک مخصوص جگہ بنائی گئی ہے۔ درگاہ پر کبوتروں کی ایک بڑی تعداد اڑتی اور دانہ چگتی ہے، درگاہ پر آنے والے عقیدت مند بھی اپنے ساتھ دو چیزیں ضرور لاتے ہیںِ، درگاہ کے لیے پھول اور کبوتروں کے لیے دانہ۔

یہ وہ میاں میر ہیں جنہوں نے جہانگیر سے تحفے لینے سے انکار کیا تھا، شاہ جہاں میاں میر کی اجازت کے بغیر ان کی خانقاہ میں داخل نہیں ہو پاتا تھا، لیکن ارجن دیو پر مغلیہ دور میں ہوئے مظالم کو دیکھ کر میاں میر نے یہ پیشکش کی کہ ’اگر آپ چاہیں تو میں آپ کی جان بخشی کے لیے مغل بادشاہ سے بات کروں،’ لیکن ارجن دیو نے کہا کہ میں رضا پر راضی ہوں، مجھے کچھ نہیں چاہیے، میرے بیٹے کی بخشش کے لیے کچھ کریں۔’ارجن دیو کے بیٹے گرو ہرگوبند اپنی جوانی میں میان میر صاحب کے پاس آتے رہے، اس کے بعد پھر ہرگوبند کے بیٹے تیغ بہادر کی بھی بچپن میں میاں میر سے ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ اس طرح میاں میر اور ارجن دیو کی تین پشتوں کی تعلق داری بھی سکھ مت کے پیروکاروں کی میاں میر سے عقیدت مندی کا سبب ہے۔یہی نہیں بلکہ اس وقت کے مغل حکمران اور ان کے اہل و عیال میاں میر محمد کی پرہیزگاری اور تقویٰ کے معترف تھے۔ داراشکوہ کی کتاب سکینۃالاولیاء میں میاں میر کی زندگی، ملاقاتوں، عبادات، کرامات، اور ان کی رحلت کا تفصیلی ذکر ملتا ہے۔ایک صوفی بزرگ کی شاگردی کا دارا شکوہ پر یہ اثر ہوا کہ آگے چل کر وہ اور ان کی بہن جہاں آرا بیگم میاں میر کے جانشین ملا شاہ بدخشی کے مرید بن گئے۔

دارا شکوہ نے جہانگیر اور میاں میر کی ملاقات کا قصہ بھی اپنی کتاب سکینتہ الااولیاء میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ جہانگیر نے اپنے ایک پیامبر کے ذریعے میاں میر کو بلاوا بھیجا۔ جس پر میاں میر نے پہلے تو انکار کر دیا لیکن دوبارہ شہنشاہ جہانگیر نے درخواست کی کہ آپ سے ملنا ضروری ہے، اپنے غریب خانے پر ہم ملاقات کے منتظر رہیں گے۔

شہزادہ دارا شکوہ کی روایت کے مطابق جہانگیر بادشاہ نے جب تخلیے میں حضرت میاں میر کی گفتگو سنی تو ان کے دل پر بہت اثر ہوا اور میاں میر صاحب کو عرض کی کہ ’’میں ملک اور دنیا چھوڑ کر فقیر بننا چاہتا ہوں میرے دل میں اب سنگ و جواہر یکساں ہیں۔‘‘ جس پر میاں میر نے جواب میں فرمایا کہ ’’اگر ایسا ہے تو آپ صوفی ہیں۔” جہانگیر نے کہا کہ، “مجھے اپنا خادم بنا لیں اور خدا کی راہ دکھائیں۔” جس پر میاں میر نے جواب دیا کہ ’’تو مخلوقِ خدا کے لیے اچھا حکمران ہے، اللہ پاک نے تجھے اس عظیم کام پر مامور کیا ہے، کوئی اور شخص جو خلق خدا کا اتنا خیر خواہ، حلیم اور سخی ہو اسے بادشاہ بنا دو، ہم آپ کو فقیر بنا لیں گے۔” یہ بیان سکینۃ الاولیاء کے صفحے 46 میں دیا گیا ہے۔

میاں میر کے لیے مشہور تھا کہ انہوں نے میل ملاقاتوں سے پرہیز کر رکھا تھا، خاص طور پر اپنی ذات میں غرق حاکموں، شہر کے والیوں اور کوتوالوں سے ملنے سے بچنے کے لیے انہوں نے اپنی خانقاہ کے دروازے پر چوکیدار اور پہرے دار کھڑے کر رکھے تھے۔ ایک دن پہرے داروں نے ملاقات کے ممتنی مغل شنہشاہ شاہ جہاں کو خانقاہ کے باہر روک لیا۔ مغلوں کے عروج کے دور میں جب رعایا بادشاہ کے سامنے سر بسجود ہوا کرتی ہو، کوئی اس طرح بادشاہ کو اپنے گھر کے باہر روکنے کا تصور بھی کیسے کر سکتا ہے۔ شاہ جہاں اجازت ملنے کے بعد اندر گئے تو میاں میر کو شکایت کردی کہ:

شاہ جہاں کو دنیا کا غریب اور فقیر کہنے والا بھی کوئی اور نہیں میاں میر ہی تھا، دکن پر فوج بھیجنے کا فیصلہ کر بیٹھے شاہ جہاں نے میاں میر سے کامیابی کی دعا کے لیے کہا تو میاں میر نے اپنے ایک مرید کا دیا ہوا سکہ شاہ جہاں کے ہاتھ پر رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ دنیا کے تمام غربا سے غریب شخص ہے، اتنی بادشاہی کے باوجود وہ دکن پر چڑھائی چاہتا ہے، اس کی بھوک، اس آگ کی طرح ہے جو لکڑیاں ڈالنے سے اور تیز ہوتی ہے۔ اس بھوک نے اسے ضرورت مند اور بھکاری بنا دیا ہے۔‘‘

سکھ مت کے پانچویں گرو، گرو ارجن دیو جنہوں نے سکھوں کی سب سے مقدس کتاب ’’ گرنتھ صاحب‘‘ مرتب کی ( یہ کتاب اس سے پہلے سینہ بہ سینہ چلی آرہی تھی) نے جب امرتسر میں واقع ایک تالاب پر سکھوں کے سب سے بڑے گرودوار ‘‘گولڈن ٹیمپل’’ کی تعمیر کا ارادہ کیا تو انھیں سمجھ نہ آتی تھی کہ اس کا سنگ بنیاد کون رکھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ تعمیر دو سے تین برس تک رکی رہی، آخر ایک روز گروارجن دیو جی جب سو کر اٹھے تو انھوں نے لاہور جانے کا پروگرام بنایا، گرو کے دیگر ساتھی پہلے تو حیران ہوئے مگر گرو کے حکم کے آگے انکار کی کسے مجال تھی۔

آخر گروارجن دیو جی لاہور پہنچ گئے اور سیدھے حضرت میاں میر صاحب ؒکی خدمت میں پیش ہوئے اور درخواست کی کہ وہ اس کی بنیاد اپنے ہاتھوں سے رکھیں، چنانچہ حضرت میاں میر ؒامرتسر تشریف لے گئے اور 13 جنوری 1588ء کو وہاں اینٹیں لگا کر سکھوں کے مشہور مقدس ترین گولڈن ٹمپل کا سنگ بنیاد رکھا۔

حوالہ جات

خزینۃ الاصفیاء

میاں میر پیر غلام دستگیر

حضرت میاں میر سنگھ براہماں

سکینۃ الاولیاء دارالشکوہ

گلشن قادری

میاں میر محمد دین

بادشاہ نامہ

مقالات الشعراء

تخفۃ الکرام سید میر علی

ترخان نامہ سید میر محمد

تاریخ سندھ سید ابو ظفر ندوی

تاریخ سندھ محمد عبدالحلیم

فتح نامہ سندھ چچ نامہ نبی بخش خان

تذکرہ صوفیائے سندھ اعجاز الحق قدوسی

تاریخ معصومی سید محمد معصومی

جنت سندھ جی ایم سید

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment