بزرگانِ قادریہ ہمیشہ عقائد اہلسنت پر کار بند

Rate this post

💠 بزرگانِ قادریہ ہمیشہ عقائد اہلسنت پر کار بند رہے💠

شیخ محقق ، نائب رسول فی الہند ، حضرتِ شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ (المتوفی : ١٠٥٢ھ) فرماتے ہیں کہ:

“بعض احوال ہم نے بزرگانِ سلسلہ قادریہ سے بچشمِ خود مشاہدہ کئے ہیں ۔ ہمارے شیخ سید جمال اللہ جمال الدین ابو حامد بن عبد الرزاق بن عبد القادر بن محمد بن شمس الدین بن شاہ میر بن علی بن مسعود بن احمد بن الصفی بن عبد الوہاب بن شیخ الاسلام ، شیخ السموات والارضین محی الدین عبد القادر الحسنی والحسینی الجیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ماہ شوال ٩٨٥ھ کو ہمیں بعض معمولات کی اجازت عنایت فرمائی اور اس میں ظاہری شریعت کا احترام مقدم فرمایا اور کلام اللہ اور سنتِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرنے کی تلقین فرمائی ، ان بزرگانِ قادریہ نے ہمیشہ عقائد اہل سنت پر عمل کیا ہے “

⛔زبدة الآثار، ذكر چیزى از آداب سلسلہء شریفہ علیہ قادریہ ، ص:١٣٢، مطبوعه مطبع بكسلنگ کمپنی جزیرہ ۔

⛔زبدة الآثار (مترجم) ، ص : ١٢٧ ، ١٢٨ ، مطبوعه مكتبه نبويه ، لاهور.

✍️ابو الحسن محمد افضال حسین نقشبندی مجددی ۔

(٢٩/١٠/٢٠٢٣)

🌐قیام تعظیمی اور نظریہ غوثِ اعظم رحمہ اللہ🌐

علماء و مشائخ کی تعظیم اور ادب بجا لاتے ہوئے کھڑے ہونا “قیام تعظیمی” کہلاتا ہے ۔

 🔷حضرتِ سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: ٥٦١ھ) فرماتے ہیں:

ويستحب القيام للامام العادل والوالدين واهل الدين والورع وكرام الناس.

“عادل بادشاہ ، والدین ، دیندار ، پرہیز گار اور معزز لوگوں کے لئے کھڑا ہونا مستحب ہے “.

 ذلك ما روى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ارسل إلى سعد رضى الله عنه فى شان أهل قريظة ، فجاء على حمار اقمر ،فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “قوموا إلى سيدكم”.

“اور اس کی اصل یہ روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو قریظہ کے واقعہ حضرتِ سیدنا سعد رضی ﷲ عنہ کو بلاوا بھیجا ، وہ سفید رنگ کے گدھے پر سوار ہو کر آئے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاضرین مجلس کو ارشاد فرمایا: ” اپنے سردار کی تکریم کے لئے کھڑے ہو جاؤ”.

وقد روت عائشة رضى الله تعالى عنها أنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دخل على فاطمة رضى الله تعالى عنها قامت إليه فاخذت بيده وقبلته واجلسته فى مجلسها وإذا دخلت على النبى صلى الله عليه وسلم قام إليها وأخذ بيدها وقبلها واجلسها فى موضعه.

“اور حضرتِ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جس وقت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی لختِ جگر حضرتِ سیدہ فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے گھر تشریف لاتے تو وہ کھڑی ہو جاتیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر بوسہ دیتیں ، اور اپنی مسند پر بٹھا دیتیں ۔ اور جب خاتون جنت حضرت سیّدہ فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی کھڑے ہو جاتے اور ان کے ہاتھ مبارک کو پکڑ کر چومتے اور اپنی مسند پر بٹھاتے تھے “.

وقد روى عنه صلى الله عليه وسلم أنه قال : “إذا جاءكم كريم قوم فاكرموه”.

“اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ”جب تمہارے پاس کوئی معزز شخص آئے تو اس کی عزت کرو “.

 🔷مزید فرمایا:ولان ذلك يغرس المحبة والود فى القلوب فاستحب لاهل الخير والصلاح كالمهاداة لهم ، ويكره لاهل المعاصى والفجور.

“اس لئے کہ اس سے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے ۔ پس نیک سیرت لوگوں مثلاً راہنمایان قوم کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا مستحب ہے اور فسق و فجور نیز گناہوں میں مبتلا لوگوں کے لئے کھڑا ہونا مکروہ ہے”.

⛔ غنية الطالبين ، القسم الاول: الفقه ، جلد : ١ ، ص : ٤٠ ، مطبوعه قديمى كتب خانه مقابل ارام باغ ، كراچی۔

✍️ابو الحسن محمد افضال حسین نقشبندی مجددی ۔

(٢٧/١٠/٢٠٢٣)

💕 منبر مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تبرک اور عقیدہ غوث اعظم💕

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس منبر مبارک پر بیٹھ کر اپنے صحابہ کرام رضی ﷲ عنہم کو دین سکھاتے تھے ، عشاقان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس منبر شریف کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوسرے آثار کی طرح دل و جان سے حصول برکت کا ذریعہ بنا لیا ، وہ اسے جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے اور اس سے برکت حاصل کرتے ۔

حضرتِ سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: ٥٦١ھ) بیان کرتے ہیں:

وان أحب أن يتمسح بالمنبر تبركا به.

“اور تبرک حاصل کرنے کے لیے منبر شریف کو اپنے ہاتھوں سے مس کرے”.

⛔ غنية الطالبين ، القسم الاول : الفقه ، جلد : ١ ، ص : ٣٧ ، مطبوعه قديمى كتب خانه مقابل ارام باغ ، كراچی ۔

✍️ابو الحسن محمد افضال حسین نقشبندی مجددی ۔

(٢٦/١٠/٢٠٢٣)

🌿ندائے یارسول اللہ بعد از وصال پر حضرتِ سیدنا غوثِ اعظم رحمہ اللہ کا موقف🌿

نبی مکرم ، شفیع معظم ، نور مجسم ، شہنشاہ دو عالم ، حضرتِ سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بعد از وصال ظاہری کے نداء کرنا مثلآ یا رسول اللہ ، یا نبی اللہ ، یا حبیب اللہ وغیرہ کہہ کر پکارنا بالکل درست ہے ۔

حضرتِ سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی : ٥٦١ ھ) فرماتے ہیں کہ زائر مدینہ منورہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہو کر سلام عرض کرے، اور پھر یوں عرض گزار ہو:

يا رسول الله انى اتوجه بك إلى ربى.

“یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں “.

⛔ غنية الطالبين ، القسم الاول : الفقه ، جلد : ١ ، ص : ٣٦ ، مطبوعه قديمى كتب خانه مقابل ارام باغ ، كراچی۔

✍️ ابو الحسن محمد افضال حسین نقشبندی مجددی ۔

(٢٥/١٠/٢٠٢٣)

♨️سنی مجھ سے محبت جبکہ بدعتی مجھ سے بغض رکھتا ہے ♨️

حضرتِ سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی : ٥٦١ھ) فرماتے ہیں:۔

المخلص يحبني والمنافق يبغضنى ، السنى يحبنى والبدعى يبغضنى ، إذا احببتنى فنفع ذلك عائد اليك ، وان ابغضتنى فضرر ذلك عائد اليك ما أنا واقف مع مدح الخلق وذمهم.

“مخلص مجھ سے محبت کرتا ہے اور منافق مجھ سے بغض رکھتا ہے ۔ سنی مجھ سے محبت کرتا ہے اور بدعتی مجھ سے بغض رکھتا ہے ۔ اگر تم مجھ سے محبت کرو گے تو اس کا سارا فائدہ تمہیں ہی پہنچے گا اور اگر تم مجھ سے بغض رکھو گے تو اس کا سارا نقصان تمہیں ہی پہنچے گا ۔ میں تو لوگوں کی تعریف اور برائی کو کچھ بھی نہیں جانتا ہوں اور زمین کی سطح پر کوئی نہیں جس سے میں ڈروں یا امید رکھوں”.

🌷مسئلہ ایصال ثواب اور فاتحہ خوانی کے بارے حضرتِ سیدنا غوثِ اعظم رحمہ اللہ کا موقف 🌷

      حضرتِ سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی:٥٦١ھ) فاتحہ خوانی اور ایصال ثواب کا طریقہ کار بیان کرتے ہیں کہ:

بل يقف عند موضع وقوفه منه أن لو كان حيا ، ويحترمه كما لو كان حيا ، ويقرا إحدى عشرة مرة : قل هو الله أحد وغيرها من القرآن ، ويهدى ثواب ذلك لصاحب القبر وهو أن يقول : اللهم ان كنت قد اثبتنى على قراءة هذه السورة ، فانى قد اهديت ثوابها لصاحب هذه القبر ، ثم يسال الله حاجته.

“درست طریقہ یہ ہے کہ اس (قبر یا مزار)کے پاس ایسے ہی کھڑا ہو جیسے اس کے زندہ ہونے پر کھڑا ہوتا تھا اور صاحب قبر کا احترام اسی طرح کرے جس طرح اس کی زندگی میں کرتا تھا ۔ گیارہ مرتبہ سورۃ اخلاص اور اس کے علاوہ قرآن پاک کی تلاوت کرے اور صاحب قبر کو اس کا ثواب پہنچائے یعنی اس طرح کہے:

” اے اللہ ! اگر تو نے مجھے اس سورة کے پڑھنے کا ثواب عطاء فرمایا ہے تو بے شک میں نے وہ ثواب اس صاحب قبر کو ہدیہ پیش (یعنی ایصال ثواب) کر دیا ہے” ۔

 اس کے بعد اللہ تعالٰیٰ سے اپنی حاجت کا سوال کرے اور صاحب قبر کے لئے مغفرت کا سوال کرے”.

⛔ غنية الطالبين ، القسم الاول : الفقه ، جلد: ١ ص : ٩١ ، مطبوعه قديمى كتب خانه مقابل ارام باغ ، كراچی۔

✍️ابو الحسن محمد افضال حسین نقشبندی مجددی ۔

(٢٤/١٠/٢٠٢٣)

⛔جلاء الخاطر ، القلب ، ص : ٢٩ ، ٣٠، مطبوعه مركز الجيلانى للبحوث العلمية ، اسطنبول.

♦️ معلوم ہوا اولیاء کرام سے محبت کرنا “مخلص و سنی”لوگوں کا کام ہے اور اولیاء کرام سے بغض رکھنا “منافق و بدعتی” لوگوں کا کام ہے ۔

✍️ابو الحسن محمد افضال حسین نقشبندی مجددی ۔

(٣٠/١٠/٢٠٢٣)

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment