بیوی کی محبت پر اشعار

Rate this post

لڑکیوں کو آج بھی زندہ دفن کرنے کا رواج ہے

#الحب_و_الحبیب 8

ابن ماجة,مسند ابى يعبر, مسند بزار وغیرہ میں حدیث پاک

ہے

لم يُرَ للمُتحابَّينِ مثلُ النكاحِ

دو محبت کرنے والوں کے لیئے نکاح سے بہتر کوئی چیز نہیں دیکھی گئی!

یہ مذکورہ فرمان تب ہوا جب ایک صاحب نے عرض کی کہ ہمارے پاس ایک لڑکی ہے اس کو دو بندوں نے نکاح کا پیغام بھیجا ہے ایک مالدار اور ایک غریب ہے

 مگر لڑکی کا دل غریب کی طرف مائل ہے

تو فرمایا دو محبت کرنے والوں کے لیئے نکاح سب بہتر کچھ نہیں ہے!

شریعت مطہرہ نے جتنی مرد کو اپنی اختیاری جگہ شادی کی اجازت دی اتنی ہی عورت کو بھی اجازت ہے

زمانہ جاہلیت کی رسموں اور ہندوانہ رواج کی نحوست کی وجہ سے اس معاشرے میں لڑکی کا شادی کے لیئے اپنا شرعی حق استعمال کرنا جرم بنا دیا گیا ہے

اور اسی وجہ سے کثیر فتنہ و فساد قائم ہیں!

زمانہ جاہلیت میں کفار اپنی بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے ہیں اور اب بچیوں کی چاہتوں کو دفن کر دیتے ہیں!

بیچاری لڑکی ساری زندگی اپنے دل میں حسرتوں کا قبرستان بنا کر جیتی ہے!

بچیوں کو زندہ دفن کرنا یا یوں کہ لیں زندہ لاش بنا دینا آج بھی جاری ہے!

عملی لحاظ سے لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے والوں اور شریعت کی اجازت پھلانگ کر بچیوں کی مرضی دفن کرنے والوں میں کیا فرق ہے؟

شریعت پر عمل کرنے میں ہی عافیت ہے اسی میں کثیر برکت ہے!

حدیث پاک کو غور سے پڑھیں تو کئی راز کھلتے ہیں

اولا کہ محبت کرنے والوں کی رضا ہوگی تو زندگی اچھی رہے گی

ثانیا اگر ان کو نکاح میں جمع نہ کیا گیا تو حرام میں پڑیں گے

ثالثاً پھر اگر لڑکی لڑکا بھاگ گئے تو لڑکی کے والدین کو عار ہوگی

رابعا لڑکی کی شادی کہیں اور کر دی جائے تو شوہر کو محبت کا علم ہونے پر ہمیشہ کے لیئے بیوی کے لیئے دل میں گرہ پڑ جائے گی!

خامساً حکمت و عقلمندی کا یہی تقاضا ہے کہ لڑکی یا لڑکے کی شادی وہیں پر کرو جہاں وہ چاہتے ہیں اس نکاح سے اچھا کچھ نہیں ہے!

لہذا والدین کو چاہیے شرعی عذر نہ ہو تو بچی یا بچے کی خواہش کو ضرور پورا کریں!

جس رب نے مرد و زن کو نکاح کا اختیار دیا ہے اس کے حکم سے نہ ٹکرائیں سوائے پریشانی کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا!

آپ جیت سکتے ہیں مگر آپ کی اولاد آپ کے جگر کا ٹکڑا پریشان رہے گا!

✍️ #سیدمہتاب_عالم

محبت کیا ہے؟

ایک نیا دن چہچہاتی ایک نئی صبح

انتظار کے دل میں سنسنی بن کر دوڑنے والا ایک وعدہ

کھوجتی تلاش کرتی،۔آنکھ کے پالینے کی سرخوشی

کسی سڑک کنارے خود آگے آنے والا وہ پودا

جو ہمیں یقین سے دیکھتا ہے سب کچھ ممکن ہے

اللہ کی کُن سے

وہ بچہ جو ہنستے ہنستے رودے یا جو روتے روتے ماں کو دیکھ کر کھل کھلا دے

گھر سے نکلتے دعا دیتے ہاتھ چومنے کی خوشی محبت ہے

گھر میں انتظار، کرتے

دلوں کو، گِن۔ گِن کر واپس لوٹ، آنے کی تھکن دروازے کے باہر چھوڑ آنا

اور مسکرانا محبت ہے

کسی اکیلے کمرے میں لیٹے چھت کو تکنے پنکھے کے پر گن کر کوئی کہانی پرواز کرتے دیکھنا محبت ہے

اس تنہائی میں چڑیا آکر چہک جائے تو

ہنس پڑنا محبت ہے

سر جھکائے کسی اسٹیشن پر بیٹھے ہوئے

پیچھے چھوٹ جانے والوں کوسوچنا

اور کسی اور، کو الوداع کہتے ہاتھوں مسکراہٹوں کو

سمیٹ کر اپنے سفری بیگ میں سنبھال کر رکھ لینا محبت ہے

اپنی بھوک کو آدھا رکھ کر دوستوں میں موج مستی کے بعد

گھر آکر بیوی کے ساتھ اضافی نوالے کھا نا محبت ہے 

محبت ہے چار سو محبت ہے

سبکتگین کی اپنی بیوی سے محبت

سبکتگین بادشاہ اپنی ایک بیوی سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا۔ ایک مرتبہ اس کی دوسری بیویوں نے اس سے کہا کہ آپ فلاں بیوی سے زیادہ محبت رکھتے ہو حالانکہ حسن میں ہم اس سے زیادہ ہیں، سمجھداری میں بھی ہم اس سے زیادہ ہیں، آخر اس میں ایسی کون سی خاص بات ہے کہ تم ہم سب سے زیادہ اسے پسند کرتے ہو؟

بادشاہ نے کہا؛ “اچھا میں کبھی اس بات کا جواب آپ کو دے دوں گا۔” کافی عرصہ گزر گیا، کسی نے اس بات کو نہ دہرایا، اس کی بیویاں یہ بات بھول گئیں ..

ایک دن سبکتگین اپنے گھر میں بیٹھا تھا کہ اس نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آج تمام بیویوں کو اچھے اچھے انعامات سے نوازوں۔

وہ یہ سن کر خوش ہو گئیں کہ آج ہمیں شاہی خزانے سے انعام ملے گا، صحن میں سونے چاندی کے ڈھیر لگا دیئے گئے، بادشاہ نے کہا کہ اس میں جس بیوی کو جو چیز زیادہ پسند ہے وہ دوڑ کر اس پہ ہاتھ رکھے وہ چیز اس کی ہو جائے گی۔

چنانچہ جس وقت میں اشارہ کروں تم اپنی پسند کی چیز پر ہاتھ رکھ دینا۔ بیویاں تیار ہو گئیں ، اور انہوں نے اپنی اپنی چیزوں پر نگاہیں جما لیں۔ جیسے ہی بادشاہ نے اشارہ کیا سب بیویوں نے دوڑ کر اپنی اپنی پسند کی چیز پر ہاتھ رکھ دیا۔

لیکن! وہ بیوی جس سے اس کو زیادہ محبت تھی وہ اپنی جگہ کھڑی رہی۔ سب بیویاں اس کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگیں اور کہا کہ بادشاہ سلامت !” ہم کہتے تھے نا کہ یہ بے وقوف ہے اور آج اس کے عقل کی کمی کھل کر سامنے آ گئی، یہ تو بس سوچتی ہی رہی لہٰذا آج اس کو کچھ نہیں ملنے والا۔”

بادشاہ نے اس سے پوچھا: “اے اللہ کی بندی! تم نے کسی چیز پر ہاتھ کیوں نہیں رکھا؟

وہ کہنے لگی: بادشاہ سلامت! “میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ نے یہ کہا ہے نا کہ جو جس چیز پر ہاتھ رکھے گا وہ اسی کی ہو جائے گی ۔ “بادشاہ نے کہا: “ہاں، یہ ہی تو میں نے کہا تھا ۔”

اس نے یہ تصدیق سنی تو آگے بڑھی اور بادشاہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی، “بادشاہ سلامت مجھے تو آپ چاہئیں، جب آپ میرے ہو گے تو پھر سارا خزانہ میرا ہو گیا۔”

بادشاہ نے اس کی یہ بات سنی تو باقی بیویوں سے کہا: “دیکھو اس کی اسی عقل مندی اور محبت کی وجہ سے میں اس سے زیادہ محبت رکھتا ہوں.”

اسی طرح جب انسان محبت الٰہی کو تھام لیتا ہے تو کائنات کی چیزیں اس کے لئے مسخر ہو جاتی ہیں ۔۔۔

:بیس سال کی محنت کو آگ لگا دینے والی بیوی

______سقراط کی بیوی_____

#تصوف_و_صوفیاء قسط نمبر 6

#کامیاب_خواتین قسط نمبر 2

انیس منصور مصر کے ادیب تھے

انہوں نے الحب معان کتاب میں لکھا

میرا ایک دوست جو مدینہ منورہ کے علماء میں سے تھا جس کا نام ابراھیم العیاشی تھا

 اس نے بیس سال مسلسل محنت کیساتھ امہات المومنین کے حجروں پر ایک تحقیقی کتاب لکھی

 جس میں زمانہ نبوی میں امہات المومنین میں سے کس کا حجرہ کہاں واقع تھا تفصیلا لکھا,

مگر اس کی بیوی سقراط کی بیوی جیسی تھی جو اپنے خاوند کو دنیا کا سب نکما اور پرانی کتابوں میں گم رہنے والا جانتی تھی,

بیوی کے مطابق پانچ بچے اور ایک بیوی کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتے تھے,

ایک دن اس خاتون خانہ نے شیخ ابراہیم کی وہ بیس سالہ محنت پر مشتمل کتاب اٹھائی اور جلا ڈالی,

جب شیخ کو معلوم ہوا تو بیس سالہ محنت ضائع ہونے کے صدمے سے فالج کے حملے آکر مفلوج ہوگئے!

بے شمار مفکرین کو ایسی بیویوں کیساتھ زندگی گزارنی پڑی ہے!

اب ذرا سقراط کی بیوی کا قصہ بھی سن لیں,

ایک بار سقراط کی بیوی سقراط پر زور زور سے چلانے لگی سقراط کے پاس آئے طلباء پریشان ہوگئے!

سقراط کی بیوی نے اس پر بس نہ کیا بلکہ ٹھنڈے پانی کا پیالہ بھر لائی اور سقراط پر ڈال دیا!

سقراط نے مسکرا کر کہا گرج کے بعد بارش تو ہوتی ہے نا,

علماء بیویوں سے ویسے کی توقع نہ رکھیں جیسے وہ اپنے طلباء سے اطاعت کی رکھتے ہیں!

ایک بذرگ کی بیوی ان سے متاثر نہیں تھی حالانکہ انکی کرامات کا شہرہ دور دور تک تھا

ایک دن کہنے لگی آپ خوامخواہ میں ولی بنے پھرتے ہیں ولی تو میں نے کل دیکھا ہے جو ہوا میں اڑ رہا تھا!

بزرگ مسکرا کر فرمانے لگے اللہ کی بندی وہ میں ہی تو تھا

بیوی جھٹ سے بولی تبھی ٹیڑھے ٹیڑھے اڑ رہے تھے 😀

یعنی بیوی شوہر سے کم ہی راضی ہوتی ہے!

بخاری کی حدیث پاک میں ہے

بندہ ایک عرصہ اپنی بیوی سے بھلائی کرتا ہے

 پھر بیوی شوہر سے کچھ کمی دیکھتی ہے تو کہ دیتی ہے میں نے کبھی بھی تم سے بھلائی نہیں دیکھی!

یعنی سالوں کی بھلائی ایک بار کمی کوتاہی سے بھلا دیتی ہے!

امام عبد الوہاب شعرانی طبقات الکبری میں نقل فرماتے ہیں کہ

سیدنا محمد بن حمزہ نے ارشاد فرمایا کہ تین طرح کے لوگ اکثر کامیاب نہیں ہوتے

اول!! شیخ یعنی اللہ کے ولی کا بیٹا

بیٹا اس لیئے کہ اس نے جب سے ہوش سنبھالا لوگوں کو دیکھا اس کے ہاتھ چومتے ہیں

 اسکی ہر بات مانتے ہیں اس سے پیر کا بیٹا ہونے کی وجہ سے تبرک حاصل کرتے ہیں

 یوں وہ پیر کا بیٹا تکبر میں پڑ جاتا ہے اس میں حب جاہ غالب آجاتی ہے اس پر ظالموں کی صفات کا سایہ پڑتا رہتا ہے

  پھر وہ کسی واعظ کی نصیحت قبول نہیں کرتا اور پھر اکابر اولیاء و مشائخ کا انکار کر دیتا ہے

اور اگر بیٹا نیک ہو تو اکثر باپ سے بڑھ جاتا ہے

دوم بیوی

یہ بھی ولی کے فیوض سے فائدہ نہیں اٹھاتی کیونکہ ولی کو بطور خاوند دیکھتی ہے

 ولایت کی نگاہ سے نہیں دیکھتی

بیوی سمجھتی ہے کہ خاوند قضاء شہوت میں اس کا محتاج ہے

اور اگر اللہ تعالی اس عورت کی نگاہ کو نور بخشے اور وہ خاوند کو ولایت کی نگاہ سے دیکھے تو ساری دنیا سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتی ہے

 کیونکہ دن رات اسی کے بالکل ساتھ ساتھ رہتی ہے

سوم! خادم

خادم بھی ولی کے فیض سے فائدہ نہیں اٹھاتا اکثر کیونکہ

وہ شیخ کے کھانے پینے اور سونے سے واقف ہوتا ہے جسکی وجہ سے شیخ کو ہلکا جاننے لگتا ہے

اس لیئے صوفیاء نے فرمایا کہ

پیر کے لیئے درست نہیں کہ وہ مرید کے ساتھ کھانا کھائے اور اس کے ساتھ بغیر ضرورت کے نہ بیٹھے

 کیونکہ اس سے مرید کے دل شیخ کی حرمت کم ہوتی جاتی ہے

اگر مرید عزت سے پیش آئے تو بہت فائدہ اٹھائے!

اسی لیئے کہا جاتا ہے پیر کا بیٹا پیر نہیں ہوتا

کیونکہ تکبر و غرور کی وجہ سے باپ کے فیض سے محروم رہتا ہے

اور دوسرے مشائخ کو ہلکا جاننے کی وجہ سے اندر سے کورا رہتا ہے!

مزید پڑھیں

قرآن سے محبت کے واقعات

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment