ایک ولی کامل کا مختصر تعارف

Rate this post

(قسط نمبر 1)

نام اور لقب

قبلہ أستاذنا الکریم حضرت علامہ شیخ الصرف والنحوسید حمد اللہ جان صاحب المعروف کابل استاد افغانستان میں غزنی کے شہر علاقہ غندان کے گاؤں ناواہ کلاں جلگئ میں 1930 ء کو پیدا ہوئے، والد ماجد سید علی محمد شاہ صاحب ایک متبحر عالم ہونے کے ساتھ ساتھ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کے روحانی پیشوا بھی تھے اور جد امجد حضرت مولاناسید امیر حمزہ علیہ الرحمہ اپنے دور کے معروف عالم اور عارف کامل تھے۔

ابتدائی تعلیم

ابتدائی کتب فارسی سے لیکر شرح جامی تک اپنے تایا جان حضرت علامہ مولانا سید محمد صالح محمد صاحب سے پڑھیں. پھر گاؤں جعفر نزد غزنی کی مشہور صرفی درسگاہ میں دو سال میں مکمل صرف پڑھی جہاں پر بقول آپ کے پورے افغانستان میں آپ سمیت تین آدمیوں نے علم صرف مکمل کیا۔ 1953ء میں مزید پیاس بجھانے کے لئے پاکستان تشریف لائے اور ضلع اٹک حضرو کی مشہور علمی درسگاہ مفتاح العلوم میں داخلہ لیا اور چھ سال تک استاذ العلماء علامہ عبدالحق صاحب سے منتہی کتب پڑھیں اور دورہ حدیث کیا اسکے بعد ایک سال مانسہرہ کے کسی درسگاہ میں اور ایک سال فتح جنگ میں مشہور صوفی عالم حضرت کامرا بابا کے ایک شاگرد سے علم صرف پڑھتے رہے پھر اسکے بعد کیمل پور کے ایک دیہات میں ایک نحوی عالم سے الفیہ پڑھی اسکے بعد آپ عملی طور پر تدریسی میدان میں اترے آپ لاھور میں داتا صاحب کے دربار پر انوار پر عرصہ 20 برس تک رہے وھاں پر آپ کے گرد علم کے پروانوں کا ہجوم رہتا اور آپ علم صرف و نحو کے چراغ روشن کرنے میں مصروف رہتے اسکے ساتھ ساتھ پنجاب پبلک لائبریری میں مسلسل مطالعہ بھی کرتے رہے ۔ آپ نے بتایا کہ حضرت داتا گنج بخش رحمہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں عبد اللہ نامی ایک جن ہے جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے وہاں خدمت پر مامور ہے ۔

بیعت ولی کامل سے

آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کی بیعت کابل کی مشہور درگاہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کے روحانی پیشوا حضرت آغا ابراہیم جان بن نور المشائخ رحمتہ اللہ علیہ سے تھی ۔1975 ء میں میرے والد گرامی(قلی خان) اور میرے کزن حمیدالله عرف چمن شہید اور دیگر چند أحباب نے حضرت خواجہ حامد تونسوی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ اور گڑھی شریف کے سجادہ نشین حضرت خواجہ محمد اکرم شاہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے محلہ مہردل خان درہ پیزو میں جس مدرسے کا سنگ بنیاد رکھا تھا، اسی ادارے کو ایک نئے عزم سے دوبارہ ایک نئی جگہ پر شروع کیا مدرسے میں اس وقت کافی تعداد تھی، مدرسے میں تعمیراتی کام، بلڈنگ، تالاب وغیرہ والد صاحب کی نگرانی میں تعمیر ہوئے، اس وقت یہ ادارہ علاقہ مروت میں ایک روشن اور علمی لحاظ سے ایک مینارہ نور تھا. اس وقت تدریسی عملے میں استاد محترم علامہ محمد احمد خان صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ اور دیگر اساتذہ تھے ،طلباء کے اضافے کے پیش نظر ایک اور استاد کی ضرورت محسوس کی گئی تو کسی نے والد گرامی کو بتایا کہ فلاں جگہ پر ایک افغانی استاد ہیں جو کہ نہایت علمی اور قابل شخصیت ہیں، والد گرامی آپ کے پاس گئے اور دعوت تدریس دی، آپ جامعہ میں تشریف لائے اور کافی عرصہ تک ادارے میں پڑھاتے رہے آجکل کے جتنے ہمارے علاقہ مروت کے بزرگ علماء ہیں وہ سب آپ رحمہ اللہ تعالیٰ سے اکتساب فیض کر چکے ہیں۔کافی عرصہ پڑھانے کے بعد آپ بغرض تدریس جامعہ نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری گیٹ لاہور تشریف لے گئے، اور اسی طرح آپ، جامعہ نعمانیہ، جامعہ غوثیہ معینیہ یکہ توت پشاور، دارالعلوم چشتیہ رضویہ پہاڑپور ،دارالعلوم فتحیہ بھور شریف ،جامعہ احسن المدارس پنیالہ جامعہ نظامیہ تجوڑی لکی مروت، جامعہ حقانیہ اٹک، اور آخر میں مرکزی دارالعلوم اہلسنت مشین محلہ جہلم میں درس و تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے اور یونہی تادم وصال آپ درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ تھے بلکہ آپ کا وصال بھی دارالعلوم میں ہی ہوا، والد گرامی نے بھی کزن کی شہادت اور استادوں کے چلے جانے کے بعد گاؤں سمندر شریف میں رہائش اختیار کی، اس وقت دارالعلوم جامعہ غوثیہ سلیمانیہ میں بطور مدرس مفتی عبدالمنان تعینات تھے.اور ابھی تک تدریس کے فرائض سرانجام دے رہےہیں۔

حج بیت اللہ کی سعادت 

آپ نے 1987 ء میں حج بیت اللہ شریف کی سعادت حاصل کی، حرم شریف میں آپ کو کتابوں کا ایک سیٹ دیا گیا، تو آپ نے اسے واپس کر دیا، آپ فرمایا کرتے کہ وہابیہ کتب کے پڑھنے سے گریز کریں کہ اس سے عقائد خراب ہوتے ہیں۔

استاد محترم تو درہ پیزو چھوڑ کر لاہور چلے گئے لیکن والد گرامی سے ایسی دوستی ہو گئی تھی کہ آپ جہاں بھی ہوتے تعطیلات میں ہمارے گاؤں سمندر شریف میں آجاتے یا اگر تعطیلات اگر نہ بھی ہو تیں تو والد گرامی کو ادھر ادھر اپنے پاس بلا لیتے ، چونکہ والد گرامی سے استادوں کی دوستی تھی اور استادوں کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے از حد لگاؤ تھا اس لئے میرے والد صاحب صاحب نے عرض کی کہ حضور دعا کیجئے گا کہ اللہ مجھے فرزند عطا فرمائے تو داڑھی رکھونگا، اللہ کریم کی عطا سے آپ کی دعا قبول ہوئی اور والد صاحب کو اللہ نے فرزند دیا پھر اسکے بعد استادوں نے پھر کہا کہ ابھی تو بیٹا بھی ملا ہے ابھی تو داڑھی رکھ لیں تو والد صاحب نے کہا کہ حضور دعا کیجئے گا کہ اللہ اپنے در خانہ کعبہ کی زیارت نصیب فرمائے تو داڑھی رکھ لونگا اللہ نے یہ دعا بھی قبول کی اور والد صاحب حج پر گئے او وہاں سے ہی سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داڑھی رکھ لی، استاد محترم بہت خوش ہوئے استاد محترم کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و عشق تھا، ہر ممکن حد تک سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے اور خود عمل کرکے دوسروں کو بھی سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دیتے ،کھانے پینے، لباس میں بھی سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرتے آپ جب بھی نئے کپڑے سلوا کر ان کپڑوں میں پہلے پیوند لگاتے تھے ۔اور داڑھی منڈاھانے کو اس قدر نا پسند کرتے تھے کہ جب ہماری بیٹھک میں حجام کسی کی داڑھی منڈھواتے تو استاد محترم پہلے انکو منع کرتے، منع نہ ہوتے تو خود باہر نکل جاتے قبلہ استاد محترم جب تعطیلات میں ہمارے ہاں آتے تو ہمارے ہاں بھی علم و عرفان کا نور بانٹتے اور یہاں پر بھی علم کے پروانوں کا ہجوم رہتا، گاؤں کے اکثر جوان اور بوڑھے ہماری بیٹھک میں آتے تو آپ ان کو اسلامی تعلیمات و واقعات سناتے اور یاد کرنے کا کہتے تو اس طرح ایک بزم نور سجتی، گاؤں میں جب والد گرامی نے درس تعلیم قرآن شروع کیا تو، تدریس قرآن مجید کی ابتداء بھی آپ نے ہی، جو کہ ابھی ایک مکمل ادارے کی شکل اختیار کر چکا ہے اور بہت سے حفاظ فارغ التحصیل ہوچکے ہیں ۔آپ کچھ عرصہ لکی مروت میں بھی پڑھاتے رہے وہاں پر آپ کے پاس پروفیسرز اور وکلاء، ڈاکٹر حضرات سب آپ کے پاس آتے اور اکتساب فیض کرتے، لکی مروت کے مشہور شاعر پروفیسر محمد انور بابر چشتی سلیمانی بھی آپ کے شاگردوں میں سے ہیں، پروفیسر صاحب نے آپ سے منبھات اور دیگر فقہی کتابیں پڑھیں اور پھر پروفیسر صاحب نے منبھات کے ان دروس کو کتابی شکل میں ترتیب دیکر ضیاء القرآن پبلیکیشنز لاھور نے شائع کیا ہے.

عبدالرحمن مروت لکی مروت✍️

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment