حضرت عمر فاروق رضي اللّٰه عنه اور ایک شرابی کا واقعہ 

Rate this post

حضرت عمر فاروق رضي اللّٰه عنه اور ایک شرابی کا واقعہ

(سچی توبہ)

ایک دن حضرت عمر فاروق کہیں جارہا تھے

کہ آپ کی نظر ایک شرابی پر پڑی، شرابی کے ہاتھ میں شراب کا بوتل تھا،

جوہی شرابی نےآپ کو دیکھا، تو اس نے شراب

 کا بوتل پہلے ایک کپڑے میں بند کیا اور پھر بغل میں

 لے کر چلنے لگا، تو آپ نے

 اسے آواز دیکھ کر بولایا، کہ تمھارے بغل

میں کیا ہے، شرابی نے کہا کہ اس میں تو دودھ ہے، آپ نے کہا کہ دودھ ہے تو تم نے اسے بغل میں کیوں بند کیا، شرابی نے کہا کہ چونکہ دودھ گرم ہے، اس لئے بغل میں لیا ہے تاکہ ٹھنڈا نہ ہو جائے،

 تو آپ نے کہا کہ کھول اسے جونہی شرابی نے وہ بوتل بغل سے نکالا تو واقعی میں وہ دودھ بن گیا تھا ۔

آپ ؓ یہ سارا ماجرا دیکھ کر شرابی سے پوچھا۔ کہ تم نے ایسا کیا کیا، تو شرابی کہنے لگا کہ سچ بتاتا ہوں لیکن شرط یہ کہ سزا تو نہیں دو گے، آپؓ نے کہاسچ بتاو سزا نہیں دوں گا، تو شرابی نے بتایا کہ

 جونہی آپؓ نے مجھے بلایا تو میں نے اپنے رب سے کہا

 کہ اے اللّٰه تو ہی آج میرا پردہ رکھ مجھے حضرت عمر فاروق ؓ کے سامنے شرمندہ نہ کر میں آئندہ کے لئے توبہ کرتا ہو۔۔۔⁦❤️⁩

پوسٹ کا مقصد یہی ہے۔ کہ اگر بندہ سچے دل سے توبہ کریں۔تو ہمارا رب بڑا کریم زات ہے۔یااللّٰه ہمیں سچے دل سے توبہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین ثمہ آمین

(مکاشفت القلوب ص27)🌷

سچی توبہ

سچی توبہ

کرنے والے کا آنسو دوزخ کی آگ کو بجھانے کی طاقت رکھتا ہے

توبہ

ایک درخت کی طرح ہے، جس کی جڑیں دل میں ہوتی ہیں۔ اس کی شاخیں ہونٹوں پر ہوتی ہیں۔ جب ندامت کی آنکھ سے آنسو گرما کر آنکھوں سے گِر جاتے ہیں تو اس وقت توبہ کے درخت کی شاخیں کھل اُٹھتی ہیں۔ مایوسی مسلمان کو زیب نہیں دیتی، کیونکہ اللّٰہ ہر وقت توبہ قبول کرتا ہے۔

توبہ

یہ اچھا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ سچے دل سے اپنے رب سے توبہ کرکے اپنی زندگی میں آگے بڑھ جائے، سچی توبہ کے بعد پھر رب تو بھول جاتا ہے لیکن کبھی کبھی بندہ اپنے پچھلے گناہ بھول نہیں پاتا

کچھ پچھتاوے انسان کو اندر ہی اندر کھاتے جاتے ہیں۔

کوئی غلطی یا آپ کا کوئی گناہ ساری زندگی آپ کا پیچھا کرتا رہتا ہے اور آپ کی ماضی کی کوتاہیاں ، حال اور مستقبل میں آپ کوصحیح سے جینے بھی نہیں دیتیں۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ آپ کے اپنے ہاتھوں کا کیا ہوا ہے۔ ایسے میں آپ کی کیفیت کچھ یوں ہو جاتی ہے کہ اپنے رب سے گلہ بھی نہیں کر پاتے بلکہ چپ چاپ اس سزا کے ختم ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں،لیکن اس سب میں سزا ختم ہو نہ ہو آپ اندر ہی اندر ختم ہو چلے جاتے ہیں ۔

اکثر ہمارے ذہنوں میں خیال آتا ہے،اگر ہمیں اپنی موت کا پہلے سے پتہ چل جائے تو ہم برے اعمال سے سچی توبہ کر لیں۔

سچی توبہ کے شرائط:

سچی توبہ کے لئے کچھ شرائط ہیں… صرف زبان سے توبہ توبہ کہنا کافی نہیں ہے… ان چند چیزوں کا لحاظ رکھ کر توبہ کریں گے تو وہ توبہ ان شاء الله قبول ہوگی۔

١۔ اخلاص…

یعنی توبہ اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے کی جائے… بہت سے لوگ صرف اس لئے توبہ کرتے ہیں کہ… دنیا میں اُن پر کوئی مصیبت نہ آجائے۔

٢۔ ندامت…

یعنی اپنے گناہ پر نادم اور شرمندہ ہونا۔

٣۔ اقلاع… یعنی اُس گناہ کو چھوڑ دینا۔

٤۔عزم…

یعنی آئندہ گناہ نہ کرنے کی مضبوط نیت رکھنا۔

٥۔وقت…

یعنی موت کی سکرات شروع ہونے سے پہلے پہلے تو بہ کر لینا۔

نزع

ہم سب کو چاہئے کہ…

ان پانچ باتوں کا لحاظ رکھ کر اپنے تمام گناہوں سے آج ہی توبہ کرلیں کل شاید موقع اور توفیق نہ ملے!!!

تو کیا کرونا کا خوف پھیلنے کے بعد ہم نے قبضہ کی ہوئی زمینیں اور پلاٹ حقداروں کو واپس کر دیے؟

کیا ہم نے اشیاء میں ملاوٹ،ناپ تول میں کمی،ذخیرہ اندوزی،کمزوروں پر ظلم،دوسروں پر حسد،اپنی زبان اور ہاتھ کے شر سے دوسروں کی جان،مال،عزت و آبرو کو محفوظ رکھا؟

لوگوں کو قتل کرو، چوری کرو، دل کھول کر شراب پیو،مظلوموں پر ظلم کرو،ناحق زمینوں پر قبضے کرو،

سودکھاؤ، یتیم مسکین کا حق کھا کر بنگلے بناؤ، منافقت کرو، جھوٹ بولو، لوگوں پر کالے علم کرو، ان کے گھروں میں جھگڑے ڈالو، گھر برباد کرو ، باقی سارے گناہ کرو.

پر اصلی گھر یہ ہی ہے اور یاد رکھنا جو سزا یہاں ملے گی تم سوچ بھی نہیں سکتے۔😥

قبر

اس لئے اب بھی موقع ہے باز آجاؤ اور سچی توبہ کرلو، ورنہ انجام بہت برا ہوگا.۔ اللہ تعالیٰ ھماری قبر اور حشر کی منزلیں آسان فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین

میں بھی سوچ رہا ہوں،آپ بھی سوچیے گا۔

اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو بھی سچی توبہ کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

آمین یاربُ العالمین

محمد عدنان چنڈہ بندیالوی

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

1 thought on “حضرت عمر فاروق رضي اللّٰه عنه اور ایک شرابی کا واقعہ ”

Leave a comment