حاملہ ہرن شکاری اور شیر کا واقعہ

Rate this post

حاملہ ہرن شکاری اور شیر کا واقعہ

ایک دفعہ کسی حاملہ ہرن کو بچہ جنم دینے کی حاجت پیش آئی، تو اس نے دریا کے کنارے پر موجود جنگل کی راہ اختیار کی۔

 پھر یوں ہوا کہ اچانک موسم خراب ہو گیا آسمان سے بجلی گری تو جنگل میں آگ لگ گئی، گھبراہٹ میں ہرن نے جان بچانے کیلئے آس پاس دیکھا تو ایک شکاری نشانہ بنا رہا تھا، دوسری طرف شیر تھا۔

 ہرن کو الجھن ہوئی کہ اس پھیلتی ہوئی آگ میں جل کر مرنا ہو گا یا دریا میں ڈوب کر جان دینی ہو گی، یا شکاری مار دے گا ، یا پھر شیر اپنی بھوک مٹانے کیلئے نوالہ بنا دے گا۔ ہر سمت خطرہ ہے فرار کی کوئی راہ نہیں، اُس وقت ہرن کے اختیار میں جو تھا

 وہ کرنے کا فیصلہ کیا، یعنی پیدائش پر توجہ مذکور کی پھر ایسا ہوا کہ شکاری نے نشانہ لگایا تو آسمان پر بجلی چمکی، اُس کی آنکھیں اچانک بند ہو گئیں اور تیر شیر کو جا لگا، زور دار مینہ برسا جنگل میں پھیلتی آگ ایک دم بجھ گئی۔ ہرن کو اس کے خالق نے بچا لیا۔

زندگی میں جب کبھی مشکلات و مصائب چاروں طرف سے گھیر لیں تو اس وقت وہ کام کریں، جو آپ کر سکتے ہیں، باقی چیزیں اس ذات کیلئے چھوڑ دیں۔ جس نے نظامِ عالم کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ وہی آپ کی حفاظت کرے گا ان شاء اللّه۔❤

*الاستقامة فوق الکرامة*

*استقامت کرامت سے بڑھ کر ہے*

لہذا ڈٹے رہیں۔۔۔!!!

زندگی میں مشکلات کا سامنا کس کو نہیں کرنا پڑتا

کون کہتا ہے کہ میں ہمیشہ آسانی میں رہا ہوں

کون کہتا ہے کہ وہ مشکلات سے ناواقف ہے

جب اس بات سے ہم میں سے ہر کوئی واقف ہے کہ مشکلات آتی ہی ہیں تو پھر ہم کیوں ان سے گھبراتے ہیں….

زندگی میں اگر کچھ کرنا ہے

آگے بڑھنا ہے

اپنے آپ کو کسی مقام پر پہنچانا ہے

تو پھر چھوڑ دو ان مشکلات کا سوچنا کہ….

اگر ایسا کروں تو کیا ہوگا

وہ کہوں گا تو کیا سننے کو ملے گا

وہ کرلیا تو کیا ہوگا

” یاد رکھیں ہوتا کچھ بھی نہیں”

بس فرق ہمارے کہنے اور شروع کرنے میں ہے، ہم جیسا کہتے ہیں، جیسا سوچتے ہیں دماغ اس کو وصول کرتا ہے.

اگر آپ کسی کام کے بارے میں یہ سوچتے ہیں کہ آپ نہیں کرسکتے تو دماغ 🧠 اس پر کام کرنا شروع کردیتا ہے،

اور

اگر آپ کسی کام کے بارے یہ سوچیں کہ میں یہ کر سکتا ہوں تو دماغ 🧠 اس کے موافق چیزوں پر کام کرنا شروع کردیتا ہے،

لہذا پر امید رہیں، پرجوش رہیں اور جو بھی کرنا چاہتے ہیں شروع کردیں….

کیا ہوگا؟

کیسے ہوگا؟

کب ہوگا؟

یہ تب دیکھ لیں گے جب وہ وقت آئے گا۔

رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ.

جب تک انسان کو مُشکلات سے واسطہ نہیں پڑتا انسانی زندگی میں نکھار نہیں آتا،

انسان کی زندگی میں صبر،شکر اورمحبت تینوں کا بڑا درجہ ہے، صبرمصیبت کو ٹالتا ہے، شُکر نعمت بڑھاتا ہے اورمحبت خوشیوں کا خرانہ ہے.

اللّه ربِ ذُوالجَلالِ وَالاِکرَام ان تینوں سے ہم سب کو سدا مالا مال رکھے. آمین. اللہ تعالئُ،ہمیں توفیق عطا فرما کے تیرے بندوں کے لئے ہمارےلفظوں میں دعُا، آنکھوں میں ہمدردی، دلوں میں محبت، ہاتھوں میں خدمت اور فطرت میں عاجزی ہو. آمین .

الله پاک، ہمارے پیارے وطن پہ اپنی رحمت کے ساۓ ہمیشه دراز اور آفتوں سے محفوظ رکھے. آمین.

یا الله ہم سب کو اپنی ناراضگی، زمینی و آسمانی عذاب سے بچا.

*آمین یاربالعالمین*

……… زندگی مشکل نہیں

زندگی سب کے لیے ایک جیسی ہے ، کبھی آسان اور کبھی مشکل ، کبھی خوشی اور کبھی غم ، کبھی تکلیف اور کبھی راحت ، لیکن اس شخص کے لیے بہت مشکل اور تکلیف دہ ہے جو زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے کو تیار نہیں ۔ جب انسان اپنا مقصدِ حیات طے کرتا ہے اور کچھ بڑا کر کے دکھانے کا فیصلہ کرلیتاہے تو اسے رکاوٹوں، پریشانیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زندگی میں جتنی منازل ہوتی ہیں ،اتنی ہی مشکلات آتی ہیں۔ انسان کی زندگی اُمید اور خواب کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ جب اُمید ختم ہونے لگے اور خواب ٹوٹنے لگیں تو انسان ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ ہر چیز کا دورانیہ ہوتا ہے ۔اسی طرح مشکل بھی ایک دورانیہ ہوتا ہے۔ جو سکھانے کے لیے آتا ہے ، اس سے ضرور سیکھنا چاہیے، مشکلات کسی مصلحت پر مبنی ہوتی ہیں ،اِس مصلحت کا انتظار کرنا چاہیے۔اس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے قرآن ِپاک میں کچھ یوں کیا ہے کہ: ’’ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘(سورۃ الانشراح)

مشکلات کا آنا ، مشکلات کاختم ہو جانا اور نیا راستہ بن جانایہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے۔ صرف بیٹھ کر وقت گزار نازندگی نہیں ہے بلکہ کچھ کر گزرنا ہی اصل زندگی ہے۔ مثال کے طور پر اگر بندہ گاڑی میں کسی اجنبی کے ساتھ سفر کر رہا ہو اور اس کو اجنبی کاساتھ اچھا نہ لگے تو اسے چاہیے وقت کا اندازہ لگائے کہ میرا یہ سفر کتنی دیر میں ختم ہو گا۔ اس کی تکلیف دورہو جائے گی۔اسی طرح احسن طریقے زندگی گزارنے کے لیے اپروچ بنا نی چاہیے کہ زندگی میں اچھے برے دن آئیں تو کیسے منیج کیا جا سکتا ہے۔مشکلات سے ٹوٹنے اور ہارنے کے باوجوداُمید کا دامن نہ چھوڑنے والا سرفراز ہو جاتا ہے ۔بد ترین حالات میں بھی اچھی اُمید قائم رکھنی چاہیے کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے مصلحت اور بہتری کے امکانات کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ہمیشہ اچھا گمان رکھنا چاہیے ۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’میری رحمت سے نااُمید مت ہونا ‘‘[سورۃ الز:53]

زندگی مشکل نہیں ہے ، بس اِسے اَحسن طریقے سے گزارنے کا فن آنا چاہیے۔ اس حقیقت کی سمجھ ہونی چاہیے کہ زندگی میں آنے والی مشکلات کا تعلق زندہ شخص سے ہے۔جو اُسی کو بنانے کی خاطر مختلف امتحانات سے گزارنے اور اُن میں سرخرو کروانے کے لیے آتی ہیں ۔ انسان کی خواہشیں ، ضرورتیں اور تقاضے وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔اسی کے مطابق زندگی کے امتحانات بدلتے رہتے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ اپنی مشکلات کو دیکھتے ہوئے اس کائنات کو تصور میں لائے پھر اس کائنات کے بنانے والے کو تصور میں لائے۔ جب کائنات اور اس کا بنانے والاتصور میں آئے گا تواپنا آپ اور مشکلات بہت چھوٹی لگیں گی۔کبھی مشکلات امتحان اور آزمائش کی خاطر آتی ہیں تو کبھی انسان کا لالچ اس کو مشکلات کی دلدل میں لے جاتا ہے۔لیکن ہم کبھی یہ ماننے کو تیار نہیں ہوتے کہ ہم اپنے لیے خود مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔ انسان ہمیشہ دوسروں کا گلہ کرتا ہے۔حالانکہ دوسروں کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔

مشکلات کا سامنا کرنے کی عادت بچپن میں ہی بن جاتی ہے۔ بچے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ والدین کو دیکھتے اور اِن سے سیکھتے ہیں کہ ان کے والدین مشکلات کا سامنا کیسے کرتے ہیں۔ لہذٰا والدین کو چاہیے کہ بچوں کو مشکلات کے سامنے کھڑا ہونے کی ہمت پیداکریں۔والدین کوکبھی بھی اپنے بچوں کو بے بسی نہیں سکھانی چاہیے۔اگر بچوں نے بے بس رہنا سیکھ لیا اور خودداری چھوڑدی تو پھر وہ کبھی تبدیل نہیں ہوں گے۔ والدین کو مشکلات کا ہمت سے سامنا کرتے ہوئے بچوں کوبھی ہمت دلانی چاہیے۔اگر بچوں میں ہمت کی عادت ڈال دی جائے تو ان کی آنے والی زندگی بہت بہتر ہوجاتی ہے۔ ایک وقت میں کی ہوئی چھوٹی سی ہمت آنے والے وقت میں بڑا نتیجہ اخذ کرتی ہے۔ چھوٹی سی چیز بھی چھوٹی نہیں ہوتی۔ کچھ لوگوں کے بدلنے سے معاشرے میں بڑی تبدیل آنا شروع ہو جاتی ہے۔

بہت سے لوگ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ مشکلات اور تکالیف صرف ہماری زندگی میں ہیں، باقی ساری دنیا بہت خوشحال زندگی بسر کر رہی ہے۔ایسے لوگ بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں ایسا ممکن نہیں کہ کسی کی زندگی میں مشکلات نہ ہوں۔ جیسے ایک مثال مشہور ہے کہ بدھا کے پاس ایک عورت چلی گئی اور اس سے کہا کہ ’’میرا بیٹا مر گیا ہے ۔ مجھے اس کا بہت زیادہ غم ہے۔ مجھے بتاؤ کہ میں اس غم کو کیسے ختم کروں۔‘‘ بدھا نے ایک خالی پیالہ اس عورت کو دیا اور کہا ’’بستی میں جا کر ایسا گھر تلاش کرو جہاں پر کبھی کوئی مرا نہ ہو۔ اگر کوئی مل جائے تواس گھر سے اس پیالے کو دانوں سے بھر لاؤ۔‘‘ وہ عورت بستی میں گئی اور خالی ہاتھ واپس لوٹ آئی اور بدھا سے کہنے لگی کہ’’ میراغم ختم ہو گیا ہے۔‘‘ بدھا نے پوچھا ’’تمہار ا غم کیسے ختم ہوا؟‘‘ اس عورت نے جواب دیا’’ مجھے ایک بھی گھر ایسا نہیں ملا جس میں کوئی مرا نہ ہو یا جسے کوئی غم نہ ہو۔‘‘ جب انسان دوسروں کے غموں اور دکھ درد کو دیکھتا ہے تو اس کو اپنا غم چھوٹا لگنا شروع ہو جاتا ہے۔ جب انسان صرف اپنی ہی تکالیف کو دیکھتا رہتا ہے تو اسے اپنی تکالیف کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا اور وہی سب سے زیادہ بڑی لگتی ہیں۔ جس کو انسان مشکل سمجھتا ہے ممکن ہے وہ رحمت میں بدل جائے ۔ جیسے زندگی میں رات بہت ضروری ہے جو دن کی اہمیت کو واضح کر تی ہے ۔اسی طرح بعض دفعہ مشکلا ت بھی بہت ضروری ہوتی ہیں۔کیونکہ ہر مشکل کسی آسانی کو آپ کی زندگی میں شامل کرنے کی ذمہ دار ہے۔

لہذا اِن کا سامنا بہادری و استقلال سے کریں۔

 

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment