حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل و مناقب

Rate this post

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے جب دعوت اسلام دی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جن کی عمر دس سال کے لگ بھگ تھی اور آپ نے فوراً اسلام قبول کرلیا تھا ۔ ایک انصاری شخص ابو حمزہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ ایمان لائے ۔ (جامع الترمذی، رقم: 373

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حجفہ میں غدیر خم کے مقام پر تھے ، جب نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم باہر تشریف لائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فوراً فرمایا : من کنت مولاه فعلی مولاه ۔

ترجمہ : جس کامیں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے ۔ (ابن ابی شيبه، المصنف، رقم:12121)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا میں شہرِ علم ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں ۔ پس جو کوئی علم کا ارادہ کرے وہ دروازے کے پاس آئے ۔ (المعجم الطبرانی جلد 11 صفحہ 55)

اسی طرح ایک اور روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: میں حکمت کا گھر ہوں اور علی رضی اللہ عنہ اس کا دروازہ ہیں ۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب، 5: 637)

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّمنے فرمایا: علی قرآن کے ساتھ اور قرآن علی کے ساتھ ہے ۔ یہ دونوں (اس طرح جڑے رہیں گے اور) جدا نہیں ہوں گے حتی کہ حوض کوثر پر مل کر میرے پاس آئیں گے ۔ (المستدرک للحاکم، 3: 121)

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا : حسن و حسین رضی اللہ عنہما جنت کے جوانوں کے دو سردار ہیں اور ان کے باپ (علی رضی اللہ عنہ) ان دونوں سے بہتر ہیں ۔ (ابن ماجه، 1: 44)

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے 11586 احادیث مروی ہیں ۔ فقہ اور اجتہاد میں آپ رضی اللہ عنہ کو خاص مقام حاصل تھا ۔ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ چار سال نو ماہ تک منصب خلافت پر فائز رہے

حضرت علی کی شہادت کا واقعہ

۔ 19 رمضان المبارک 40 ہجری 660 عیسوی کو جب حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ فجر کی نماز کوفہ کی مسجد میں پڑھارہے تھے تو ایک خارجی عبدالرحمن ابن ملجم ملعون آپ پر زہر آلود خنجر سے حملہ آور ہوا ۔ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو کئی زخم آئے جس کے نتیجے میں 21 رمضان المبارک کو جام شہادت نوش فرمایا ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولادت

خلیفہ چہارم جانشین رسول وزوج بتول حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ”ابوالحسن”اور”ابو تراب”ہے۔ آپ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے چچا ابو طالب کے فرزند ارجمند ہیں ۔ عام الفیل کے تیس برس بعد جبکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی عمر شریف تیس برس کی تھی ۔ جمعہ کے دن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے ۔ آپ کی والد ہ ماجدہ کا نام حضرت فاطمہ بنت اسد ہے (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) آپ نے اپنے بچپن ہی میں اسلام قبول کرلیا تھا اورحضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے زیرتربیت ہر وقت آ پ کی امدادونصرت میں لگے رہتے تھے ۔ آپ مہاجرین اولین اورعشر ہ مبشرہ میں اپنے بعض خصوصی درجات کے لحاظ سے بہت زیادہ ممتاز ہیں۔ جنگ بدر، جنگ اُحد، جنگ خندق وغیرہ تمام اسلامی لڑائیوں میں اپنی بے پناہ شجاعت کے ساتھ جنگ فرماتے رہے اورکفار عرب کے بڑے بڑے نامور بہادر اور سورما آپ کی مقدس تلوارِ ذُوالفقار کی مار سے مقتول ہوئے ۔ امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد انصار و مہاجرین نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کر کے آپ کو امیرالمؤمنین منتخب کیا اور چار برس آٹھ ماہ نو دن تک آپ مسندِ خلافت کو سرفراز فرماتے رہے ۔ ۱۷ رمضان ۴۰ھ؁ کو عبدالرحمن بن ملجم مرادی خارجی مردود نے نماز فجر کو جاتے ہوئے آ پ کی مقدس پیشانی اورنورانی چہرے پر ایسی تلوار ماری جس سے آپ شدیدطور پر زخمی ہوگئے اور دودن زندہ رہ کر جام شہادت سے سیراب ہوگئے اوربعض کتابوں میں لکھا ہے کہ ۱۹ رمضان جمعہ کی رات میں آپ زخمی ہوئے اور ۲۱ رمضان شب یکشنبہ آپ کی شہادت ہوئی ۔ آپ کے بڑے فرزند ارجمند حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو دفن فرمایا ۔ (تاریخ الخلفاء، وازالۃ الخفاء)

 حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قبر والوں سے کلام

قبروالوں سے سوال و جواب

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں گئے تو آپ نے قبروں کے سامنے کھڑے ہوکر باآواز بلند فرمایا کہ اے قبروالو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! کیا تم لوگ اپنی خبریں ہمیں سناؤ گے یا ہم تم لوگوں کو تمہاری خبریں سنائیں؟ اس کے جواب میں قبروں کے اندر سے آواز آئی: ”وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ” اے امیر المؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ہی ہمیں یہ سنائيے کہ ہماری موت کے بعد ہمارے گھروں میں کیا کیا معاملات ہوئے ؟ حضرت امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے قبر والو! تمہارے بعد تمہارے گھروں کی خبر یہ ہے کہ تمہاری بیویوں نے دوسرے لوگوں سے نکاح کرلیا اور تمہارے مال ودولت کو تمہارے وارثوں نے آپس میں تقسیم کرلیا اور تمہارے چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہوکر دربدر پھر رہے ہیں اورتمہارے مضبوط اور اونچے اونچے محلوں میں تمہارے دشمن آرام اورچین کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں ۔ اس کے جواب میں قبروں میں سے ایک مردہ کی یہ دردناک آواز آئی کہ اے امیرالمؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہماری خبریہ ہے کہ ہمارے کفن پرانے ہوکر پھٹ چکے ہیں اورجو کچھ ہم نے دنیا میں خرچ کیا تھا اس کو ہم نے یہاں پالیا ہے اورجو کچھ ہم دنیا میں چھوڑآئے تھے اس میں ہمیں گھاٹا ہی گھاٹااٹھانا پڑا ہے ۔ (حجۃ اللہ علی العالمین ج۲،ص۸۶۳)

اس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو یہ طاقت وقدرت عطافرماتاہے کہ قبر والے ان کے سوالوں کا باآواز بلنداس طرح جواب دیتے ہیں کہ دوسرے حاضرین بھی سن لیتے ہیں ۔ یہ قدرت وطاقت عام انسانوں کو حاصل نہیں ہے۔ لوگ اپنی آوازیں تو مردوں کو سنا سکتے ہیں اورمردے ان کی آوازوں کو سن بھی لیتے ہیں مگر قبر کے اندر سے مردوں کی آوازوں کو سن لینا یہ عام انسانوں کے بس کی بات نہیں ہے ،بلکہ یہ خاصا ن خدا کا خاص حصہ اور خاصہ ہے جس کوان کی کرامت کے سواکچھ بھی نہیں کہاجاسکتااوراس روایت سے یہ بھی پتاچلا کہ قبروالوں کا یہ اقبالی بیان ہے کہ مرنے والے دنیا میں جو مال ودولت چھوڑ کر مرجاتے ہیں اس میں مرنے والوں کے لیے سر اسر گھاٹا ہی گھاٹا ہے اورجس مال ودولت کو وہ مرنے سے پہلے خدا عزوجل کی راہ میں خرچ کرتے ہیں وہی ان کے کام آنے والاہے۔

محمد عدنان چنڈہ بندیالوی

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment