ایوبی اخلاقیات

Rate this post

ایوبی اخلاقیات صلاح الدین ایوبی نے حج نہیں کیا تھا ، وفات سے چند ہفتے قبل ، بستر علالت سے ، حجاج کا ایک قافلہ اشکبار نگاہوں سے رخصت ضرور کیا تھا ، ایوبی کے پاس اتنے پیسے کہاں تھے جن سے حج کیا جاسکتا اس نے ایسا بھی نہیں کیا کہ مسلمانوں کے مال سے حج کرے ، قافلہء حجاز کو الوداع کہنے کے لئے ایوبی کے پاس ماسوائے آنسوؤں کے کچھ نہ تھا ، صلاح الدین ایوبی ، جس نے القدس کو آزاد کروایا تھا ، وہ دنیا سے کب کا رخصت ہو گیا، لیکن سرزمین انبیاء آج تک اس کے لئے آنسو بہا رہی ہے۔

صلاح الدین ایوبی ایک فقیہ

صاحبِ طبقاتِ شافعیہ نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو فقہاء میں شمار کیا ہے کیونکہ سلطان نے حدیث کا سماع شیخ ابو طاہر السلفی اور شیخ ابو عوف بن السکندرانی سے کر رکھا تھا ، اس کے علاوہ شیخ قطب الدین نیشاپوری سے بھی استفادہ کیا تھا اور وہ نہ صرف قرآن کریم کے حافظ تھے بلکہ انہیں فقہ شافعی میں ابو اسحاق شیرازی کی التنبیہ اور دیوان حماسہ زبانی یاد تھا ۔

سلطان سماع حدیث بالاسانید کو ترجیح دیتا ، علماء و فقہاء سے دیر دیر تک محو گفتگو رہتا ، اور احکام شرعیہ میں ان سے زیادہ دسترس کا حامل تھا ، العماد الاصفہانی نے مجلسِ ایوبی کے متعلق لکھا ،

[ من جالسه لا يعلم أنه جليس السلطان بل يعتقد أنه جليس أخ من الإخوان ]

صلاح الدین ایوبی کی صوفیہ اور فقراء سے محبت

سلطان صلاح الدین صوفیہ اور فقراء سے ملاقات کو پسند کرتا تھا ، جبکہ سلطان کے ناپسندیدہ طبقوں میں بے دین فلاسفہ ، ملاحدہ ، معطلہ اور تخفیف شریعت کرنے والے معاندین سر فہرست تھے۔

صلاح الدین ایوبی کی نماز سے محبت

سلطان نماز کا اس قدر پابند تھا کہ اگر گھوڑے پر دورانِ سفر نماز کا وقت آ جاتا تو سلطان سب سے پہلے باجماعت نماز کا اہتمام کیا کرتا ، مرض وصال میں بھی ماسوائے تین ایام کے سلطان نے کھڑے ہو کر تمام نمازیں ادا کی تھیں۔

صلاح الدین ایوبی کی قرآن سے محبت

قرآن کریم سننے سے انہیں شدید محبت تھی ، روزانہ ان کی مجلس میں قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ، علماء کا امتحان اپنی موجودگی میں لیا کرتے ، مجلسِ سماع حدیث کا بھی باقاعدگی سے اہتمام کرواتے اور ابن شداد کے مطابق بعض دفعہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سن کر آپ پر رقت طاری ہو جایا کرتی ، رات کے پچھلے پہر اٹھ کر نوافل و مناجات آپ کا معمول تھا ، حجاز مقدسہ سے آیا خرقہ پہن کر راتوں کو عبادت کیا کرتے۔

آج جب جلوت و خلوت کی پاکیزگی جاتی رہی، زبان و بیان کی طہارت نہ رہی اور قلم فروشوں کا غلبہ ہو گیا ایسے میں سلطان کی پاکیزہ شخصیت کو سمجھنے کے لئے صاحب النوادر السلطانية قاضی بہاؤ الدین ابنِ شداد کے یہ الفاظ کافی ہیں :۔

[ وكان طاهر المجلس لايذكر بين يديه أحد إلا بخير ، وطاهر السمع فلا يحب أن يسمع عن أحد إلا بخير ، وطاهر اللسان فما رأيته يشتم قط ، وطاهر القلم فما كتب بقلمه إيذاء مسلم قط ]

دنیاوی آرائش و زیبائش کبھی سلطان کے زہد کو مضمحل نہ کر سکی ، والی ء شام کے عالی شان محل کو دیکھ کر اور نگاہ پھیر کر ایوبی نے کہا تھا :

[ هذا القصر ليس لائقا لشخص يقترب منه أجله ، غرضنا خدمة الله ليس غير ]

سلطان صلاح الدین ایوبی

سلطان صلاح الدین ایوبی انصاف و عدل کے معاملے میں انتہائی حساس تھے ، یہی وجہ ہے کہ عمر الخلاطی نامی تاجر نے جب سلطان کے خلاف قاضی ابنِ شداد کی عدالت میں دعویٰ کیا تو سلطان خود قاضی ابنِ شداد کے روبرو پیش ہوئے ، تاجر اپنے دعویٰ میں جھوٹا ثابت ہوا لیکن اس کے باوجود سلطان نے اسے اکرام سے نوازا اور خلعتِ فاخرہ پہنائی تاکہ اسے کسی طرح کی سبکی کا احساس نہ ہو۔

صلاح الدین ایوبی کا مظلوموں کیساتھ داد رسی

سلطان نے مظلوموں کی داد رسی کے لئے ہفتے میں دو دن سوموار اور جمعرات رکھے ہوئے تھے جس میں ہر چھوٹے بڑے ، کمزور و معذور اور بوڑھے بغیر کسی اجازت کے دربار میں آتے اور براہِ راست سلطان ان کی داد رسی کرتا ، تمام علماء و قاضیوں اور افسران کی اس مجلس میں موجودگی یقینی ہوا کرتی۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کی علماء سے محبت

سلطان صلاح الدین ایوبی علماء کا بے حد اکرام کیا کرتا ، القدس الشریف کے ایک عالم ایوبی کی زیارت و ملاقات کے لئے تشریف لائے ، سلطان نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، ان سے سماع حدیث کے لئے مجلس منعقد کی۔

واپسی کے وقت وہ شیخ سلطان کو ملے بغیر چلے گئے کہ ایسا نہ ہو کہ ان کی وجہ سے سلطان کی مصروفیات میں کوئی رکاوٹ ہو، بہاؤ الدین ابنِ شداد نے جب سلطان کو بتایا تو سلطان قاضی ابنِ شداد سے سخت ناراض ہوئے کہ واپس جاتے ہوئے میں اس عالم ربانی کی کوئی خدمت نہیں کر سکا

، قاضی ابنِ شداد نے والی دمشق کو لکھا کہ شیخ جب دمشق پہنچیں تو انہیں آگاہ کیا جائے کہ سلطان قاضی ابنِ شداد پر سخت برہم ہوئے آپ واپس آئیے ، شیخ دمشق سے واپس سلطان کے پاس آئے ، سلطان نے طرح طرح کے ملبوسات ، خلعتِ جمیلہ اور کافی مال و متاع کے ساتھ شیخ کو روانہ کیا۔

صلاح الدین ایوبی کا بیت المقدس فتح

قاضی بہاؤ الدین ابنِ شداد اور ابو شامہ کے مطابق سلطان صلاح الدین ایوبی ایسا خوش بخت تھا کہ جب معرکہء حطین میں فتح حاصل کرنے کے بعد بیت المقدس داخل ہونے جارہا تھا تو وہ جمعہ المبارک کا دن تھا اور وہ رات شبِ معراج ( 27 رجب المرجب 583 ھ) کی تھی

صلاح الدین ایوبی کی وفات

امام ابو جعفر القرطبی، جو بوقتِ وصال سلطان کے پاس تھے ، آخری لمحاتِ حیات کو یوں بیان کرتے ہیں ،

[ إنني انتهيت في قراءة القرآن إلى قوله تعالى ، ( هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ )[ الحشر: 22] فسمع صلاح الدين و هو يقول: صحيح ، وكانت هذه يقظة الحاجة ، وإني لما بلغت الآية ( لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ.) [ التوبة 129 ] ، تبسم و تهلل وجهه ، وقد كان ذهنه قبل ذلك غائباً ، ثم انسحبت الروح إلى باريها ، بعد صلاة الصبح من يوم الأربعاء ]

سلطان کے ترکے میں نہ کوئی مکان تھا ، نہ باغ نہ کھیت ، نہ جائیداد ، ماسوائے 47 درھم کے

عطاء المصطفیٰ مظہری

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment