امیر المومنین سیدنا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم

Rate this post

سیرت امیر المومنین سیدناحضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم اللہ پاک نے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی صفت وثناء قرآن پاک میں یوں بیان فرمائی ہے ارشادباری تعالیٰ ہے “وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًاوَّیَتِیْمًاوَّاَسِیْرًا”اورکھاناکھلاتے ہیں اس کی محبت پرمسکین اوریتیم اوراسیرکو”۔(پارہ ۹۲سورۃ الدھر)دامادِ رسول،فاتحِ خبیر،حاملِ ذوالفقارخلیفہ چہارم امیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے فضائل ومناقب محاسن ومحامدبے شمارہیں اورکیوں نہ ہوں جبکہ فضائل وکمالات برکات وحسنات کامخزن ومعدن آپ ہی کاگھرانہ ہے جس کسی کوبھی کوئی نعمت ملی ان ہی کاصدقہ اوران ہی کی بدولت ہے۔

آپ کانام علی کنیت ابوالحسن،ابوتراب القابات مرتضیٰ،اسداللہ،حیدرکرار،شیرخدااورمولامشکل کشاہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والدکانام ابوطالب جو حضرت عبدالمطلب کے بیٹے اورآقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے چچاہیں۔آپ کی والدہ ماجدہ کانام حضرت فاطمہ بنت اسدجوحضرت عبدالمطلب کی بھتیجی تھیں۔ آپ کی والدہ کانکاح ابوطالب سے ہواتھا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے چچازادبھائی اوردامادبھی ہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی پیدائش کے تیسویں سال مکہ مکرمہ میں پیداہوئے اور حضورصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سے عمرمیں تیس برس چھوٹے تھے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش خانہ کعبہ میں ہوئی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ محترمہ کا بیان ہے کہ حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم نے پیداہونے کے بعدتین دن تک دودھ نہیں نوش فرمایاجس کی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھروالے سب پریشان ہوگئے، اس بات کی خبرآقائے دوجہاں سرورکون ومکاں صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کودی گئی۔آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم تشریف لائے اورحضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کواپنی آغوش رحمت میں لیکرپیار فرمایااوراپنی زبان اطہرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دہن میں ڈال دی۔حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم زبان اقدس کوچوسنے لگے اس کے بعدسے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دودھ نوش فرمانے لگ گئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صرف 5سال اپنے والدین کے زیرسایہ پرورش پائی۔اس کے بعدنبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اپنے سایہ رحمت میں لے لیااورآپ کی تربیت فرمانے لگے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بچوں میں سب سے پہلے ایمان لائے۔(مشکوٰۃ المصابیح)

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاشمارعشرہ مبشرہ میں ہوتاہے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی سیرت کاآئینہ تھے یہی وجہ ہے کہ میرے محبوب صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا”علی کے چہرے کودیکھنابھی عبادت ہے”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرآن مجیدکے حافظ تھے قرآن مجیدکے معانی ومطالب پرآپ کوعبورحاصل تھا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ علم فقہ کے ماہرتھے مشکل سے مشکل فیصلے بھی قرآن وسنت کی روشنی میں حل کرلیتے۔آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کافرمان عالی شان ہے “میں علم کاشہرہوں اورعلی اس کادروازہ ہے”آپ سے پانچ سوچھیاسی احادیث مبارکہ روایت ہیں جن میں بیس متفق علیہ نوبخاری کی اورپندرہ مسلم میں ہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساری زندگی رزق حلال کماکرکھایاآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ محنت مزدوری میں کچھ عارمحسوس نہیں کرتے تھے جس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایمان لائے اسوقت عمردس بارہ سال تھی سواغزوہ تبوک کے سارے غزوات میں آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔غزوہ تبوک میں آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے مدینہ منورہ اوراپنے گھربارکاانتظام فرمانے کے لئے مدینہ میں چھوڑاتھا حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پرحضرت سیدناعلی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کومدینہ منورہ میں اپناقائم مقام مقررفرمایا۔حضرت سیدناعلی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سے عرض کرنے لگے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم!آپ مجھے عورتوں اور بچوں پرخلیفہ بناکرجارہے ہیں۔آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے فرمایااے علی!کیاتواس بات پرراضی نہیں کہ میں تمہیں اسطرح چھوڑے جارہا ہوں جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کوچھوڑافرق صرف اتناہے کہ میرے بعدکوئی نبی نہیں ہوگا۔ آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے بے پناہ محبت تھی۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایاکہ منافق علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت نہیں رکھتااورمومن علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے بغض نہیں رکھتا۔حضرت ابن وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم مکہ مکرمہ سے واپس مدینہ منورہ تشریف لارہے تھے آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے مقام غدیرخم پراپنے تمام صحابہ کرام علہیم الرضوان کوجمع کیااورفرمایاتمہارا”ولی“ کون ہے صحابہ کرام علہیم الرضوان نے تین مرتبہ جواب میں کہاہمارا”ولی“ اللہ اوراسکے رسول صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم ہیں۔حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایاکہ جس کا”ولی“ اللہ اوراسکارسول صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم ہے اس کا”ولی“ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہے۔

حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے انصارومہاجرین میں بھائی چارہ قائم فرمایاتوحضرت سیدناعلی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکرعرض کیایارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم!آپ نے تمام صحابہ کرام علہیم الرضوان کے درمیان مساوات اخوت کارشتہ قائم کیالیکن میرے ساتھ ایساکچھ نہیں کیا؟آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایااے علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم تم میرے دنیاوآخرت کے بھائی ہو۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ارشادفرمایاحضرت ابوبکرصدیق دین کاستون،حضرت عمرفاروق فتنوں کوبند کرنے والے، حضرت عثمان غنی منافقوں کے لئے قیدخانہ اورحضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہم مجھ سے ہیں اورمیں ان سے ہوں جہاں میں ہوگاوہاں علی المرتضیٰ ہوں گے اورجہاں وہ وہاں میں۔

حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ارشادفرمایااللہ تعالیٰ نے ہرنبی کی ذریات اسکی پُشت میں رکھی ہے لیکن میری ذریات علی المرتضیٰ کی پشت میں ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے جب حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہا کانکاح حضرت سیدناعلی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے کیاتوحضرت سیدہ فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہانے عرض کیاکہ آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے میرانکاح اس شخص کے ساتھ کردیاجس کے پاس نہ مال ہے نہ گھر؟اس پرآپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہا سے فرمایاکہ اے فاطمہ! میں نے تیرانکاح ایسے شخص سے کیاجومسلمانوں میں علم وفضل کے لحاظ سے سب سے دانااوربہترین ہے۔

جس وقت مکہ مکرمہ میں مشرکین مکہ کے مظالم حدسے بڑھ گئے تھے توآقا صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اللہ پاک کے حکم سے صحابہ کرام علہیم الرضوان کودعوت دی کہ مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کرجائیں کئی صحابہ کرام علہیم الرضوان یکے بعددیگرے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرگئے تھے مشرکین مکہ کو جب معلوم ہواکہ آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے مسلمانوں کے لیے ایک محفوظ آماجگاہ مدینہ منورہ کی صورت میں ڈھونڈلی ہے توکفارکے سرداروں نے یہ فیصلہ کیاکہ (نعوذباللہ)آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کوقتل کردیاجائے۔آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کوبذریعہ وحی مشرکین مکہ کے ناپاک ارادوں کی خبرہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کواپنے بسترپرلٹایاتھااورانہیں حکم دیاتھاکہ وہ صبح ہوتے ہی لوگوں کی وہ امانتیں جوآقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے پاس موجودتھیں وہ متعلقہ لوگوں کوواپس کرکے مدینہ منورہ پہنچیں۔روایات میں آتاہے کہ آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے حضرت سیدناعلی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے فرمایااے علی!مجھے ہجرت کاحکم ہوگیاہے میں سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کرنیوالاہوں۔میرے پاس جولوگوں کی امانتیں ہیں وہ میں تمہارے حوالے کرتاہوں تم ان امانتوں کوان کے حقیقی مالکوں تک پہنچادینامشرکین مکہ نے میرے قتل کی منصوبہ بندی کی ہے اوروہ آج رات مجھے قتل کرنے کاناپاک ارادہ رکھتے ہیں تم بسترپرمیری چادراوڑھ کرلیٹ جاؤ۔حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے حکم کے مطابق لیٹ گئے۔آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سورۃ یٰسین کی تلاوت کرتے ہوئے گھرسے باہرتشریف لائے تھے۔آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے مٹھی بھرکرخاک کی کفارکے منہ پرماری جس سے وہ اندھے ہوگئے تھے ساری رات انتظارکرتے رہے آخرکارایک شخص نے ان کوبتایاکہ حضورصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم تومکہ مکرمہ سے جاچکے ہیں مشرکین مکہ میں سے ایک شخص نے اندرداخل ہوکرسوئے ہوئے آدمی کے اوپرسے چادراتاری توحضرت سیدناعلی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کودیکھ کرپریشان ہوگئے انہوں نے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے بارے میں پوچھاتوحضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے جواب دیاکہ آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی نگرانی تم کررہے تھے اس لئے تمہیں معلوم ہوناچاہیے کہ وہ کہاں ہیں؟مشرکین مکہ یہ جواب سن کرشرمندہ ہوکرواپس چلے گئے۔حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے فرمان کے مطابق صبح ہوتے ہی لوگوں کوامانتیں واپس کرکے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب سفرہجرت شروع کردیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قباکے مقام پرآقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم اورحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاملے تھے آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے قباکے مقام پرایک مسجدکی بنیادرکھی تھی جس کی تعمیرمیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے شانہ بشانہ حصہ لیاتھاوہ مسجدجمعہ کے روزمکمل ہوئی آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے جمعہ کی نمازبھی اسی مسجدمیں اداکی تھی اس لئے تاریخ میں یہ مسجد”مسجدجمعہ”کے نام پرمشہورہوگئی۔غزوات نبوی میں خواہ وہ بدرواحدہوں یااحزاب وحنین بنوقریظہ کے خلاف معرکہ ہوہرموقع پر حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے کارنامے اتنے نمایاں رہے کہ غزوات نبوی کاکوئی معرکہ آپ کے ذکرکے بغیرمکمل نہیں ہوتاہے اس کے علاوہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سرگرمی میں کئی مہمیں بھیجی گئیں تھیں۔جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی تواس کے بعدتین دن مسندخلافت خالی رہی تھی۔باغی پورے مدینہ منورہ میں دندناتے پھررہے تھے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے چوتھے دن مدینہ منورہ کے اکابرصحابہ کرام علہیم الرضوان مہاجرین اورانصارنے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کو خلفیہ بننے کا مشورہ دیاتھاکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسندخلافت کی تمام ترذمہ داریاں سنبھالیں آپ نے خلیفہ بننے سے یکسرانکارکردیاتھا۔اس دوران حضرت طلحہ بن عبیداللہ، حضرت زبیربن العوام، حضرت سعدابن وقاص،حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہم کوبھی خلیفہ بننے کی پیش کش کی گئی تھی۔لیکن ان تمام صحابہ کرام علہیم الرضوان نے خلیفہ بننے سے انکارکردیاتھا۔باغیوں نے اہل مدینہ کومخاطب کرکے یہ اعلان کیاکہ تم دودن کے اندراپناخلفیہ نامزدکرلو کیونکہ تمہاراحکم امت محمدیہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم!پرنافذالعمل ہے ہم اس خلیفہ کی بیت کرکے واپس چلے جائیں گے ورنہ ہم تمام اکابرکوقتل کردیں گے اہل مدینہ نے باغیوں کایہ اعلان سناتوحضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی خدمت میں دوبارہ حاضرہوئے تھے اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخلافت کرنے کے لئے قائل کرناشروع کردیایہاں تک کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منصب خلافت قبول کرلیا۔منصب خلافت سنبھالنے کے بعدآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجدنبوی میں تشریف لے گئے تھے اورمنبررسول صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم پرکھڑے ہوکرخطبہ دیاتھا۔خطبہ خلافت سے فارغ ہونے کے بعدآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے سب سے اہم مسئلہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قاتلوں کوتلاش کرکے ان کوسزادیناتھا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قاتلوں کی پہچان کے لئے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ حضرت نائلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ملاقات کی اوران سے قاتلوں کے بارے میں دریافت کیا۔جس گروہ سے قاتلوں کاتعلق تھاان پرکسی کاقابونہ تھا۔وہ جماعت جس میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قاتل شامل تھے انہوں نے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے ہاتھ پربیعت کرلی اوراپنے آپ کوحضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کازبردست حامی ظاہرکرنا شروع کردیاتھاان حالات میں قصاص لیناآسان نہیں تھا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاسارازمانہ خلافت جنگوں اورفتنوں فسادکی نذر ہوگیاتھاجس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کوحضرت ابوبکرصدیق اورحضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے دورکے مطابق چلاناچاہتے تھے جب کہ دولت کی فراوانی اورخوشحالی نیزاعمال کی بداعتدالیوں نے لوگوں کوایک مختلف طرززندگی کاعادی بنادیاتھا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دانش مشورے اوررائے پرحضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیساشخص اعتمادکرتاتھا۔آپ کی خلافت چارسال نوماہ اورچنددن رہی۔

سترہ رمضان المبارک 40ہجری بروزجمعہ فجرکے وقت خارجی عبدالرحمن ابن ملجم مرادی اپنے دوساتھی شبیب اوروردان کے ہمراہ جامع مسجدکوفہ میں پہنچے اورتینوں مسجدکے ایک کونے میں چھپ گئے۔جس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نمازفجرکے لئے تشریف لائے تھے اس وقت شبیب نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پرپہلاوار کیااوراس کے بعدعبدالرحمٰن ابن ملجم نے دوسراوارکیا،واردن یہ دیکھ کربھاگ کھڑاہواتھاشبیب بھی وارکرنے کے بعدبھاگ نکلاتھااورخارجی عبدالرحمن ابن ملجم مرادی پکڑاگیاتھا۔حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے اپنے بھانجے حضرت ام ہانی کے بیٹے حضرت جعدہ کونمازپڑھانے کاحکم دیاتھااس دوران سورج طلوع ہوچکاتھالوگ آپ کوزخمی حالت میں گھرلے گئے تھے اورخارجی عبدالرحمن ابن ملجم مرادی کوآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں پیش کیاتوآپ نے اس بدبخت سے پوچھاکہ تجھے کس چیزنے مجھے مارنے پرآمادہ کیا؟خارجی عبدالرحمن ابن ملجم مرادی نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوال کونظراندازکرتے ہوئے کہاکہ میں نے اس تلوارکوچالیس روزتک تیزکیااوراللہ تعالیٰ سے دعاکی کہ اس سے وہ شخص مارا جائے جوخلق کے لئے شرکاباعث ہوآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایامیں دیکھ رہاہوں تواس تلوارسے ماراجائے گا۔اس کے بعدآپ نے حاضرین محفل بالخصوص حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومخاطب کرتے ہوئے فرمایااگرمیں جانبرنہ ہوسکاتوتم اسے قصاص کے طورپراسی تلوارکے ایک ہی وارسے قتل کر ڈالنا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حالت زخمی میں اپنے بچوں کوچندنصیحتیں اوروصیت کی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بچوں کونصیحتیں اوروصیت کرنے بعدکلمہ توحیدپڑھااوراپنی جان اللہ کے سپردکردی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 21رمضان المبارک ۳۶ہجری کواس جہان فانی سے کوچ فرمایا۔حضرت سیدناامام حسن، حضرت سیدناامام حسین، اورحضرت عبداللہ بن جعفررضی اللہ تعالیٰ عنہم نے غسل دیا۔حضرت سیدناامام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نمازہ جنازہ پڑھائی اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نجف شریف میں مدفون ہیں۔اناللّٰہ واناالیہ راجعون۔اللہ رب العزت آپ کی قبرانورپراپنی رحمتوں کانزول فرمائے،انہی کے صدقے ہمارے گناہ معاف فرمائے۔آمین.

(جاری ہے)

بزم چشتیہ فاضلیہ گڑھی شریف

کبھی حضرت علی رض کی شہادت پر غور کیا جائے تو

 انسان ششدر رہ جاتا ہے 😔🏴🏴🏴

امام علی ابنِ ابی طالب کی شہادت بقولِ مشہور بروزِ جُمعہ ہوئی جو ایّام کا سردار ہے۔

ماہِ رمَضان میں ہوئی جو مہینوں کا سردار ہے۔

ماہِ رمضان کے آخری عشرہ میں ہوئی جو رمضان کے عشروں کا سردار ہے۔

اکیسویں شب ہوئی جو نہ صرف طاق رات بلکہ ممکنہ طور پر لیلتہ القدر ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے۔

ضربتِ باعثِ شہادت حالتِ نماز میں ہوئی جو تمام اعمالِ عبادت میں سب سے افضل ہے۔

نمازِ فجر میں ہوئی جس کا قُرآن میں خصوصی ذکر ہے کہ یہ نماز نفس پر بھاری ہے۔

حالتِ سجدہ میں لگی جو نماز کے تمام ارکان میں سب سے افضل ہے۔

بعدِ ضربت پہلا جُملہ جو آپ رض نے ادا فرمایا “ ربِّ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا”۔

اللّہ اللّہ نجانے یہ اُس کا کیسا بندہ تھا کہ جس کی ایک شہادت کو اللّہ نے اس قدر اعزازات سے نواز دیا کہ اسکی مثال ملنا مُشکل ہے۔

⭐حضرت سیّدنا علیُّ المرتضیٰ رضی اللہُ عنہ کا علمی مقام⭐

 21 رمضان بسلسلہ یوم شہادت

 خلیفۂ چہارُم ، امیرُالمؤمنین حضرت سیّدُنا علیُّ المرتضیٰ شیرِ خدا رضی اللہُ عنہ نے ایک قول کے مطابق 10سال کی عُمْر میں اسلام قبول کرکے بچّوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کا شرف پایا[1] اور بچپن سے لے کر رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ظاہری وِصال فرمانے تک سفر و حَضر اور اہلِ بیت ہونے کی وجہ سے بسا اوقات گھر میں بھی حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ ہوتے اور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّتوں کو دل و جان سے اپناتے ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت علی رضی اللہُ عنہ لوگوں میں سنّت کو زیادہ جاننے والے ہیں۔ [2]

 حضرت علی رضی اللہ عنہ علم و حکمت کا دروازہ :

 مولا علی مشکل کُشا ، شیرِ خدا رضی اللہُ عنہ علمی اعتبار سے صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم میں ایک خاص مقام رکھتے تھے اور کیوں نہ رکھتے ہوں کہ خود نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ کی علمی شان بیان کرتے ہوئے آپ کو علم و حکمت کا دروازہ فرمایا ہے ، چنانچہ 2 فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ملاحظہ فرمائیے :

(1)اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی اُس کا دروازہ ہیں۔ [3]

(2)اَنَا دَارُ الْحِکْمَۃِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا یعنی میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔ [4]

 دعائے مصطفےٰ :

 حضرت سیّدُنا علیُّ المرتضیٰ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر یوں دعا کی : اَللّٰهُمَّ اِمْلَأْ قَلْبَهٗ عِلْماً وَفَهْماً وَحِكَماً وَنُوراً یعنی اے اللہ! علی کے سینے کو علم ، عقل و دانائی ، حکمت اور نور سے بھر دے۔ [5]

 حضرت علی اور علم کے ہزار باب :

 بابِ علم و حکمت ، حضرت سیّدُنا علیُّ المرتضیٰ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ نبیِّ کریم ، رَءُوْفٌ رَّحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھے علم کے ایک ہزار باب سکھائے اور میں نے ان میں سے ہر باب سے مزید ایک ہزار باب نکالے۔ [6]

 جو پوچھنا ہے مجھ سے پوچھ لو :

 آپ رضی اللہُ عنہ کی علمی لیاقت بیان کرتے ہوئے صحابیِ رسول حضرت سیّدُنا ابوطُفیل عامر بن واثلہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں : میں حضرت سیّدُنا علیُّ المرتضیٰ رضی اللہُ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، آپ نے خطبے کے دوران ارشاد فرمایا : مجھ سے سوال کرو ، اللہ پاک کی قسم! تم مجھ سے قیامت تک ہونے والے جس معاملے کے متعلق بھی پوچھو گے میں تمہیں اس کا جواب ضرور دوں گا۔ [7]تابعی بُزرگ حضرت سیّدُنا سعید بن مسیّب رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صحابہ میں سوائے حضرت علی رضی اللہُ عنہ کے کوئی یہ کہنے والا نہیں تھا کہ مجھ سے پوچھ لو۔ [8]

 حضرت علی اور قراٰنی آیات کی معلومات :

 آپ رضی اللہُ عنہ قراٰنِ کریم کی آیات کے بارے میں جانتے تھے کہ کون سی آیت کب اور کہاں نازِل ہوئی ہے۔ چنانچہ منبعِ علم و حکمت ، مولائے کائنات حضرت سیّدُنا علیُّ المرتضیٰ رضی اللہُ عنہ نے فرمایا : مجھ سے قراٰنِ کریم کے بارے میں پوچھو ، بے شک میں قراٰنِ پاک کی ہر آیت کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ رات میں نازِل ہوئی ہے یا دن میں ، ہموار زمین پر نازِل ہوئی یا پہاڑ پر۔ ایک مقام پر مولا علی مشکل کُشا رضی اللہُ عنہ نے فرمایا : اللہ پاک کی قسم! میں قراٰنِ کریم کی ہر آیت کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ کب اور کہاں نازِل ہوئی ہے اور کس کے بارے میں نازِل ہوئی ہے۔ [9]

 قراٰنِ کریم کے ظاہر و باطن کے عالم :

فقیہِ اُمّت کا لقب پانے والے صحابی حضرت سیّدُنا عبدُاللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ آپ رضی اللہُ عنہ کی قراٰن فہمی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : امیرُالمؤمنین حضرت سیّدُنا علی رضی اللہُ عنہ ایسے عالِم ہیں کہ جن کے پاس قراٰنِ کریم کے ظاہر و باطن دونوں کا علم ہے۔ [10]قراٰنِ کریم کی آیت کے ظاہر اور باطن کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : ظاہری مراد اِس کا لفظی ترجمہ ہے باطِنی مراد اِس کا منشاء اور مقصد یا ظاہر شریعت ہے اور باطن طریقت یا ظاہر اَحکام ہیں اور باطن اَسرار یا ظاہر وہ ہے جس پر علماء مطَّلَع ہیں اور باطن وہ ہے جس سے صوفیائے کرام خبردار ہیں یا ظاہر وہ جو نقْل سے معلوم ہو باطن وہ جو کشْف سے معلوم ہو۔ [11]

 حضرت علی کے فتوے پر عمل :

 صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کو اگر کسی معاملے میں حضرت علی رضی اللہُ عنہ کے فتوے کا علم ہوجاتا تو صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان آپ کے فتوے پر عمل کیا کرتے تھے ، چنانچہ حضرت عبدُاللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما فرماتے ہیں کہ جب کوئی معتبر شخص ہمیں حضرت علی رضی اللہُ عنہ کا فتویٰ بتاتا تو ہم اُس سے تجاوز نہ کرتے۔ [12]

 مسائل میں حضرت علی کی طرف رُجوع :

 صحابۂ کرام بلکہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا بھی مسائل کے حل کے لئے حضرت علی رضی اللہُ عنہ کے پاس بھیجا کرتی تھیں۔ جیساکہ تابعی بُزرگ حضرت شُریح بن ہانی رضی اللہُ عنہما نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا سے موزوں پر مسح کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہُ عنہا نے فرمایا : حضرت علی رضی اللہُ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کیونکہ وہ اس مسئلے کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ [13]

 حضرت علی اور علمِ میراث :

 حضرت سیّدُنا عبدُاللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدُنا علیُّ المرتضیٰ رضی اللہُ عنہ اہلِ مدینہ میں علمِ میراث سب سے زیادہ جانتے تھے۔ [14]

 تعدادِ روایات :

 آپ رضی اللہُ عنہ سے 586 احادیثِ مبارکہ مروی ہیں جو کتبِ احادیث میں اپنی خوشبوئیں بکھیر رہی ہیں۔

 شہادت:

 سِن40ہجری میں17یا19رَمَضانُ المبارَک کو فجر کی نماز کے لئے جاتے ہوئے راستے میں آپ رضی اللہُ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں آپ شدید زخمی ہوگئے اور21رَمَضانُ المبارَک کی رات کو جامِ شہادت نوش فرما گئے۔ [15]

اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ.

 بزم چشتیہ فاضلیہ گڑھی شریف

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 *حوالاجات*

[1] سیرتِ ابن اسحاق ، ص137 ، مقدمۃ ابن الصلاح ، ص300

[2] تاریخ ابن عساکر ، 42 / 408

[3] مستدرک للحاکم ، 4 / 96 ، حدیث : 3744

[4] ترمذی ، 5 / 402 ، حدیث : 3744

[5] تاریخ ابن عساکر ، 42 / 386

[6] تفسیرِ کبیر ، 3 / 200

[7] جامع بیان العلم و فضلہ ، ص157 ، رقم : 508

[8] مصنف ابن ابی شیبہ ، 13 / 457 ، رقم : 26948

[9] طبقاتِ ابن سعد ، 2 / 257

[10] تاریخ ابن عساکر ، 42 / 400

[11] مراٰۃ المناجیح ، 1 / 210

[12] طبقات ابن سعد ، 2 / 258

[13] مسلم ، ص130 ، 131 ، حدیث : 639 ، 641 ملخصاً

[14] الاستیعاب ، 3 / 207

[15] طبقات ابن سعد ، 3 / 27 ، کراماتِ شیرِ خدا ، ص13 ملخص

اً

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment