حدیث نبوی اردو

Rate this post

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: “إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ مَنْ تَرَكَ مِنْكُمْ عُشْرَ مَا أُمِرَ بِهٖ هَلَكَ، ثُمَّ يَأْتِيْ زَمَانٌ مَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ بِعُشْرِ مَا أُمِرَ بِهٖ نَجَا”. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

ترجمہ________🥀

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم ایسے زمانہ میں ہو کہ جو احکام شریعہ کا دسواں حصہ چھوڑ دے تو وہ ہلاک ہوجائےپھر وہ زمانہ آوے گا کہ جو احکام کے دسویں حصے پر عمل کرے نجات پاوے گا ۱؎ (ترمذی)

تشریح_________🥀

۱؎ خیال رہے کہ یہاں احکام سے مرادتبلیغ اور سنن ونوافل وغیرہ ہیں نہ کہ فرائض و واجبات

یعنی آج چونکہ تبلیغ اور ساری نیکیوں کے لیئے کوئی رکاوٹ نہیں اب کچھ بھی چھوڑنا اپنا قصور ہے۔

آخر زمانہ میں رکاوٹیں بہت ہوں گی اس وقت آج کے لحاظ سے دسواں حصہ پر عمل کرنا بڑی بہادری ہوگی۔

لہذا حدیث صاف ہے اس پر یہ اعتراض نہیں کہ اب ایک ہی نماز اور ہزاروں حصہ زکوۃ اور رمضان کے تین روزہ کافی ہیں۔

   مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:179 _______💚

تین قسم کے انسان حدیث نبوی اردو

ثلاثۃ یضحک اللہ الیھم ۔۔۔۔۔تین قسم کے انسان ھے جنہیں دیکھ کے رب مسکراتا ہے۔۔۔

۔1۔ الرجل اذا قام بالیل یصلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ آدمی جب رات کا وقت اجائے تو وہ جائے نماز پہ کھڑا ھو کر اللہ کو سجدہ کر رہا ھو ۔۔قیام رکوع کر رہا ھو۔۔۔

۔2 ۔۔۔۔۔۔والوقوف اذا صفوا فی الصلاۃ ۔۔۔۔۔۔دوسرے وہ کہ جب لوگ نماز پڑھنے کے لئے صف بناتے ھوے کھڑے ھوتے ہیں۔۔۔

۔3 ۔۔۔۔والوقوف اذا صفوا فی قتال العدو ۔۔۔جب دشمنوں سے جہاد کے لیے مجاھدین صف بنا کر کھڑے ھوتے ھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسکرانے سے مراد؟

۔اللہ تعالیٰ کے مسکرانے سے مراد غایت درجے کی رضا ھے کہ اللہ تعالیٰ اسے بہت زیادہ پسند فرما رہا ھے ۔۔مشکوۃ حدیث1228….. دعاگو عارف اللہ رشیدی

حدیث نبوی حلال کھانے کے بارے میں

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: “مَنْ أَكَلَ طَيِّبًا، وَعَمِلَ فِيْ سُنَّةٍ، وَأَمِنَ النَّاسُ بَوَائِقَه، دَخَلَ الْجَنَّةَ”، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ! صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هٰذَا الْيَوْمَ لَكَثِيرٌ فِي النَّاسِ؟ قَالَ: “وَسَيَكُونُ فِي قُرُوْنٍ بَعْدِيْ”. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

ترجمہ_______🥀

۱؎ روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو پاک و حلال کھائے سنت پر عمل کرے اورلوگ اس کے فتنوں سےمحفوظ رہیں۔

وہ جنت میں جائے گا ایک شخص نے عرض کیا یارسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج کل بہت سے ایسے لوگ ہیں فرمایا میرے بعد والے زمانوں میں بھی ہوں گے ۲؎(ترمذی)

    مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:178 _____🥀 دعاگو عارف اللہ رشیدی

وعن انس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ان العبد اذا وضع في قبره وتولى عنه اصحابه انه ليسمع قرع نعالهم،اتاه ملكان فيقعدانه، فيقولان: ما كنت تقول في هذا الرجل لمحمد؟ فاما المومن فيقول: اشهد انه عبد الله ورسوله، فيقال له: انظر الى مقعدك من النار قد ابدلك الله به مقعدا من الجنة، فيراهما جميعا، واما المنافق والكافر، فيقال له: ما كنت تقول في هذا الرجل؟ فيقول: لا ادري، كنت اقول: ما يقول الناس، فيقال: لا دريت لا تليت ويضرب بمطارق من حديد ضربة، فيصيح صيحة يسمعها من يليه غير الثقلين” متفق عليه، ولفظه للبخاري🥀

ترجمہ🥀

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔۔

۔  ۱؎ اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں ۲؎ پھر کہتے ہیں کہ تو ان صاحب کے متعلق کیا کہتا تھا یعنی محمد ۳؎ تو مؤمن کہہ دیتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔۔

۔  ۴؎ تب اس سے کہا جاتا ہے کہ اپنا دوزخ کا ٹھکانا دیکھ جسے اللہ نے جنت کے ٹھکانے سے بدل دیا ۵؎ تو وہ ان دونوں کو دیکھتا ہے

۔۔؎ لیکن منافق اور کافر اس سے کہا جاتا ہے کہ ان صاحب کے بارے میں كيا کہتا تھا ؟ ۷

وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا جو لوگ کہتے تھے وہی میں کہتا تھا ۸؎ تو اس سے کہا جاتا ہے کہ تو نے نہ پہچانا قرآن نہ پڑھا ۹؎ اور لوہے کے ہتھوڑوں سے مار ماری جاتی ہے جس سے وہ ایسی چیخیں مارتا ہے کہ سواء جن و انس تمام قریبی چیزیں سنتی ہیں ۱۰؎ (مسلم وبخاری)الفاظ بخاری کے ہیں۔🥀

تشریح🥀

۱؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مردے سنتے ہیں،مردوں کا سُننا قرآنی آیات اور بے شمار احادیث سے ثابت ہے۔

حضرت شعیب وصالح علیہما السلام نے عذاب یافتہ قوم کی نعشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا:”یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ”الآیہ۔

رب فرماتا ہے:”وَسْـَٔلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنۡ قَبْلِکَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ “یعنی اے محبوب! پچھلے پیغمبروں سے پوچھو۔

بلکہ ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا گیا:”ثُمَّ ادْعُہُنَّ یَاۡتِیۡنَکَ سَعْیًا”ذبح کیے ہوئے جانوروں کو پکارو دوڑتے ہوئے آجائیں گے

یہ حدیث سماع موتٰی کے لیے نصِّ صریح ہے،ہمارے حضور علیہ السلام نے بدر میں مقتول کفار کی لاشوں پر کھڑے ہو کر ان سے کلام کیا۔

خیال رہے کہ مردے کا یہ سننا ہمیشہ رہتا ہے،اس لئے حکم ہے کہ قبرستان میں جاکر مردوں کو سلام کرو،حالانکہ نہ سننے والوں کو سلام کیسا ؟

جن آیتوں میں سماع موتٰی کی نفی ہے وہاں مردوں سے مراد دل کے مردے یعنی کافر ہیں،اور سننے سے مراد قبول کرنا ہے اسی لیئے جہاں قرآن نے یہ فرمایا:”اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی”تم مردوں کو سُنا نہیں سکتے۔

مزید پڑھیں

فتویٰ آن لائن

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں احسان کا مفہوم کیا ہے؟

(تبوک کے موقع پر رسول الله ﷺ کا خطبہ شریف)

سیدنا ابو سعید خدری رضی الله تعالیٰ عنه سے روایت ہے کہ

رسول الله ﷺ نے تبوک میں کھجور کے درخت کے ساتھ ٹیک ہوئے کر خطبہ ارشاد فر مایا:لوگو کیا میں تم کو۔خبر نہ دوں۔

لوگوں میں بہترین کون ہے اور بدترین کون ہے؟ بے شک لوگوں میں بہترین وہ شخص ہے جو الله تعالیٰ کی راہ میں گھوڑے کی پشت پر سوار ہو کر یا اونٹ کی پشت پر سوار ہو کر یا پیدل سفر کرے یہاں تک کہ اس کو موت آجائے ۔

اور لوگوں کی میں بدترین اور فاجر اور جری شخص وہ ہے جو الله تعالیٰ کی کتاب بھی پڑھے اور اس کی کسی بات پر عمل نہ کرے۔

(سنن النسائی،ج،٦،ح،٣١٠٦،ص،۱۱،المكتبة التجارية الكبرى بالقاهرة)

(مسند الإمام أحمد بن حنبل،ج،۱۷،ح،۱۱۳۱۹،ص،٤٢١،مؤسسة الرسالة)

(المستدرك على الصحيحين،ج،۲،ح،۲۳۸۰،ص،۷۷،دار الكتب العلمية بيروت،لبنان)۔ دعاگو عارف اللہ رشیدی

سو شہیدوں کا ثواب

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ تَمَسَّكَ بِسُنَّتِي عِنْدَ فَسَادِ أُمَّتِي فَلَهُ أجر مائَة شَهِيد»

ترجمہ________🥀

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس نے میری امت کے بگڑتے وقت میری سنت کو مضبوط تھاما تو اسے سوشہیدوں کا ثواب ہے ۱؎

تشریح_______🥀

۱؎ کیونکہ شہیدتو ایک بارتلوار کا زخم کھاکر پار ہوجاتا ہے مگر یہاللہ کا بندہ عمر بھر لوگوں کے طعنے اور زبانوں کے گھاؤ کھاتا رہتا ہے۔

اللہ اور رسول کی خاطرسب کچھ برداشت کرتا ہے،اس کا جہاد جہاد اکبرہےجیسے اس زمانہ میں داڑھی رکھنا سود سے بچنا وغیرہ۔

   مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:176 _______🤎

راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا

ایک شخص کہیں جارہا تھا، راستے میں اس نے کانٹوں کی بھری ہوئی ایک ٹہنی دیکھی ، پس اسے راستے سے دور کر دیا۔

حدیث نبوی

اللہ تعالی صرف اسی بات پر راضی ہو گیا اور اسکی بخشش کر دی۔

(صحیح بخاری : 652)

*ایک پیاری حدیث*

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الِاقْتِصَادُ فِي النَّفَقَةِ نِصْفُ الْمَعِيشَةِ وَالتَّوَدُّدُ إِلَى النَّاسِ نِصْفُ الْعَقْلِ وَحُسْنُ السُّؤَالِ نِصْفُ الْعِلْمِ» رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ.

(مشکواۃ شریف حدیث نمبر 6294)

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ خرچ کرنے میں میانہ روی نصف معیشت ہے ،

(اچھے) لوگوں سے دوستی اور محبت نصف عقل ہے ، اور حسن سوال نصف علم ہے ۔

‘‘ امام بیہقی نے یہ چاروں احادیث شعب الایمان میں نقل کی ہیں ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

 *بزم چشتیہ فاضلیہ گڑھی شریف*

مزید پڑھیں

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ 

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment