حضرت علامہ مولانا مفتی تقدس علی خان رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

Rate this post

نام ونسبمفتی تقدس علی خان بن الحاج سردار ولی خاں بن مولانا ہادی علی خاں بن مولانا رضا علی خاں (علیہم الرحمہ )۔آپ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کے چچا زاد بھائی کے فرزندِ ارجمند تھے،اس رشتے سے آپ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے بھتیجے ہوتے ہیں۔

مفتی تقدس علی خان نواسہ اعلیٰ حضرت

آپ کی نانی صاحبہ کی بہن اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی زوجہ محترمہ تھیں۔اس لئے آپ پاکستان میں “نواسۂ اعلیٰ حضرت”کی حیثیت سے مشہور ہیں۔

مفتی تقدس علی خان کی ولادت

تاریخِ ولادت:ماہِ رجب المرجب/1325ھ،بمطابق اگست/1907ء میں بمقام آستانہ عالیہ رضویہ محلہ سوداگران بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔ مولانا حسن رضا خان نے آپ کا تاریخی نام تقدس علی خاں، 1325ھ استخراج فرمایا۔

مفتی تقدس علی خان کا تحصیل علم

تحصیلِ علم: آپ نے ابتدائی تعلیم مولانا خلیل الرحمٰن بہاری، مولانا ظہور الحسن فاروقی مجددی (صدر مدرس مدرسہ عالیہ رام پور ودارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف) اور ان کے صاحبزادے مولانا نور الحسین رامپوری سے حاصل کی۔

متوسط کتب درس نظامی برادر زادہ اعلیٰ حضرت مولانا حسنین رضا خاں قدس سرہٗ سے پڑھیں اور اعلیٰ تعلیم حضرت مولانا رحم الٰہی،

استاد العلماء مولانا عبدالمنان المعروف صاحب حق ( شہباز گڑھی مردان) مولانا عبدالعزیز خاں محدث بریلی ، اور حضرت صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی سے حاصل کی اور تکمیل حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں رحمۃ اللہ سےکی۔

1345ھ میں آپ نے دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف سے سند فراغت حاصل کی۔

مفتی تقدس علی خان کا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان سے شرف تلمذ

اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خاں بریلوی سے آپ نے شرح جامی کا خطبہ پڑھا۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ سے بالواسط شرف تلمذ حاصل کرنے کے لیے مدارس کے منتہی طلباء آپ سے شرح جامی کا خطبہ پڑھتے تھے،جن میں محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رضوی رحمۃ اللہ نے بھی ہیں ۔

مفتی تقدس علی خان بیعت وخلافت:۔

آپ سات سال کی عمرمیں 1332ھ/1914ء کو اعلیٰ حضرت سےسلسلہ قادریہ رضویہ میں بیعت ہوئے، چنانچہ آپ کے ایک مکتوب میں ہے :مجھے اعلیٰ حضرت قبلہ سے 1332ھ میں ارادت حاصل ہوئی ۔

ان کا دستخط شدہ شجرہ میرےپاس محفوظ ہے۔ بعدمیں شرح جامی کا خطبہ پڑھ کرشرفِ تلمذبھی حاصل کیا ،

جب اعلیٰ حضرت کا وصال ہوا تو آپ پندرہ سال کے تھے،خاندان کے دیگرافراد کے ساتھ مل کرتجہیز وتکفین میں شریک ہوئے۔ بعض کتب میں آپ کو خلیفۂ اعلیٰ حضرت لکھا گیاہے۔

لیکن یہ بات درست نہیں ، آپ مریدوتلمیذِاعلیٰ حضرت ضرورہیں مگر خلیفہ اعلیٰ حضرت نہیں ،صاحبِ فوز المقال فی خلفائے پیر سیال حاجی مریداحمدچشتی صاحب نےخلفائے اعلیٰ حضرت پر کام کے دوران مفتی تقدس علی خان صاحب کو کئی مکتوب بھیجے ،ان کی معلومات میں جوجوخلفائے اعلیٰ حضرت تھے ان کے نام مفتی صاحب کوروانہ کئے۔

اس فہرست میں آپ کا نام100نمبرمیں تحریرتھا،آپ نے جن ناموں کے بارے میں فرمایا کہ مندرجہ ذیل افرادکو (اعلیٰ حضرت قبلہ سے)خلافت نہیں ملی ،اس میں اپنا نام بھی شامل فرمایا۔

مفتی تقدس علی خان کو خلافت کس سے ملی؟

حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا خان علیہ الرحمہ نے سلسلسہ عالیہ قادریہ میں خرقۂ خلافت عطا فرمایا ۔

اور مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی آپ کو خلافتیں عطا کیں۔

قطب مدینہ شیخ المشائخ حضرت مولانا ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ نے بھی اجازت وخلافت سے سرفراز فرمایا۔

مفتی تقدس علی خان نواسہ اعلیٰ حضرت 

مفتی تقدس علی خان سیرت وخصائص:۔

آپ کےفضائل و خصائل کیا بیان کیے جائیں۔آپ بلند پایہ مفسر محدث اور فقیہ تھے۔شہرت وناموری سے کوسوں دور ،اور صلہ وستائش سے ہمیشہ بے نیاز تھے۔دینِ متین کی خدمت میں ہمیشہ سرشار رہتے۔

سادہ لباس،شگفتہ مزاج ،اعلیٰ گفتار،سراپا شفقت و کرم،سراپا اخلاص و محبت،علم دوست،الغرض آپ صفاتِ حسنہ کا ایک حسین گلدستہ تھے۔آپ سچے عاشقِ رسول ﷺ تھے۔

ساری زندگی درس وتدریس ،وعظ ونصیحت ،تصنیف وتألیف کے ذریعے اسی عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے چراغ ہر سوروشن کیے۔

مفتی تقدس علی خان تصنیف وتالیف:۔

مفتی تقدس علی خان صاحب کی زیادہ توجہ درس وتدریس کی جانب تھی اس کے باوجود آپ نے تصوف کی اہم کتاب مکاشفۃ القلوب کا بامحاورہ اورسہل ترجمہ کیا ۔

مفتی صاحب نے کچھ کتابوں پر تقاریظ وتصدیقات تحریرفرمائیں۔آپ کی بعض تصانیف ہندوستان میں رہ گئیں یا ضائع ہوگئیں۔

یہی عشقِ مصطفیٰ ﷺ آپکا عقیدہ ،مسلک و مذہب تھا۔آپکی تمام حیات عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے عبارت تھی ،اور سفرِ آخرت بھی اسی کا آئینہ دار تھا،کہ وقتِ رخصت آخری غذامدینہ شریف کی کھجور اور آبِ زمزم تناول فرمایا،زبان پر درود سرورِ عالم ﷺ جاری تھا کہ واصل بحق ہوئے۔

مفتی تقدس علی خان کی وصال

وصال:بروز پیر3/رجب المرجب 1408ھ،بمطابق 22فروری/1988،بوقت12:10 منٹ پر اس دارِفنا سے رخصت ہوئے۔

آپ کا نمازجنازہ آرام باغ مسجدکےباہر مفتی اعظم پاکستان مفتی وقارالدین قادری نےپڑھایا۔

نمازجنازہ میں لوگوں کی کثر ت تھی ، آپ کی تدفین آپ کی وصیت کے مطابق پیرجوگوٹھ میں ہونی تھی اس لیےآپ کا جسدمبارک المصطفی ایمبولینس میں رکھا گیا۔

احباب بسوں میں تھے ،یہ قافلہ صبح پیرجوگوٹھ پہنچ گیا ،شہرمیں کاروبار اوردکانیں بند ہوگئیں ،لوگ نمازجنازہ کے لیے امنڈپڑے۔

صبح دس بجےاستاذالعلما مفتی محمد رحیم کھوسہ سکندری صاحب نے نمازجنازہ پڑھائی۔ ڈاکٹرپروفیسرمجیداللہ قادری صاحب تحریرفرماتے ہیں: فقیرنے اپنی آنکھوں سےدیکھا کہ 24گھنٹے گزرنے کے باوجودآپ کےجسم مبارک پر تازگی رہی،اورچہرہ مبارک چمکتارہااورمسکراتارہا۔

تدفین پیرجوگوٹھ قبرستان میں اپنے والد،بیٹےاور بیٹیوں کی قبورسے متصل کی گئی ،

مفتی تقدس علی خان کا عرس مبارک

ہرسال 3رجب کو آپ کا عرس ہوتا ہے ۔

مفتی تقدس علی خان والدین اور اولاد:۔

آپ کے گھر چار بیٹے مصدق علی خان، محمد اختر حامد خان، اعزاز ولی خان، منور علی خان پیدا ہوئے۔ سب کے سب بچپن یا لڑکپن میں انتقال کر گئے۔ اسی طرح 4 صاحبزادیاں حلیمہ بی بی، ریحانہ بی بی، عذرا بی بی اور فاطمہ بی بی پیدا ہوئیں لیکن وہ بھی جلد سب وفات پا گیئں، جبکہ اپ کے والدین نے طویل عمر پائی اور والدہ کا انتقال 1967، زوجہ کا 1968 اور والد کا 1978ء میں ہوا۔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment