بغیر وضو کے سجدہ کرنا کیسا؟

Rate this post

 *👈بغیر وضو کے سجدہ کرنا* راقم ملفوظات عبدالوہاب کہتے ہیں کہ) میں نے بغیر وضو کے سجدہ (کرنے) کے متعلق پوچھا، تو (آپ) نے فرمایا! کہ یہ (بغیر وضو سجدہ کرنا) ٹھیک نہیں ہے، دیکھو جب اس مالک کے سامنے سجدہ ریز ہونا ہے تو اس کے کچھ آداب ہیں ۔سجدہ عاجزی کے لئے ہوتا ہے، تو وضو اور پاکی کے بغیر کیسے ٹھیک ہے ۔پھر فرمایا، کہ ھم لوگ لا الہ الا اللہ کا ذکر اور درود شریف پڑھتے ہیں وغیرہ یہ اس کی مہربانی ہے کہ بغیر وضو کے اجازت دی اور قبول فرماتا ہے ورنہ اگر بغیر وضو اس (مالک کریم) کا نام نہ لے سکتے تو پھر؟ اس لئے تو بزرگان دین رحمھم اللہ ہر وقت باوضو رہتے تھے کہ بغیر وضو اس (کریم مالک) کا نام تک نہ لیں۔

(تسکین القلوب صفحہ نمبر 135)

 *توضیح ملفوظ – :*

بغیر وضو کے سجدہ کرنا،جائز و درست نہیں کیونکہ سجدہ جزء نماز ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

“تم میں سے بغیر وضو کسی شخص کی نماز قبول نہیں ہوتی جب تک کہ وہ وضو نہ کرلے۔”

(مسلم، صحيح کتاب الطهارة، باب وجوب الطهارة للصلة، 1 : 204، رقم : 225)

اس کے علاوہ حضرت جابر بن عبد اللہ اور حضرت انس بن مالک علیہم السلام سے مروی ہے کہ جب سورہ توبہ کی آیت نمبر 108 نازل ہوئی :

فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَتَطَهَّرُوْاط وَاﷲُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ

“اس میں ایسے لوگ ہیں جو (ظاہراً و باطناً) پاک رہنے کو پسندکرتے ہیں، اور ﷲ طہارت شعار لوگوں سے محبت فرماتا ہے”

تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

يَا مَعْشَرَ الأنْصارِ إِنَّ اﷲَ قَدْ أَثْنَی عَلَيْکُمْ فِی الطُّهُوْرِ فَمَا طُهُوْرُکُمْ؟ قَالُوْ : نَتَوَضَّأُ لِلصلَةِ وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَنَستَنْجِی بِالْمَاءِ، قَالَ : فَهُوَ ذَاکَ فَعَلَيْکُمُوْهُ.

 (ابن ماجه، السنن، کتاب الطهارة وسننها، باب الاستنجاء بالماء، 1 : 205، رقم : 355)

“اے گروہِ انصار! اللہ تعالیٰ نے طہارت کے بارے میں تمہاری تعریف کی ہے تو بتاؤ تمہاری طہارت کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی : ہم نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، جنابت کی حالت میں غسل کرتے ہیں اور پانی سے استنجاء کرتے ہیں۔ فرمایا : یہی تو وہ بات ہے، اسے اپنے اوپر لازم رکھو۔”

مندرجہ بالا احادیث کی روشنی میں امت کا اس پر اجماع ہے کہ بغیر طہارت کے نماز پڑھنا حرام ہے، خواہ وہ طہارت وضو سے حاصل کی جائے یا تیمم سے، خواہ فرض نماز پڑھنی ہو یا نفل، سجدہ تلاوت کرنا ہو یا سجدہ شکر۔ لہٰذا نماز ایک قلعہ ہے اور وضو اس کا دروازہ۔

واضح رہے کہ جن شرائط کا نماز کے لیے پایا جانا ضروری ہے، ان ہی شرائط کا سجدہ تلاوت کے لیے بھی پایا جانا ضروری ہے،جیسے بدن کا پاک ہونا، کپڑوں کا پاک ہونا، جگہ کا پاک ہونا، ستر کو چھپانا، قبلہ کی طرف رخ ہونا، باوضو ہونا،لہٰذا سجدہ تلاوت جزءنماز ہونے کی وجہ سےبغیر وضو کےادا کرنا جائز نہیں ہے۔ امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کا مسلک بھی یہی ہے۔

 *بزم چشتیہ فاضلیہ گڑھی شریف*

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment