بے شک علم ضرور فائدہ دیتا اور دین ودنیا میں بلندی دِلواتا ہے

Rate this post

امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور اسکے شاگرد رشید حضرت سیّدنا امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا حیرت انگیز واقعہ

سراج الاُمّہ ،کاشف الغُمَّہ حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے شاگردِ رشید حضرت سیِّدُنا امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم بن حبیب علیہ رحمۃا اللہ الحسیب اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہوئے  فرماتے ہیں

”ابھی میں چھوٹاسا تھا کہ میرے سر سے باپ کا سایہ اُٹھ گیا۔ گھریلو حالات سازگار نہ تھے۔

میری والدہ نے مجھے ایک دھوبی کے پاس بھیج دیا تاکہ وہاں کام کروں اورجو اجرت ملے اس سے گھر کا خرچہ چلتا رہے ۔ میں وہاں جاتا اور کام کرتا ۔

میں ایک مرتبہ علم وعمل کے روشن چراغ حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حلقہ درس میں بیٹھ گیا۔ مجھے ان کی باتیں بہت پسند آئیں۔ چنانچہ، میں نے دھوبی کے پاس جانا چھوڑ دیا اوراس حلقۂ درس میں شریک ہونے لگا۔ میری والدہ کو معلوم ہوا تو مجھے وہاں سے لے گئی اوردھوبی کے پاس چھوڑدیا۔ میں چھُپ چھُپ کر امام صاحب کی بارگاہ میں حاضر ہوتا جیسے ہی میری والدہ کو معلوم ہوتا مجھے وہاں سے اٹھا کر دھوبی کے پاس لے جاتی۔ حضرتِ سیِّدُناامامِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم میرا شوقِ علمی دیکھ کر میری طرف خاص توجہ فرماتے۔

جب معاملہ بڑھا تو ایک دن میری والدہ استاذِ محترم حضرت سیِّدُنا امامِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کے پاس آئی اور کہا: ”میرے اس بچے کو آپ نے بگاڑ دیا ہے ۔ یہ بچہ یتیم ہے۔کوئی ایسا نہیں جو اس کی پرورش کرے ۔ میں سارا دن سُوت کاتتی ہوں جو اُجرت ملتی ہے اس سے اس کی پرورش کرتی ہوں ۔ اس امید پر کہ یہ بڑا ہوجائے اور کچھ کما کر لائے ۔ اسی لئے میں نے اسے دھوبی کے پاس بھیجا تھا کہ اس طرح کچھ نہ کچھ رقم مل جایا کرے گی اور ہمارا گزارہ ہوتا رہے گا۔اب یہ سب کچھ چھوڑ کر آپ کے پاس آبیٹھتا ہے ۔ ”

میری والدہ کی یہ باتیں سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا” اے خوش بخت!اپنے اس بچے کو علم کی دولت حاصل کرنے دے ، وہ دن دور نہیں کہ یہ باداموں اوردیسی گھی کا حلوہ اورعمدہ فالودہ کھائے گا۔” یہ سن کر میری والدہ بہت ناراض ہوئی اور کہا: ”لگتاہے بڑھاپے کی وجہ سے آپ کا دماغ چل گیاہے، ہم جیسے غریب لوگ باداموں اوردیسی گھی کا حلوہ کیسے کھاسکتے ہیں؟” یہ کہہ کر میری والدہ گھر چلی آئی ۔ میں حضرتِ سیِّدُنا امام اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی بارگاہ میں حاضر رہ کر علمِ دین سیکھتا رہا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مجھ پر بھر پور توجہ فرماتے ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ !آپ کی برکت سے مجھے علم و عمل کی بے انتہاء دولت نصیب ہوئی ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے رِفعت وبلندی عطا فرمائی۔ میرے محسن ومُرَبِّی استاذِ محترم دنیا سے پردہ فرما چکے تھے ۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب خلیفہ ہارون الرشید نے عہدۂ قضاء میرے سپرد کردیا۔

Imam Abu hanifa

خلیفہ ہارون الرشیدعلیہ رحمۃ اللہ المجید اکثر میری دعوت کرتے اور اپنے ساتھ کھانا کھلاتے۔ ایک مرتبہ خلیفہ نے پُر تکلُّف دعوت کا اہتمام کیا ،انواع واقسام کے کھانے چُنے گئے ۔ خلیفہ نے با داموں اور دیسی گھی کا حلوہ اور عمدہ فالودہ میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا :” اے امام ابویو سف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ !یہ حلوہ کھائیے ، روز روز ایسا حلوہ تیارکروانا ہمارے لئے آسان نہیں ۔” یہ سن کر میں ہنسنے لگا۔ پوچھا:” آپ ہنس کیوں رہے ہیں ؟” میں نے کہا :” اللہ عَزَّوَجَلَّ خلیفہ کو سلامت رکھے ، میرے استاذِ محترم حضرتِ سیِّدُنا امام اَعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے برسوں پہلے میری والدہ سے فرمایا تھا کہ تمہارا یہ بیٹا باداموں اور دیسی گھی کا حلوہ اور فالودہ کھائے گا” آج میرے استاذِ محترم کا فرمان پورا ہوگیا۔ پھر میں نے اپنے بچپن کا سارا واقعہ خلیفہ کو سنایا تو وہ بہت متعجب ہوئے اور فرمایا: ”بے شک علم ضرور فائدہ دیتا اور دین ودنیا میں بلندی دِلواتا ہے ، اللہ کریم حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے، جس چیز کو ان کے سر کی آنکھ نہ دیکھ سکتی اسے اپنی عقل کی آنکھ سے دیکھ لیا کرتے تھے۔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment