حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالی عنہا کی شان انس و ناز

Rate this post

حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالی عنہا کی اوپر وہابیہ کا امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ پہ ایک بڑا مشہور اعتراض ہے جسے وہابیہ نے اپنی کئی کتب میں نقل کیا ہے ملفوظات کی ایک عبارت ملاحظہ فرمائیں 

“ام المومنین صدیقہ جو الفاظ شان جلال میں ارشاد کر گئی ہیں پس دوسرا کہے تو گردن ماری جائے

( ملفوظات حصہ 3 میں 234 احمد رضا)

اس اعتراض کو مولوی مجاھد نے ہدیہ بریلویت ص 198 پہ نقل کر کے اسے حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالی عنہا کی توہین قرار دیا

اسی عبارت کو جب امام المحرفین خالد مانچسٹروی نے نقل کیا تو دل کی بھڑاس کچھ یوں نکالی

“ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالی عنہا تمام مسلمانوں کی ماں ہیں لیکن حضور کی توبیوی تھیں اور آپ کے حضور انتہائی مودب آپنے حضور کے سامنے کبھی کوئی ایسا کام نہیں کہا جس میں گستاخی ہو اور وہ شان اقدس کے منافی ہو یہ تصور کہ آپ حضور سے جلال کیساتھ پیش آتی تھیں آپ پر ایک تہمت اور حضور اور حضرت ام المومنین کو دونوں کی گستاخی ہے مگر افسوس مولوی احمد رضا خان کہتے ہیں کہ آپ حضور کی شان میں ایسی باتیں بھی کہ جاتی تھیں جن پر شرعا سزائے موت دی جاسکے ۔

آگے عبارت نقل کرنے کے بعد پھر لکھتا ہے:

“یہ فیصلہ اب آپ ہی کریں کہ کیا کوئی مسلمان ام المومنین کی شان میں اسقسم کی گستاخی کرسکتا ہے استغفر اللہ العظیم صحابہ کرام اور امہات المومنین کے بارے میں بریلوی مذہب کیا ہے ؟ ہم اس کی مزید تفصیل میں نہیں جاتے حضرت عائشہ صدیقہ کی شان میں گئی اس گستاخی سے دل زخمی ہے اور بات کو آگے لے جانے سے دل لرزتا ہے اور قلم تھر تا ہے “

مطالعہ بریلویت ج 2 ص 343

یہاں تک آپ لوگوں نے ان کا اعتراض ملاحظہ فرمایا اب جواب بھی ملاحظہ فرمائیں

الجواب بعون فضل الوہاب

وہابیہ دیابنہ کا یہ سوقیانہ اعتراض اپنے اکابرین کے کفریات پہ پردہ ڈالنے کے لئے امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے ملفوظات کی یہ عبارت کچھ یوں ہے :

“اندھوں نے شان عبدیت دیکھی ہے شان محبوبیت نہیں دیکھی ام المؤمنين صديقة رضی اللّٰہ تعالی عنہا جو الفاظ شان جلال میں ارشاد کر گئی ہیں دوسرا کہے تو گردن ماری جائے “

اب یہاں ایک خاص شان ، شان محبوبیت کا تذکرہ کرتے ہوئے امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے یہ بات ارشاد فرمائی

اب ہم زرا دیکھتے ہیں کہ مانچسٹروی کے اعتراضات میں کتنی حقیقت ہے

سچ کہتے ہیں دروغ گو را حافظہ نباشد

اب یہاں مانچسٹروی بغض امام اہلسنت میں ایسے جلے کہ ان کو سمجھ نہ آئی کہ وہ کیا لکھ رہے ہیں اپنی عوام کو عقیدت کے نام پہ لوٹنے میں کیسے مصروف عمل تھے کہ ان کو اپنا لکھا کہا یاد نہ رہا یا اپنے بڑوں کو لکھا کہا یاد نہ رہا امام اہلسنت پہ اعتراض کرتے تو جناب موصوف نے لکھا کہ :

“ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالی عنہا تمام مسلمانوں کی ماں ہیں لیکن حضور کی توبیوی تھیں اور آپ کے حضور انتہائی مودب آپنے حضور کے سامنے کبھی کوئی ایسا کام نہیں کہا جس میں گستاخی ہو اور وہ شان اقدس کے منافی ہو یہ تصور کہ آپ حضور سے جلال کیساتھ پیش آتی تھیں آپ پر ایک تہمت اور حضور اور حضرت ام المومنین کو دونوں کی گستاخی ہے مگر افسوس مولوی احمد رضا خان کہتے ہیں کہ آپ حضور کی شان میں ایسی باتیں بھی کہ جاتی تھیں جن پر شرعا سزائے موت دی جاسکے “

اب گویا کہ مانچسٹروی میاں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایسا کوئی واقعہ تھا ہی نہیں یہ نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالی عنہا کی شدید توہین و گستاخی ہے

اب ہم ان کو انہی کا آئینہ دیکھاتے ہیں یہی مانچسٹروی اپنی دوسری کتاب “الآثار الاحسان” میں

“سکر” کے عنوان سے حضرت فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالی عنہ اور سیدنا جبریل علیہ السلام کے سکر کا واقعہ نقل کرتا ہے ملاحظہ فرمائیں کیا لکھتا ہے:

“حضرت عمر کے دل پر وارد ہوا کہ منافق کی نماز جنازہ نہ ہونی چاہیے یہ ان امور میں سے ہے جن میں حضرت عمر نے اپنے رب سے موافقت کی۔ (حکم الہی اترا کہ منافق کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے تاہم حضرت عمر کے ذہن میں یہ نہ رہا کہ میں کس سے بات کر رہا ہوں حضور سے یہ بات صورة ادب کے خلاف تھی۔ بغض فی اللہ میں آپ پر یہ سکر کی حالت تھی۔

حضرت مولانا تھانوی لکھتے ہیں۔ حضرت عمر کے قلب پر بغض فی اللہ کا ورود ایسا قوی ہوا کہ ان کو اس طرف التفات نہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ سے قولا و فعلا کیا معاملہ کر رہا ہوں جو صورة ادب سے مستعد ہے سو ایسی حالت میں شارع علیہ السلام نے معذور رکھا ہے ( آپ نے حضرت عمر پر کوئی مواخذہ نہ فرمایا “

الآثار الاحسان ج2 ص217-218

لیجئے جناب!

یہ آپ کا آپکے ابا جان تھانوی کا حوالہ ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ :

حضرت عمر فاروق کو یہ نہ پتا چلا کہ وہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مخاطب ہیں

وہ ایسے کلمات کہہ گئے جو نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان اقدس کے خلاف تھے

اب ان پہ وہ حال وارد تھا کہ ان کو معلوم نہ ہوا کہ جو کلمات کہہ رہا ہوں یہ بے ادبی ہیں

ایسی حالت میں شریعت نے ان کو معذور رکھا

اب ایک اور واقعہ جو مانچسٹروی نے ہی نقل کیا تھانوی سے نقل کرتا ہے کہ:

“کبھی یہ ادلال انس و ناز کے دائرہ میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ حضرت تھانوی فرماتے ہیں:۔

وسط سلوک میں بعض بزرگوں پر غلبہ بسط سے ادلال کا حال وارد ہوجاتا ہے اور وہ اس وقت ناز میں آکر ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جو دوسرا اگر کہے تو مردود ہو جائے” (شریعت و طریقت ص ۹۷)

الآثار الاحسان ج 2 ص 221

اب اس کے تحت ان کے شیخ الحدیث نے واقعہ نقل کیا وہ بھی دیکھ لیں مولوی زکریا لکھتا ہے:

“حضرت عائشہ کا اس قصہ میں جب کہ ان پر تہمت لگائی گئی تھی، روایت ہے کہ جب ان کی براءت قرآن مجید میں نازل ہوئی تو ان کی والدہ نے کہا کہ اُٹھو اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ آلہ وسلم کے پاس جاؤ (یعنی بطریق ادائے شکریہ سلام کے) یہ اُس وقت جوش میں تھیں کہنے لگیں واللہ میں اُٹھ کر نہیں جاؤں گی، اور میں بجز خدا تعالی کے کسی کا شکر ادا نہیں کرونگی اُسی نے میری بر ارت نازل فرمائی ہے (اور سب کو تو شبہ ہی ہو گیا تھا) روایت کیا اس کو بخاری مسلم ، ترمذی ، نسائی نے ۔ حضرت تھانوی فرماتے ہیں بعضے بزرگوں سے نظماً یا نثرا بعض ایسے کلمات منقول ہیں جن کا ظاهری عنوان موہم گستاخی ہے۔ اگر یہ غلبہ حال میں ہو تو اس کو شطح اور ادلال کہتے ہیں حضرت صدیقہ کا یہ کہنا اسی قبیل سے ہے جس کا منشاء ایک خاص سبب سے شدت غم ہے”

شریعت و طریقت کا تلازم ص 203

التکشف ص 481

لیجئے جناب!

اب یہاں بھی اپنے قلم حرکت دیجیئے یہاں آپ کا قلم کیوں حرکت نہیں کرتا یہاں آپ کا قلم کیوں نہیں تھراتا؟ یہاں گستاخی کا حکم لگاتے آپ کو شرم و حیاء کیوں آتی ہے؟

اب بتلائیے وہ کون سے کلمات تھے جو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالی عنہا کہیں تو درست کوئی اور کہے تو مردود ہو جائے؟

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالی عنہا کے بارے میں یہ کہنا وہ جوش میں تھیں ایسے کلمات کہہ گئیں کوئی اور کہتا تو مردود ہوتا بتلائیے یہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالی عنہا اور نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین ہے کہ نہیں ؟

اب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالی عنہا کا یہ کہنا بقول تھانوی بظاہر گستاخی ہے جب بظاہر گستاخی ہے تو حقیقت میں کیا ہے؟

حقیقت میں وہابیہ دیابنہ کے پاس کوئی معقول اعتراض اہلسنت پہ کرنے کو ہے نہیں صرف اپنی تسکین کے لئے ایسے اعتراضات کرتے ہیں اب ان کے اعتراضات نہ صرف احادیث مبارکہ بلکہ اپنے ہی بڑوں تک بھی جا پہنچے ان کا فتوی گستاخی اعلی حضرت عظیم البرکت امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے لئے نہیں بلکہ اپنے ہی بابوں کے لئے تھا جو ان کے فتوی گستاخی و توہین کی بھینٹ چڑھ کر گارنٹیڈ بے ادب ثابت ہوئے

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment