حضرت رابع خواجہ محمد اعظم شاہ صاحب رحمہ اللہ کی مختصر سوانح حیات

Rate this post

حضرت رابع خواجہ محمد اعظم شاہ صاحب رحمہ اللہ کی مختصر سوانح حیات

ولادت با سعادت

 حضرت خواجہ پیر محمد اکرم شاہ صاحب المعروف حضرت ثالث صاحب کے ہاں

بمطابق ڈائری حضرت صاحبزادہ محمد عارف شاہ صاحب بروز جمعہ بوقت ۶ بجے صبح ۲۳ ماہ رجب ۱۳۳۴؁ھ بمطابق ۱۸جون ۱۹۱۶؁ء کو ایک فرزند سعادت کی ولادت ہوئی۔

والدہ محترمہ مریم بی بی خان فیروز خان مستی خیل رائیس اعظم پنیالہ ضلع ڈیر اسماعیل خان کی صاحبزادی تھیں۔

اسم گرامی

 حضرت والد ماجد نے آپکا اسم گرامی محمد اعظم شاہ پر دادا کے نام پر رکھا۔ جب کہ تونسہ شریف کے سجادہ نشین حضرت خواجہ محمد حامد صاحب نے آپکا اسم گرامی محمد عبداللہ شاہ رکھا تھا۔

صوبیدار عبدالرشید چشتی ملفوظات میں لکھتے ہیں

 صاحبزادہ محمد اکرم شاہ صاحب کے ساتھ دوران سفر جبکہ ہم میرپور میاں دی سیری (ایبٹ آباد) کے علاقہ میں تھے

تو انہوں نے فرمایا۔ کہ پہلے آپ کا نام عبداللہ شاہ رکھا گیا تونسہ شریف سے۔لیکن ثالث صاحب نے فرمایا! کہ میں اپنے بیٹے کا نام باپ کے نام کی طرح نہیں لے سکتا۔

لہٰذا آپ کا نام پر دادا کے نام کے ساتھ ملتا جُلتا محمد اعظم شاہ رکھا گیا۔

تعلیم و تربیت علوم ظاہری

 آپ کی تمام تعلیم علوم ظاہری والد ماجد کے زیر سایہ ہوئی۔ حضرت رابع صاحب کے بقول آپ نے فرمایا ! کہ میں نے قرآن پاک تونسہ شریف میں شروع کیا اُس وقت میری عمر چار سال اور چار ماہ تھی۔

جب بسم اللہ کی، قرآن مجید پڑھنے کے بعد واپس آ کر لوئر مڈل سکول بھوئی گاڑ ضلع اٹک میں داخلہ لیا۔

وہاں حضرت رابع صاحب کا قیام اپنی پھوپھی محترمہ حضرت بی بی حلیمہ صاحبہ زوجہ استاد العلماء حضرت مولانا قاضی امیر حمزہ قریشی کے گھر تھا۔

بھوئی گاڑ سے ۱۹۳۱ ء میں واپسی کے بعد والدِ محترم حضرت ثالث صاحب نے مولانا عبدالحی قریشی ،مولانا مفتی غلام ربانی قریشی صاحب بھوئی گاڑ کو خانقاہ فاضلیہ کے مدرسہ میں آپکو پڑھانے کے لیے استادمقرر فرمایا۔

انہوں نے دو سال تک عربی فارسی نظم کی کتابیں اور علم الفقہ کی کتابیں پڑھائیں۔

مولانا عبدالوہاب اعظمی لکھتے ہیں

  گفتگو جاری تھی میں نے عرض کیا کہ حضور آپ جناب نے بھوئی گاڑ میں مولانا محب النبی صاحب سے کتابیں پڑھیں ہیں ؟

فرمایا !کہ ہاںمیں نے ان سے فقہ کی دوکتابیں اور بھوئی گاڑ کے ہی ان کے چچا زاد مولانا عبدالحی صاحب سے منطق کی کتابیں پڑھی ہیں۔

 علم صرف و نحو کی کتابیں مولانا محمد عمر بزدار صاحب ساکن ڈیرہ غازی خان سے خانقاہ فاضلیہ کے مدرسہ میں پڑھیں۔

رابع خواجہ محمد اعظم شاہ صاحب رحمہ اللہ کی مختصر سوانح حیات

کچھ عرصہ درویش نزد ہری پور ہزار ہ میں مولانا قاضی صدر الدین نقشبندی سے فقہ اور اصول فقہ کی کتابیں پڑھیں۔

 شیخ الحدیث مولانا محب النبی قریشی بھوئی گاڑ ، حضرت مولانا فیض علی عرف فقیر جی کشمیری ، اور حضرت مولانا فیض محمد موضع اغضرخیل ضلع لکی مروت سے اعلیٰ کتب اور دورہ حدیث و تفسیر کی تکمیل کر کے سندِ فراغت حاصل کی۔

صاحب ملفوظات صوبیدار عبدالرشید لکھتے ہیں کہ

  حضرت صاحب کے والد ماجد کو ان سے بے حد محبت تھی اس لیے ان کی تربیت کی طرف خاص توجہ فرماتے تھے۔ بچپن میں ہی مرید کر لیا تھا۔

حضرت ثالث صاحب نے جو کہ خود بھی بڑے ذی علم بزرگ تھے اپنے جانشین کو مندرجہ ذیل جید علماء کے پاس حصول علم کے لیے بھیجا۔

۱۔

مولانا فیض علی عرف فقیر جی آزاد کشمیر

۲ مولانا عبدالحی صاحب بھوئی گاڑ۔

۳ مولانا قاضی صدر الدین صاحب درویش ہر ی پور (ہزارہ)۔

۴ مولانا محمد عمر بزدار صاحب ڈیرہ غازی خان علم نحو اور کتب صرف پڑھیں۔

۵ شیخ الحدیث مولانا محب النبی قریشی (فقہ)

۶ مولانا فیض محمد المعروف مولانااغضر خیلوی ۔

حضرت خواجہ پیر محمد اعظم شاہ علیہ الرحمہ پیش رو مشائخ کے عمل اور اخلاقی عظمتوں کے امین اور عہد حاضر کے بے بدل عالم صوفی اور فقیہہ ہونے کے علاوہ بزرگانِ چشتیہ میں ایک منفرد حیثیت کے مالک تھے.

حضور غریب نواز، عالم باعمل صوم و صلوة کے پابند، تہجد گزار، متقی مخلص، صاحب محبت اور عجز و نیاز کا پیکر تھے، آپ عالم تو تھے

لیکن عبا و قبا اور جبہ و دستار کو زریعہ وقار نہ بنایا بلکہ روشن کردار کو پیش کیا، بچپن ہی سے اللہ کریم نے آپ کو اعلی صفات سے نوازا تھا۔

تحریک پاکستان میں آپ نے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے آپ دو قومی نظریہ اور تحریک پاکستان کے زبردست حامی اور صف اول کے کارکن تھے

خاص کر صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں بھرپور کردار ادا کیا. صوبہ سرحد میں کانگریس کی حکومت تھی، مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو وغیرہ

اور جمیعت علماء ھند کے کانگریسی رہنما مولوی حسین احمد مدنی نےاکھنڈ بھارت کے لئے صوبہ سرحد کا دورہ کیا تو پیر آف مانکی شریف ،پیر آف زکوڑی شریف نے تونسہ شریف میں سجادہ نشین تونسہ شریف خواجہ حافظ سدید الدین تونسوی صاحب علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہو کر صورتِ حال سے آگاہ کیا

چونکہ پورے صوبہ سرحد میں تونسہ شریف اور گڑھی شریف کا حلقہ اثر ہے اس لئے سجادہ نشین تونسہ شریف حضرت خواجہ حافظ سدید الدین تونسوی صاحب علیہ الرحمہ کے ہمراہ حضرت خواجہ محمد اعظم شاہ صاحب رحمہ اللہ نے پورے صوبہ سرحد کے گاؤں گاؤں اور شہر شہر کا دورہ کیا

اور سالمیت پاکستان کے لیے راہ ہموار کی. قائداعظم محمد علی جناح نے حضرت خواجہ حافظ سدید الدین تونسوی صاحب علیہ الرحمہ کو نجم الھند کا خطاب دیا تھا

اور حضرت خواجہ محمد اعظم شاہ صاحب رحمہ اللہ کو شکریہ کا تحریری خط لکھا تھا جو کہ آج بھی گڑھی شریف کتب خانہ میں محفوظ ہے.

قبلہ حضرت صاحب مسلم لیگ پنجاب کونسل جو نواب افتخار حسین کی زیر قیادت بنی تھی آپ ممبر بنے اور ضلع اٹک مسلم لیگ کے رہنما اور مسلم لیگ نیشنل گارڈ کی تشکیل فرمائی

المختصر یہ کہ تحریک آزادی میں دوسرے مشائخ کے ساتھ ساتھ آپ کا کردار بھی روز روشن کی طرح واضح اور صاف ہے

آپ نے اپنے دور میں مختلف کتب و رسائل کی اشاعت بھی فرمائی تاکہ مریدین و متوسلین کو درپیش مسائل میں رہنمائی مل سکے

اور اپنی دنیا و آخرت بہتر سے بہتر بنا سکیں، آپ کو تفسیر اور حدیث اور تصوف سے بہت زیادہ لگاؤ تھا آپ کے مطالعہ کا عالم یہ تھا کہ کسی مسئلے کے بارے میں بات کرتے تو لائبریری کی کتاب نمبر اور صفحہ تک یاد ہوتا

اور علم کا اندازہ یہ تھا کہ آپ نے” قل إن كنتم تحبون الله” پر غالبا 17 مرتبہ الگ الگ تقریر کی اور ہر تقریر دوسرے سے مختلف ہوتی

اور آپ کے علمی مقام کے حضور غزالی زماں سید سعید احمد کاظمی صاحب علیہ الرحمۃ بھی معترف تھے

الغرض یہ کہ علم ومعرفت کے یہ روشن مینار علم کی گھٹی اس طرح اپنے چاھنے والوں کو دیتے ہیں کہ دنیا و آخرت انکے سنور جاتے ہیں

تصوف آپ کا خصوصی موضوع تھا اسی لیے اس موضوع پر ایک کتابچہ بنام اثبات تصوف بھی تحریر فرمایا

اکثر آپ کی مجلس قرآن و سنت اور فقہی مسائل پرمبنی ہوتی آپ کے ملفوظات جب پڑھیں گے تو تب اندازہ ہوگا کہ ان میں روزمرہ زندگی کے تمام مسائل ایسے سھل انداز میں پیش کیے ہیں کہ عام قاری بھی سمجھ سکتا ہے .

بڑے لوگوں کی صحبت میں جمع ہونے والے جواہر پارے بذات خود زندگی بھی ہیں اور حاصل زندگی بھی.

یقیناً اولیاء وصوفیاء ایسا انداز حیات و انداز گفتگو اپناتے ہیں جو موجب عافیت اور دوسروں کے لیے نفع کا باعث ہو

حضرت رابع خواجہ محمد اعظم شاہ صاحب کے ملفوظات ایجاز و اختصار کا بہترین مرقع نصیحت سے معمور اور عبرت سے بھرپور ہیں

آپ کے ملفوظات پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کریم نے آپ کے سینے پر معارف لدنیہ کے کس قدر أبواب مفتوح فر ما دیے تھے

آپ کے انداز تربیت کا اندازہ آپ کے ملفوظات سے ہوتا ہے جن میں علمی، تبلیغی اصلاحی اور اخلاص ومحبت، ان کے دلپسند اور مرغوب موضوعات تھے

آپ کے ان ملفوظات میں فقہ بھی ہے حدیث بھی تفسیر بھی ہے تصوف بھی وعظ ونصیحت بھی جب آپ ملفوظات پڑھیں گے تو خود ہی سمجھ لیں گے کہ آپ کے انداز بیان میں مٹھاس بھی ہے اور حسن بیان بھی حکمت بھی ہے اور سبق بھی

آپ نے خیر الناس من ینفع الناس کےمصداق عوام الناس کی فلاح و بہبود کے لئے 1993 ء میں فاضلیہ ٹرسٹ کی بنیاد رکھی

اور اسے رجسٹرڈ کروایا درگاہ کی جملہ جائداد ٹرسٹ کے نام کر دی، پرانے مہمان خانوں کو گرا کر عظیم الشان عمارت تعمیر کروائی

جس میں ایک ہزار افراد کے قیام کے انتظامات ہیں علاوہ ازیں ٹرسٹ کی آمدن میں اضافہ کے لئے ایک بڑی مارکیٹ بھی تعمیر کروائی آجکل آپ کے لگائے ہوئے شجر ثمربار فاضلیہ ٹرسٹ جس بلندیوں پر ہے دعا ہے کہ اللہ اور ترقی عطا فرمائے اورمخلوق خدا کی خدمت جاری رہے

آپ رحمۃ اللہ علیہ کے چار صاحبزادے اور آٹھ صاحبزادیاں ہیں آپ نے دو شادیاں فرمائی تھیں، صاحبزادوں میں سب سے بڑے موجودہ سجادہ نشین

1-:حضرت خواجہ پیر سید محمد اکرم شاہ صاحب مدظلہ العالی ہیں

2-:حضرت صاحبزادہ سید محمد عثمان شاہ صاحب

3-: حضرت صاحبزادہ سید محمد عابد شاہ صاحب

4-: حضرت صاحبزادہ سید محمد ساجد اعظم شاہ صاحب ہیں

مزید پڑھیں

سوانح حیات مبارک 1 حضرت خواجہ سید محمد عبداللہ شاہ صاحب

نماز جنازہ اور تدفین

بالآخر 89 سال کی عمر میں یہ نور کا مینار، علم و فضل کا آفتاب بھی ہزاروں عاشقوں کو چھوڑ کر، گمراہی کے دور میں چراغ اور ظلمات میں چمکنے دمکنے والا درخشاں ستارہ عقیدت مندوں کی نظروں سے اوجھل ہوگیا سچ کہا ہے کہ موت العالم موت العالم

 بروز جمعۃ المبارک ۱۱ ذوالقعدہ ۱۴۲۵ھ بمطابق ۲۴ دسمبر ۲۰۰۴ ء کو پونے بارہ بجے اپنی جان جانِ آفرین ’’یا اللہ’‘‘ یا میرے مالک‘‘ کے الفاظ کہتے ہوئے سپرد کر دی۔

یہ آپ کے آخری الفاظ تھے اس کے کچھ دیر بعد ہی آپ کے وصال کی خبر پورے ملک میں آزاد کشمیر میں آناً فاناً پھیل گئی۔

ہزاروں کی تعداد میں آپ کے مریدین ، متوسلین اور متعلقین گڑھی افغاناں پہنچنے شروع ہو گئے ہر فرد آپ کی جدائی میں غمگین اور افسردہ تھا۔

✍️-:یکے از گدائے در اولیاء

عبدالرحمن مروت لکی مروت پاکستان

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment