حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ تعالی علیہ کے مختصر حالات زندگی

Rate this post

حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کے قبیلے کا نام ہزارہ لا چین (ہزارہ ترک )تھے لا چین بلخ اور مزار شریف کے درمیان کا علاقہ ہے ۔

امیر خسرو رحمتہ اللہ تعالی علیہ کے والد محترم

آپ کے والد ماجد کا نام امیر سیف الدین محمود ہے۔

ْچنگیز خان کے زمانے میں ہندوستان تشریف لائے۔

امیر خسرو رحمتہ اللہ تعالی علیہ کا اصل نام

خسرو کا نام ابوالحسن ہے۔

AMEER KHUSRAU Biography

آپ مومن آباد جو اب پٹیالی کے نام سے مشہور ہے، میں پیدا ہوئے۔ جب آپ کی عمر نو سال کی ہوئی، والد کا سایہ آپ کے سر سے اٹھ گیا۔ والد کے انتقال کے بعد آپ کی والدہ کے ایک رشتہ دار نے آپ کی تعلیم و تربیت پر کافی توجہ دی۔

امیر خسرو رحمتہ اللہ تعالی علیہ کی خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات

محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے دروازہ پر باہر بیٹھ کر آپ نے درج ذیل قطعہ لکھ کر اندر بھیجا:

تو آں شاہے کہ بر دیوار قصرت

کبوتر گرنشیند باز گردد

غریبے مستمندے بردرت آمدہ

بیائید اندروں یا باز گردد

Amir Khusro biography

اندر سے آپ نے اس کا جواب درج ذیل بھجوایا :

 بیائید اندرون گر مرد حقیقت

 تاچند دمے بامن ہمراز گردد

اگر ابلہ بود آں مردِ ناداں

ازاں را ہے کہ آمد باز گردد

 آپ یہ اشعار سن کر محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ بیعت سے مشرف ہوئے۔ خلوص، اعتقاد اور محبت نے اپنا کام کیا اور کچھ ہی دنوں میں آپ کو اپنے پیر و مرشد کی عنایت، محبت، شفقت اس درجہ حاصل ہوئی کہ جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔

امیر خسرو سلطان غیاث الدین بلبن کے لڑکے شہزادہ محمد سلطان خاں کے پاس ملتان ملازم تھے۔ شہزادہ سلطان کے شہید ہونے کے بعد آپ نے دہلی آکر امیر علی کی ملازمت اختیار کر لی۔ جلال الدین خلجی کے تخت پر بیٹھنے کے بعد آپ اس کے مقربِ خاص ہوئے۔ غرض سلطان قطب الدین مبارک شاہ تک ہر بادشاہ نے آپ پر لطف و کرم کی نظر رکھی۔ شاہی دربار میں آپ کی ہمیشہ کافی عزت رہی۔

بزمِ امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ

حضرت محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے وقت آپ دہلی میں نہیں تھے۔ اس وقت آپ سلطان غیاث الدین تغلق کے ساتھ لکھنوتی میں تھے۔ وفات کی خبر سن کر دہلی آئے۔ اپنے پیرو مرشد کے مزارِپُر انوار پر حاضر ہوئے۔ نوکری چھوڑ دی جو کچھ پاس تھا فقراء اور مساکین کو تقسیم کر دیا۔ سیاہ ماتمی لباس پہن کر مزار پر رہنے لگے۔ چھ مہینے رنج و غم میں گزارے اور آخر کار 18شوال 725ھ کو رحمت حق میں پیوست ہوئے۔

امیر خسرو رحمتہ اللہ تعالی علیہ کا مزار مبارک

آپ کا مزار محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کے پائینتی حجرہ قدیم خواجہ حسن نظامی کے سامنے ہے۔ حضرت محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ کو آپ سے انتہائی محبت تھی۔

قبر مبارک امیر خسرو

 ایک مرتبہ آپ نے فرمایا: خسرو میں سب سے تنگ آتا ہوں، مگر تجھ سے تنگ نہیں آتا ۔‘‘حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں خسرو کی اتنی قدر منزلت تھی کہ جو بات آپ کے سامنے اور لوگ نہ کر سکتے، خسرو کر سکتے تھے اور اس لیے لوگ خسرو کے ذریعے ہی اکثر آپ سے عرض معروض کیا کرتے تھے، خسرو کی گوناگوں صفات کا آپ سے بڑھ کر اور کون قدر دان ہوسکتا تھا،

جب خسرو نے اپنا تذکرہ، جو ’افضل الفوائد‘ کے نام سے مشہور ہے، لکھنا شروع کیا تو اس کے چند اوراق آپ کے ملاحظہ کے لیے پیش کئے۔ آپ نے انہیں دیکھ کر فرمایا کہ ’’نیکو نوشتہ و نیکو نام کردہ‘‘ (یعنی تو نے خوب لکھا اور نام بھی اچھا رکھا ہے) آپ نے اس مسودے کو جگہ جگہ اپنے ہاتھ سے درست بھی کیا اور پھر حاضرین سے کہنے لگے کہ خسرو کے لیے واقعی یہ بات قابل فخر ہے کہ اس نے اتنی باتیں یاد رکھیں اور لکھیں، حالانکہ وہ ہر وقت سر سے پاؤں تک خیالات کے سمندر میں غرق رہتا ہے لیکن خدا نے خسرو کے تمام اعضا کو علم اوردانش سے خمیر کیا ہے کیونکہ وہ دن رات خیالات کے بحر میں شناوری کرتا ہے اور ہزاروں موتی نکال کر لاتا ہے۔ یہ سن کر خسرو تعظیم بجالائے اور کہنے لگے کہ ’’یہ سب خیالات جو میرے دماغ میں آتے ہیں، آپ ہی کی برکت سے ہیں، اس لیے کہ آپ ہی نے اپنی بابرکت تلقین سے میری تربیت کی ہے۔

خسرو نے افضل الفوائد کے نام سے حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات کو جمع کرنا شروع کیا۔ خسرو کو یہ خیال غالباً خواجہ حسن کی اسی نوعیت کی کتاب فواد الفوائد کو دیکھ کر پیدا ہوا۔ خسر و کی تصنیف اس لحاظ سے قابل قدر ہے کہ یہ ایک نذرانۂ عقیدت ہے جسے شرف قبولیت حاصل ہوا

امیر خسرو رحمتہ اللہ تعالی علیہ کی تصانیف

۔3 ؎ خسرو کی اعلیٰ تصانیف میں اُن کے پانچوں دیوان، خمسہ، تاریخی مثنویاں، غزلیات ہندی کلام وغیرہ اور نثر میں اعجاز خسروی، خزائن الفتوح اور افضل الفوائد اہم ہیں۔حضرت امیر خسرو ہندستانی علم و ادب کی ایسی مایہ ناز شخصیت ہیں کہ ان جیسی ہمہ گیریت کسی اورشاعر یا ادیب میں نہیں پائی جاتی۔ ہندوستان ہی پر کیا منحصر ہے ساری دنیا کے ادب میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ ایک شخص میں بیک وقت اتنے کمالات اکٹھے ہوگئے ہوں۔

خسرو نے سات بادشاہوں کے دور دیکھے اور اس زمانے کے سیاسی، معاشرتی اور تمدنی اُتار چڑھاؤ کا گہری نظروں سے مشاہدہ کیا۔ شاہی درباروں سے وابستگی کے باوجود حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضری دینے میں کبھی ان سے کوتاہی کا ارتکاب نہیں ہوا۔ خسرو دہلوی نہ صرف بادشاہان وقت کے منظور نظر تھے بلکہ اپنے مرشد کے ایسے چہیتے مریدوں میں سے تھے کہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے دوسرے حاضر باش مریدوں کو ان کی مقبولیت پر رشک آتا تھا۔

امیر خسرو رحمتہ اللہ تعالی علیہ کو طوطی ہند کا لقب

فارسی شاعری میں ان کا لوہا ایران کے ہم عصر شعراء نے مانا ہے اور طوطیٔ ہند کے خطاب سے ان کو موسوم کیا ہے۔ محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ سے وابستہ ہونے کے بعد امیر خسرو نے بڑے مجاہدے اور ریاضتیں کیں اورچالیس برس تک مسلسل روزہ دار رہے۔

وہ پانچ بار خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت مقدسہ سے مشرف ہوئے۔ مولانا شبلی کا کہنا ہے کہ امیر خسرو کے اشعار میں جو کیفیت موجود ہے، وہ ان کے صوفیانہ مسلک ہی کا نتیجہ ہے۔ امیر خسرو کا صوفیانہ مسلک خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے رابطے سے حضرت گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ سے فیض حاصل کرتا ہے۔ صوفی اور تصوف کا ذکر کرتے ہوئے خواجہ فرید الدین گنج شکررحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تصوف دل کی صفائی کے ساتھ خدا کی دوستی کا نام ہے اور صوفیاء دنیا اور آخرت میں سوائے اس محبت کے اور کسی چیز پر فخر نہیں کرتے۔

’’آج بھی جب مزارات پر محفل سماع برپا ہوتی ہے تو قوال اکثر امیر خسرو کی ہندی نظموں سے شروع کرتے ہیں اور قوالی کو ان کی اس ہندی نظم پر ختم کرتے ہیں جو اصطلاح میں رنگ کہلاتا ہے جیسے :

زحالِ مسکیں مکن تغافل

ورائے نیناں، بنائے بتیاں

زحالِ مسکیں مکن تغافل

دُرائے نیناں بنائے بتیاں

کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں

نہ لے ہو کاہے لگائے چھتیاں

 

شبانِ ہجراں دراز چوں زلف

 و روزِ وصلت چوں عمرِ کوتاہ

سکھی ! پیا کو جو میں نہ دیکھوں

تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

یکایک از دل دو چشم جادو

 بصد فریبم ببردِ تسکیں

کسے پڑی ہے جو جا سناوے

پیارے پی کو ہماری بتیاں

چوں شمعِ سوزاں ، چوں ذرہ حیراں ،

ہمیشہ گریاں ، بہ عشق آں ما

نہ نیند نیناں ، نہ انگ چیناں ،

نہ آپ آویں ، نہ بھیجیں پتیاں

بحقّ روزِ وصالِ دلبر کہ

دادِ ما را غریب خسرو

سپیت من کے ورائے راکھوں

جو جائے پاؤں پیا کی کھتیاں

سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھو ں

تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

کسے پڑی ہے جو جاسناوے

ہمارے پی کو ہماری بتیاں

نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں

نہ آپ آئیں نہ بھیجیں پتیاں

امیر خسروؔ

جَفا کَم کُن کہ فَردا روزِ مَحشَر

مِیانِ عاشِقاں___شَرمِندَہ باشِی….!

اَمِیر خُسروؔرحمت اللّٰہ علیہ

(اَے مَحبُوب) جَفا کَم کَرو کہ کَل قِیامت کے دِن کَہِیں عاشِقوں کے سامنے شَرمِندہ نہ ہونا پَڑے….!

امیر خسرو

امیر خسرو

غم و غصہ فراقت بکشم چنانکہ دانم

 اگرم چو بخت روزے بہ کنار خواہی آمد

تیری جدائی کا غم اور دکھ بس میں ہی جانتا ہوں

 جس دن تو پہلو میں آئے گا سب غم بھلا دوں گا.

اگرم حیات بخشی وگرم ھلاک خواہی

سرِ بندگی بخدمت بنہم کہ پادشاہی

چاہے حیات بخش دو چاہے ہلاک کر دو

میں نے تو تیری بادشاہی میں اپنا سر

🌸گفتم کہ روشن از قمر گفتا کہ رخسار منست

گفتم کہ شیرین از شکر گفتا کہ گفتار منست

میں نے کہا چاند سے زیادہ کچھ روشن ہے؟ کہا میرے رخسار

Khusro quotes

میں نے کہا شکر سے زیادہ میٹھا کچھ ہے؟کہا میری گفتار🌸

گفتم بہاری یا خزاں ، گفتا کہ رشک حسن من

گفتم خجالت کبک را، گفتا کہ رفتار منست

پوچھا کہ تو بہار ہے یا خزاں ،کہا کہ میں حسن(اور حسینوں)کا رشک ھوں

کہا کبک( ایک پرندہ جس کی چال کو محبوب کی چال سے تشبیہ دی جاتی ہے) کی شرمندگی کیا ہے ،کہا کہ میری رفتار ہے

🌸گفتم طریق عاشقان گفتا وفاداری بود

گفتم مکن جور و جفا، گفتا کہ این کار منست

میں نے کہا عاشقوں کا طریق کیا ہے؟ کہا محبوب سے وفاداری

میں نے کہا کہ جور و جفا نہ کیجیے، کہا یہ تومیرا کام ہے🌸

🌸گفتم کہ مرگِ ناگہاں، گفتا کہ درد هجر من

گفتم علاج زندگی ،گفتا کہ دیدار منست

میں نے کہا مرگ ناگہاں کیا ہے؟ کہا میرے ہجر کا درد

میں نے کہا زندگی کا علاج کیا ہے؟ کہا میرا دیدار🌸

🌸گفتم کہ حوری یا پری ، گفتا کہ من شاه ِ بتاں

گفتم کہ خسرو ناتوان گفتا پرستار منست

میں نے کہا کہ تو حور ہے یا پری ہے؟ کہا میں خوبرووں (محبوبوں ) کاباد شاہ ہوں، میرا مقام ان سے بلند ہے

میں نے کہا کہ خسرو تو ناتواں ہے، کہا میرا پرستار تو ہے🌸

آفاقہا گردیدہ ام ، مہر بتاں ورزیدہ ام

بسیار خوباں دیدہ ام، اما تو چیزے دیگری

                                                  امیر خسرو

  میں زمین کے ایک سرے سے لیکر دوسرے سرے تک گھوما ہوں، حسین لوگوں کی محبت اور عشق میں میں بھی الجھا ہوں یعنی بہت سے حسین دیکھے ہیں۔ مگر تو سب سے الگ کوئی اور ہی چیز ہے۔ یعنی کہ تجھ سے حسین میں نے کہیں نہیں دیکھا۔

من تو شُدم تو من شُدی، من تن شُدم تو جاں شُدی

تا کس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری

‏میں تُو بن گیا ہوں اور تُو میں بن گیا ہے، میں تن ہوں اور تو جان ہے،

پس اس کے بعد کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں اور ہوں اور تو اور ہے۔

(امیر خسرو)

خوں شد دلِ خسرو ز نگہداشتنِ راز

چوں ہیچ کسے محرمِ اسرار ندارم

ترجمہ:

راز کی حفاظت کر کر کے خسرو کا دل خون ہوگیا ہے لیکن افسوس کہ کوئی بھی محرمِ اسرار نہیں ہے۔

دل پُر ز غم و غصۂ ہجرست ولیکن

از تنگ دلی طاقتِ گفتار ندارم

ترجمہ:

دل ہجر کے غم و غصے سے پر تو ہے لیکن تنگدلی کی وجہ سے مجھے طاقتِ گفتار نہیں ہے۔

(امیر خسرو علیہ الرحمة)

گفتی اندر خواب گہہ گہہ روئے خود بنمایمَت

ایں سخن بیگانہ را گو، کاشنا را خواب نیست

امیر خسرو دہلوی

تُو نے کہا کہ میں گاہے گاہے خواب میں آ کر تجھے اپنا چہرہ دکھاؤں گا، ایسی باتیں بیگانوں سے کہہ کیونکہ جو تیرا آشنا ہے اُس کے لیے نیند ہی کب ہے.

کلام : حضرت امیر خسرو رحمۃاللہ علیہ

___________________🖤

خیرآبادی

آج رنگ ہے ما ہا رنگ رہے

ایسو پیر پایا نظام الدین اولیاء

جگ اجیاروں میں تو ایسا رنگ

اور نہیں دیکھوری دیس بدیس

ڈھونڈ پھری ہوں تو را رنگ من

بھایورے خسرو نظام کے

بل بل جاؤں موہے سہاگن

کینی رے موسے نیناں ملا کے،

چہاپ، تلک سب چھینی رے موسے

نیناں ملا کے خسرو کے

عارفانہ کلام میں جو سوز و گداز ہے، اس کا بین ثبوت یہ ہے کہ ان کے دور سے لے کر آج تک عرصہ زائد از چھ سو سال گزر چکا ہے مگر ان کا عارفانہ کلام سماع کی محفلوں میں اب بھی سب سے زیادہ مروج اور مقبول ہے۔ ان کا عارفانہ کلام وجدانی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔

خسرو کی غزلیات سے اشعار کا نمونہ درج ذیل ہے :

نمی دانم چہ منزل بود شب جائیکہ

من بودم بہر سو رقص بسمل

بود شب جائیکہ من بودم

خدا خود میر مجلس بود

اندر لامکاں خسرو

محمدؐ شمع محفل بود شب جائیکہ

من بودم آفاق ہا را دیدہ ام

مہربتاں ورزیدہ ام بسیار خوباں

دیدہ ام لاکن تو چیزے دیگری خسرو

غریب است و گدا افتادہ در شہر شما

باشد کہ از بہر خدا سوئے غریباںبنگری

آج سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا رحمۃ علیہ اور امیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کو سات سو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے مگر آج بھی ہر ملت و مذہب کے لوگ پروانہ وار ان کی درگاہوں کی طرف چلے آتے ہیں۔ ان کے ہم عصر بادشاہوں کی شان و شوکت خواب و خیال ہوگئی، ان کی سر بفلک عمارتیں کھنڈر بن گئیں، اُن میں سے بعض کے مقابر بھی معلوم نہیں کہاں بنے اور کہاں غائب ہوگئے لیکن حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے چہیتے مرید اور منظور نظر امیر خسرو علیہ الرحمۃ کے مزارات پر اب بھی وہی رونق، وہی چہل پہل اور عقیدت مندوں کا وہی ہجوم اورکثرت ہے جو آج سے کئی سو سال پہلے تھی اور سبز چادروں پر پھولوں کی رنگین پتیاں اور اگر بتیوں کے دھوئیں کی بھینی خوشبو اب بھی اس طرح جنت نگاہ اور فردوس مشام ہے جیسے ان کے انتقال کے چند روز بعد ہوگی۔

ہرگز نمیرد آنکس کہ دلش زندہ شد بعشق

(کتاب ’’افضل الفوائد-ملفوظات حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ‘‘ناشر بُک ہوم لاہور)

امیر خسرو ایک بڑے صوفی کے مرید ہوئے جو کہ محبوب الہی نظام الدین اولیاء کہے جاتے تھے اور صوفی حلقوں میں سلطان المشائخ کے خطاب سے بھی یاد کیے جاتے ہیں۔ اس پیر اور مرید کی جوڑی کا ایک قصہ سنیں اور معاملے کی نزاکت پر غور کریں۔ مولوی سید احمد دہلوی لکھتے ہیں۔

“دوسرے ممالک کی طرح ہندوستان کے باشندے بھی جاڑا ختم ہونے پر آمد بہار کو مبارک اور اچھا سمجھ کر نیک شگون کے واسطے اپنے دیوی دیوتاؤں اور اوتاروں کے استھانوں میں مندروں پر ان کے رجھانے کے لئے بہ تقاضائے موسم سرسوں کے پھولوں کے گڑوے بنا کر گاتے بجاتے لے جاتے اور اس میلے کو بسنت کہتے۔

امیر خسرو دہلوی نے اس ہندوانہ میلے کو مسلمانوں میں رائج کیا۔ مشہور ہے کہ محبوب الہی حضرت نظام الدین اولیا کو اپنے بھانجے مولانا تقی الدین نوح سے بہت پیار تھا۔ تقی الدین نوح کو بھی حضرت محبوب الہی سے اس درجے انس تھا کہ پانچوں وقت نماز پڑھ کر دعا مانگتے تھے کہ الہی میری عمر بھی محبوب الہی کو دے دے تاکہ ان کا روحانی فیض عرصہ دراز تک جاری رہے۔ بھانجے کی دعا قبول ہوئی اور اٹھتی جوانی ہی میں اس جہاں سے اٹھ گئے۔ حضرت نظام الدین اولیا کو یہاں تک صدمہ اور رنج و الم ہوا کہ آپ نے یک لخت، جس راگ کے بغیر دم بھر نہیں رہتے تھے، اسے بھی ترک کر دیا۔ جب اس بات کو چار پانچ مہینے کا عرصہ گزر گیا تو آپ تالاب کی سیر کو، جہاں اب باؤلی بنی ہوئی ہے، مع یاران جلسہ تشریف لائے۔

ان دنوں میں یہی بسنت کا موقع اور بسنت پنچمی کا میلہ تھا۔ امیر خسرو کسی سبب سے ان سب کے پیچھے رہ گئے۔ دیکھا کہ کھیتوں میں سرسوں پھول رہی ہے۔ ہندو اپنے بزرگوں کے استھانوں پر گڑوے بنا بنا کر لئے چلے جاتے ہیں۔ انہیں بھی یہ خیال آیا کہ میں بھی اپنے پیر کو خوش کروں۔ چنانچہ اس وقت ایک خوشی و انبساط کی کیفیت پیدا ہوئی۔ اسی وقت دستار مبارک کو کھول کر کچھ پیچ ادھر اور کچھ ادھر لٹکا لئے۔ ان میں سرسوں کے پھول الجھا الجھا کر یہ مصرعہ الاپتے ہوئے اسی تالاب کی طرف چلے جدھر آپ کے پیر مرشد تشریف لے گئے تھے۔

اشک ریز آمدہ است ابر بہار

(بہار کے بادل چھائے ہوئے ہیں تو بھی آنسو بہا)

جہاں تک اس الاپ کی آواز پہنچتی تھی، یہ معلوم ہوتا تھا کہ ایک زمانہ گونج رہا ہے۔ ایک تو یہ حضرت فن موسیقی کے نائک اور عدیم المثل سرود خواں تھے، دوسرے اس ذوق شوق نے اور بھی آگ بھڑکا دی

کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ محبوب الہی کو خیال آیا آج ہمارا ترک یعنی خسرو کہاں رہ گیا۔ عجب نہیں کہ کچھ سریلی بھنک بھی کان میں پہنچی ہو۔ آپ نے پے در پے دو چار جلیسوں کو ان کے لینے کو بھیجا۔ وہ جو تلاش کرتے آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ عجب رنگ سے آپ گاتے ہوئے مستانہ چال و معشوقانہ انداز سے خراماں خراماں جھومتے ہوئے چلے آتے ہیں۔ وہ (ہم جلیس) بھی کچھ ایسے مدہوش ہوئے کہ اسی رنگ میں مل گئے۔ ہر کہ در کان نمک رفت نمک شد۔ غرض ایک شخص واپس آیا

اشک ریز آمد است ابر بہار

ساقیا گل بریز بادہ بیار

(اے ساقی پھول بکھیر اور شراب لے آ)

دوسرے مصرعے کا سننا تھا کہ حضرت نے بے تاب ہو کر اپنے دامان و گریبان کو چاک کر ڈالا اور حضرت امیر خسرو کو گلے میں بانہیں ڈالے ہوئے لئے چلے آئے۔ کہتے ہیں کہ ایک عرصے تک رقت کا بازار گرم رہا اور اہل ذوق مرغ بسمل کی طرح تڑپتے اور پھڑکتے رہے۔ غرض اس وقت سے مسلمانوں میں یہ میلہ بھی شروع ہو گیا اور حضرت سلطان المشائخ نے بھی راگ پھر سے شروع کردیا۔

حضرت خواجه نظام الدین اولیا رحمة اللّٰه کو اپنے مرید حضرت امیر خُسرو رحمة اللّٰه سے اتنی مُحبّت تھی کہ ایک مرتبہ فرمایا کہ اگر شریعت میں اِجازت ہوتی تو میں یہ وصیت کرتا کہ امیر خُسرو کو بھی میری ہی قبر میں دفن کیا جائے جبکہ یہ وصیت بھی فرمائی کہ خسرو رحمة اللّٰه کی قبر میرے پہلو میں ہونی چاہیے۔۔۔حضرت نے امیر خسرو رحمة اللّٰه سے اپنی بے پایاں اُنسیت کے باعث یہ وصیت بھی فرمائی تھی کہ میرے وصال کے بعد خسرو رحمة اللّٰه میری تُربت کے قریب نہ آنے پائیں وگرنہ میرا جِسم بے تاب ہو کر قبر سے باہر آجائے گا۔۔۔۔۔

حضرت نظام الدین اولیاء رحمة الله نے فرمایا کہ جب روزِ حشر سوال ہوگا کہ نظام الدین دنیا سے کیا لایا ہے تو خسرو کو پیش کر دوں گا

یہ سُنتے ہی امیر خسروؒ نے ایک چیخ ماری اور وہ مرشد کے گرد طواف کرنے لگے۔ ان پر وجد کا عالم طاری تھا۔

 من تو شُدم تو من شُدی، من تن شُدم تو جاں شُدی

 تا کس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری

(امیر خسرو دہلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ)

میں تُو بن گیا ہوں اور تُو میں بن گیا ہے، میں تن ہوں اور تو جان ہے۔ پس اس کے بعد کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں اور ہوں اور تو اور ہے۔

 اور حضرت نظام الدین اولیاء حضرت امیر خسرو کو ترک اللہ کہہ کر پکارتے اور امیر خسرو کی جانب اشارہ کر کے فرمایا کرتے کہ

اے باری تعالیٰ اس ترک کے سینے میں جو آگ روشن ہے اس کی بدولت مجھے بخش دے، امیر خسرو پر اپنے پیر و مرشد کی صحبت کا اتنا اثر تھا کہ برسوں صائم الدہر رہے اورعشق الٰہی کی ایسی سوزش تھی کہ سینے پر سے کپڑا ایسا ہو جاتا تھا کہ گویا جل گیا ہے۔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment