حضرت خدیجہ کی وفات

Rate this post

نبی پاکﷺ نے فرمایاکہ اللّٰہ کی قسم! خدیجہ سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی جب لوگوں نے میرا انکار کیا اس وقت وہ مجھ پر ایمان لائیں اور جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اس وقت انہوں نے میری تصدیق کی اور جس وقت کوئی شخص مجھے کوئی چیز دینے کے لئے تیار نہ تھا اس وقت خدیجہ نے مجھے اپنا سارا مال دے دیا اور انہیں کے شکم سے اللّٰہ تعالٰی نے مجھے اولاد عطا فرمائی۔

عرش سے جس پہ تسلیم نازل ہوئی

 حضرت سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :

 قال أتى جبريل النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله هذه خديجة قد أتت معها إناء فيه إدام أو طعام أو شراب، فإذا هي أتتك فاقرأ عليها السلام من ربها ومني، وبشرها ببيت في الجنة من قصب، لا صخب فيه ولا نصب‏.‏

ایک مرتبہ حضرت جبریل امین علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ” یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )! یہ خدیجہ (رضی اللہ عنہ) آ رہی ہیں ، ان کے پاس برتن ہے جس میں سالن یا ( فرمایا ) کھانایا ( فرمایا ) پینے کی چیز ہے ۔ جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے رب کی جانب سے انہیں سلام پہنچا دیجئے گا اور میری طرف سے بھی ! اور انہیں جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دے دیجئے گا ، جہاں نہ شور و ہنگامہ ہوگا اور نہ تکلیف و تھکن ہوگی ۔

⛔ صحیح البخاری ، كتاب مناقب الانصار ، باب : تزويج النبى خديجة وفضلها ، رقم الحديث : ٣٨٢٠ ، ص : ٦٤١ ، مطبوعه دار السلام للنشر والتوزيع ، الرياض.

حضرتِ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ حضرت سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا :

ان الله هو السلام ، وعلى جبريل السلام ، وعليك السلام ، ورحمة الله وبركاته.

“اللہ عزوجل سلام ہے ، حضرتِ جیریل علیہ السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلامتی ، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں “

⛔فضائل الصحابة للنسائی ، مناقب خديجة بنت خويلد ، رقم الحديث : ٢٥٤ ، ص : ١٠٦ ، مطبوعه المكتبة العصرية صيدا ، بيروت.

سبحان اللہ ! اس مومنہ کی عظمت کے کیا کہنے ، جسے اللہ تعالیٰ خود سلام فرمائے اور جنتی محل کی بشارت بھی سنائے ۔

اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ لکھتے ہیں :

عرش سے جس پہ تسلیم نازل ہوئی

اس سرائے سلامت پہ لاکھوں سلام

یاد رہے یہ واقعہ حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے غار حرا میں تشریف فرما ہونے کا ہے ۔ایک بار حضرتِ سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کھانا لے کر وہاں حاضر ہوئیں تب حضرتِ جبریل علیہ السلام نے یہ خبر دی تھی.

✍️ابو الحسن محمد افضال حسین نقشبندی مجددی

((١٠/رمضان المبارك ١٤٤٥ھ//٢١/مارچ ٢٠٢٤ء))

10 رمضان یوم وصال ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا

سلام اس نظر پر

جس نے رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰﷺ کو پہچان لیا،

سلام اس چاہ پر

جس نے رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی ہمراہی چاہی

سلام اس خزانے پر

جو دین اسلام کی راہ پر بچھ گیا

سلام اس فکر مندی پر

جو رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰﷺ کو پریشان دیکھ کر فکر مند ہوئی

سلام اس یقین پر

جس نے رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰﷺ کو چادر سے نکال کر جم کے کهڑا کر دیا

سلام اس ذات پر

جو رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے ساتھ ہر آسودگی اور مشکل گهڑی میں کهڑی رہی

سلام اس ہستی پر

جو سب سے زیادہ قریب رہی رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے

سلام اس وجود پر

جس کو الله پاک بهی سلام بهیجتا ہے اور جبرائیل علیہ السلام بهی

سلام اس ماں پر

جس نے تربیت کی خاتونِ سردار جنت فاطمة الزهرا سلام اللہ علیھا کی _

یومِ وصال

10رمضان المبارک

ام المومنین حضرت سیّدہ

خدیجہ الکبریٰ رضی اللّٰه تعالٰی عنہا

عورتوں میں سب سے پہلے آپ نے اسلام قبول کیا

آپ کی حیات میں رسول اللّٰهﷺ نے کسی اور سے نکاح نہ فرمایا✨

سیدہ خدیجہ الکبرٰی رضی الله عنہا کے نبی کریمﷺ کی تسلی کیلئے الفاظ کتنے پیارے ہیں

”ہرگز نہیں الله کی قسم! الله تعالٰی آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔“

(صحیح البخاري،:3، و صحیح مسلم،:160)

10رمضان المبارک یوم ام المومنین سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالی عنھا

اعلی حضرت فاضل بریلوی رحمتہ اللہ علیہ آپ کی بارگاہ میں یوں سلام عقیدت پیش کرتے ہیں

سَیِّما پہلی ماں کہفِ امن و اماں

حق گزارِ رفاقت پہ لاکھوں سلام

عرش سے جس پہ تسلیم نازل ہوئی

اُس سرائے سلامت پہ لاکھوں سلام

منزلُُ مَّن قَصَبْ لَا نَصَبْ لَاصَخَبْ

ایسے کوشک کی زینت پہ لاکھوں سلام

کون بُھولے بھلا احسان خدیؓجہ تیرا

دل کی دنیا پہ رقم نام خدیؓجہ تیرا

تیری دولت نے دیا دینِ محمدی کو فروغ

اب بھی مقروض ہے اسلام خدؓیجہ تیرا

السلام و علیک یا اُم المومنین یا سیدہ خدیجہ الکبرٰی سلام اللّه ع

لیہا ۔اللہ تعالی آپ کے صدقے ہم پر اپنا خصوصی فضل و کرم فرما

*مقام ام المؤمنین حضرت سیدۃ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا* بسلسلہ یوم وصال 10 رمضان المبارک

ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا ہمارے محبوب مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پہلی شریک حیات’ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والی خاتون اور سب پہلے اسلام کے لیے آپ تمام تر جمع شدہ پونجی خرچ کرنے والی عظیم ہستی ہیں…

زمانہ جاہلیت میں سر زمین عرب میں جو چند پاک خواتین موجود تھیں آپ کا مقام ان میں نمایاں تھا… حتی کہ اس زمانے میں بھی آپ *طاہرہ* کے نام سے پہچانی جاتیں تھیں…

25 سال کی عمر مبارک میں انہی کی خواہش پر ہمارے محبوب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا اور ان کی اپنی عمر اس وقت 40 سال تھی اور یہ ان کا تیسرا نکاح تھا’ پہلے یکے بعد دیگر ان کے دو شوہر شوہر فوت ہو چکے تھے…. ان کے پہلے شوہر عتیق بن عائد مخزومی تھے ان کی وفات کے بعد ان کی شادی ابو ہالہ بن نباش تمیمی سے ہوئی تھی … جب وہ بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے تو اس کے بعد آپ نے رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دامن عاطفت میں نکاح کی صورت میں پناہ حاصل کی..

پھر 10 رمضان المبارک 10 نبوی تک تقریباً 24 سال 6 ماہ اور 25 دن مسلسل بارگاہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گذار دیئے…(رحمۃ اللعالمین ‘ جلد3 صفحہ 145)

سوائے ایک بیٹے کے ساری اولاد اللہ پاک نے ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو انہی کے پاکیزہ بطن سے عطا فرمائی…

مکے کی مال دار ترین خاتون تھیں…. اسلام قبول کرنے کے بعد ایک ایک پائی خدمت اسلام کے لیے صرف کر دی..

آپ کی انہی خدمات کی بدولت اللہ تعالٰی اور رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں انہیں اہم مقام حاصل ہوا…

ان کی زندگی میں بھی اور بعد از وصال بھی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمیشہ اچھے الفاظ سے یاد کیا اور ان کی خدمات کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ مسلسل اس کا ذکر کر کے ان کے تذکرے کو ہمیشہ کی زندگی عطا فرما دی…

ذیل میں آپ کے مقام و مرتبے اور سیرت و کردار پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چند گواہیاں ملاحظہ فرمائیں :

*…….حضرت عبداللہ بن ابی اوفٰی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نےسیدۃ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہ کو(ان کی خدمات کی عوض) اس دنیا میں ہی ایسے جنتی محل کی بشارت دی دے تھی جس کی شان یہ ہے :

*بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ، وَلَا نَصَبَ* .

“ایسا محل کو موتیوں سے بنا ہے ‘ اس میں نہ شوروغل اور نہ تکلیف ہوگی”.

(صحیح بخاری ‘ كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ ‘ بَابٌ : تَزْوِيجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ. رقم الحدیث : 3819)

*……حضور رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو زمانے کی بہترین خواتین میں شامل فرما کر خصوصی اعزاز و اکرام سے نوازا…. چنانچہ حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

*حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمُ بْنَةُ عِمْرَانَ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ* “

“تمہارے لیے(قتداء و اتباع کے لحاظ سے) چار عورتیں کافی ہیں…. مریم بنت عمران ‘ خدیجہ بنت خویلد ‘ فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور فرعون کی بیوی آسیہ رضی اللہ عنہم “.

(سنن ترمذی’ أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‘ بَابٌ : فَضْلُ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا’ رقم الحدیث: 3878)

*….حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:

*کَانَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اِذَا ذَکَرَ خدیجۃَ رضی اللہ عنہا لَمْ یَکُنْ یَسْأَمُ مِنْ ثَنَاءِ عَلَیْھَا وَالْاِسْتِغْفَارِ لَھّا*

“حضور رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی حضرت خدیجہ کا تذکرہ فدماتےتو ان کی تعریف اور ان کے لیے بخشش و مغفرت کی دعا کرتے نہیں تھکتے تھے”.

(طبرانی کبیر’ جلد 23 ‘ صفحہ 13 ‘ رقم الحدیث : 21 )

یعنی آپ یہ عمل مبارک مسلسل کیا کرتے…

*…….حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بیان کرتی ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہا کے وصال کے بعد جب بھی آپ کوئی بکری ذبحہ کرتے تو اس کا گوشت آپ کی سہیلیوں کو بھی بھیجا کرتے تھےاور آپ ان کی سہیلیوں کی بھی بڑی قدر کیا کرتے تھے.

(صحيح مسلم ‘ كِتَابٌ : فَضَائِلُ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ ‘ بَابٌ : فَضَائِلُ خَدِيجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا ‘ رقم الحدیث : 2435)

*……حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ہی زبانی حضور رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا آپ سے ایک انداز محبت ملاحظہ فرمائیے ‘ اس سے آپ کی سیرت و کردار اور خدمت اسلام کے بھی کئی گوشے نکھر کر سامنے آ جائیں گے…. آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ :

*كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ خَدِيجَةَ أَثْنَى عَلَيْهَا فَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ. قَالَتْ : فَغِرْتُ يَوْمًا فَقُلْتُ : مَا أَكْثَرَ مَا تَذْكُرُهَا حَمْرَاءَ الشِّدْقِ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا خَيْرًا مِنْهَا. قَالَ : ” مَا أَبْدَلَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْهَا، قَدْ آمَنَتْ بِي إِذْ كَفَرَ بِي النَّاسُ، وَصَدَّقَتْنِي إِذْ كَذَّبَنِي النَّاسُ، وَوَاسَتْنِي بِمَالِهَا إِذْ حَرَمَنِي النَّاسُ، وَرَزَقَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَدَهَا إِذْ حَرَمَنِي أَوْلَادَ النِّسَاءِ”*.

“حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر فرماتے تو ان کی خوب تعریف کرتے …آپ فرماتی ہیں کہ ایک دن میں غصہ میں آگئی اور عرض کیا کہ آپ اس سرخ رخساروں والی کا تذکرہ بہت ذیادہ کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عورتیں اس کے بدلے میں عطا فرمائی ہیں…

(تو میری بات سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بہتر عطا نہیں فرمایا..

وہ تو ایسی عورت تھی جو مجھ پر اس وقت ایمان لائی جب لوگ میرا انکار کر رہے تھے… میری اس وقت اس نے تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے….اپنے مال سے اس نے میری اس وقت ڈھارس بندھائی جب لوگ مجھے محروم کر رہے تھے… اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے اولاد عطا فرمائی جبکہ دوسری عورتوں سے اولاد عطا نہیں فرمائی”.

( مسند أحمد ‘ مُسْنَدُ الصِّدِّيقَةِ عَائِشَةَ بِنْتِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ‘ رقم الحدیث : 24864)

جس عظیم ہستی کے یہ فضائل و مناقب اور سیرت و کردار کی یہ چند خوبصورت جھلکیاں ہیں آج اسی کا یوم وصال ہے….. ان سے سبق سیکھتے ہوئے ایک تو ہم خدمت و وفاداری دیں متین میں چند قدم آگے بڑھیں اور ہماری خواتین ان کی زندگی کو اپنے لئے مشعل راہ بنا لیں… اس گئے گزرے دور میں ان کے نقش قدم پر چلے بغیر کامیابی مشکل ہے…. اور آج آپ کے لئے فاتحہ خوانی کا بھی ضرور اہتمام کریں….. اللہ تعالٰی آپ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں آپ سے فیض حاصل کرتے ہوئے عمل کی توفیق عطا فرمائے ‘ آمین ثم آمین یارب العالمین……

 *بزم چشتیہ فاضلیہ گڑھی شریف*

آمین بجاہ نبی کریم ﷺ

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment