بچوں کیلئے 7 سبق آموز مختصر اسلامی واقعات

Rate this post

 اسلامی واقعات

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا واقعہ

✍🏽… حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے پہلی دفعہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیسے دیکھا؟

بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مکے کے لوگوں کو بہت ہی کم جانتا تھا۔ کیونکہ غلام تھا اور عرب میں غلاموں سے انسانیت سوز سلوک عام تھا، انکی استطاعت سے بڑھ کے ان سے کام لیا جاتا تھا تو مجھے کبھی اتنا وقت ہی نہیں ملتا تھا کہ باہر نکل کے لوگوں سے ملوں، لہذا مجھے حضور پاک یا اسلام یا اس طرح کی کسی چیز کا قطعی علم نہ تھا۔

ایک دفعہ کیا ہوا کہ مجھے سخت بخار نے آ لیا۔ سخت جاڑے کا موسم تھا اور انتہائی ٹھنڈ اور بخار نے مجھے کمزور کر کے رکھ دیا، لہذا میں نے لحاف اوڑھا اور لیٹ گیا۔ ادھر میرا مالک جو یہ دیکھنے آیا کہ میں جَو پیس رہا ہوں یا نہیں، وہ مجھے لحاف اوڑھ کے لیٹا دیکھ کے آگ بگولا ہو گیا۔ اس نے لحاف اتارا اور سزا کے طور پہ میری قمیض بھی اتروا دی اور مجھے کھلے صحن میں دروازے کے پاس بٹھا دیا کہ یہاں بیٹھ کے جَو پیس۔

اب سخت سردی، اوپر سے بخار اور اتنی مشقت والا کام، میں روتا جاتا تھا اور جَو پیستا جاتا تھا۔ کچھ ہی دیر میں دروازے پہ دستک ہوئی، میں نے اندر آنے کی اجازت دی تو ایک نہائت متین اور پر نور چہرے والا شخص اندر داخل ہوا اور پوچھا کہ جوان کیوں روتے ہو؟

جواب میں میں نے کہا کہ جاؤ اپنا کام کرو، تمہیں اس سے کیا میں جس وجہ سے بھی روؤں، یہاں پوچھنے والے بہت ہیں لیکن مداوا کوئی نہیں کرتا۔

قصہ مختصر کہ بلال نے حضور کو کافی سخت جملے کہے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ جملے سن کے چل پڑے، جب چل پڑے تو بلال نے کہا کہ بس؟ میں نہ کہتا تھا کہ پوچھتے سب ہیں مداوا کوئی نہیں کرتا۔۔

حضور یہ سن کر بھی چلتے رہے۔۔ بلال کہتے ہیں کہ دل میں جو ہلکی سی امید جاگی تھی کہ یہ شخص کوئی مدد کرے گا وہ بھی گئی۔ لیکن بلال کو کیا معلوم کہ جس شخص سے اب اسکا واسطہ پڑا ہے وہ رحمت اللعالمین ہے۔

بلال کہتے ہیں کہ کچھ ہی دیر میں وہ شخص واپس آ گیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا پیالہ اور دوسرے میں کھجوریں تھیں۔ اس نے وہ کھجوریں اور دودھ مجھے دیا اور کہا کھاؤ پیو اور جا کے سو جاؤ۔

میں نے کہا تو یہ جَو کون پیسے گا؟ نہ پِیسے تو مالک صبح بہت مارے گا۔ اس نے کہا تم سو جاؤ یہ پسے ہوئے مجھ سے لے لینا۔۔

بلال سو گئے اور حضور نے ساری رات ایک اجنبی حبشی غلام کے لئے چکی پیسی۔

صبح بلال کو پسے ہوئے جو دیے اور چلے گئے۔ دوسری رات پھر ایسا ہی ہوا، دودھ اور دوا بلال کو دی اور ساری رات چکی پیسی۔۔ ایسا تین دن مسلسل کرتے رہے جب تک کہ بلال ٹھیک نہ ہو گئے۔۔

یہ تھا وہ تعارف جس کے بطن سے اس لافانی عشق نے جنم لیا کہ آج بھی بلال کو صحابی ءِ رسول بعد میں، عاشقِ رسول پہلے کہا جاتا ہے۔

وہ بلال جو ایک دن اذان نہ دے تو خدا تعالی سورج کو طلوع ہونے سے روک دیتا ہے، اس نے حضور کے وصال کے بعد اذان دینا بند کر دی کیونکہ جب اذان میں ’أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘ تک پہنچتے تو حضور کی یاد میں ہچکیاں بندھ جاتی تھیں اور زار و قطار رونے لگتے تھے۔

ایثار اور اخوت کا یہ جذبہ اتنا طاقتور ہے۔

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا واقعہ ، اسلامی واقعات

اسلامی واقعات

حضرت ادریس علیہ السلام اور حضرت عزرائیل علیہ السلام کا واقعہ

ایک دفعہ حضرت ادریس علیہ السلام حضرت عزرائیل علیہ السلام سے کہنے لگے تو میرا دوست نہیں بن جاتا حضرت عزرائیل کہنے لگے دوست بن جاتے ہے دوستی ہو گئی حضرت ادریس علیہ السلام فرمانے لگے موت کا ذائقہ کیسے چکھاتے ہے کہنے لگا میں آپ کو چکھا دیتا ہوں آپ کو موت کا ذائقہ چکھایا اور دوبارہ پھر روح ڈال دی آپ اٹھ کے بیٹھ گئے تو کہنےلگے دوزخ تو دکھا حضرت عزرائیل نے وہ بھی دکھا دی پھر فرمایا جنت تو دکھا جنت بھی دیکھائی تو کہنے لگا واپس چلے ادریس علیہ السلام فرمانے لگے اب تو نہیں جانا پوچھنے لگے کیوں نہیں جانا تو ادریس علیہ السلام فرمانے لگے رب فرماتا ہےھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ جو جنت میں آئے گا یہی رہے گا کہنے لگے جناب وہ تو پہلے موت کا ذائقہ چکھنا ہے پل سیرات جو دوزخ کے اوپر ہے وہاں سے گزرنا ہوتا ہے آپ فرمانے لگے یہ دونوں کام میں کر چکا ہوں اور تو نے ہی کرائے ہے اب میں آگیا ہوں تو میں نے یہی رہنا ہے تو حضرت ملک الموت نے اللہ تعالی سے عرض کی کہ مالک یہ تیرا بندا۔۔۔ فرمایا تیری دوستی بھی اس کے ساتھ لگی تو میری توفیق سے ہی لگی تھی اور یہ یہاں تک آیا ہے تو میری توفیق سے ہی آیا ہے میرا ارادہ بن گیا انہیں یہاں رکھنے کا اب یہ یہی رہینگے۔سبحان الله اللہ اکبر

 میری طلب بھی تیرے کرم کا صدقہ ہے

یہ پاؤں اٹھتے نہیں بلکہ یہ اٹھائے جاتے ہیں

(حوالہ تفسیر طبری)

حضرت ادریس علیہ السلام اور حضرت عزرائیل علیہ السلام کا واقعہ

اسلامی واقعات

شیطان کی تھوک

اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا مبارک تیار فرمایا تو فرشتے حضرت آدم علیہ سلام کے اس پتلے مبارک کی زیارت کرتے تھے۔ مگر شیطان لعین حسد کی آگ میں جل بھن گیا۔ اور ایک مرتبہ اس مردود نے بغض و کینے میں آکر حضرت آدم علیہ السلام کے پتلے مبارک پر تھوک دیا یہ تھوک حضرت آدم علیہ اسلام کی ناف مبارک کے مقام پر پڑی۔ خدا تعالیٰ نے حضرت جبریل علیہ السلام کو حکم دیا۔ کہ اس جگہ سے اتنی مٹی نکال کہ اس مٹی کا کتا بنادو- چنا نچہ اس شیطانی تھوک سے ملی ہوئی مٹی کا کتا بنا یا گیا۔ یہ کتا آدمی سے مانوس اس لئے ہے کہ مٹی حضرت آدم علیہ السلام کی ہے۔ اور پلید اس لیئے ہے کہ تھوک شیطان کی ہے ۔ اور رات کو جاگتا اس لئے ہے کہ ہاتھ اسے جبریل کے لگے ہیں۔

(روح البیان ص٦٨ جلدا )

شیطان کی تھوک

اسلامی واقعات

غیبت کا عذاب

مدینہ کے باشندوں میں سے ایک شخص کی ہمشیرہ مدینہ شریف کی دوسری جانب رہتی تھی ۔ وہ بیمار پڑ گئی اس کا بھائی ہر روز اس کی عیادت کو جایا کرتا تھا ۔ حتٰی کہ وہ فوت ہو گئی اور وہ قبر میں دفن کر دی گئی ۔ تدفین کے بعد وہ شخص واپس آ گیا ۔ پھر اسے یاد آ گیا کہ اس کی ایک تھیلی اس کی قبر میں گر چکی ہے وہ اپنے ساتھ والوں میں سے ایک ساتھی کو اپنے ہمراہ لے کر وہاں قبر پر آئے قبر کو کھولا اور اپنی تھیلی لے لی ۔ پھر وہ شخص ساتھی سے کہنے لگا ذرا ہٹو میں دیکھتا ہوں کہ میت کا کیا حال ہے ۔ لحد پر سے رکاوٹ کو دور کیا تو اس نے قبر میں آگ لگی دیکھی پھر وہاں سے وہ آ گیا اور اپنی ماں سے آ کر دریافت کیا کہ میری بہن کیا کیا کرتی تھی ۔ تو ماں نے بتایا کہ وہ اپنے اہل پڑوس کے دروازوں پر جا کر کان لگا کر انکی گفتگو کو سنتی اور پھر لوگوں سے چغلی کیا کرتی تھی ۔ تو اب معلوم ہو گیا ہے کہ وہ عذاب میں ہے۔ پس عذاب قبر سے جو محفوظ رہنا چاہے اس کو غیبت و چغلی سے خود کو بچانا چاہئے۔

(مُکاشتہ القلوب از امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ)

غیبت کا عذاب

 

اسلامی واقعات

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور ایک خاتون کا واقعہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک حاتون روتی ہوئی آئی کہنے لگی حاوند میرا شہید ہوگیا اور چار پانچ بیٹیاں چھوڑ گیا گھر میں کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں۔فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے کمیٹی نہیں بنائی چیک نہیں دیا کسی پیکج کا اعلان نہیں کیا بلکہ فاروق اعظم نے ایک اچھا تازہ تگڑہ اونٹ مال غنیمت سے لیا اور دو بوریاں اپنے ہاتھوں سے راشن کی بھری اسکے اندر ڈھیر سارے پیسے ڈالے اور وہ دونوں بوریاں اونٹ کے اوپر اپنے ہاتھوں سے باندی پھر اس عورت کے ہاتھ کو لگام تھمائی اور اسے کہا کہ بیٹی میں نے تمہیں اتنا مال دیا ہے کہ جب تک یہ حتم ہوگا نا تب تک اللہ اپکے حالات بھی بدل دے گا وہ حاتون جانے لگی تو آپ فرمانے لگے بیٹی اونٹ واپس نہیں بھیجنا یہ بھی تیرا ہی ہے جب و چلی گئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا کہ امیرالمنومنین آپ تو بڑے کفایت شغار ہے اپ تو بڑے بانٹ کے چیزیں دیتے ہے تو اپ نے اس بچی کو اتنا کچھ دے دیا اور ایک ساتھ میں اتنا ذیادہ دے دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے تم نہیں جانتے میں جانتا ہو یہ میرے نبیﷺ کے صحابی حفاف بن ایما رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہے اور میں نے اسکے باپ کو حدیبیہ کے مقام پر نبیﷺ کی خدمت کرتے دیکھا ہے میں نے اسکے باپ اور بھائی کو جنگیں لڑتے دیکھا ہے آج وہ بچی آئی ہے مجھے تکلیف ہونے لگی ہے کہ اسے آنا کیوں پڑا میں خود جاکے اسکی حدمت کیوں نہیں کر سکا۔

صحیح بخاری

اسلامی واقعات

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا واقعہ

علمائے سیرہ ہمیں بتاتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کو کوئی سرکاری دستاویزات لکھ رہے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آگئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا خیر سے آئے ہو کہا ایک ذاتی مشورے کے لیے آیا ہو تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک جلایا ہوا چراغ بجھا دیا اور دوسرا چراغ جلا دیا کہا علی اب بتاو کیا مشورہ ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا پہلے جو چراغ جل رہا تھا اسے جلنے دیتے وہ کیوں بجھایا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا چھوڑو یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے آپ نہیں بتائیں گے تو میں مشیر کیسا؟ کہنے لگے کہ آپ جانتے تو ہو میں سرکاری کام کر رہا تھا تو سرکاری تیل جل رہا تھا اب میرا ذاتی کام ہے آپ ذاتی کام کیلئے آئے ہے تو میں نے ذاتی پیسوں سے خریدا ہوا تیل کا چراغ جلا دیا تاکہ سرکاری مال میں نقصان نہ آئے یہ ہے عدل و انصاف پر مبنی عدالت۔۔۔

دنیا عدالت میں تیرا نام رہے گا

فاروق تیرے نام سے اسلام رہے گا

اسلامی واقعات

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا وصال ہونے لگا تو فرمایا مجھے غسل دینا کفن دینا قبر نا کھودنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نصیحت کر رہے ہے فرمایا علیؓ تیری ذمہ داری ہے جب میرا وصال ہو جائے تو جنازہ پڑھ کے مجھے حضور ﷺ کے دروازے پر لے جانا در رسولﷺ پر رکھنا اور کہنا حضور ابوبکر آگئے ہے اگر خود بخود دروازہ کھل جائے تو اندر قبر کھود کے دفن کرنا اگر دروازہ نہ کھولے تو مجھے آرام سے اٹھانا اور جنت البقیع میں لےجانا جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھا تو پورا مدینہ رو پڑا تمام صحابہ روئے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے کہا تھا پتہ تو تب چلے گا جب جنازے اٹھیں گے فرماتے ہیں جنازہ پڑھ کے در رسولﷺ پر لے گئے حضورﷺ کی قبر اطہر کے سامنے رکھ کے شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کے بات کی۔ داڑھی آنسووں سے بھری ہوئی ہے کہنے لگے حضورﷺ ابوبکر رضی اللہ حاضر ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں سب سے آگے تھا باقی سارے پیچھے تھے اور جنازہ پیچھے تھا فرماتے ہے روضہ اقدس کا دروازہ خود بخود کھلا اور اندر سے آواز آئی ۔

حبیب کو اس کے حبیب کے ہاں داخل کر دو، بے شک حبیب ملاقاتِ حبیب کے لیے مشتاق ہے۔

اس واقعے کا ذکر درج ذیل کتب میں موجود ہے

السيرة الحلبية، 3 : 493

الخصائص الکبریٰ، للسيوطی، 2 : 492

تاريخ دمشق الکبير، ابن عساکر، 30 : 436

مزید خوبصورت تحریر و واقعات کیلئے سبسکرائب کریں ۔اور ڈیلی اپڈیٹس لیتے رہے ۔

شکریہ

نوٹ اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے۔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment