امام نبہانی رحمہ اللّٰہ اور بارگاہ نبوی کا ادب

Rate this post

 امام نبہانی رحمہ اللّٰہ اور بارگاہ نبوی کا ادب حضرت شیخ یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمہ اللّٰہ (المتوفی : ١٣٥٠ھ) حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے ایسے عاشق صادق تھے کہ آپ اپنے دل کو ہمیشہ محبوب کی قیام گاہ بنائے رکھتے ۔

    سلطان الواعظین ، حضرت علامہ مولانا ابو النور محمد بشیر کوٹلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ مدیر ماہنامہ “ماہ طیبہ” کوٹلی لوہاراں ، ضلع سیالکوٹ اپنے والد گرامی فقیہ اعظم ، حضرتِ علامہ محمد شریف محدث کوٹلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ (خلیفہ مجاز اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ) کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں :

” میرے والد ماجد علیہ الرحمہ نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا تھا کہ میں جب شریف مکہ کے دور میں حج کرنے گیا تو مدینہ منورہ کی حاضری اور زیارت گنبد خضرا کے شرف سے مشرف ہوتے وقت میں نے باب السلام کے قریب اور گنبد خضرا کے سامنے ایک سفید ریش اور انتہائی نورانی چہرہ والے بزرگ کو دیکھا جو قبر انور کی جانب منہ کر کے دو زانو بیٹھے کچھ پڑھ رہے تھے (یہ حضرتِ شیخ یوسف نبہانی تھے) میں ان کی وجاہت اور چہرے کی نورانیت دیکھ کر بہت متاثر ہؤا اور ان کے قریب جا کر بیٹھ گیا اور ان سے گفتگو شروع کی ، آپ میری جانب متوجہ نہ ہوئے تو میں نے ان سے کہا کہ میں ہندوستان سے آیا ہوں اور آپ کی کتابیں “حجة اللہ علی العالمین” اور “جواہر البحار” وغیرہ میں نے پڑھی ہیں ، جن سے میرے دل میں آپ کی بڑی عقیدت ہے ، انہوں نے یہ بات سن کر سمجھا کہ یہ کوئی خوش عقیدہ عالم ہے تو میری طرف محبت سے ہاتھ بڑھایا اور مصافحہ فرمایا ، میں نے ان سے عرض کیا کہ حضور آپ قبر انور سے اتنی دور کیوں بیٹھے ہیں ؟ تو رو پڑے اور فرمانے لگے : ” میں اس لائق نہیں کہ قریب جاؤں “،اس کے بعد اکثر ان کی جائے قیام پر حاضر ہوتا رہا اور ان سے سند حدیث بھی حاصل کی “.

⛔تذکرے اپنے آباء کے ، ص : ٤١ ، مطبوعه ورلڈ ویو پبلشرز ، لاہور ۔

آج شیخ یوسف نبہانی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا یوم وصال ہے ، احباب ایصال ثواب کا اہتمام فرمائیں ۔

✍️ابو الحسن محمد افضال حسین نقشبندی مجددی ۔

((٩/رمضان المبارك ١٤٤٥ھ//٢٠/مارچ ٢٠٢٤ء))

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment